شوہر کا دل کیسے جیتیں؟ میمونہ کلیم

شادی شدہ بہنیں شادی کے بعد بہت سے ازدواجی مسائل کا شکار رہتی ہیں. میں ہر اس بہن کو جو اپنی شادی شدہ زندگی میں کسی بھی قسم کی پریشانی کا شکار ہے، یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ یہ زندگی آزمائش کے سوا کچھ نہیں. جس نے آزمائش میں خدا سے رجوع کر لیا، یہی آزمائش اس کے اندر صبر انڈیل کر ترقی درجات کا سبب بن جاتی ہے، اور جو لوگ اتنی تکالیف کے باوجود اپنی پرانی روش پر گامزن رہتے ہیں، وہ اپنے لیے مزید دکھوں اور مصیبتوں کا خاردار رستہ ترتیب دے رہے ہوتے ہیں.

بحثیت مسلمان ہماری کچھ حدود و قیود ہیں جن میں پہلی حد ہے شریعت اور دوسری حد ہے معاشرتی اقدار. کئی مواقع پہ یہ دونوں حدود ایک دوسرے سے متصادم ہو جاتی ہیں کہ شریعت کا حکم کچھ اور ہوتا ہے، اور خود ساختہ رواجوں کا تقاضا کچھ اور. اس میں قصور شریعت کا نہیں بلکہ ان نام نہاد پابندیوں اور غیر شرعی رسوم کا ہے جو ہم نے خود پہ مسلط کر رکھی ہیں. ہر کام میں شریعت کو مدنظر رکھنے سے زندگی سہل ہو جاتی ہے.

اکثر بہنوں کو شادی کے کچھ عرصہ بعد اپنے شوہر کی طرف سے عدم دلچسپی اور عدم التفات کی شکایت رہتی ہے، کہ آپ کا رویہ وہ نہیں جو شروع کے دنوں میں تھا اور اسی بات کو سوچ سوچ کر دل میں بدگمانی پالنے لگتی ہیں، کچھ خواتین عاملوں کے چکر کاٹنے لگتی ہیں. مگر یاد رکھیں کہ یہ مسلہ الو کے خون سے لکھے تعویذوں اور دم دردوں سے حل نہیں ہوتا بلکہ اس معاملے میں بہنوں کو چاہیے کہ وہ شوہر میں عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنی خامیوں پر توجہ دے کر ان کو دور کرنے کی کوشش کریں.

پہلی بات یہ کہ آپ پہ فرض ہے کہ شوہر کو سو فیصد اپنی محبت اور توجہ دیں اور اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں. شادی کے شروع کے چند ماہ میں اگر اپنی ذات کی نفی کر کے بھی اپنے شریک حیات کے دل میں مقام بنانا پڑے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں. کیونکہ یہ شروع کے رویے پوری زندگی پہ محیط ہو جاتے ہیں. مگر میں زیادتی برداشت کرنے کا ہرگز نہیں کہہ رہی، بلکہ آپ نے اپنی سمجھ اور اپنے بڑوں کے مشورے سے ایک لائحہ عمل خود ترتیب دینا ہے. کبھی ازدواجی معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ مت لیں جو ہر وقت دوسروں کی عیب جوئی میں مشغول رہتے ہیں. ایسے لوگ خیرخواہ نہیں ہوتے اور گھروں میں فساد ڈلوانے کا سبب بنتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   شادی کے" میزبان " کی پہچان اور چند " خاص " مہمان - محمد عاصم حفیظ

مرد اپنی بیوی میں چار روپ دیکھنا چاہتا ہے. دوست، ماں، محبوبہ اور خادمہ.
بات کچھ عجیب تو لگے گی مگر آئیے اسے سمجھتے ہیں.

مرد اپنی بیوی کو دوست کی مانند غمگسار، ہمدرد اور مصیبت میں دل جوئی کرنے والا دیکھنا چاہتا ہے. اور بیوی سے بڑھ کر اس کی پریشانیوں کو سننے اور سمجھنے والا میرے خیال سے دنیا میں اور کوئی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ شادی کے بعد ہر رشتہ مصلحت شکار ہو جاتا ہے چاہے وہ مرد کی جانب سے ہو یا عورت کی طرف سے. جو عورتیں مرد کی تکلیف کو اپنی تکلیف نہ سمجھ کر بےحس بن جائیں، مرد بھی ان سے غفلت برتنے لگتے ہیں. اپنے شوہر کو ہر دکھ سکھ میں اپنی موجودگی کا احساس دلائیں. بارہا کہتی رہا کریں کہ "آپ کی تکلیفیں میری بھی تکلیفیں ہیں اور ہم دو الگ وجود نہیں بلکہ ایک ہی ہیں، اور ہمیں مل کر ہی ان پریشانیوں کو ختم کرنا ہے."

مرد چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی ماں کی مانند اس کی بےجا فرمائشیں پوری کرے اور نخرے اٹھائے. چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس کا خیال کرے اور اس کو بلاوجہ اہمیت دے. اور یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں. بس آپ کی طرف سےتھوڑی توجہ کی ضرورت ہے. یاد رکھیں کہ ایسی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ کے اور شوہر کے درمیان انا پرستی کی دیوار تعمیر ہو. شروع میں ہی اس دیوار کی بنیاد نہ اٹھنے دیں، پھر وقت کے ساتھ شوہر بھی اس بات کا عادی ہو جائے گا کہ جو بھی ہو، میں نے باہمی تعلق میں انا کو آڑے نہیں آنے دینا.

برصغیر پاک و ہند کی ہر عورت اپنے شوہر کی خدمت اس دل و جان سے کرتی ہے کہ اگر وہ کسی رشتہ داری میں چلی جائے تو صبح کو واش روم میں تولیہ پکڑانے سے لے کر رات کو شوہر کی ٹانگیں دبانے تک مرد اس کی کمی ضرور محسوس کرتا ہے. ہماری تربیت ہی ایسی کی جاتی ہے کہ عورت کو شوہر کی محبت میں اس کی خادمہ بنتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہوتا، مگر اس خدمت کو اگر اللہ کی رضا سمجھ کر انجام دیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہے. اس طرح اگر کبھی کچھ غلط ہونے پر ڈانٹ ڈپٹ سننی بھی پڑے تو ناگواری نہیں ہوتی، اور شوہر کے خلاف دل میں میل نہیں آتا کیونکہ اللہ کی خوشنودی کے لیے ایسی باتیں نظرانداز کرنا پھر آسان معلوم ہوتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   شادی کے" میزبان " کی پہچان اور چند " خاص " مہمان - محمد عاصم حفیظ

مردوں کو ناز و ادا والی باتیں اور نخرے بھاتے ہیں. اپنے شوہر سے لاڈ بھی کریں، رومانوی جملے بھی بولیں اور ادائیں بھی دکھائیں. اور جو مجھے یہ کہتی ہیں کہ ہمیں شرم آتی ہے، میں ان سے صرف یہ سوال کرتی ہوں کہ اپنے شوہر کی غیبت کرتے ہوئے، سب کے سامنے یا کمرے میں زبان چلاتے اور لڑتے وقت یہ شرم کہاں چلی جاتی ہے؟ آپ محبوبہ کی سیٹ خالی رکھیں گی تو مرد کی فطرت اللہ پاک نے رکھی ہی ایسی ہے کہ وہ لازماً اسے پر کرنے کی کوشش کرے گا، تب آپ کیا کریں گی؟

یاد رہے کہ نامحرم مرد عورت کو جوڑنے اور اس تعلق کو جائز اور حلال بنانے والا واحد رشتہ نکاح کا ہے جو اپنے ساتھ آسمانی برکات اور رحمتیں لاتا ہے. اس رشتے کے علاوہ کہیں بھی آپ کو امان، تحفظ اور محبت نہیں مل سکتی. مشرقی عورت کی محبت کا مرکز اس کا شوہر اور بچے ہی ہوتے ہیں مگر میکہ بھی ایسی چیز ہے جو بھلائی نہیں جا سکتی، اور نہ چھوڑی جا سکتی ہے، اس لیے دونوں میں توازن قائم رکھیں اور دونوں کو انفرادی اہمیت دیں. آج کی اٹھائی گئی یہ تھوڑے دنوں کی کلفت آئندہ کے خوشگوار مستقبل کو پانے کے لیے بہترین اور ہموار راستہ بن جائے گی.

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • میں نے محسوس کیا ہے کہ آج کل جس بھی فورم پر خواتین کو اپنی اصلاح کرنے سے متعلق کچھ کہا جاتا ہے تو زیادہ تر رائے دینے والی خواتین فوری طور پر مرد کو اپنی اصلاح کرنے کا کہنا شروع کر دیتی ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہیں کہ اصلاح کی ضرورت صرف اور صرف مرد کو ہے. یاد رکھیں آج کے دور میں
    گھر کی مرکزیت کی تباہی کے دونوں ذمہ دار ہیں نه که صرف مرد. ا س لیے دونوں کو اصلاح کی صرورت ہے.

    • آپ کی بات 100٪سچ ہے مگر مرد. ہی بے وفا نکلے تو اسکا حل بھی بتائیں مہربانی ہوگی