کل ملا کر بات یہ ہے - خرم اقبال اعوان

خدا خدا کر کے این اے 4 کا الیکشن (ضمنی) بھی ہوگیا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ 85564 لوگوں نے تحریک انصاف پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اب میرے پڑھنے والے کہیں گے کہ میں یہ کیا منطق پیش کر رہا ہوں، ایک جیتے ہوئے شخص اور اس کی پارٹی کو میں نیچا دکھانے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں، کیا میرا دماغ خراب ہوگیا ہے؟ جناب تھوڑا صبر کریں اوراپنی یادداشت پر زور ڈالیں، 2013ء کے الیکشن کے بعد یہ منطق سب سے پہلے تحریک انصاف نے اپنی ہار کو چھپانے کے لیے پیش کی اور اس کے ساتھ یہ منطق کچھ سینئر تجزیہ کاروں نے بھی اپنا لی، اور ٹاک شوز میں بھی پیش کرنا شروع کر دی۔ میں بھی اس منطق پر یقین نہیں رکھتا بلکہ میری تو گزارش یہ ہے کہ جو جیتا ہے اس کی جیت کا احترام کریں، چاہے وہ این 120 سے جیت ہو یا این اے 4 سے، کیونکہ جیت جیت ہوا کرتی ہے، چاہے ایک ووٹ سے ہو یا ایک لاکھ ووٹوں سے۔ اسی طرح معتبر ٹی وی پروگرام کرنے والے صحافی این اے 4 کے الیکشن میں تحریک انصاف کو تو شاباش دے رہے ہیں مگر وہیں پیپلزپارٹی کو اپنے تجزیوں میں دفن کر دیا ہے۔ ان کی بصیرت میں شاید یہ بات نہیں آئی کہ پیپلزپارٹی نے یہاں 13200 ووٹ لیے جبکہ این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں اس نے پانچ ہزار ووٹ لیے تھے۔ موازنہ کریں تو یہ پیپلز پارٹی کی کامیابی ہے۔ مگر لگتا ہے معتبر شو اور معتبر صحافی صاحب کسی خاص ایجنڈے پر ہیں، یہ نہیں معلوم کہ ان کے اپنے ذہن کی ایجاد ہے یا یہ سب ان کو کہا گیا ہے، اور ان سے کروایا جا رہا ہے۔

اس سب میں جو خوشی کی بات ہے، وہ اے این پی کے تن مردہ میں دوبارہ سے جان پڑنا ہے۔ مگر اس میں بھی ہمیں ایک بات ذہن میں رکھنا ہے، وہ یہ کہ 2013ء کے الیکشن میں دو پارٹیاں ایسی تھیں جنھیں الیکشن مہم چلانے نہیں دی گئی۔ ایک اے این پی کو خیبرپختونخوا میں اور دوسرا پیپلزپارٹی کو ملک کے کسی بھی حصے میں۔ باقی دو پارٹیاں آزادانہ سب کچھ (جلسے جلوس، کارنر میٹنگ) کر رہی تھیں۔ کیا یہ کسی صحافی یا دانشور کو نظر نہیں آیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ (تحریک لبیک) جس نے این اے 4 میں 9935 ووٹ حاصل کیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں یہ پارٹی اچھا مقابلہ نہ سہی مگر دوسرے امیدواروں کی نیندیں ضرور حرام کرنے والی ہے۔ مگر کیا کریں کہ ہمارے عوام ٹی وی کے ٹاک شوز دیکھ کر اپنی رائے بنانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان میں خود پڑھنے کی، حالات کو خود سے پرکھنے کی صلاحیت سو چکی ہے۔ ہمارے یہاں گلی محلوں کی سیاست اور ملکی حالات پر اظہار خیال کی عادت ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے۔ آج اس ٹی وی پر آپ پیپلزپارٹی کو زیادہ نہیں، 25% مثبت اور کامیاب دکھانا شروع کر دیں اور پھر کسی ضمنی انتخاب میں اسے پڑنے والے ووٹوں کا تناسب دیکھ لیں، فرق واضح ہو جائے گا۔ اس لیے گزارش ہے کہ خدارا اپنے شعبے کے ساتھ انصاف کریں اور خاص ایجنڈوں کو لے کر چلنا چھوڑ دیں، ورنہ یہ سب حالات اور آپ کی جانب داریاں اس شعبے پر بھی عتاب نازل کروائیں گی، کیونکہ سیاسی اور ملکی حالات کب بدل جائیں، کچھ پتہ نہیں۔ یہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ اگر پیپلزپارٹی مرتی ہے تو اس کی کمی نہ تو مسلم لیگ (ن) پورا کر سکتی ہے اور نہ ہی تحریک انصاف میں اتنی سکت، اتنا شعور اور اتنی سیاسی فہم و تدبر ہے کہ وہ اس خلا کو پورا کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

عمران خان صاحب کے کیا کہنے؟ ان سے منسوب تو یہ باتیں آتی ہیں کہ انھوں نے پوری دنیا سے ماہر پاکستانیوں کی فہرستیں بنا رکھی ہیں، جن میں ہر شعبے کے لیے ماہر لوگ موجود ہیں اور جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو ان شعبوں میں باہر سے لوگ اکٹھے کر کے لگائیں گے، اس سے شعبوں کے ساتھ پورا پاکستان ٹھیک ہو جائے گا۔ جناب سب سے پہلا سوال یہ کہ اگر ایسی بات ہے تو آپ نے یہ تجربہ خیبرپختونخوا میں کیوں نہیں کیا؟ اور یہ لسٹ آپ کی ہے تو آپ 20 سال سے اس پارٹی کو لے کر کیا کر رہے ہیں؟ آپ کی پارٹی میں تین سو میں سے چند ایسے لوگ بھی نہیں جو کہ مختلف شعبوں کو سنبھال سکیں اور اس ملک کے نظام کو درست کر سکیں۔ پھر ایسی قومی اسمبلی میں نشستوں کی اکثریت کا کیا فائدہ۔ الیکشن کے اتنے اخراجات جو مجھ جیسے کئی لوگوں کی جیب سے جاتے ہیں، یہ ڈاکہ کیوں؟ آپ سیدھا یہ کیوں نہیں کہتے کہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت ہونی چاہیے، جس میں ماہرین اپنے اپنے شعبے کو درست کریں۔ شاید اسی طرح اس ملک کا کچھ بھلا ہو جائے، کیونکہ ایک عام بندے کو تو اس کی ضروریات زندگی سے غرض ہے۔ اس کو غرض ہے کہ اس کا گھر درست چلے، اس کے بچے اچھے اسکول میں پڑھ سکیں۔ اس کا رہن سہن اچھا ہو، اسے اپنے جائز کاموں کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اگر یہ سب آپ کے ماہرین یعنی ٹیکنوکریٹ دے سکیں تو میرے جیسے انسان کو اس قومی اسمبلی کی کیا ضرورت ہے؟ الیکشنز کا خرچہ بچ جائے گا اور کام بھی ٹھیک طریقے سے ہو پائے گا۔ مطلب ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا۔

اس بات سے ایک اور مطلب بھی نکلتا ہے کہ کہیں خان صاحب یہ تو نہیں کہنا چاہتے کہ الیکشن نہیں ہوں گے۔ مجھے نہیں لگتا، کیونکہ سیاسیات کے ایک چھوٹے سے طالب علم کی حیثیت سے یہ بات ہم جانتے ہیں کہ ہر چیز کے وقوع پذیر ہونے کے لیے کچھ حالات کا ہونا لازمی ہے، تو ابھی تک ایسے حالات نہیں ہیں کہ ٹیکنوکریٹ حکومت وجود میں آسکے اور نہ ہی کوئی ایسی دلیل جو وجہ بنے کہ ٹیکنوکریٹ حکومت ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   "مقابلہ کرنا میری تربیت" ساجدہ اقبال

عمران خان صاحب! جناب بات آپ عوام کی کرتے ہیں اور عمل آپ کے عوامی اداروں کے خلاف ہوتے ہیں۔ مجھے ابھی بھی بیس فیصد سے زیادہ امکانات نہیں لگتے ٹیکنوکریٹ حکومت کے اور مارشل لا کے تو بالکل بھی نہیں، کیونکہ فوج نے کیانی صاحب سے لے کر آج تک ہر ایسے موقع پر بہت زیادہ احتیاط سے کام لیا ہے۔ جہاں غلطی سیاسی حکومت کی تھی، موقع تھا کہ ٹیک اوور کر لیا جائے، مگر بہت سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے سیاسی قوتوں کو ہی ملک میں مسائل حل کرنے کا کہا اور خود ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ جو کہ اچھی بات ہے اور ایک اچھا طرز عمل ہے۔ ابھی تک حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ الیکشن ہوں گے۔ اس لیے تمام جماعتوں کو آئندہ آنے والے انتخابات پر فوکس کرنا چاہیے. اگر نوازشریف صاحب نے شہباز شریف صاحب کا ساتھ دیا اور ان کی بات سمجھ لی تو شہباز شریف وفاق میں ہوں گے، مگر مریم صاحبہ فی الوقت وفاق میں ہیں نہ صوبے میں۔ ان کو جب پارٹی مناسب جانے گی، اس وقت الیکشن کے راستے سیاسی عمل میں لائے گی۔ پیپلزپارٹی کو سندھ پر توجہ رکھنی چاہیے۔ آج سے تقریباً سال پہلے لکھا تھا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف صوبائی اور چھوٹی جماعتوں کا اتحاد بنے گا جس کی قیادت پیر صاحب پگاڑا کریں گے، اور کچھ دن پہلے یہ ہو بھی گیا۔ مگر یہ صرف سیاسی دباؤ کے لیے ہے۔ اس سے زیادہ ان کی حیثیت نہیں۔ پیپلزپارٹی اور بلاول صاحب کو چاہیے کہ اپنی حکومت اور اس کی کارکردگی پر توجہ دیں تاکہ عوام ان کو ووٹ دیں. جہاں تک کراچی کی بات ہے، 2018ء کے انتخابات سے پہلے ایم کیو ایم کے تمام دھڑے ایک ہو جائیں گے۔ اگر کوئی ایک آدھ باہر رہے گا تو اس کی حیثیت نہیں ہوگی۔ جہاں تک تحریک انصاف کی بات ہے تو اس میں میں عمران خان اور جہانگیر ترین کی حیثیت ایسی ہی ہوگی جیسے نواز شریف کی مسلم لیگ ن میں ہے۔ اور پارٹی کو قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی ہی لیڈ کریں گے۔ کل ملا کر بات یہ کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں مگر پہلے کی نسبت ان کی نشستیں کم ہوں گی اور وہ کس کو جائیں گی، یہ سوال اہم ہو گا۔ میری رائے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو اور پیپلزپارٹی کو یہاں اتحاد کرناچاہیے، اس میں زیادہ کردار (ن) لیگ کا ہوگا تب وہ تحریک انصاف کے غیر دانشمندانہ ا ور غیر سیاسی فہم سے بھرپور کردار سے اسمبلی میں پہنچ سکیں گے، اور زرداری صاحب کے احسانات کا بدلہ بھی چکایا جا سکے گا، اور گھر کی بات گھر میں رہے گی۔ اس کے علاوہ سندھ میں پیپلزپارٹی اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف بڑی جماعت ہوں گے۔ یعنی کوئی بھی پارٹی اکثریت میں نہیں ہوگی اور نہ ہی کلی طور پر ملکی فیصلے کرنے کی حیثیت میں، جس کا ملک کو فائدہ ہوتا ہے یا نقصان، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

Comments

خرم اقبال اعوان

خرم اقبال اعوان

خُرم اقبال اعوان 12 سال سے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سے وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں ماسٹر کرنے کی بعد جیو نیوز سے وابستہ ہوئے، یہ سفر مختلف چینلز سے ہوتے ہوئے 2008ء میں دنیا نیوز تک پہنچا۔ اب "نقطہ نظر مجیب الرحمان شامی کے ساتھ'' سیننٔر پروڈیوسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لکھنے اور اپنی رائے دوسروں تک تحریر کے ذریعہ پہنچانے کا شوق زمانہ طالب علمی سے ہے، اپنی تحریر "اے حقیقتِ منتظر" کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.