کیا فرشتوں پر ایمان نہ لانا کفر ہے - مولانا محمد جہان یعقوب

فرشتوں کے وجود اور ان کی صفات پر ایمان لانا اور انھیں اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع فرمان سمجھنا ضروری، ان کا انکار، ان کے بارے میں قرآن و حدیث سے ہٹ کر کسی قسم کی توجیہ اور ان کی گستاخی اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں، بلکہ کفر ہے!

راقم نے ''عقیدہ ٔآخرت و علاماتِ قیامت'' کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا، جو الحمدللہ! کئی اخبارات و رسائل میں شائع ہوا اور ہر مکتبۂ ٔ فکر کی طرف سے اسے نہ صرف پسند کیا گیا، بلکہ احباب کی طرف سے اصرار رہا کہ اسی انداز میں تمام ضروریات ِدین پر قرآن و احادیث ِصحیحہ سے رہنمائی فراہم کی جائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کام شروع کر دیا اور ایمان مجمل میں بیان کردہ امور (اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان، اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان، آخرت کے دن پر ایمان اور اچھی بری تقدیر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان) کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں ضروریاتِ دین پر مضامین تیار کیے، یہ مضمون اس سلسلے کی دوسری کڑی اور نقشِ ثانی ہے، قبل ازیں ''اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے تقاضے'' قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاچکا ہے۔

فرشتوں کے وجود پر ایمان لانا اور ان کا ادب کرنا ضروریاتِ دین میں سے اور ان کا انکار یا ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرنا کفر ہے۔ (النساء :١٣٦) ذیل میں فرشتوں پر ایمان کے حوالے سے ضروری تفصیلات کو قرآن وحدیث کی روشنی میں درج کیا جارہا ہے:
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ۖنے جن فرشتوں کا نام صراحت سے ذکر کیا ہے، ہم ان فرشتوں کے بارے میں تفصیلی ایمان رکھتے ہیں، مثلاً: حضرت جبرئیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، حضرت عزرائیل، حضرت مالک داروغۂ جہنم، حاملانِ عرش، منکر نکیر، کراماًکاتبین وغیرہم (علیھم السلام)۔ دوسرے تمام فرشتوں پر ہم اجمالاً ایمان رکھتے ہیں کہ ان کا وجود حق ہے۔ (البقرة:١٧٧)

فرشتوں کی جن صفات کا ہمیں علم ہے، ان پر ایمان لاناضروری ہے: جیسا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی صفت کے متعلق نبی ۖ نے بیان فرمایا: میں نے جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل و صورت میں دیکھا، ان کے 600 پر تھے اور انہوں نے افق کو بھر رکھا تھا (یعنی پوری فضا پر چھائے ہوئے تھے)۔ (مسند احمد:٤٠٧/١)

فرشتوں میں بھی مراتب ودرجات ہیں اور بعض فرشتے بعض سے افضل ہیں۔ چار فرشتے حضرت جبرئیل علیہ السلام (جن کے ذمہ پیغمبروں کی خدمت میں وحی لانے کی ذمہ داری تھی) حضرت میکائل علیہ السلام (جن کے ذمے بارش برسانے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو روزی پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔) حضرت اسرافیل علیہ السلام (جن کے ذمے قیامت کے دن صور پھونکنے کی ذمہ داری ہے) اورحضرت عزرائیل علیہ السلام (جنھیں روح قبض کرنے، یعنی لوگوں کی جان نکالنے کی ذمے داری سپرد کی گئی ہے) باقی تمام فرشتوں سے افضل و مقرّ ب ہیں۔ان چاروں کے بعدان فرشتوں کا مرتبہ سب سے بلند ہے جنھوں نے عرش کو اٹھایا ہوا ہے، یہ فرشتے'' حاملانِ عرش'' کہلاتے ہیں، (الحاقة:١٧) پھر عرش معلی کا طواف کرنے والے فرشتوں کا، پھر ملائکۂ کرسی کا، ان کے بعد ساتوں آسمانوں کے ملائکہ کا درجہ بدرجہ مرتبہ ہے، ان کے بعد وہ فرشتے ہیں جوبادلوں اورہوا پر مقرر ہیں اوربادلوں کو ہنکاتے ہیں، ان کے بعد ان فرشتوں کا مرتبہ ہے جو پہاڑوں اور دریاؤں پر مقرر ہیں اور ان کے بعد اور دوسرے فرشتوں کا مرتبہ ہے۔

فرشتوں کے مختلف کام ہیں، مثلاً: بعض فرشتوں کے ذمے ماں کے پیٹ میں بچے کی صورت بنانا، بعض فرشتوں کے ذمے انسان کی دشمنوں سے حفاظت کرنا، بعض فرشتوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کی محفلوں میں شریک ہونا، بہت سے فرشتوں کا کام درباررسالت میں حاضر ہونا، بعض فرشتوں کے ذمے نبی کریمۖ پر مسلمانوں کا درود اور سلام پہنچانا، بعض فرشتوں کے ذمے لوگوں تک روزی پہنچانا بعض فرشتوں کے ذمے آدمیوں کے نامۂ اعمال لکھنا ہے، انھیں کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔ (الانفطار:١٠۔٢١) بعض فرشتوں کے ذمے قبر میں مردوں سے سوال کرنا ہے، انھیں منکر نکیر کہا جاتاہے اور بعض فرشتوں کے ذمے عذاب دینا ہے۔

فرشتے انسان کی طرح مٹی سے یا جنّات کی طرح آگ سے پید انہیں کیے گئے، بلکہ نور سے پیدا کیے گئے ہیں۔ فرشتے نہ مرد ہیں نہ عورت ہیں، نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ فرشتوں کی کوئی خاص صورت نہیں، صورت اور بدن ان کے حق میں ایسا ہے کہ جیسے ہمارے لیے ہمارا لباس، اللہ تعالی نے انھیں یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں اختیار کر لیں۔ البتہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ ان کے بازو یا پر ہیں۔ (سورہ فاطر:١) فرشتے عام طور پر نظر نہیں آتے، مگر جن کے لیے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے، وہ فرشتوں کو دیکھتے ہیں ۔(الأنعام:٩) فرشتے اگرچہ ہمیں نظر نہیں آتے مگر، ان میں ''ربوبیت'' یعنی رب ہونے اور ''الوہیت'' یعنی معبود ہونے کی کوئی خصوصیت موجود نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی اولادی ا بیٹیاں بھی نہیں، جیسا کہ مشرکین مکہ کا عقیدہ تھا۔

اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی ہی ان کی غذا ہے،وہ ہر وقت ذکرالہٰی میں مصروف رہتے ہیں،کوئی سجدے میں،کوئی رکوع میں اور کوئی کسی اور عبادت میں مشغول ہے۔(الانبیاء:٢٠)

فرشتے اللہ تعالی کے حکم سے انسانی شکل و صورت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں، (البقرة:٢٤٨) جیسا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق معروف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت مریم رضی اللہ عنھاکے پاس بھیجا، تو وہ ان کے پاس ایک عام انسان کی شکل میں آئے تھے۔ (سورہ مریم)وہ فرشتے، جن کو اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیھما السلام کے پاس بھیجا تھا وہ بھی انسانوں ہی کی شکل میں آئے تھے۔ (الحجر:٦١)

اسی طرح ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپۖ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ وہ ایک ایسے شخص کی شکل میں آئے تھے کہ ان کے کپڑے انتہائی سفید اور سر کے بال غیر معمولی طور پر سیاہ تھے اور ان پر سفر کے آثار بھی نہیں تھے، صحابہ رضی اللہ عنھم میں سے کوئی بھی انہیں نہیں پہچانتا تھا۔ وہ اپنے گھٹنے نبی ۖ کے گھٹنوں سے ملا کر بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے۔ انہوں نے نبی ۖ سے اسلام، ایمان، احسان، قیامت کی گھڑی اور اس کی نشانیوں کے بارے میں سوال کیا۔ نبی ۖ انھیں جواب دیتے رہے۔ پھر نبی ۖ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مخاطب ہو کر فرمایا: ھٰذا جبریل اتاکم یعلِّمکم دینکم (صحیح مسلم) یعنی: یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے جو تمھیں تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں گناہ اور برائی کرنے کی قوت وصلاحیت اور تقاضا وچاہت ہی نہیں رکھی،جس طرح انسانوں اور جنات میں رکھی ہے۔فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم، فرماں بردار بندے ہیں، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ نہیں کرتے،وہ صرف وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے،وہ اپنے کاموں کے کرنے سے تھکتے بھی نہیں۔(التحریم :٦)فرشتے اللہ تعالیٰ کالشکر ہیں، ان کی تعداداللہ تعالیٰ کے سواکسی کے علم میں نہیں۔ (سورۂ مدثر:٣١، صحیح بخاری :٣٢٠٧،صحیح مسلم :١٦٤)

خلاصۂ کلام یہ کہ:انسانوں اور جنّات کی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔وہ نور سے پیدا کیے گئے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانی نہیں کرسکتے۔ ذکر و تسبیح ہی ان کی غذا ہے۔ کھانے پینے سمیت تمام بشری تقاضوں سے وہ پاک ہیں۔ وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کی تعداد کتنی ہے؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ فرشتوں کے وجود اور ان کی صفات پر ایمان لانا، انھیں اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع فرمان سمجھنا ضروری اور ان کاانکار، ان کے بارے میں قرآن وحدیث سے ہٹ کر کسی قسم کی توجیہ اور ان کی گستاخی اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اس نوری مخلوق پر اسی طرح ایمان لانے اور رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، جس طرح اس نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں سکھایا ہے۔آمین!

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.