سفید پروں والا ایک دن - سعود عثمانی

''لین بیریز (Llanberis)، لینڈڈنو (Llandudno)، پرفیڈوالاڈ (Perfeddwlad)،گائی نیڈ (Gwynedd)، لینڈوائن (Llanddwyn)''۔ کیا جناتی نام ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔یہ ویلش (Welsh) زبان اتنی مشکل کیوں ہے؟ پڑھنا مشکل۔ بولنا اس سے بھی زیادہ مشکل۔ یہ شمالی ویلز، یوکے کے مختلف قصبوں اور شہروں کے نام ہیں جو زبان پر رواں ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے، لیکن مجھے پتہ نہیں تھا کہ اس راہ میں اصل مشکلات آگے آنے والی ہیں۔ آگے جب یہ نام پڑھنے کو ملے تو میں زندگی بھر پڑھے ہوئے عربی، فارسی ،انگریزی اور اردو ثقیل ناموں کو بھول گیا۔ ''(Gogledd Cymru) (trawsfynydd) (pentrefoelas) (Llanfihangel Glyn Myfyr)''۔ میں نے کچھ دیر یہ نام پڑھنے اور بولنے کی کوشش کی لیکن جب ''(Llanfairpwllgwyngyll)'' کا نام سامنے آیا تو میں نے یہ کوشش ترک کرکے اس بات پر یقین کر لیا کہ یہ مقامات نہیں بلکہ مقامات ِآہ و فغاں ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب میں ان ناموں سے دست بردار ہوچکا ہوں۔ البتہ آپ میں سے جو کوئی ان ناموں سے شغف کرنا چاہے تو ضرور کرے اور نتائج سے مجھے بھی مطلع کرے۔

ٹرین خوب صورت اور آرام دہ تھی اور براق پروں والا چمکیلا دن پر پھڑپھڑاتا ہمارے ساتھ اڑ رہا تھا۔ میں اور مبشر صبح تڑکے مانچسٹر ریلوے سٹیشن پر پہنچے تھے۔ مبشر میرے دیرینہ دوست اور معروف شاعر باصر کاظمی کا برادر نسبتی ہے اور ہم دونوں نارتھ ویلز، یوکے کے سب سے اونچے پہاڑ سنوڈن (snowdon) کی سیاحت کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ سنوڈونیا نیشنل پارک (Snowdonia national park) اور پہاڑ کی تعریفیں میں نے سن رکھی تھیں اور ان کو جانچنے پرکھنے کا دن آپہنچا تھا۔ سنوڈونیا تھا یا کوہ ِندا، پتہ نہیں لیکن ہم تحیر کے دروازے وا کرنے نکل کھڑے ہوئے تھے۔

حیرت کا پہلا در مانچسٹر ریلوے سٹیشن پر وا ہوا جب سٹیشن پر پبلک بیت الخلاء کے دروازے نے مبشر کے لیے کھلنے سے انکار کر دیا۔ پتہ چلا کہ یہاں فیس لاگو ہے اور ایک پونڈ کا سکہ ڈالا جائے گا تو یہ سم سم کھل جائے گا۔ دنیا بھر میں گھومے پھرے تھے، کسی ریلوے سٹیشن یا کسی پبلک مقام پر ایسی تجارتی ذہنیت نہیں دیکھی تھی۔ حاجت روائی کے لیے ایک پونٍڈ کا سکہ تلاش کر لینے اور سرمایہ دارانہ ذہنیت پر ہزار نفرین کے بعد کچھ قرار آیا تو ٹرین روانگی کا وقت ہوچکا تھا۔ برطانیہ اور ترقی یافتہ ممالک کی ٹرینوں کی طرح ورجن لائن کی یہ ٹرین بھی آرام دہ اور پرسکون تھی۔ ہلکی سردی ،ٹرین کا سفر اور کافی کا کپ۔ ٹرین جن سرسبز میدانوں، پہاڑیوں اور جھیلوں سے گزرتی نارتھ ویلز جا رہی تھی، وہ وہ سب ان دیکھے تھے اور ان دیکھے کا تجسس ہی سفر کی جان ہوتا ہے۔

ویلز (Wales) ایک ایسا ملک ہے جو متحدہ سلطنت برطانیہ کا حصہ ہے. ویلز کی حد بندی مشرق میں انگلینڈ، شمال اور مغرب میں آئرش سمندر اور جنوب میں آبنائے برسٹل (Bristol) کرتے ہیں۔ تقریباً 21000 مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً پینتیس لاکھ آبادی والا یہ خطہ اپنی تاریخ، اپنی روایات اور اپنی زبان رکھتا ہے۔ ویلش زبان بولنے والے اگرچہ بتدریج کم ہو رہے ہیں اور انگریزی غالب زبان ہے لیکن اب بھی یہ زبان بولنے اور لکھنے پڑھنے والے لوگ لاکھوں میں ہیں۔ ویلز کی تین سرحدیں سمندر کی طرف ہیں چنانچہ 2700 کلومیٹر کا ساحل اور وسطی اور شمالی ویلز میں پہاڑ اور سطح مرتفع اس کی جغرافیائی خصوصیات ہیں۔ شمالی ویلز میں پہاڑی سلسلہ آبشاروں، جھیلوں اور ڈھلوان سبزہ زاروں سے مالامال ہے اور اسے سنوڈونیا نیشنل پارک کا نام دیا گیا ہے۔ اس نیشنل پارک میں سب سے بلند چوٹی سنوڈن (snowdon) ویلز کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ہے۔ سنوڈن 3560 فٹ بلند ہے اور اگرچہ یہ بلندی دنیا بھر اور پاکستان میں واقع عظیم پہاڑوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے، پھر بھی نیشنل پارک میں آنے والے سیاح اس چوٹی کو دیکھنے ضرور آتے ہیں۔
پہلی بار مجھے سنوڈونیا دیکھنے کا شوق اس وقت ہوا تھا جب میں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سر کرنے والے پہلے کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کے بارے میں پڑھا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایورسٹ سر کرنے کی تیاری سنوڈونیا میں کی تھی۔ سچ یہ ہے کہ سنوڈن کی اونچائی کا پڑھ کر تھوڑا سا افسوس ہوا۔ کہاں ایورسٹ کی 29000 فٹ سے بھی نکلتی ہوئی سربفلک اونچائی اور کہاں سنوڈن کے محض 3500 فٹ۔

یہ بھی پڑھیں:   برطانیہ میں ٹیکس کے بدلے کیا ملتا ہے؟ فیصل تنولی

ٹرین انگلینڈ کے وسطی میدانوں سے نکلی تو کچھ دیر بعد ان علاقوں میں داخل ہوگئی جہاں ٹرین کے بائیں طرف ہری بھری چراگاہیں پہاڑیوں اور ٹیلوں پر چڑھ رہی تھیں۔ لیکن اس منظر میں دل کش تبدیلی اس وقت آئی جب چیسٹر) (Chester) سے آگے ٹرین سمندر کے ساتھ ساتھ اس طرح چلتی رہی کہ ایک طرف سبز پہاڑ اور دوسری طرف نیلا سمندر تھا۔لینڈڈنو (Llandudno) ایک خوب صورت ساحلی قصبہ ہے۔ابھی جی بھر کے اس حسن کا نظارہ کیا بھی نہیں تھا کہ پھر چل پڑے۔یہاں سے لین بیریز (Llanberis) زیادہ دور نہیں تھا جواس ٹرین کا آخری سٹیشن تھا۔

ایک خاموش اداس سا سٹیشن جہاں زیادہ لوگ نظر نہیں آرہے تھے۔یہاں سے سنوڈن پہاڑ پر جانے والی ریل گاڑی کے ٹکٹ لے کر ہم کھلے آسمان تلے انتظار گاہ میں لکڑی کی بنچوں پر آبیٹھے۔ انگریز کی روایت پسندی تو مشہور ہے۔ لین بیریزسے سنوڈن چوٹی تک وہ ریل گاڑی چلائی جاتی ہے جو ریل گاڑیوں کی ضعیف العمر نانی ہے۔ کوئلے کا انجن جو انجنوں کا ازکار رفتہ دادا ہے، یہاں اپنے کمانی دار بازو ہلاتا چھک چھک کرتا پوری طرح فعال ہے۔ اس کے ساتھ جڑی ہوئی مسافر بوگیاں بھی ملکہ وکٹوریہ کی ہم عمر ہیں۔ کھلے دروازے، کھلے ڈبے اور لکڑی کی بے پوشش سخت نشستیں۔ صرف اس نادر ریل گاڑی کے شوق میں بھی بے شمار سیاح ادھر آتے ہیں۔گاڑی میں زیادہ تر سیاح یوروپین ہی تھے۔ ریل گاڑی اس شان سے چلی جیسے ہمارے یہاں برانچ لائنوں کی آہستہ خرام گاڑیاں چلتی ہیں۔لیکن ہمیں بھی کیا جلدی تھی ویسے بھی سیر کے لیے سبک سیر ٹرین سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے۔

ٹرین روانہ ہونے کے ذرا دیر بعد دریائے افون ہچ (Afon Hwch river) کی گھاٹی پر ریل کا پہلا پل آجاتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ آبشار جو نیچے گہری گھاٹی میں گر کر ندی بناتی ہے۔آگے بڑھ کے ریل میدانی علاقے میں رواں رہتی ہے ۔یہ اس طرح کا سفر نہیں تھا جہاں ایک طرف گہری کھائی اور ایک طرف پہاڑ ہو اور دل اچھل کر حلق میں آجائے۔بلکہ ریل ایک ڈھلوان میدان کے وسط میں چل رہی تھی۔منظر کی کشادگی دل کی کشادگی کے لیے اکسیر ہے سو یہ اکسیر وافر تھی۔ٹرین سے وہ سیاح بھی نظر آرہے تھے جو ہائکنگ اور ٹریکنگ کا شوق پورا کرتے پیدل چوٹی کی طرف جارہے تھے ۔کار اسگوب ،بشپ فیلڈ اور حبرون کے کھنڈرات سے گزرتی ہوئی ریل آخر چوٹی کے قریب بنے سٹیشن پر جارکتی ہے۔
سٹیشن کو قدرے دھند نے گھیر رکھا تھااور ٹرین سے نکلتے ہی سردی کا احساس بھی بڑھ گیا۔سٹیشن کیا تھا چھوٹا سا لمبوترا کیبن تھا۔اس کیبن سے باہر سامنے پوری وادی سامنے نیچے پھیلی ہوئی تھی اور جابجا دھند کے جالوں نے اسے خوابناک کر رکھا تھا۔ابھی چوٹی تک پیدل پہنچنا تھا جس کی چڑھائی قدرے مشکل بھی تھی چنانچہ بہت سے سیاح یہ ارادہ چھوڑ کر ادھر ادھر بکھر گئے تھے۔ہم نے چوٹی کا رخ کیا۔پتلے تنگ راستے سے لوگ چڑھ بھی رہے تھے اور چوٹی سر کرنے والے اسی سے واپس بھی آرہے تھے۔گفتگو کم کم اور ہانپنے کی آوازیں بہت زیادہ تھیں جس سے چڑھائی کا اندازہ ہوسکتا تھا۔ دھند نے اب پورے بالائی پہاڑ کو اپنے غلاف میں بند کرلیا تھا اور اس غلاف سے باہرچند قدم دور دیکھنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان پاکستانیوں کو کیوں ناپسند کرتے ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

ہم نے چوٹی سر کرتے ہی ایک فاتحانہ نعرہ بلند کیا۔ ہم ویلز کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے ہوئے ایک فتحیاب کوہ پیما کی طرح تھے اور ہمارا درجہ اس وقت ایڈمنڈ ہلیری سے کم ہرگز ہرگز نہیں تھا۔ ہم نے چوٹی پر ایک بڑے پتھر پر بنے سمت پیما کا جائزہ لیا اور گھوم کر دھند کے پاروادی میں بکھرے رنگوں کو دیکھا۔ کہتے ہیں کہ بہت صاف دنوں میں آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ، انگلینڈ، بحر آئرش، انگلینڈ کی 24 کاؤنٹیز اور کئی جزیرے نظر آتے ہیں۔ یہ مجھے سراسر مبالغہ آمیز بات لگی۔ بہرحال وہاں کھڑے ہونے کی جگہ کم تھی اور نئے کوہ نوردوں کے لیے جگہ خالی کرنی ضروری تھی لہذا ہم فاتحانہ شان سے نیچے اتر آئے۔

لین بیریز واپس پہنچنے پر جھیل کنارے یہ حسین قصبہ پیدل گھوم پھر کر دیکھنے کا اپنا لطف تھا۔ خاموش سڑکیں اور پرسکون گلیاں جہاں بھی دیکھنے کو ملیں ان سے ایک بار شناسائی کو جی چاہتا ہے۔ لیکن دیکھنے کی چیز تو لین بیریز جھیل تھی جس کا اصل نام (Llyn Padarn) ہے ۔کھلی، شانت اور شیتل نیلی جھیل جس کی ٹھنڈک اور وسعت ایک نظر میں دل میں اترجاتی ہے۔ خاموشی اور تنہائی کے علاوہ ہمارے ساتھ کوئی اور سیاح نہیں تھا۔پھرکہیں سے ایک تیسرا سیاح بھی ہمیں دیکھ کر آپہنچا۔ یہ مور کی جسامت کا برّاق پروں والا، بالکل سفید اور خوب صورت پرندہ تھا۔ جانے کتنی دیر ہم تین سیاح نیلی جھیل اور سبزے کے بیچ بیٹھے خاموش مکالمہ کرتے رہے۔ الفاظ کی نہ تاب تھی اور نہ ضرورت۔

واپسی کے سفر میں بینگور (Bangor) کے قصبے میں ہم اس مکمل گلابی درخت تلے سانس لینے کے لیے رکے جس کے پتے پھول بنے ہوئے تھے اور جس کا رنگ اس کے سائے کو بھی گلابی کر رہا تھا۔ ایک خوب صورت دن سورج کی طرح دل کے افق پر غروب ہورہا تھا۔ برّاق پروں والا ایک چمکیلا دن۔ پہاڑوں، آبشاروں، جھیلوں اور سبزہ زاروں کو شب بخیر کہتا ہوا۔ہمیں الوداع کرتا ہوا۔

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.