ٹول باکس - حنا نرجس

بريرہ آج پھر اگلی نشست پر بیٹھی خولہ کو سرگوشیوں میں پکار رہی تھی. ٹسٹ دینے میں منہمک خولہ تو متوجہ نہیں ہو سکی البتہ مس عائشہ نے رخ موڑ کر آواز کا تعاقب کیا. بریرہ قدرے شرمسار ہو گئی.
"جی کیا بات ہے؟ کیا چاہیے؟"
"ٹیچر، میں پنسل لانا بھول گئی ہوں. مجھے ڈایا گرام بنانی ہے."
ابھی مس عائشہ نے اس کے لیے کسی دوسری بچی سے پنسل لے کر دی ہی تھی کہ فاطمہ پریشانی کے عالم میں اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی.
"جی فرمائیے؟" مس عائشہ کا لہجہ تنبیہی تھا.
"میری شیٹس ختم ہو گئی ہیں. کسی کے پاس اضافی شیٹ ہو گی؟"
شیٹ کا انتظام تو ہو گیا لیکن مس عائشہ کا غصہ بھی عروج پر پہنچ چکا تھا. انہیں دورانِ ٹسٹ اس طرح کی بے ترتیبی، بد انتظامی اور لا پروائی پر سخت کوفت ہوتی تھی. ایک بچے کے مسئلے کی وجہ سے ساری جماعت کی توجہ بٹ جاتی تھی.

سب سے زیادہ مسئلہ فزکس اور میتھس کے ٹسٹ میں ہوتا تھا جب تیس لڑکیوں کی جماعت میں صرف چند ایک کے پاس کیلکولیٹر ہوتا اور ایک دوسرے کو کمر پر ٹہوکے دے دے کر کیلکولیٹر کا مطالبہ کیا جاتا. مس عائشہ نے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن نتیجہ حوصلہ افزا نہ تھا. بچیوں کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک بہانے تیار ہوتے.

"ٹیچر، میرا کیلکولیٹر گم ہو گیا ہے. ابھی تو میں نے گھر میں بتایا بھی نہیں. بہت ڈانٹ پڑے گی."

"ٹیچر، میں صبح سکول پہنچتے ہی شیٹس لینے کے لیے بک شاپ پر گئی تھی لیکن انکل نے آج شاپ کھولنے میں دیر کر دی اور اسمبلی کی گھنٹی بج گئی."

"مس، میں تو روز ہی نئی پنسل گھر سے لاتی ہوں، کلاس میں پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے اور جب مجھے ضرورت ہو تو دوسروں سے مانگنا پڑتی ہے."

مس عائشہ بے بسی سے دیکھتی رہ جاتیں اور چار و ناچار انہیں ہی صبر کا گھونٹ پینا پڑتا.

میتھس کا عملی جیومیٹری کا باب شروع ہو چکا تھا. یہ کام جتنے سکون سے کرنے کا ہے، کلاس میں اتنی ہی ابتری پھیلی ہوتی کیونکہ بچوں کی اکثریت اپنا جیومیٹری باکس لانا بھول جاتی اور پوری کلاس پانچ چھ جیومیٹری باکسز سے ہی کام چلانے کی کوشش کر رہی ہوتی. مس عائشہ بلا ناغہ بچوں کو سمجھاتیں مگر چند ایک کے سوا باقی سب ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے.

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 2 )

کچھ ہی دنوں میں دسمبر ٹیسٹ کا آغاز ہو گیا. امتحان ہو تو بچے قدرے سنجیدہ ہو ہی جاتے ہیں. لیکن اب ایک اور مسئلہ آ کھڑا ہوا تھا. ٹیسٹ کے لیے مقررہ وقت کا اختتام قریب ہوتا تو مانگنے تانگنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ جاتا. سٹیپلر کا مطالبہ ہوتا. مس عائشہ کے سمجھانے اور اپنا اپنا سٹیپلر لانے کی تاکید کرنے پر بچے پھر بہانے بنانے لگتے.

"مما لانے نہیں دیتیں. کہتی ہیں گم ہو جائے گا."

"مس، گھر میں ایک ہی سٹیپلر ہے، میں لے آؤں گی تو باقی بہن بھائی کیا کریں گے؟"

"ٹیچر میں لے تو آؤں، لیکن سٹیپلر کافی بڑا ہے اور میرے بیگ میں اتنی جگہ ہی نہیں ہے."

ہر گزرتے دن کے ساتھ مس عائشہ اس معاملے کی وجہ سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہو رہی تھیں اور مسئلے کا حل نہ ملنے پر انہیں خود پر ہی غصہ آنے لگا تھا.

پھر ایک دن عجیب بات ہوئی. لگتا تھا اللّٰہ تعالٰی کو ان پر خاص رحم آ گیا تھا کہ اس مسئلے کا حل خود اپنے ہی گھر سے مل گیا. آج وہ بہت خوش تھیں اور جلد از جلد سکول پہنچنا چاہتی تھیں.

جب بچوں کو انہوں نے وہ نکتہ سمجھایا جس کا سرا ان کے ہاتھ لگا تھا تو بچے بھی سمجھ کر اثبات میں سر ہلانے لگے.

"جی ٹیچر آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں. اب ہم آپ کو شکایت کا موقع نہ دینے کی پوری کوشش کریں گے."

مزید یہ اصول بھی بنا لیا گیا کہ مس عائشہ کے آنے سے قبل بچے اپنے اپنے ٹول باکسز (Tool Boxes) ڈیسک پر کھول کر رکھ دیا کریں گے اور وہ روزانہ چیک کریں گی کہ آیا تمام ضروری اشیاء موجود ہیں یا نہیں.

یہ ترکیب بہت کارگر رہی اور اب تو بچے روزانہ رات کو ہی اپنا بیگ چیک کر کے سونے کے عادی ہو چکے تھے. آہستہ آہستہ مس عائشہ سب بچوں کے بجائے روزانہ بس کوئی سے دو تین بچوں کے ٹولز چیک کر لیتیں. اب تو بچوں نے مس عائشہ کی ہدایت پر اپنے جیب خرچ سے بچت کر کے سکول کی ہی شاپ سے ننھے منے سٹیپلرز بھی خرید لیے تھے.

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ

آپ حیران ہو رہے ہوں گے وہ کون سا نکتہ تھا جس نے بچوں کو اتنی جلدی سدھار دیا؟ دراصل جن دنوں مس عائشہ اس معاملے پر سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھیں، ایک صبح وہ سکول کے لیے نکلنے کو بس تیار ہی تھیں. ان کے چھ سالہ بیٹے کی اسکول وین بھی آ چکی تھی. وہ ابھی اسے گیٹ سے رخصت کر کے گھر کے اندر آ ہی رہی تھیں کہ بیٹا بھی الٹے قدموں واپس اندر آیا گیا،
"مما... مما... جلدی سے میرا کلر باکس اٹھا دیں اندر سے... شکر ہے مجھے ابھی یاد آ گیا... میری نئی ٹیچر کہتی ہیں... جس طرح مجاہد اور فوجی میدانِ جنگ میں بغیر ہتھیاروں کے نہیں جایا کرتے، اسی طرح طالبِ علم بھی کبھی بغیر ہتھیاروں کے سکول نہیں آتے." وہ تیز تیز بتاتے ہوئے عائشہ کے پیچھے پیچھے ہی کمرے تک آ گیا تھا.

"بغیر ہتھیاروں کے؟ کیا مطلب؟"

"ہاں نا! ٹیچر کہتی ہیں آپ لوگ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں یہ بھی جہاد ہے اور آپ کے رائٹنگ ٹولز ہی آپ کے ہتھیار ہیں."

اسماعيل تو یہ بتا کر تیزی سے گیٹ کی طرف بھاگ گیا کیونکہ وین ہارن پر ہارن بجا رہی تھی، وہ نہیں جانتا تھا مس عائشہ کا کتنا بڑا مسئلہ حل ہو گیا تھا. انہیں یقین تھا کہ جب وہ بچوں کو اس زاویے سے بتائیں گی تو وہ ضرور اصلاح قبول کرتے ہوئے ذمہ دار بچے بن جائیں گے اور بلاشبہ ایسا ہی ہوا کیونکہ محض سمجھاتے رہنا کافی نہیں ہوتا. کیسے سمجھایا جائے، یہ بھی بہت اہم ہے!

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.