یقین کا سفر، ایک جائزہ - سعدیہ نعمان

فرحت اشتیاق کے ناول پہ تشکیل دیا گیا ڈرامہ ''یقین کا سفر'' ہم ٹی وی کا ایک مقبول ترین سیریل ہے، اور حال ہی میں اختتام کو پہنچا ہے. اسے مقبول ترین بنانے میں جہاں بلاشبہ مصنفہ کی مضبوط کہانی کا عمل دخل ہے، وہاں کچھ اور عوامل بھی اہم ہیں. ڈرامہ نہ صرف معاشرے کے حقیقی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک فیملی ڈرامہ بھی ہے.

ابتدا ہی سے دیکھیے
دیہات میں جاری جاگیر دارانہ نظام اور وڈیرا راج کی تصویر کھینچی گئی ہے.
نوری کی آبرو ریزی اور عصمت دری کے واقعہ کے بعد جس ظالمانہ انداز میں وڈیرے کے بیٹے کو بچایا گیا اور نوری کو جس طرح ڈرایا دھمکایا گیا، سب معاشرے کے حقیقی رویوں کی عکاسی کرتا ہے جبکہ نوری اور اس کا چھوٹا بھائی بے پناہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں، یہاں ہمارے ملک میں عورت کے نام پہ کام کرنے والی این جی اوز بھی سسٹم کے سامنے بےبس دکھائی دیتی ہیں.

دوسری جانب زوبیہ کا کردار ہے جہاں کچی عمر کی انجانے میں ہونے والی غلطی کا اسے دیر تک خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، لیکن وہ ہمت اور حوصلہ سے نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے. ایسے میں اس کی والدہ کی رہنمائی اور نصیحتیں بہت عمدہ ہیں جیسا کہ لڑکی کو باپ اور بھائی کے علاوہ کسی غیر مرد پہ اعتبار نہیں کرنا چاہیے. وغیرہ

بیرسٹر عثمان کا خاندان شرافت، دیانت اور عظمت کردار کا بہترین نمونہ پیش کر رہا ہے. ایک ایسا خاندان جو ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے. بیرسٹر دانیال ایک باکردار باہمت اور دیانتدار نوجوان ہے جو مظلوم عورت کو انصاف دلانے میں اپنی جان بھی دے دیتا ہے، اور اپنا تمام جذبہ اپنے بھائی ڈاکٹر اسفندیار میں منتقل کر جاتا ہے. بیرسٹر دانیال کو جس طرح سازش کے تحت ایک جال میں پھنسایا گیا، اور جس طرح یہاں بھی ایک عورت کا استعمال کیا گیا، اس سے ہمارے نظام کی بے بسی اور کرپشن کی پوری تصویر واضح نظر آتی ہے.پھر اس خاندان کی نیلم ویلی میں منتقلی سے کہانی کو ایک نیا موڑ ملتا ہے. یہاں کے دیہی علاقوں میں عورت کے ساتھ برتا جانے والا ناروا سلوک اور نازیبا رویہ بھی دکھایا گیا ہے.

اس ڈرامہ کے سبھی کردار بہت جاندار ہیں، مصنفہ فرحت اشتیاق ا ور پروڈیوسر مؤمنہ درید کی محنت بھی عیاں ہے. اس کی مقبولیت سے کچھ پہلو بہت واضح ہیں جنھیں اگر ڈرامہ سازی میں سامنے رکھا جائے تو پاکستانی ڈرامہ آج بھی بہترین ڈرامہ کہلا سکتا ہے.
ایک تو یہ کہ عوام آج بھی ایک ایسا ڈرامہ دیکھنا چاہتے ہیں جو ہر لحاظ سے فیملی ڈرامہ کہلا سکے،
جس میں کردار، ان کی گفتگو، ان کا لباس معیاری ہو، حیا کے تقاضے پورے کرتا ہو،
اوچھے انداز میں رومینٹک مناظر نہ ہوں، انداز با وقار ہو.

دوسرا یہ کہ عام فرد ڈرامہ کی سچویشن اور کرداروں کو حقیقی زندگی پہ منطبق کر سکے، اسے ان سارے کرداروں میں اپنا آپ اور اپنا اردگرد ہی نظر آئے. ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ ڈراموں میں اس قدر مصنوعی طرز زندگی اور ایسی منفی سوچ اور گھٹیا مناظر دکھائے جاتے ہیں کہ گھر میں سب اہل خانہ کے لیے مل بیٹھ کر دیکھنا ممکن نہیں رہتا.

ایک اور پہلو یہ کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، ظالم سے نہ ڈرنا، عدل و انصاف اور حق کے لیے ڈٹ جانا، جان تک قربان کر دینا (دانیال کا کردار) کسی عظیم مقصد کے لیے خود کو وقف کر دینا (ڈاکٹراسفند)، نیکی کا جذبہ (ڈاکٹر زوبیہ کا غریب بچوں کو تعلیم دینا) ایسی اعلی اخلاقی اقدار ہیں جن کا درس ہمارا دین بھی دیتا ہے. جو کردار حقیقی زندگی میں بھی ان پر کاربند ہوتے ہیں، وہ معاشرے میں مقبول ہوتے ہیں اور عوام ان کو عزت کی مسند پہ بٹھاتے ہیں. پھر بیرسٹر عثمان کے گھر کے ماحول میں جو نرمی، عفو و درگزر اور اعلی ظرفی دکھائی گئی ہے، وہ قابل تقلید ہے۔

اگرچہ ڈرامہ مجموعی طور پہ بہت زبردست تھا،
اپنے تھیم اور سٹوری کے لحاظ سے پرفیکٹ، لیکن
آخر میں اگر زوبیہ اور ڈاکٹر اسفند کو اسی کردار کے ساتھ جانے دیا جاتا جو اب تک سامنے آ رہا تھا، تو بہترین اختتام تھا۔
گلے لگ کے رونے دھونے کے سین نے یکدم تاثر ہی بدل دیا، جس اعلی کردار پہ زوبیہ کو دکھایا گیا تھا، یہ سین اس سے میل نہیں کھاتا تھا۔
اتنا حق تو رائٹر کا بنتا ہے کہ وہ پروڈیوسر سے اس حد تک بات منوا سکے کہ سین میں vulgarity نہ ہو۔
امید ہے قارئین میری اس رائے سے اتفاق کریں گے۔

آپ اب بھی معاشرے کے اندر سے کردار لے کے معاشرے کے حقیقی مسائل کے لیے ڈرامہ بنائیے، سب ضرور سراہیں گے۔
بس اقدار اور اخلاقی حدود پامال نہ ہونے دیجیے گا، ہم پہلے ہی بہت کچھ کھو چکے ہیں، ہماری نوجوان نسل بہت بے چارگی میں ہے، دل بہت دکھتا ہے دیکھ کے،
آپ یعنی اہل قلم اور میڈیا والے اپنا قبلہ درست رکھیں تو ہم بہت کچھ ابھی بھی کھونے سے بچا سکتے ہیں۔خدا کرے ہم پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے آگے مل کر بند باندھ سکیں۔

ہمارا مطالبہ بھی ہے اور خواہش بھی
کہ آئندہ بھی ایسے ہی ڈرامے تخلیق کیے جائیں جو ہماری ثقافت اور تہذیب کے آئینہ دار ہوں، ہمارے نوجوانوں کے لیے درست سمت میں رہنمائی کا کام کر سکیں اور جنھیں ایک دفعہ پھر فیملی ڈرامہ کا مقام مل سکے۔

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.