کیا خیبر پختونخوا بدل رہا ہے؟ فیاض راجہ

دنیا بھر میں حقیقت اور تاثر کی جنگ صدیوں پرانی ہے۔ حیقت چاہے روز روشن کی طرح عیاں ہو، تاثر بنانے والے ایسی باکمال مہارت سے کام لیتے ہیں کہ تاثر کی "اسموک اسکرین" کے سامنے حقیقت دھندلانے لگ جاتی ہے۔ تاثر کی اس بھیڑ چال میں کوئی حقیقت سامنے لانے کی کوشش بھی کرے، تو اس کی یہ ادا، صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوتی ہے۔

مشرقی پاکستان کے المیے کے بعد 1972ء میں ذولفقار علی بھٹو کے"نئے پاکستان" میں پیپلز پارٹی کو مرکز میں اقتدار ملا تو اس نے ساتھ میں پنجاب اور سندھ میں بھی صوبائی حکومتیں بنائیں۔ تاہم بلوچستان اور خیر پختونخواہ (اس وقت کے صوبہ سرحد) میں پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفین نیپ اور جمیعت علمائے اسلام نے پیپلزپارٹی کی نسبت بہتر مینڈیٹ حاصل کرکے اقتدار کا مزہ چکھا۔

1977ء کے متنازعہ انتخابات اور 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں صوبہ سرحد کی سیاسی تصویر دھندلی نظر آتی ہے۔ 1988ء، 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے انتخابات میں صوبہ سرحد سے باری باری پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ ملتا رہا۔ اس دوران یہ دونوں جماعتیں مرکز میں بھی باری باری دو مرتبہ اقتدار میں رہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے فوجی اقتدار کے دوران، پاکستان میں اکیسویں صدی کے پہلے اور 2002ء میں ہونے والے عام انتخابات میں مرکز میں، پرو اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ قائد اعظم نے حکومت بنائی تو صوبہ سرحد میں دائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو اقتدار ملا۔

جنرل پرویز مشرف کی وردی اترنے کے بعد 2008ء میں ہونے والے عام انتخابات میں مرکز میں بائیں بازو کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو صوبہ سرحد میں بھی بائیں بازو ہی کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔

چھ برس قبل 30 اکتوبر 2011ء کو لاہور میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے کامیاب جلسے نے پورے ملک کی سیاسی حرکیات گویا تبدیل کرکے رکھ دیں۔ عمران خان کے نئے پاکستان کے نعرے کے سائے میں ہونے والے 2013ء کے عام انتخابات نے پورے ملک میں انتہائی دلچسب انتخابی نتائج دیے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ لگاتار دو اسمبلیوں کی مدت پورے ہونے کے بعد منعقد ہونے والے عام انتخابات میں مرکز میں مسلم لیگ نواز کو حکومت کرنے کا مینڈیٹ ملا تو انتہائی منفرد اور دلچسب بات یہ تھی کہ پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے تین بڑے صوبوں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں مختلف سیاسی جماعتوں نے صوبائی حکومتیں بنائیں۔

پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور سندھ میں پیپلزپارٹی کا اقتدار سنبھالنا ہرگز کوئی انہونی بات نہیں تھی مگر خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کا حکومت بنانا یقینا ایک نئی بات تھی۔ یوں اس تاثر کو تقویت ملی کہ خیبر پختونخواہ کے عوام ہر بار عام انتخابات میں کسی نئی سیاسی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیتے ہیں۔

پنجاب اور سندھ سے موازنہ کیا جائے تو خیبرپختونخواہ کی سیاسی حرکیات ہر دو صوبوں سے کچھ یوں بھی مخلتف ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے بعد کوئی مقابل نہیں دور تک کے بعد اب صوبے بھر میں صرف تحریک انصاف ہی ہے جو اسے گزشتہ چار برسوں کے درمیان ہونے والے ضمنی انتخابات میں ٹف ٹائم دیتی نظر آ رہی ہے۔

دیہی سندھ میں کچھ ایسی ہی سہولت پیپلز پارٹی کو بھی حاصل ہے جس کے سیاسی مخالفین گزرے چار برسوں کے ضمنی انتخابات میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے۔ شہری سندھ یعنی کراچی اور حیدر آباد میں تمام تر "کوششوں" کے باوجود مہاجر ووٹ بینک نہ صرف قائم ہے بلکہ ہر ہونے والے ضمنی انتخاب میں اپنا آپ دکھا بھی رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کا معاملہ کچھ الگ یوں ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے صوبے کی تقریبا 45 فیصد نشستیں حاصل کرکے صوبائی حکومت تو بنالی مگر 55 فیصد نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کے حصے میں آئیں۔

خیبرپختونخوا کی ننانوے میں سے پینتالیس نشستیں تحریک انصاف کے حصے میں آئیں تو جمیعت علمائے اسلام اور مسلم لیگ نواز نے تیرہ تیرہ، قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی نے آٹھ آٹھ، عوامی نیشل پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد نے چار چار جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے تین شستیں حاصل کیں۔

اعداد و شمار سے واضح ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے اچھے برے وقت کے اتحادیوں جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد کے علاوہ کم ازکم چار سیاسی جماعتیں جمیعت علمائے اسلام، مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی پوری طرح فعال ہیں۔

اگست 2013ء میں این اے 1 پشاور کے ضمنی انتخابات اور اگست 2015ء میں این اے19 ہری پور کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے مقابلے میں کثیر الجماعتی اتحاد نے اپنا اثر دکھایا تو سیاسی ماہرین نے تحریک انصاف کا ووٹ بینک کم ہونے کے تاثر کو پروان چڑھایا۔

2015ء میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں صوبے کے نصف سے زائد اضلاع میں تحریک انصاف کی کامیابی کے باوجود مخلتف اضلاع میں عین اپنی سیاسی حرکیات کے مطابق تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں کا متنوع اور بکھرا ووٹ بینک نظر آیا تو سیاسی نجومی ایک بار پھر صوبے میں تحریک انصاف کی مقبولیت کی کمی کی پیش گوئیاں کرتے نظر آئے حالانکہ اعداوشمار واضح کرتے ہیں کہ 2015ء کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج کا عکس تھے۔

الیکشن کمیشن سے حاصل کیے گئے اعداودشمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے۔ ان حلقوں میں تحریک انصاف نے 5 جبکہ نواز لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی نے ایک ایک نشست حاصل کی۔ مذکورہ حلقوں میں 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے 5 جبکہ جمیعت علمائے اسلام نے 2 نشتیں حاصل کی تھیں۔ یوں تحریک انصاف نے آخری ٹوٹل میں اپنی قومی اسمبلی کی نشتیں برقرار رکھی ہیں جبکہ صوبے میں اس کی بدترین مخالف جمیعت علمائے اسلام اپنی 2 نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

خیبر پختونخواہ میں گزشتہ چار برسوں میں صوبائی اسمبلی کے 11 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے۔ ان حلقوں میں تحریک انصاف نے 4 نواز لیگ نے 2، آزاد امیدواروں نے 2 نشستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی، عوامی نیشل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام نے ایک ایک نشست حاصل کی۔ مذکورہ حلقوں میں 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے صرف 1 نشست حاصل کی تھی۔ یہاں سے نواز لیگ نے 3 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ 4 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام نے ایک ایک نشست حاصل کی تھی۔ یوں تحریک انصاف نے اپنے آخری ٹوٹل میں اپنی صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں 3 نشستوں کا اضافہ کیا ہے، جبکہ پنجاب میں اس کی حریف جماعت مسلم لیگ نواز ،خیبر پختونخواہ میں اپنی ایک نشست سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے دوران 11 میں سے 8 حلقوں پر پاکستان انصاف نے اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ ان 8 حلقوں میں پڑنے والے کل ووٹوں کی تعداد 4 لاکھ 24 ہزار 722 تھی جن میں سے تحریک انصاف نے 1 لاکھ 75 ہزار 315 ووٹ حاصل کیے۔ یوں ان حلقوں میں تحریک انصاف کے حصے میں تقریبا 41 فیصد ووٹ آئے۔

2013ء کے عام انتخابات میں مذکورہ 11 میں سے 10 حلقوں پر تحریک انصاف نے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ ان 10 حلقوں میں پڑنے والے کل ووٹوں کی تعداد 5 لاکھ 84 ہزار 542 تھی جن میں سے تحریک انصاف نے 1 لاکھ 10 ہزار 54 ووٹ حاصل کیے تھے۔ یوں ان حلقوں میں تحریک انصاف کے حصے میں تقریبا 19 فیصد ووٹ آئے تھے۔

اعدادوشمار کی زبان میں بات کی جائے تو تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے دوران نہ صرف مذکورہ حلقوں میں اپنے ووٹ بینک میں 22 فیصد کا اضافہ کیا بلکہ صوبائی اسمبلی کی 3 مزید نشستیں بھی حاصل کرلیں۔

این اے 4 پشاور کے ضمنی انتخابات سے قبل، خیبر پختنونخوا میں قومی اسمبلی کے 6 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں 7 لاکھ 31 ہزار 466 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے تحریک انصاف کو 3 لاکھ 48 ہزار 665 ووٹ ملے یوں ان کے حصے میں ڈالے گئے، ووٹوں میں سے تقریبا 48 فیصد ووٹ آئے۔ مذکورہ 6 حلقوں میں 2013ء کے عام انتخابات کے دوران 11 لاکھ 2 ہزار 610 ووٹ ڈالے گئے تھے جن میں سے تحریک انصاف کو 3 لاکھ 92 ہزار 56 ووٹ ملے یوں ان کے حصے میں تقریبا 35 فیصد ووٹ آئے تھے۔ اعداد و شمار کی زبان میں تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے دوران اپنے ووٹ بینک میں 13 فیصد کا اضافہ کیا۔

خیر پختونخوا میں گزشتہ چار برسوں کے دوران ہونے و الے ضمنی انتخابات کے دوران نہ صرف تحریک انصاف کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا بلکہ صوبائی اسمبلی میں اس کی تین نشستیں بھی بڑھ گئیں۔ کیا ہر انتخابات میں سیاسی جماعت بدلنے والا خیر پختونخوا اب کی بار خود بدل رہا ہے؟

Comments

فیاض راجہ

فیاض راجہ

محمد فیاض راجہ ڈان نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ 16 برس سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نوائےوقت، جیو نیوز، سما ٹی وی اور 92 نیوز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.