دنیا کیا ہے؟ - نوید اقبال

دنیا کی رونق ہر ایک کو لبھاتی ہے۔ اسی وجہ سے ہر کوئی اس کا دیوانہ اور اس کے حصول کی تگ و دو میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن دنیا کا معاملہ عجیب تر ہے۔ عروج وزوال فطرت کا ایک مسلّمہ قاعدہ ہے اوردنیا کی معلوم تاریخ اس پر شاہد ہے۔

چھ سال کی عمر میں ولی عہد، بائیس سال کی عمر میں تخت شاہی پر بیٹھنے اور اڑتیس سال تک حکمرانی کے مزے لوٹنے والا،امریکہ کی ناک کا بال، سابق شہنشاہ ایران"رضا شاہ پہلوی"کو جلا وطنی کے بعد کہیں جائے اماں نہ ملی۔ امریکہ نے مختصر عرصہ سے زیادہ کے لیے پناہ دینے سے انکار کردیا۔ میکسیکو میں بغیر پروٹو کول کے پناہ ملی۔ مراکش نے پناہ دینے سے انکار کردیا۔ شہنشاہ نے مصر کے صدر "انور سادات"کو پناہ کی درخواست کے لیے جو خط لکھا اس کے الفاظ سب کے لیے نمونہ عبرت ہیں۔ اس نے لکھا:" میں دنیا کا سب سے بڑا بھکاری ہوں،خدا کے واسطے مجھے مصر آنے دو۔ "ترس کھا کر مصر کے صدر نے اس کو پناہ دی اور یہیں قاہرہ کے ہسپتال میں جب اس کا انتقال ہوا تو دنیا کے مختلف بینکوں میں جمع شدہ اس کی دولت کی مالیت دس ہزار ملین پونڈ سے بھی زیادہ تھی۔

مصر کے حسنی مبارک،لیبیا کے معمر قذافی،فلپائن کے مارکوس،انڈونیشیا کے سہارتو،ارجنٹائن کے جوان پیرون، دولت و اقتدار کے نشے میں مست رہنے والوں کے لیے تازیانہ عبرت اور دنیا کو مقصد بنا کر حرام و حلال بھول جانے والوں کے لیے سرمہ بصیرت ہیں۔

آخری مغلیہ تاجدار بہادر شاہ ظفر کی جلا وطنی و کسمپرسی اور ان کی اولاد کی حالت زار کے واقعات سے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دنیا کے بازیچہ اطفال کاعجب تماشا ہے،بابر کا بے سروسامانی کی حالت میں ایک اتنی بڑی سلطنت کی بنیاد رکھنا اور بہادر شاہ ظفر کا وراثت میں ملنے والی اتنی بڑی سلطنت کو ہاتھوں سے کھونا ۔ جہاں یہ داستان عبرت ہے وہیں دنیا کی بے ثباتی و بے وفائی پر بھی دال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا بدل رہی ہے - زبیر منصوری

یہ چند مثالیں ہیں ورنہ تاریخ عالم ایسے حیران کن واقعات سے بھری پڑی ہے۔ بادشاہ کا فقیر اور فقیر کا بادشاہ بننا،دولت مند کا غریب اور غریب کا دولت مند بننا،جھونپڑی میں رہنے والوں کا محل نشین ہونا اور محل میں رہنے والوں کا جھونپڑیوں میں آپڑنا۔ یہ حالات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔

اسی وجہ سے اس دنیا کو قرآن کی زبان میں" متاع غرور" یعنی دھوکے کاسامان فرمایا گیا۔ یہاں، آج کا صحت مند کل کا بیمار،آج کا کامیاب کل کا ناکام،آج کا بادشاہ کل کا فقیر اور آج کا مالدار کل کا غریب ہے۔ گویا ہر شخص دھوکے میں پڑا ہوا ہے۔ کیا بادشاہ اور کیا فقیر،کیا امیراور کیا غریب،کیا کامیاب اور کیا ناکام؟

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بے وقعتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے عارضی پڑاؤ قرار دیا۔ جیسے سفر کے دوران ہوائی اڈے،بس اڈے یا ریلوے سٹیشن پر انسان مسافر خانے میں وقتی قیام کرتا ہے بالکل یہی مثال دنیا کے قیام کی ہے۔ یہ آخرت کی منزل سے قبل کا مختصر پڑاؤ ہے۔ جو اسے مسافر خانہ خیال کرکے اپنی منزل پر نگاہ رکھتا ہے،سرخروئی اس کا مقدر بنتی ہے اور جو اس کی رنگینی میں کھو کر منزل بھلا بیٹھتا ہے، سوائے پچھتاوے کے اسے کچھ نہیں ملتا۔ بقول کسے

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

دنیا کی مثال ایک بد شکل بڑھیا سے دی گئی ہے جو انتہائی زرق برق لباس پہنے، اپنے چاہنے والوں کو دور سے اپنی جھلک دکھا کر ان کے آگے بھاگتی ہے اور ان کو ذلت کے گڑھے میں پہنچا کر دم لیتی ہے۔

دنیا وہ سراب ہے جس کے پیچھے دوڑنے والوں کے مقدر میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنا لکھا ہے۔ دنیا وہ خوشرنگ زہریلا سانپ ہے جس کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔ دنیا ایسا دام ہمہ رنگ ہے جس میں پھنسنے والے کو آخر تک اپنی قید کا احساس تک نہیں ہوتا۔ دنیا ایسی محبوبہ ہے،بے وفائی جس کا پیشہ ہے۔ دنیا اک خواب پریشان ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ دنیا اک پراگندہ خیال ہے جس کا انجام حسرت و افسوس کے سوا کچھ نہیں۔ دنیا اک ناتمام خواہش ہے جو سدا ناتمام ہی رہتی ہے۔ دنیا وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق نہیں۔ دنیا وہ بھنور ہے جس سے نکلنا جان جوکھم کے بغیر آسان نہیں۔ دنیا وہ ہرجائی محبوبہ ہے جس کے عاشقوں کے نصیب میں وصال نہیں۔ دنیا وہ کھائی ہے جس کی تہہ معلوم نہیں۔ دنیا وہ منزل ہے جس کے طرف چلنے والے سدا آبلہ پا ہی رہتے ہیں،منزل پر پہنچ کر سستانے کی خوشی انہیں کبھی نہیں ملتی۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا بدل رہی ہے - زبیر منصوری

عقلمند شخص وہ ہے جو دنیا کی بے وفائی،بے ثباتی،دھوکہ دہی،بدصورتی،بد سلوکی اور ذلت و خواری کو نگاہ میں رکھ کر اس حسین زندگی کے لیے زاد راہ تیار کرےجس کے سامنے دنیا کی ساری خوبصورتیاں اور سارے عیش ہیچ ہیں۔ جہاں کا کامیاب کبھی ناکام و نامراد نہ ہو گا۔ جہاں کا صحت مند کبھ بیمار نہ ہو گا۔ جہاں کا بادشاہ کبھی فقیر نہ ہو گا۔ جہاں کی خوشحالی کبھی بدحالی میں تبدیل نہ ہو گی۔ جہاں کا جوان کبھی بوڑھا نہ ہو گا۔ جہاں کی نعمتیں ہمیشہ رہیں گی کبھی ختم نہ ہوں گی۔ گویا شاعر کے تخیل،دل کی تمنااورذہن کی رسائی سے بھی بلند،گمان سے ماوراء ایک ایسی زندگی جس کی مثال دنیا میں ملنا ممکن نہیں۔