ملائکہ انسان اور جدیدیت - محمد عمران خان

جس طرح ہر ذی روح مخلوق کے افعال اس کے اندر موجود روح (soul) کے محتاج ہوا کرتے ہیں ۔ جب روح اس جاندار کے جسم سے الگ ہو جاتی ہے تو وہ غیر فعال و بے جان ہو جاتا ہےاسی طرح غیر جاندار اشیا مثلاً ہوا، بادل، سورج چاند ستارے، پہاڑ وغیرہ بھی کسی نہ کسی روح یا ارواح ہی کی محتاج ہیں۔ درحقیقت اللہ عزو جل نے ان اجسام کے لیے بھی ارواح کا انتظام کر رکھا ہے جنہیں ’’ملائکہ یا فرشتے ‘‘کہا جاتا ہے۔ یاد رہے مادہ اور اس کے خواص اپنی ذات میں موثرنہیں بلکہ موثرِ حقیقی خدائے بزرگ و برتر ہے جو اپنی کارکن طاقتوں = ارواحِ مجردہ یعنی ’’ملائکہ‘‘ کے ذریعہ ان کو موثر بناتا ہے۔ درحقیقت ہر مادی سبب و مسبب( علت و معلول) (Cause n Effect ) کے پیچھے یہی روحانی اجسام یعنی Metaphysical or Spiritual Beings ہوا کرتے ہیں جو اللہ مسبب الاسباب (The First Cause) کے حکم و ارادہ سے اس کے مقرر کردہ اصولوں سے نظامِ عالم چلا رہے ہوتے ہیں۔

ملائکہ، ذی روح،غیر مرئی (invisible ) اور نوری مخلوق ہیں۔ جنس و خوردو نوش سے مستغنی ہیں۔ نہ تھکتے تھمتے ہیں اور نہ سوتے سستاتے ہیں۔باعزت و باعلم و حکمت ہیں۔جس طرح انسانی بدن میں روح نظر نہیں آتی اسی طرح یہ ملائکہ بھی ہماری نگاہوں سے پوشیدہ رہ کر اپنے اپنے فرائضِ منصبی انجام دیتے ہیں۔انسانی ارواح چونکہ ارادہ کی مالک ہوا کرتی ہیں اسی وجہ سے مختلف انسانوں سے مختلف رویّے اور افعال سرزد ہوتے ہیں اور وہ ایک ہی کام کو مختلف انداز سے سر انجام دیتے ہیں دوسری جانب ملائکہ چونکہ صلاحیتِ ارادہ Will Power نہیں رکھتے لہٰذا ان کے کاموں میں یک رنگی، یکسانی، تواتر اور عدم اختلاف پایا جاتا ہے۔فرشتے اس کائناتی تکوین کی وہ مافوق الفطرت مخلوق ہےجو تین میں سے ایک ہےجبکہ بقیہ دو انسان اور جنات ہیں، ان سب کی مشترک وجہِ تخلیق’عبادت ‘ہے۔ خلقِ آدم ؑ کا بیان بائبل میں کتاب پیدائش کے ابواب دوم و سوم میں باغِ عدن کے واقعہ میں مذکور ہے جبکہ قرآن کریم میں سورۃ البقرۃ۲کے چوتھے رکوع کی ۱۰آیات وسورۃ الکھف ۱۸کے ساتویں رکوع کی ۴آیات وغیرہ میں فرشتوں اور جن و بشر کے فرق و امتیار اور آئندہ کردار کے بارے میں حقیقت پسندانہ بیان موجود ہے۔

فرشتہ اور انسان کےباہمی تعلق کو دونوں ہی ممکنہ جہات (dimensions) سے تسلیم کیا گیا ہے۔ ایک طرف اگر متبعینِ وحی نے ہبوطِ آدم کے بعد فرشتوں سے انسان کا قبل از پیدائش شروع ہوکر موت کے بعد تک جاری بالواسطہ اور بذریعہ پیغمبر بلاواسطہ تعلق مستند و متحقق مانا ہے تو دوسری جانب اہلِ عقل و خرد نے بھی آفاق و انفس پر غوروتدبرکے بعد فرشتوں کی موجودگی کو دریافت (discover) کیا ہے۔ان روحانی ہستیوں نے بحکمِ ربی،منتخب بندوں یعنی انبیأ و رسل سےمستقل ربط وضبط استوار رکھاتاکہ یہ چنیدہ افراد،اللہ کا پیغام تمام جن و انس تک پہنچائیں۔ چونکہ انبیأ علیہم السلام اعلیٰ ترین اوصاف و کمال کے حامل اورمعتبر ہستیاں ہیں اور فرشتوں نےحامئین ومخالفینِ انبیأ سے حسیاتی تعلق (Sensorial Connection) بھی ظاہر کیا اور مافوق الفطرت انداز میں پیروانِ انبیأ کے معاون و موید بھی رہے نیز ان ارواحِ مقدسہ نے انکی فکروعمل کو براہِ راست متاثر بھی کیالہٰذا مذاہبِ عالم میں ’’ایمان بالملائکہ‘‘بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ تعلق ازسرِ نو مسیحیؑ آمدِ ثانی (Second coming ) سے استوار ہو گا۔

فرشتوں کو روایتی تہذیبوں میں مختلف اسمأ و افعال سے پہچانا جاتا رہاہے۔ قدیم یونانی و مصری فلسفہ میں انہیں ’’ عقولِ عشرہ‘‘، غیر مادی ارواح اور Logosیا بڑی سچائی کہا جاتا تھا۔ “Angel”یونانی لفظ Angelos بمعنی ’پیغامبر‘سے ماخوذ ہے۔ پارسی ذرتشت مت(Zoroastrianism) جو اہرمن و یزداں دو متوازی خیر و شر کی طاقتوں کو مانتے ہیں، 33 فرشتوں کا تصور رکھتے ہیں۔ اہلِ عرب فرشتوں کو مونث یا خدا کی بیٹیاں تصور کرتے تھے (الصافات37: 149-150)۔ جبکہ ہندوؤں میں فرشتوں کا دھندلایا ہوا تصور ہے لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ ان کے لاتعداد دیوی دیوتاؤں کی خصوصیات فرشتوں سے مشابہ ہیں۔

فرشتے ابو البشر آدم ؑ سے قبل تخلیق کیے جاچکے تھے ( البقرۃ2: 30) ۔ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے ہاں پیامبر فرشتہ کو ’’جبرائیل‘‘ ملک الملکوت ( Archangelos) کہا گیا جبکہ مقرب فرشتوں(Archangels) کا تصور بھی موجود ہے (دانی ایل۱۰: ۱۳) (المطففین83: 21)۔ عیسائیوں کے ’’روح القدس ‘‘، اسلام میں جبرائیل ؑ ہیں۔ ’’میکائیل‘‘ وہ خاص فرشتہ ہے جس کی ذمہ داری یہودی قوم کی دیکھ بھال او ر حمایت مانی جاتی تھی (دانیال 12: 1) نیز یہودی جبرائیلؑ کو اپنا دشمن اور میکائیلؑ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں لیکن اسلام سخت الفاظ میں اس کی تردید کرتا ہے (البقرۃ2: 97۔98)۔ جبکہ اسلام میں رزق کی تقسیم و بارش برسانے والے ’’میکائیلؑ ‘‘ ہیں جنہیں رحمت کے فرشتوں میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ الزبانیہ (پولیس، پیادوں کا لشکر۔ العلق 96: 9-19) عذاب کے فرشتے ہیں؛ صور پھونکنے والے ’’اسرافیلؑ (Raphael)‘‘؛ عزرائیل (Azrael) روح قبض کرنے والے ہیں جنہیں اسلام میں’’ملک الموت ؑ ‘‘کہا جاتا ہے (السجدہ32: 11)۔ آسمان کی دربانی کرنے والے بھی فرشتے ہیں۔ عرشِ الہٰی کے گردا گرد بھی فرشتے مامور ہیں۔ جنت کے داروغہ کا نام ’’رضوان‘‘ اور جہنم کے فرشتہ کا نام ’’ مالک‘‘ ہے (الزخرف43: 77، البدایہ والنہایہ از ابنِ کثیر)۔

یہودی روایت میں ’’کروبی‘‘ وہ قدسی (فرشتے) ہیں جن کا تعلق عہد کے صندوق تابوتِ سکینہ (Ark of Covenant) سے بتایا جاتا ہے۔ یاد رہے طالوت بادشاہ کی الوہی نشانی ’صندوقِ میثاق‘ لانے والے فرشتے ہی تھے (البقرۃ2: 248)۔ عیسائی روایت میں ان کا جسہ یونانی اسطوریات کے Griffin (خیالی جانور: سر اور پر عقاب کے اور بدن شیر کا سا تھا) سے بہت مشابہ ہے، جس سے عیسائیت میں یونانی دیومالائی Mythologyاثرات کا پتا چلتا ہے۔ ’’سرافیم ‘‘اعلیٰ فرشتوں کا ایک طبقہ ہے جن کے چھ پر ہوتے ہیں۔ قرآن مھیمن و سنتِ رسولؐ اس کی تائید کرتے ہیں کہ فرشتوں کے کئی سو تک پر َ ہو سکتے ہیں۔ انہیں روحیں بھی کہا گیا۔ بمطابق بائبل فرشتے غیر فانی ہیں (لوقا۲۰: ۳۶) اسلام سوائے اللہ الحی القیوم کے کسی کو بھی لافانی تسلیم نہیں کرتا (القصص 28: 88) (الرحمٰن 55: 26-27) (آلِ عمران3: 185)۔ بائبل کے مطابق فرشتے انسانوں سے برتر ہیں (عبرانیوں۲:7)۔ ابنِ تیمیہ ؒ کہتے ہیں نیک شمائل بندے فرشتوں سے بدرجہ غائت اور انتہا کے لحاظ سے افضل ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب وہ جنت میں داخل ہوں گے اور اللہ کے قرب کو پالیں گے (عمرسلیمان الاشقر۔ فرشتوں کا تعارف اور ان کی ذمہ داریاں)۔

عیسائی روایت کے مطابق فرشتے پاک پیدا کیے گئے تھے لیکن ان میں سے بعض بدکار و باغی فرشتوں میں تبدیل ہوگئے۔ جن کا سردار لوسیفر( Lucifer) ہے، جو ایک فرشتہ تھا پھر وہ شیطان (Satan ) بن گیا۔ (یسعیاہ۱۴: ۱۲) (پطرس۲: ۴) جبکہ قرآنِ مھیمن کے مطابق شیطان فرشتہ نہیں بلکہ جن (ناری مخلوق) ہے (فسجدو الا ابلیس، کان منَ الجن۔ الکھف18 : 50)۔ اسلام میں اس بات پر اتفاق ہے کہ مرسل و فرستادہ فرشتوں (Messenger Angels) کا حکم انبیأ علیہم السلام جیسا ہی ہے (الانبیأ21: 19) (الشوریٰ42: 5)۔ یہ بات اہم ہے کہ فرشتوں کی امانت و صداقت پر ایمان لائے بغیر انبیأ پر نازل کردہ پیغام و کلام بھی قابلِ اعتبار (Reliable) نہیں ٹھہر سکتا۔ یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ عیسائیت میں الہام (Inspiration) اور وحی (Revelation) کے وہ معنی مراد نہیں لیے جاتے جو اسلام میں مسلمہ ہیں کہ قرآن اگر باللفظ وبالمعنی وحی متلو (تلاوت کی جانے والی ) ہے تو حدیث وحی غیر متلو (تلاوت نہ کی جانے والی)۔

ایلن ڈگلس کہتا ہے ’’اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ الہام ’کس طرح‘ دیا گیا لیکن یہ ایمان رکھتے ہیں کہ ہر مصنف ( انبیأ نہیں۔ راقم) کو آزادی تھی کہ وہ اپنی شخصیت، تعلیم، تجربہ وغیرہ کو خاص حد تک استعمال کر سکے‘‘(مضامین بے مثال۔ جلد اول: ص۲۲۳)۔

چند مزید فرشتے اور ان کے اوصاف یوں ہیں: (۱)فرشتے اللہ کے سفارتکار ہیں جو انبیأ و رسل تک اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں (الحج22: 75)۔ (۲) فرشتے قوتِ ارادی (Will Power) نہیں رکھتے لہٰذا گناہوں سے پاک ہیں۔ وہ اللہ کی نافرمانی و سرکشی نہیں کرتے بلکہ خوفِ خدا سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں (الانبیأ21: 28)۔ (۳) فرشتے نبی کریم ﷺ پر رحمت و درود بھیجتےرہتے ہیں (الاحزاب33: 56)۔ (۴) فرشتے اللہ کی تدبیر کے ذریعے تقدیر بناتے بگاڑتے ہیں( النازعات 79: 5)۔ (۵)کراماً کاتبین انسانی اعمال و افعال کی نگرانی کرتے ہیں اور ان سے متعلق معلومات رکھتے ہیں ( الانفطار83: 10) جنہیں ’’رقیب و عتید ‘‘ کے اوصافی نام بھی دیئے گئے (ق50: 17-18)۔ یہودی تالمود (119Masechet Shabbath) میں نیکی و بدی کے فرشتوں کا تذکرہ موجود ہے۔ (۶)منکر نکیر (نکیرین)، قبر میں حساب کتاب کرنے والے فرشتے ہیں (بخاری و ترمذی)۔ (۷)ہاروت و ماروت خاص علم کے حامل فرشتے تھے جو سلیمان علیہ السلام کے دور میں بطور آزمائش، بابل (عراق) بھیجے گئے (البقرۃ2: 102)۔

مذکورہ مختصر مباحث سے واضح ہے کہ ’’فرشتوں ‘‘ کا تصور ہر مذہب و تہذیب میں موجود رہا ہے لیکن مغربی تہذیب (Western Civilization) کی علمیت فرشتوں کے تصور کو تسلیم نہیں
کرتی۔یاد رہے سماجی یا تہذیبی تشکیل کے تین مراحل ہوا کرتے ہیں :اول ’’مقاصد ‘‘، دوم ان مقاصد پر مبنی ’’علوم ‘‘، سوم ان علوم پر مبنی ’’طرزِ حیات ‘‘۔ پوسٹ کلونئیل سوسائٹیز کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے مغربی لائف اسٹائل کو تو اپنا لیا لیکن ان کے مقاصد اور علوم مکمل مغربی نہ ہوسکے لہٰذا ایک مغربی لائف اسٹائل کا حامل مرد یا عورت اندر سے اکثر مسلم یا مشرقی ہی رہتاہے، الّا یہ کہ وہ مغربی مقاصد و علوم ، آزادی اور سائنس، کو بھی دل و جان سے اپنا لے۔ برطانوی سامراج کے ’تہذیبی متاثر‘ سر سید احمد خان(1818-98)جو ایجوکیشن ریفارمر جانے جاتے ہیں، بطور مافوق الفطرت مخلوق، فرشتوں کی موجودگی کے قائل نہ تھے (تفسیر القرآن: جلد اول ص۲۹ تا ۳۰، ۵۳) اورمنکرِحدیث غلام احمد پرویز (1909-85) بھی فرشتوں کی دورازکار تاویلات کیا کرتےتھے۔

مابعد الطبیعیات (Metaphysics) ایسا علم ہے جو انسانی تاریخ میں ہر دور و تہذیب میں موجود و مسلم (accepted) رہا ہے۔ اس علم میں ایسے وجود و حقائق کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو حسی و مادی (Materialistic) اور طبعی (Physical) نہیں ہو ا کرتے لیکن انسانی فطرت، عقل اور تجربہ ان کی موجودگی کو اس طرح یقینی و حقیقی باور کرتا ہے جیسے دن کی روشنی کو سورج کی موجودگی کی دلیل مانا جاتا ہے۔ چاہے سورج نگاہوں سے اوجھل ہی کیوں نہ ہو یا دھویں کا اٹھنا آگ کے موجود ہونے کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔

اکثر دینی علوم و تصورات کی اساسیات یعنی عقائد و ایمانیات اسی ذیل میں آتے ہیں۔ مثلاً وجودِ باری تعالیٰ۔جنت و جھنم۔ فرشتے اور جنات و شیطان وغیرہ۔جیسا کہ عرض کیا گیا کہ جدید علوم یعنی Sciences، مابعد الطبیعیاتی حقائق کو اپنے دائرہ تحقیق سے خارج کر دیتے ہیں گویا وہ ماڈرن انسان کو اپنی ایمانیات (Religious Believes) سے کاٹ ڈالتے ہیں یا اس کی راہ ہموار کرتے ہیں۔روایتی تناظر اورجدید تناظر کے فرق کو اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ایک روایتی شخص آفاق و انفس پر تدبر و تذکر کرتا ہے تو وہ وجودِ باری کا قائل ہو جاتا ہے اور اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے (مثلاً ابراہیم ؑ کا قرآنی بیان۔ الانعام۶) اس کے بالمقابل دورِ جدید کا سائنسدان جو کلیتاً سائنس کے طریقہ استقرائی (Induction)، مجرد عقل و تجربہ کو بروئے کار لاتا ہے وہ کائناتی وسعتوں کے مقابلے میں اپنی حقیر حیثیت، کم مائیگی کا مشاہدہ کرتا ہے لہٰذا وہ عدم استحکام اور انجانے خوف کا شکار ہو کر اپنے آپ کو ایک (Superman) بنانے، کائنات کو تسخیر کرنے اور فطرت اور اس کے مظاہر پر قابو پانے کی کوشش کرنے کو اپنا مقصدِ حیات بنالیتا ہے۔ تسخیرِ کائنات اور مزید ترقی (Progress) کرنے کی لامحدود خواہش اسے سرمائے (Capital) کا غلام بنادیتی ہے اور جدید علوم اسے مافوق الفطرت عوامل و اسباب پر یقین سے دور کر کے قدرت اور کائنات پر قابو (control) مہیا کرنے کے آلات (Tools) مہیا کرتے ہیں۔

سائنس سے بے پناہ مرعوبیت،مصنوعات کے لامحدود پھیلاؤ اور اس پر بڑھتی انحصاریت کی وجہ سے مغربی انسان نے اپنے فطری رجحان (inborn tendency) (الست بربکم۔ قالوا بلیٰ=کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے اقرار کیا کیوں نہیں(الاعراف7: 172) کی تسکین کی خاطر ’’سائنس ‘‘ہی کو خدا کی جگہ رکھنا شروع کر دیا ہے جسے سائنس ازم کہا جا رہا ہے اور عیسائیت میں Scientology کی صورت میں مزید ریفارمز جاری ہیں۔ مغرب مقلد انسان جو کہ لبرل و سیکولر اور دیگر اِزموں کا حامی ہے دیکھتے بھالتے اس میٹیریلزم میں اپنے دین و ایمان کے مطلوب، آخرت کی کامیابی کو بھلا کر دنیا پرستی کی دوڑ میں سر پٹ دوڑ رہا ہے۔

پروفیسر آرتھر جیمس کے بقول دورِ جدید میں علم الفرشتگان (Angelology) کو نظر انداز کرنے کی وجہ علم سائنس و ٹیکنالوجی پر زیادہ یقین رکھنا ہے(مسیحی علم الہیٰ کے لزوم)۔ حُب الدنیا و مخافۃ الموت’’وہن‘‘ (دنیا سے محبت اور موت کا خوف) نے انسانوں کے طرزِ فکر اور ورلڈ ویو کو یکسر بدل دیا ہے اور وہ فرشتوں کو اپنا دوست سمجھنے کے بجائے دشمن باور کرنے لگے ہیں:

So, the trend of making Gabriel (angel) a “bad guy” starts with ascribing a degree of choice and individuality he may or may not actually have, accepting the Renaissance convention that the unnamed angel with the trumpet in Revelation is Gabriel, and finishes with the (widespread) assumption that the end of this world would be a very bad thing.) Was Gabriel a bad angel? How was this theory born?