فیس بکی دانشوروں کے لیے ہدایت نامہ - ریحان اصغر سید

ہم جانتے ہیں ادب و آداب اور شرم و حیا گزرے زمانے کی باتیں ہیں، جن پر آپ قطعا وشواس نہیں رکھتے، لیکن چونکہ آپ ہر وقت فیس بک میں سر دیے رہتے ہیں، اور خود کو دانشور سمجھنے کی خوش فہمی میں بھی مبتلا ہیں، اس لیے بزرگ ہونے کے ناطے ہم نے اپنا فرض جانا کہ آپ کے لیے فیس بک استعمال کرنے کے آداب کے حوالے سے ایک چیکوگائیڈ مرتب کر دی جائے۔

ہمارے قیافے کے مطابق یہ آداب مباشرت کے بعد دوسری تحریر ہے، جو ادب کے موضوع پر آپ پڑھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ذہن نشین فرما لیں کہ دنیا آپ کی پیدائش سے بہت عرصہ قبل رب سبحان تعالی نے تخلیق فرما دی تھی، اور آپ کی وفات حسرت یاس کے بعد بھی یہ اس طرح قائم دائم رہے گی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے دنیا یا اس معاشرے کا نظام اپنے نازک کندھوں پر اٹھا رکھا ہے، اور آپ نہیں ہوں گے تو قیامت برپا ہو جائے گی، تو یہ غلط فہمی رفع فرما لیں۔ درحقیقت آپ وطن عزیز میں پائے جانے پونے سات کروڑ دانشوروں جیسے ایک ٹچکو دانشور ہیں، جن کی گھر میں کوئی سنتا ہے نہ گلی محلے میں کوئی پہچان ہے۔ ہماری طرح آپ نے بھی کبھی درسی کتب اور فیس بک کے علاوہ کسی کتاب کی شکل نہیں دیکھی۔ اس لیے اس خوش فہمی کو ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ علم و دانش آپ کے گھر کی لونڈی ہے۔ یقین مانیے آپ کو بھی عاجز کی طرح کسی بات کا ککھ نہیں پتہ۔ اس لیے فضول و بے تکے تجزیے اور تبصرے لکھ کر اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنے سے پرہیز کریں۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ جنت دوزخ کے فیصلے اللہ نے اپنے پاس رکھے ہیں، اس لیے خوامخوا جنت کے ٹکٹ اور دوزخ کے ویزے بانٹنے سے پرہیز کریں۔ آپ اپنے علاوہ دوسرے تمام فرقوں کا کافر سمجھنے میں آزاد ہیں، لیکن کیا لازم ہے کہ آپ لوٹا تسبیح پکڑ کر اس کا اعلان کرتے پھریں۔ دوسرے فرقوں کو کافر ثابت کرنے اور انھیں مسلمان کرنے کا کام آپ کے جید علما نہیں کر پائے تو آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔ یاد رکھیں فرقہ وارانہ مباحث تا روز قیامت تک جاری رہیں گے، اس لیے آپ فیس بک پر اپنی مسلکی خدمت کی دکان چالو رکھیں یا بند کر دیں، کسی کو ٹکے کا فرق نہیں پڑھنے والا، اس لیے اسے بند ہی کر دیں تو بہتر ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ روز محشر فیصلہ زندگی بھر کے اعمال پر ہونا ہے۔ اپنی فیس بکی مجاہدانہ زندگی سے باہر بھی کوئی نیکی اور ثواب کا کوئی کام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

آپ جس سیاسی جماعت کو پسند فرماتے ہیں اور ان کے جن لیڈران کا دفاع کرنے میں سارا دن اپنی فیس بک کی وال کو کالا کرنے میں گزار دیتے ہیں، وہ نہ اللہ کے ولی ہیں نہ درویش۔ وہ بھی ہماری آپ کی طرح نفسانی خواہشوں کے مارے ہوئے عام سے بونے انسان ہیں۔ ان میں مکمل طور پر کوئی بھی فرشتہ ہے نہ شیطان۔ سب مخلتف خوبیوں خامیوں کے مرقع اور اپنے اپنے مفادات کے اسیر ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا تقریبا سارا ہی جانبدار اور اپنا اپنا ایجنڈا رکھتا ہے۔ یہی حال اینکرز اور کالم نگاروں کا ہے۔ اس لیے کسی کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کے لوگوں کے غدار، محب وطن، کرپٹ یا ایماندار ہونے کا فیصلہ کرنا چھوڑ دیں۔ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ بھی نظریہ ضرورت اور سیاسی مداخلت کی ایک سیاہ تاریخ رکھتی ہیں۔ پاکستان کی مکمل سیاسی تاریخ کا مطالعہ آپ کے بہت سے اشکال اور خوش فہمیاں رفع فرما دے گا۔ اگر آپ حقیقتا ملک کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں تو اپنے آپ میں مثبت تبدیلی لے آئیں، کبھی نہ کبھی ملک بھی بدل ہی جائے گا۔

آپ پر ہر معاملے میں اپنی ماہرانہ رائے دینا فرض نہیں کیا گیا، جن بیشتر معاملات کے بارے میں آپ کچھ نہیں جانتے، ان کے بارے میں لکھ کر ماحول کے تعفن اور مسئلے کی پیچدگی میں اضافے کا باعث نہ بنیں۔ اگر آپ کا علم چند مخصوص ٹاک شوز، چند مخصوص لکھاریوں کی تحریروں اور سکہ بند دروغ گو سیاسیت دانوں کے الزامات پر مشتمل ہے تو اپنے قیمتی خیالات خود تک محدود رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ فری کی وائی فائی اور اردو کی پیڈ انسٹال کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ جو چاہے لکھتے چلے جائیں (جیسا کہ راقم کر رہا ہے)، یہ مانگے تانگے اور ورتن کے لائیکس قطعا اس بات کا ثبوت نہیں ہیں کہ آپ کے خیالات عالیہ میں کوئی ندرت یا تخیلقی عنصر شامل تھا۔

فیس بک پر لاگ ان ہونے سے پہلے مندرجہ ذیل اچھی اچھی نیتیں ضرور کر لیں۔
میرا مطالعہ اور علم محدود ہے۔
میری بات میں غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے۔
میں اہل علم سے سیکھنے اور اگر ضرورت پڑی تو شائستگی سے اختلاف کی کوشش کروں گا۔
گالی گلوچ اور بدزبانی سے پرہیز کروں گا۔
میری طرح دوسرے بھی اپنے گھر سے روٹی کھاتے ہیں، ان کی ذات اور عزت بھی اتنی ہی محترم ہے جتنی میری۔
سنی سنائی افواہوں کو پھیلانے کا حصہ نہیں بنوں گا۔
اداکار، کھلاڑی، سیاسیت دان بھی انسان ہیں۔ کسی کے خلاف منفی مہم کا حصہ نہیں بنوں گا۔

انسان خطا کا پتلا ہے لیکن میں تو غلطیوں اور گناہوں کا ماؤنٹ ایورسٹ ہوں۔ فیس بک پر بیٹھ کے دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کے بجائے اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھوں گا۔
میری ماں مجھے چاند کہتی ہے تو یہ اس کی مامتا کی مجبوری ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھ میں سرخاب کے پر لگے ہیں۔ میرے سانولے رنگ اور منہ میں ایسی کوئی بات نہیں کہ پانچ پانچ سو لوگوں کو ٹیگ کر کے اپنی سیلفیاں اپ لوڈ کر کے عوام ذہنی کوفت میں مبتلا کروں۔ اس لیے اس سے پرہیز کروں گا۔
علی ہذا القیاس۔

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.