موٹرسائیکل - ریاض علی خٹک

زندگی کا سفر مجھے موٹر سائیکل کی سواری لگتا ہے. موٹرسائیکل ہمارا جسم اور روح اس کی سوار ہے. ایمان آپ کا اگلا وھیل یقین پچھلا وھیل ہے. عمر کی ٹینکی ایک بار نصیب پر ملتی ہے. موٹرسائیکل کی دیکھ ریکھ بہتر تو لمبا سفر کرلیتی ہے. یہ سواری توازن کی ہے. ایمان و یقین کے درمیان سوار سفر اپنے توازن پر کرتا ہے.

سڑک آپ کا راستہ ہے. ٹریفک آس پاس چلتی زندگی ہے. اس سفر کے لیے معاشرے نے اصول بنا دیے. زندگی کے اس طویل سفر میں گزرے مسافروں نے نت نئے تجربے کر کے کچھ ٹریفک پلان بنائے تاکہ حادثات نہ ہوں. حادثات نہ صرف سوار کا سفر خراب کرتے ہیں بلکہ ہر حادثہ آس پاس چلتی ٹریفک کے لیے بھی مشکلات کا باعث ہے.

یہ چلتے رہنے کا سفر ہے. کبھی آپ سمجھیں گے کہ آپ ساکن ہیں اور وقت گزر رہا ہے. کبھی وقت ساکن اور اپنا آپ گزرتا لگے گا. لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت ساکن ہم گزر رہے ہیں. اس چلنے میں اختیار کی بریک آپ کے قدموں میں ہے. یہ بریک سفر ترک کرنے کے لیے نہیں، یہ سفر کو حادثات سے بچانے کے لیے ہے. زندگی کے سفر میں جذبات کا ایکسیلیٹر تیز تر جانے کی خواہش میں گھومتا چلا جاتا ہے. قدموں کی بریک رفتار کا توازن بناتی ہے.

زندگی کی اس روڈ میں نشیب بھی ہیں فراز بھی، یہاں اندھے موڑ بھی ہیں اور معاشرے کے لاگو سگنلز بھی. یہ سفر مختلف گیئر کے متوازن استعمال سے ہی ممکن ہے. آپ کے آس پاس آپ کے رشتے ہمسفر ہیں. اس طویل سفر میں ایک دوسرے کا ساتھ بھی درکار ہے. اپنی رفتار میں رشتوں کو پیچھے نہ چھوڑ جائیں. کسی جگہ جب آپ مسائل کا شکار چلتی ٹریفک کو ہاتھ دیں گے تو یہی رشتے ہی ہوتے ہیں جو بنا ہاتھ دیے احوال پوچھنے کھڑے ہوں گے.

یہ بھی پڑھیں:   سرسوں کا تیل زندگی میں کیسے تبدیلی لاسکتا ہے؟

یقین کا پچھلا وھیل ہی آپ کا بوجھ اٹھاتا ہے. اس کی چین سے ہی انجن سفر کرتا ہے. یہ یقین اعتماد ہے. اعتماد کی طاقت کو ایمان کے وھیل کے تابع رکھیں. ایمان کے وھیل میں ہی منزل کے لیے سٹیئرنگ ہے. جہاں اعتماد خود سری میں مبتلا ہوا، یہ ون وہیلنگ کرتا ہے. ون وہیلنگ جہالت ہے. یہ آپ کو بھی گرنے کی آزمائش میں ڈال دیتا ہے، اور آس پاس کی ٹریفک کے سفر کو بھی رسک پر ڈال دیتا ہے.

زندگی بے شک ایک سفر ہے، موٹرسائیکل کا سفر نہیں، ہم لوگ لیکن اسے برتتے موٹرسائیکل کی طرح ہی ہیں. ہم ساری زندگی اس کے انجن پاور یا سی سی کی دوڑ میں رہتے ہیں. ہم نے اسے مختلف برانڈ میں بانٹ دیا. ہر برانڈ ایک قومیت ہے. ہر قوم میں الگ الگ سی سی کے گروپس ہیں. ہم اسے اسباب سے لادتے لادتے اس کا وزن بڑھاتے چلے جاتے ہیں، اس کا سفر بوجھل کردیتے ہیں. یہ بھول جاتے ہیں کہ منزل پر ہمیشہ سوار پہنچتا ہے. مشین کی یہ منزل نہیں. منزل پر اسباب کی جو طلب ہے، وہ راستے کہ اصولی سفر کے نمبرز ہیں، جگہ جگہ سے اٹھائی سوغات نہیں.

دوستو!
زندگی کے اس سفر میں کبھی گرمی ہوگی کبھی سردی، کبھی وقت کی تیز آندھیاں ہوں گی کبھی بہار وادیاں، یہاں ہر موسم نے آنا ہے، یہاں ہر کیفیت نے آنا ہے. اس سفر کا کامیاب مسافر وہی ہے جو متوازن سفر کرے. جو اعتدال پسند ہو، دوسروں کا لحاظ رکھے، رشتوں کے قریب رہے، اور توجہ سامنے منزل پر رکھے.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.