ہم، دنیا اور مستقبل: احمد جاوید صاحب کی نظر میں - ایک اہم انٹرویو

انٹرویو: سید عامر اشرف

احمد جاوید، ایک تعارف

احمد جاوید 18؍نومبر 1955ء کو ہندوستان کے ضلع الہ آباد (یوپی) کے ایک گاؤں سید سراواں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حسین امیر عثمانی انگریزی کے استاد تھے۔ پڑھنے لکھنے کے شائق اور ادب کا شغف رکھتے تھے۔ والدہ بھی ادبی مزاج رکھتی تھیں۔ گویا ’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘ والا معاملہ تھا۔ آپ 1958ء میں تین سال کی عمر میں ہجرت کرکے کراچی تشریف لائے۔ ابتدا میں شاہ فیصل کالونی میں رہے جہاں والد کا ذریعہ روزگار انگریزی پڑھانا تھا۔ آپ کی کراچی کی زندگی مشقّت اور جفاکشی کی زندگی تھی۔ لڑکپن میں آپ نے یافت کے لیے سائیکل رکشہ پر سلنڈر ڈھونے کا بھی کام کیا۔ ابتدائی تعلیم جامعہ ملیہ اسکول ملیر سے حاصل کی۔ گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول جیل روڈ سے میٹرک کیا۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے گریجویشن اور پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔

احمد جاوید بنیادی طور پر دھیمے مزاج کے حلیم الطبع انسان ہیں۔ 1980ء میں کراچی سے لاہور منتقل ہوئے۔ آپ نے معروف ادیبوں ودینی شخصیات کی صحبتوں سے فیض حاصل کیا۔ اقبال اکیڈمی لاہور سے وابستہ رہے۔ آپ کے تجزیے سنجیدہ اور بے لاگ ہونے کے ساتھ نہایت حکمت و دانش پر مبنی ہوتے ہیں۔ قدیم وجدید علوم پر گہری نظر ہے۔ آپ اقوام عالم کی سرگزشت سے بھی واقف ہیں اور مغرب کو خوب سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے اور معاشرے کے خوب و زشت سے بھی بخوبی آشنا ہیں۔ آپ معاشرے کی رفتارِ نبض سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ بیماری کا علاج بھی تجویز کرتے ہیں، اور معاشرے کے انحرافات اور کج فکریوں کے اسباب پر بھی نظر رکھتے ہیں۔

احمد جاوید نے جہاں کراچی کے زیلن کافی ہاؤس، سلطانیہ ہوٹل، کینٹین ریڈیو پاکستان اور سلیم احمد کے چوپال میں بیٹھ کر علم و دانش کے موتی سمیٹے، وہیں بکھیرے بھی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں آپ کو تصوف اور اقبالیات پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ مکالمے کے عصری اسلوب پر گرفت رکھنے والے احمد جاوید کو سحرانگیز علمی گفتگو کا مَلَکَہ حاصل ہے۔ گفتگو میں جب لفظ کو موتی بناتے ہیں تو سامعین کو گویا مسخّر کرلیتے ہیں۔ احمد جاوید کے اسلوب گفتگو کے حوالے سے ایک رائے یہ ہے کہ وہ ادب اور تصوف کے پیچیدہ مسائل پر سہل ممتنع میں کلام کرتے ہیں، لیکن کبھی ایسا لگتا ہے کہ ان کے اظہار کا سانچہ قدرے پیچیدہ اور مشکل ہے۔ ادب، شاعری، مذہب اور فلسفہ سمیت کئی موضوعات پر کئی درجن کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔ قلم پر دسترس رکھنے کے باوجود انہوں نے زیادہ تر علمی موضوعات پر لیکچر دیے ہیں جنھیں بعد میں قلم بند کرکے کتابی صورت میں شایع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ کم لکھنے کی وجہ کمر کی تکلیف بتاتے ہیں۔ پانچ کتابیں شایع ہوچکی ہیں اور پچیس سے زائدکتابیں زیر طبع ہیں۔ انٹرنیٹ پر آپ کے فلسفہ، تصوف اور ادب پر بے شمار لیکچر موجود ہیں۔

ٹی وی پروگراموں میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ آپ کا مقبولِ عام ٹی وی پروگرام ’’حمزہ نامہ‘‘ رہا ہے جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ جبراً کیا ہے۔ اقبال اکادمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کی مصروفیات میں مختلف ادبی، علمی موضوعات پر تقریباً روزانہ لیکچر دینا شامل ہے۔ احمد جاوید سے ان کی شخصیت سمیت مذہب، ادب، اقبالیات، مغرب، مغربی تہذیب، مسلم امہ کا مستقبل اور اسلام کے ورلڈ ویو سمیت کئی موضوعات پر گفتگو ہوئی، جو نذرِ قارئین ہے۔


سوال: آپ کی شخصیت میں مذہب، فلسفہ، ادب اور تصوّف کے علوم جمع ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ کا اصل تشخّص کیا ہے؟ یعنی آپ اپنے آپ کو کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟

احمد جاوید: یہ ایک دل چسپ سوال ہے۔ میں خود کو ایک مفید مسلمان کہلوانا یا بنانا پسند کرتا ہوں۔ میرے ذہن میں آدمی کا اصل تشخّص وہ ہوتا ہے جو اُس کے ذہن میں ترجیح کے طور پر ہو۔ اس سوال کا اگر میں بے تکلفی سے جواب دوں تو وہ یہ ہے کہ میرے ذہن میں خود میری پہچان صوفی، ادیب وغیرہ کے عنوان سے نہیں ہے، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ’’اللہ سے تعلق کی نسبت پر تشخّص کے تمام زاویے تیار ہوجائیں‘‘۔ اپنی ذات کے لیے یہ میرا وہ آئیڈیل تشخّص ہے جسے میں اپنے عمل اور خیالات سے حاصل کرنے کی پوری پوری کوشش کرتا ہوں کہ بندگی میرا تشخّص بن جائے۔

بات یہ ہے کہ آدمی کے تشخّص میں اس کے نظامِ تعلق کا بہت دخل ہوتا ہے، اس کا بہت حصّہ ہوتا ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ جس نظامِ تعلق میں انسان کو پیدا کیا گیا ہے، میرے لیے اس نظام تعلق کا زندہ مرکز، اللہ کے ساتھ میرا تعلق بنے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اصل تشخّص و شخصیت کے مستقبل میں ہوتا ہے، شخصیت کے حال میں نہیں۔ اس لیے میرا مطلوبہ تشخص تو یہ ہے کہ اللہ سے میرا تعلق، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ’’حق‘‘ میرا بنیادی تناظر بن جائے، اور اس تناظر سے میں خود کو اور اپنی دنیا کو دیکھنے کی عادت ڈالوں۔ لیکن اگر آپ عملی تشخص پوچھ رہے ہیں تو میں ایک عام آدمی ہوں، جس کی کچھ میدانوں میں تھوڑی بہت کچھ صلاحیتیں ہیں، مجھے عام آدمی بن کر رہنا پسند ہے۔

ہمارا جو سب سے بڑا اجتماعی مرض یا اُمّ الامراض ہے وہ یہ ہے کہ ہم گھٹیا لوگ بن کر رہ گئے ہیں۔ ذوق میں، فہم میں، ذہن میں، اخلاق میں۔۔۔ ہر معاملے میں ہم اوسط سے نیچے ہیں۔ یہ ہمارے انحطاط کا سب سے بڑا سبب ہے، اور اسی سے ذہنی اور اخلاقی انحطاط پیدا ہوا۔ ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں اور اس چھوٹے پن کو دور کرنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے، ہم بہت معمولی لوگ ہیں اور اس معمولی پن سے نکلنے کی کوئی طلب نہیں رکھتے۔

سوال: آپ اپنی ابتدائی تعلیم و تربیّت کے بارے میں کچھ بتائیں اور یہ فرمائیں کہ آپ کی فکر کی تشکیل میں کن شخصیات اور عوامل کا زیادہ اور اہم کردار رہا ہے؟

احمد جاوید: یہ اللہ رب العزّت کی بڑی مہربانی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری زندگی میں معنویت پیدا کرنے کا سارا سہرا میرے اُستادوں اور دوستوں کے سر جاتا ہے۔ ادب میں سلیم احمد میرے مربّی، میرے معلّم رہے۔ اسی طرح ایک اور شخصیت ہے جن کی میں شاگردی کا دعویٰ تو نہیں کرتا، ہاں البتہ استفادہ کی بات کرسکتا ہوں، ان کا میری شخصیت اور فکر پر غالباً سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ وہ مولانا ایوب دہلویؒ ہیں۔ اسی طرح کراچی کے ایک شاعر تھے رئیس فروغ صاحب، وہ میرے بزرگ اور دوست تھے۔اسی طرح مرحوم ضمیر علی بدایونی کی صحبت کے اثر سے ادب، خصوصاً فکشن اور فلسفے کے اُس تعلق کا پتا چلا جو ادبی تنقید میں اکثر نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ ضمیر علی صاحب کی ایک حیثیت یہ بھی تھی کہ جدید ترین ادبی تھیوری اور فلسفے پر اُن جیسی نظر کم از کم ہمارے حلقے میں کسی اور کی نہ تھی۔ اگر میری شخصیت میں کچھ ادبی عناصر موجود ہیں تو وہ سلیم احمد، قمر جمیل، ضمیر علی بدایونی اور رئیس فروغ کی صحبتوں کی وجہ سے ہیں، اور محمد حسن عسکری کو جم کر شوق سے پڑھنے کے نتیجے میں۔ باقی یہ کہ اگر میری شخصیت میں کوئی مذہبی عناصر ہیں تو ان کا دارومدار مولانا ایوب ؒ کے ساتھ اس تعلق پر ہے جو اُن کے لیے میں محسوس کرتا ہوں۔ مولانا ایوبؒ تو بہت پہلے فوت ہوگئے تھے لیکن سلیم احمد کے ساتھ برسوں تعلق رہا، رئیس فروغ صاحب، ضمیر علی صاحب اور قمر جمیل صاحب کے ساتھ برسوں کا تعلق تھا۔

سوال: آپ کی مذہبی فکرکی نشونما میں مولانا ایوب دہلویؒ اور ادبی تربیت میں حسن عسکری اور سلیم احمد کا کردار ہے۔ ان شخصیات کی ہماری اجتماعی زندگی میں کیا اہمیت ہے؟

احمد جاوید: محمد حسن عسکری اُردو ادب کے سب سے بڑے نقّاد ہیں۔ اس بات پر شبہ کرنے والا ادب اور تنقید سے نابلد ہے۔ عسکری صاحب نے ادب کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سکھایا۔ عسکری صاحب نہ ہوتے تو ہمارا ادب وہ اصول دریافت نہ کرپاتا جس کی بنیاد پر ادب، خودمختار اور خودکفیل حیثیت سے خود کو استوار اور قائم رکھ سکتا ہے۔ اس کے بعد اپنے دوسرے یا آخری دور میں عسکری صاحب نے ادب کی تخلیق اور مطالعے کو چند ایسے اصول کا پابند بتایا جن کی حیثیت ایک مستقل اور آفاقی تناظر بلکہ کُل کی تھی۔ گو کہ اِس دور میں ادب وغیرہ کے بارے میں عسکری صاحب کا پچھلا مؤقف تقریباً پورا کا پورا تبدیل ہوگیا تھا، اور شعر و ادب کے بجائے وہ اپنی ذہنی اور نفسیاتی ساخت سے تجاوز کرکے ایک ما بعد الطبیعی روایت سے جڑ گئے تھے، تا ہم عسکری صاحب کی یہ روایت پسندی بھی ایسی چیز نہ تھی کہ جسے ادبی تنقید کے کسی بھی معیار سے کمتر قرار دیا جا سکتا ہو۔ ادب کی پوری روایت میں یہ عسکری صاحب کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔ وہ نہ ہوتے تو ہم ادب کو خالص ادبی معیار پر پَرکھنے کے اصول حاصل نہ کرپاتے۔اور وہ نہ ہوتے تو ہم ادب کی دو مستقل بنیادوں سے بہت زیادہ واقف نہ ہوسکتے، یعنی تہذیب اور ایک آفاقی ما بعد الطبیعی روایت۔ وہ جامع الکمالات شخص تھے، ان پر گفتگو کے لیے بہت وقت چاہیے۔

سلیم احمد، عسکری صاحب کے شاگردِ رشید تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ عسکری صاحب کے جانشین تھے۔ سلیم احمد عسکری اسکول کے سب سے بڑے آدمی تھے۔ سلیم احمد نے عسکری صاحب کے ادبی اصول کو قبول کرکے انہیں عملی تنقید کا حصّہ بنانے میں جو بے مثل کامیابی حاصل کی، اس نے بھی خصوصاً ہماری ادبی تنقیدی روایت پر بہت اثر ڈالا۔ سلیم احمد ایک اعتبار سے عسکری اسکول کو پھیلانے والی سب سے بڑی قوّت کا نام ہے۔ لیکن چونکہ سلیم بھائی کے شعبے زیادہ تھے، وہ میڈیا سے متعلق بھی تھے، ڈراما نگاری بھی کرتے، اخبار میں کالم نگاری بھی کرتے تھے، تو ان کے ہاں موضوعات زیادہ ہیں۔ اپنی ہر حیثیت میں سلیم احمد نے ایک اصول کو ملحوظ رکھ کر دکھایا۔ وہ اصول یہ ہے کہ سیاست سے لے کر ادب تک میں ہماری تہذیب کے بنیادی اصول حاکمانہ حیثیت سے باقی رہنے چاہئیں۔ سلیم احمد نے اپنی شاعری اور تنقید سے ادب، اور ’تنقید‘ میں مقصدیت پیدا کر کے دکھائی۔ ان کی شخصیت کا دوسرا بڑا پہلو، ان کا شاعر ہونا ہے۔ وہ بہت زبردست شاعر تھے۔ ہم اپنے ذوق اور فہم کی کمی، یا اپنے تہذیبی اضمحلال کی وجہ سے ان کی شاعری کی معنویت کو نہیں سراہ پائے۔ ان کی شاعری اپنی تہذیب کے انہدام کا نوحہ ہے، اور ان کی تنقید اپنی تہذیب کی تعمیرِنو کا عمل ہے۔ یہ تھے سلیم احمد۔

مشاہدہ بھی یہ ہے کہ جمہوریت جو سر سے پاؤں تک اپنی تمام صورتوں میں مغرب کی تخلیق ہے، یہ جہاں بھی جاتی ہے، سب سے پہلے وہاں کی دینی اور اخلاقی اقدار پر ضرب لگاتی ہے اور اپنے دائرے میں آنے والی ہر تہذیب کے ایمانی اسٹرکچرز کو شدید نقصان پہنچاتے ہوئے اُن کے اخلاقی اصول کو بھی ویسٹرنائز کر دیتی ہے۔ تاہم چونکہ جمہوریت اس وقت کم از کم ایک آفاقی سیاسی قدر بن چکی ہے تو اس کے ساتھ ایسی لڑائی چھیڑ دینا جس کا انجام ایک یقینی شکست ہو، یہ دانشمندی کی بات نہ ہوگی۔

رہی بات مولانا ایوب دہلویؒ کی، تو بلاخوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہماری روایت کے آخری متکلّم تھے۔ ان کے زیادہ موضوعات کلامی تھے، معقولی تھے۔ اگر کبھی متکلم کی حیثیت سے ان کا جائزہ لیا گیا تو وہ علم الکلام کی ہماری روایت میں سب سے آگے کے لوگوں میں شمارکیے جائیں گے۔ مذہبی فکر کے جو مسائل لاینحل چلے آرہے تھے ان میں ایک مسئلہ جبر و قدر تھا۔ اس طرح کے مسائل کو مولانا ایوب دہلوی ؒ صاحب نے اس طرح حل کیا کہ ان کی دُشواری پڑھنے یا سننے والے کی نظر سے غائب ہوگئی۔ عقل اپنے آپ کو پورے کا پورا ایمان کے تابع رکھنے کا ارادہ رکھنے کے باوجود اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے سے عاجز رہ جائے تو جو شخص عقل کی اس نارسائی کو دور کرے گا، وہ اصل میں متکلّم ہوگا۔ متکلّم کہتے ہی اسے ہیں جو عقل کے ایمانی کردار کو اس کے دیگر وظیفوں پر غالب رکھ کر دکھا دے۔ مولانا ایوب دہلویؒ گذشتہ سو، دو سو برس کی روایت میں شاید سب سے بڑا مذہبی ذہن ہیں، جنھوں نے عقل کی نارسائی کا ازالہ کیا اور عقل کو ایمانی بننے کے لیے جن دلائل کی ضرورت تھی، وہ دلائل فراہم کیے۔ لیکن افسوس، چونکہ بڑے موضوعات سے ہماری مناسبت ختم ہوچکی ہے اور مولانا کے مخاطبین معمولی لوگ تھے اور اس کے بعد اس معمولی پن میں اضافہ ہوتا چلا گیا، تو اب تو نہ کسی کو جبر و قدر مشکل محسوس ہوتا ہے، اور نہ آسان۔۔۔ کیونکہ عام آدمی اب اس سے واقف ہی نہیں ہے۔ اس کا یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اس وجہ سے مولانا کی خدمات کا صحیح معنوں میں اعتراف ہی نہیں کیا گیا، ورنہ اگر وہ اچھے زمانوں میں پیدا ہوتے تو ان کا درجہ اُن متکلّمین جیسا ہوتا جو مشکلات کو حل کرنے کی ضمانت ہوتے ہیں۔ مولانا پر مجھے یہ اعتماد رہا ہے اور ہے کہ ایمانیات میں، عقل کی ہر مشکل میں، اسے قائل کرنے کی جیسی قوّت اُن میں تھی وہ میں نے کسی کی تحریر میں دیکھی نہ تقریر میں۔ یہ اُن کا امتیاز تھا۔ شخصیت کے اعتبار سے وہ بہت بڑے آدمی تھے، یعنی بلند کردار اور عمیق علم کو اگر ایک شخص میں جمع دیکھنا ہے تو آپ مولانا ایوب دہلوی ؒ کو دیکھیں۔

سوال: آپ نے جس معاشرتی انحطاط کا ذکر کیا ہے اُس کے اسباب کیا ہیں؟

احمد جاوید: ہمارا جو سب سے بڑا اجتماعی مرض یا اُمّ الامراض ہے وہ یہ ہے کہ ہم گھٹیا لوگ بن کر رہ گئے ہیں۔ ذوق میں، فہم میں، ذہن میں، اخلاق میں۔۔۔ ہر معاملے میں ہم اوسط سے نیچے ہیں۔ یہ ہمارے انحطاط کا سب سے بڑا سبب ہے، اور اسی سے ذہنی اور اخلاقی انحطاط پیدا ہوا۔ ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں اور اس چھوٹے پن کو دور کرنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے، ہم بہت معمولی لوگ ہیں اور اس معمولی پن سے نکلنے کی کوئی طلب نہیں رکھتے۔ معمولی پن پیدا ہوجانا مرض ہے لیکن معمولی پن پر راضی ہوجانا موت ہے۔

سوال: اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ایک قحط الرّجال ہے نہ کوئی بڑا ادیب پیدا ہورہا ہے، نہ بڑا شاعر پیدا ہورہا ہے۔ علما کے شعبہ میں بھی ایسے قدآور علماء جن کا خواص و عوام میں احترام ہو،نظر نہیں آتے۔ آپ کے خیال میں اس جمود سے کیسے نکلا جاسکتا ہے؟

احمد جاوید: جی ہاں۔ بالکل یہی صورتِ حال ہے۔اِ س کا ایک بنیادی سبب تو میں نے ابھی عرض کیا تھا کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں، اور ہر نفسیاتی معیار پر معمولی لوگ بن کر رہ گئے ہیں، گھٹیا پن کی ایک وبا پھیلی ہوئی ہے جس نے معاشرے کے بہت بڑے حصّے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اِس وَبا سے بچنے کی ویکسین دستیاب ہے لیکن ہم خود کو بھی اور اپنے بچّوں کو بھی اُس ویکسین کے قریب بھی نہیں جانے دیتے۔

یہ بات بہت سنجیدگی سے لینی اور سمجھنی چاہیے کہ تہذیب کا، آدمی ہی کی طرح ایک ذہن ہوتا ہے، ایک دل ہوتا ہے اور ایک ارادہ جو اُس کے دِل و دَماغ کی مشترکہ پروڈکٹ ہوتا ہے۔ گو کہ ہم لوگ ریاست اور سوسائٹی کے ادارے رکھنے کے باوجود فی الوقت کسی تہذیب میں نہیں رہ رہے، ہماری تہذیب وجود تو کیا رکھتی، ہماری جبری، رسمی اور اتفاقی اجتماعیت تہذیب بننے کے عمل سے بھی دور ہے۔ کسی تہذیب کا پہلا ثبوت اُس کے نظام تعلیم اور نظامِ مراتب سے ملتا ہے۔ نظامِ تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تہذیب کا ایک ذہن بھی ہے اور وہ اپنے تہذیبی اصول پر رہتے ہوئے مسلسل حالتِ نمو میں ہے۔ اسی طرح اُس تہذیب میں جاری نظامِ مراتب سے پتا چل جاتا ہے کہ اس تہذیب کی اخلاقی یا قلبی بناوٹ کیا ہے، اگر کسی معاشرے یا سماج کا نظامِ تعلیم اُس کے اپنے تصوّرِ علم سے پیدا نہ ہوا ہو، اورمانگے تانگے کا ہو، تو ظاہر ہے کہ اُس تعلیم سے اجتماعی شعور کی تقویت کا کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ اجتماعی شعور کو حالتِ تسکین، حالتِ سیرابی بلکہ حالتِ نمو میں رکھنے کے لیے وہ تہذیب اپنا نظام تعلیم بناتی ہے۔ اسی طرح ہر تہذیب کا ایک اجتماعی ارادہ ہوتا ہے جو اُس میں عملی وحدت پیدا کرتا ہے اور مستقل اور عارضی مقاصد کی تکمیل میں اجتماعی قوتِّ عمل کو سرگرم رکھتا ہے۔ اِس لیے اگر کوئی تہذیب اپنی اصل (original) مراد سے دست بردار ہوکر دوسروں کے مقاصد کو اپنا مقصد بنانے کا فیصلہ کرلے تو اس کا وہ اجتماعی، فطری ارادہ جو اس کی اپنی مراد سے مناسبت رکھنے کی حالت ہی میں عمل میں آسکتا تھا، وہ معطل ہوکر رہ جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں آپ تخلیقی اعمال بجا نہیں لاسکتے۔ آپ بڑے مقاصد کو حاصل کرنے والی اجتماعی محنت نہیں کرسکتے، وغیرہ وغیرہ۔

مغرب کو ایک روحانی معاشرے کی پیاس لگی ہوئی ہے جو وہاں کے حَسّاس اور ذہین طبقات محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم روحانی بنیادوں پر ایک فلاحی اور انسانی معاشرہ بنا کر دکھا دیں تو مغرب ایک گولی چلائے بغیر فتح ہوسکتا ہے۔

اسی طرح ایک اجتماعی قلب ہوتا ہے جو اس تہذیب کی محبت اور نفرت اور اس تہذیب کے احساسات اور جذبا ت کو ایک خاص ہیئت، رنگ اور حالت میں رکھتا ہے۔ ہر تہذیب اپنا نظامِ احساسات رکھتی ہے۔ اگر تہذیب اپنے نظام احساسات سے خالی اور غیر مطمئن ہوجائے تو ا س کا قلب دھڑکنا بند کردیتا ہے۔ اس کا قلب معطل ہوجاتا ہے۔ اس لیے ان تین سطحوں پر اگر دیکھیں تو نظر یہ آتا ہے کہ ہم ان تینوں سطحوں پر بانجھ پن کا شکار ہیں۔ اب ہم یہ کہنے کے لائق نہیں ہیں کہ یہ رہا ہماری تہذیب کا اجتماعی ذہن اور یہ اس کے اَفکار و اَقدار۔ یہ رہی ہماری منزل، اور یہ رہی ہماری پسند و ناپسند۔۔۔ اور ہم اس قدر سے وفاداری رکھتے ہوئے چیزوں کو پسندو نا پسندکرتے ہیں۔ تو جس تہذیب کے اندر اس کی آبیاری، اس کی نگہداشت کا نظام ختم ہوجائے، اس تہذیب کو طاقت فراہم کرنے والا نظام،تعلیم کی شکل میں، اخلاق کی شکل میں، انصا ف کی شکل میں مردہ ہوجاتاہے، تو پھر وہ تہذیب بڑا آدمی پیدا کرنے سے معذور ہوجاتی ہے۔ بڑا آدمی کہتے ہیں اپنی تہذیب کے ذہن اور قلب کا مظہر بن جانے والے کو۔ اس لیے جس تہذیب کے اندر خلا پیدا ہوجائے گا وہ پھر کھوکھلے لوگ ہی پیدا کرے گی، اس لیے ہم اس بحران میں مبتلا ہیں۔ اس بحران سے نکلنے کا اس کے سوا اور کوئی حل نہیں ہے کہ ہم بلا تاخیر، پہلے اقدام کے طور پر، اپنے نظامِ تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لے کر آئیں اور اسے اپنے تصّورِ علم، تصّورِ اخلاق اور دینی و دنیاوی ضروریات کے مطابق کریں اور دینی و دنیاوی ضروریا ت ومقاصد میں مغرب کے اثر سے جو فاصلہ بلکہ ٹکراؤ پیدا ہوگیا ہے، اُسے ختم کرنے کے لیے ایک ہی نظامِ تعلیم ہونا چاہیے ورنہ ہمارے تہذیبی ضمیر میں ایک ایسی دو لختی پیدا ہو جائے گی جو ہمیں اسی طرح دنیا میں پسماندہ اور دین سے نامانوس رکھے گی۔

سوال: آپ نے فرمایا کہ بلحاظِ نظامِ تعلیم، نظامِ اخلاق اور نظامِ انصاف ہم بانجھ پن کا شکار ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ تبدیلی کے حوالے سے تین قسم کے ماڈل ہمارے سامنے آئے ہیں۔ ان میں اوّل تبلیغی جماعت کا ماڈل ہے، دوسرا ماڈل جمہوریت کا ہے، تیسرا ماڈل یہ ہے کہ آپ کے پاس طاقت ہو اور اس کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرکے خلافت قائم کرلیں۔ آپ ان ماڈلز کو کس طرح دیکھتے ہیں اور کیا کوئی چوتھا طریقہ یا ماڈل بھی موجود ہے جس کے ذریعے تبدیلی آسکتی ہے؟

احمد جاوید: دیکھیے اتفاق یہ ہے، بلکہ اتفاق کیا شاید ہم سب کا یہ مشاہدہ ہے کہ یہ تینوں ماڈل (یعنی تبلیغی جماعت، جمہوریت اور طاقت سے خلافت قائم کرنے کے خواہش مند) اپنی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرلینے کے باوجود بے اثر، بے نتیجہ اور ناکام ہیں۔ اس وقت دنیا کے کسی بھی مذہب میں تبلیغی جماعت سے بڑا دعوتی نیٹ ورک نہیں، لیکن اس کے کام کا مسلمانوں کے اجتماعی وجود پر کوئی اثر نہیں پڑا اور مسلم زندگی کو چلانے والے نظام کی تبدیلی کی شکل میں نظر نہیں آتا۔ ہم اسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بڑے دائرے میں ناکام ہے، چھوٹے چھوٹے دائروں میں کامیاب ہے۔ اسی طرح دین کی سیاسی تعبیر کرکے غلبہ دین کی وہ جدوجہد جس میں جمہوریت کو ذریعہ مان لیا گیا ہے، جسے آج کل کی اصطلاح میں مذہبی سیاسی جماعتیں کہتے ہیں، یہ جماعتیں مضحکہ خیز صورت اختیار کرچکی ہیں۔ مثال کے طور پر اس کا بڑا اور شاید سب سے مضبوط نمونہ جماعت اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی کے پاس ایک بڑی فکر بھی ہے، کارکنوں کا اخلاص اور عمل کی قوّت بھی ہے۔ جو ایک سیاسی جماعت کی خوبیاں ہوسکتی ہیں وہ ان کے پاس ہیں، ان کا ایک بیانیہ بھی ہے، اس بیانیے کو عمل میں لانے کے لیے جدوّجہد کرنے والے کارکنوں کی فوج بھی موجود ہے، اور اپنی جماعت کو چلانے والا ایک فیئر ڈسپلن بھی حاضر ہے، مگر یہ سب خوبیاں رکھنے کے باوجود جماعت اسلامی پہلے دینی شناخت یا تشخص رکھنے میں کامیاب ہوئی، اس کے بعد اس میں سے یہ چیز غائب ہوگئی۔ سیاسی وجود یا شناخت کچھ حاصل ہوئی، لیکن اب سیاست سے بھی عملاًغائب ہوگئی ہے۔ اب موجودہ صورت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی نہ کوئی دینی وقعت رہ گئی ہے، نہ سیاسی اہمیت۔ یہ گویا ایک ماڈل کی مکمل ناکامی کا ایک نمونہ ہے۔ اور تیسرا ماڈل جس کا آپ نے ذکر کیا کہ غلبہ بذریعہ طاقت برائے قیامِ خلافت، تو یہ مایوسی میں اٹھی ہے، یہ گویا احتجاج میں اٹھی ہے، یہ پچھلے دو ماڈلز کی مسلسل اور مکمل ناکامی کے مشاہدے سے پیدا ہوئی ہے، اپنی ساخت میں یہ ردِّ عمل ہے۔ ہر زمانے میں عالمگیر سطح پر تبدیلی کا ایک میکانزم ہوتا ہے، جس کی حق اور باطل دونوں کے ترجمانوں کو پابندی کرنا پڑتی ہے۔ یہ جو تیسرا گروپ ہے، ان کا المیہ یہ ہے کہ آج تبدیلی کا جو آفاقی آرڈر ہے، یا یوں کہہ لیں کہ اجتماعیت میں انقلاب لانے کے جو لازمی وسائل ہیں مسلم عسکریت پسند ان سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ایک عالمگیر مزاج کی تبدیلی اور نظام کی تبدیلی سے خود کو بالکل لاتعلق رکھ کر دنیا میں تبدیلی لانے کا خواب دیکھنا گویا ناممکن کو ممکن فرض کرلینا ہے۔ جو عسکریت پسند جماعتیں ہیں یا خلافت کے قیام کی پُرامن جدوجہد کرنے والی تحریکیں ہیں، یہ دونوں اپنے زمانے کی روح سے لڑرہی ہیں اور روحِ عصر سے لڑائی کامیاب نہیں ہوتی۔ کیونکہ جمہوریت پوری دنیا کے اجتماعی لاشعور کا عقیدہ بن چکی ہے، اب اس سے بلاوجہ کی لڑائی چھیڑ کر لوکل تبدیلی لانے کے لیے پوری دنیا کو اس کی اَساس سے ہٹانے کی کوشش کرنا ایک ناسمجھی کا کام ہے۔ یہ ایسا کام ہے کہ ذہن میں آتے ہی ناکام ہوجاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس پر جو عمل ہورہا ہے، افسوس کہ وہ عسکریت پسندی کی شکل میں ہورہا ہے۔ عسکریت پسندی جو ہے وہ قدیم زمانے کی بناوٹ کے مطابق تو تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی تھی لیکن جدید دنیا کی ساخت یہ ہے کہ کسی گروپ کی عسکریت پسندی سوشل یا ریاستی سطح کے چیلنج کا باعث کبھی نہیں بن سکتی اور نہ کبھی بنی ہے۔ اس لیے جو لوگ عسکریت میں ملوّث نہیں مگر ان کے مقاصد سے متفق ہیں، ان کے لیے یہ ایک المیہ بھی ہے۔ دوسرا یہ ایک دہشت ناک تصوّر ہے کہ آپ اپنے تخیّل میں کھِلے ہوئے پھول کو باہر کی زمین میں اگانے کے لیے اس زمین میں آگ لگا رہے ہیں اور پہلے سے کھِلے ہوئے پھولوں کو پاؤں تلے روند رہے ہیں۔ یہ بہت پست ذہنی اوراخلاقی کمی کی علامت ہے۔میں خود دینی اجتماعیت کی ریاستی تشکیل میں موجودہ جمہوریت کو بعض مضبوط نظریاتی اسباب سے مضر سمجھتا ہوں۔ مشاہدہ بھی یہ ہے کہ جمہوریت جو سر سے پاؤں تک اپنی تمام صورتوں میں مغرب کی تخلیق ہے، یہ جہاں بھی جاتی ہے سب سے پہلے وہاں کی دینی اور اخلاقی اقدار پر ضرب لگاتی ہے اور اپنے دائرے میں آنے والی ہر تہذیب کے ایمانی اسٹرکچرز کو شدید نقصان پہنچاتے ہوئے اُن کے اخلاقی اصول کو بھی ویسٹرنائز کر دیتی ہے۔ یعنی جمہوریت جس تہذیب میں بھی جگہ بنا لیتی ہے اُس کے اجتماعی شعور، اخلاق اور ارادے کو مؤثر حالت میں نہیں رہنے دیتی۔ جمہوریت کا یہ ضرر غالبًا ہر ایک کے مشاہدے میں ہے لہٰذا اس بلا استثنا مشاہدے کے باوجود ا س کو ایک اٹل سیاسی اصول اور نظام کی حیثیت دے لینا ہمارے تہذیبی امتیازات کی بنیادوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ پہنچا چکا ہے۔ تاہم چونکہ جمہوریت اس وقت کم از کم ایک آفاقی سیاسی قدر بن چکی ہے تو اس کے ساتھ ایسی لڑائی چھیڑ دینا جس کا انجام ایک یقینی شکست ہو، یہ دانشمندی کی بات نہ ہوگی۔ میرے خیال میں ہمیں حقیقت میں جس ماڈل کی ضرورت ہے وہ بنیادی طور پر تو دعوتی ہے۔ اس میں کچھ طاقتور عناصر ظاہر ہے کہ سیاسی ہوں گے۔ تو دعوت اور سیاست کو ملاکر معاشرے کو اپنی بنیادی اقدار پر ری اسٹرکچر کرنے کی کوشش کرنا ضروری بھی ہے اور ممکن بھی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری جو غالب مذہبی قوتیں ہیں وہ ریاستی اسٹرکچر میں تبدیلی لانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں بہ نسبت معاشرتی دروبست میں انقلاب لانے کے۔ جبکہ انسانوں میں دیرپا انقلاب کی ہر قسم، فرد سے شروع ہوتی ہے، معاشرے میں اپنے حق پر ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے اور معاشرے کی تبدیلی کے نتیجے میں ریاستی نظام خودبخود بدلنے لگتا ہے۔ تو ہمارے یہاں معاشرے کو بدلنے کا کوئی مربوط تصوّر موجود نہیں ہے۔ فرد کو بدلنے کا ایک تصوّرہے جسے تبلیغی جماعت بہت اچھی طرح استعمال کررہی ہے۔ لیکن مسلم معاشرہ کسے کہتے ہیں؟ مسلم معاشرے کے قیام کو اپنا مقصد بناکر اس کے لیے فکری اور عملی جدوجہد کرنا، اس کی تحریک چلانا۔۔۔ یہ دستیاب مذہبی جماعتوں کا موضوع یا مقصد نہیں ہے جو میرے خیال میں ایک بہت بڑی کمی ہے۔ اب اگر ہماری تہذیب یعنی مسلم تہذیب کی تجدید یا بقا کا کوئی بھی کام ہوگا تو وہ اپنی صورت اور معنویت میں معاشرتی ہوگا۔۔۔ سیاسی یا ریاستی نہیں ہوگا۔

ہم بہت بڑی بڑی کرتے ہیں، زبان گز بھر کی ہے لیکن دماغ اور دل کو خوردبین سے ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ یہ غصّے میں کہی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ اسے ایک نوحہ اور واویلا سمجھیں۔

سوال: آپ کی رائے میں پاکستان میں اسلامی نظام کے لیے کام کرنے والی جماعت یا جماعتیں ناکام ہوگئی ہیں تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی، جماعتوں میں اصلاحات کے ذریعے؟ یا پھر کسی نئی جماعت یا تحریک کی ضرورت ہے؟

احمد جاوید: یہ ثانوی باتیں ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دینی جماعتیں اپنے اندر بنیادی اور مؤثر تبدیلی لائیں۔ جیسے مسلم لیگ۔ جس مسلم لیگ نے پاکستان بنایا ہے، یہ پہلے جاگیرداروں کا کلب تھا، اس نے خود کو بدل کر پاکستان بنایا تھا۔ لیکن یہ ثانوی باتیں ہیں کہ یہ خود کو بدلیں یا اس کی جگہ نئی جماعت بنے، دونوں صورتوں میں نتائج کی امید کی جاسکتی ہے۔ اصل میں سب سے زیادہ ضروری یہ سمجھنا ہے کہ دین کس طرح کی اجتماعیت ہم سے طلب کرتا ہے۔ اس طلب کو درست انداز میں سمجھ کر اسے اپنی ذہنی اور اخلاقی قوّتوں سے عمل میں لانا۔۔۔ یہ ہماری ذمّہ داری ہے۔ مسلم معاشرے کا اگر ایک نمونہ بھی مسلمان پیش کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان پر مغرب کی یلغار ہی نہیں رک جائے گی بلکہ مغرب میں اسلام پھیلنا شروع ہوجائے گا۔ کیونکہ مغرب کو ایک روحانی معاشرے کی پیاس لگی ہوئی ہے جو وہاں کے حَسّاس اور ذہین طبقات محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم روحانی بنیادوں پر ایک فلاحی اور انسانی معاشرہ بناکر دکھادیں تو مغرب ایک گولی چلائے بغیر فتح ہوسکتا ہے۔ لیکن ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم اس کو تو روتے ہیں کہ عالم اسلام میں کوئی حکومت اسلامی نہیں ہے، لیکن اس طرف نظر نہیں کرتے کہ عالم اسلام میں کوئی معاشرہ اسلامی ہے یا نہیں؟ ہمیں اس بات کی کسک محسوس نہیں ہوتی کہ اس وقت عالم اسلام میں کوئی ایک معاشرہ بھی اسلامی معاشرہ نہیں ہے۔ حالانکہ معاشرے کی اسلامی تشکیل کا کام کم ازکم ایک قابلِ اعتبار حد تک ریاست کی مدد کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں اسلامی معاشرے میں ڈھلنے کے لیے بہت زیادہ نظریاتی پن یا بہت زیادہ قانونی پن کی حاجت نہیں ہے۔ بندگی اور آدمیت میں، یا بالفاظِ دیگر دین اور فطرت میں آجانے والے فاصلے کو کم کر دینے کی اُمنگ اور قدرت سے معاشرہ اس طرح اسلام کے اجتماعی در وبست کا نمونہ بن سکتا ہے جس کی تحسین اور تعریف میں غیر مذہبی ذہن بھی بخل نہ کرے۔ ایک خاص طرح کی دست نگری والے مزاج نے ہم پر ایسا غلبہ کر رکھا ہے کہ ہم ریاست اور حکومت کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں اور ان پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ حالانکہ ریاست جز ہے اور معاشرہ کُل، لیکن ہم نے ریاست اور سوسائٹی کی اس فطری نسبت کو عمل میں لانے کی کوشش نہیں کی، کوشش تو دور کی بات ہے ہمارے اندر وہ تصوّر ہی غائب ہو چکا ہے جس کے مطابق حکومت سوسائٹی کا ایک طفیلی ادارہ ہے، اور حکومت و ریاست میں بھی تبدیلی معاشرتی قوت ہی سے آتی ہے۔ مختصر یہ کہ سرِدست امتِ مسلمہ اپنے معاشرتی تنوّع کے اندر کسی ایسے معاشرے سے تقریباً خالی ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اسلام ایسا معاشرہ تخلیق کرتا ہے، یا ایسی معاشرت ہمارے دین کو مطلوب ہے۔ پوری اُمّت اس پہلو سے ایک افلاس کا شکار ہے اور اِس کی طرف سے غیر سنجیدہ اور بے پروا بھی۔ ہم اسلام کے سفر کو ایک بہت مختصر سی فہرست کے ساتھ فرد پر روک دیتے ہیں، اور خود فرد میں ایسی توسیع کا کوئی تصوّر یا معاشرتی بند و بست نہیں رکھتے جس کی بنیاد پر کوئی معاشرہ اپنے فطری در و بست کے ساتھ وجود میں آتا ہے۔ پڑوس یعنی ہم سائیگی جو معاشرت میں سنگِ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے، ہمارے یہاں تو اس سنگِ بنیاد پر بھی اب کائی جمتی جا رہی ہے۔ ویسے باتیں ہم بہت بڑی بڑی کرتے ہیں، زبان گز بھر کی ہے لیکن دماغ اور دل کو خوردبین سے ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ یہ غصّے میں کہی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ اسے ایک نوحہ اور واویلا سمجھیں.

سوال: عالم اسلام میں کئی اسلامی تحریکیں کام کررہی ہیں، آپ ان کی جدوجہد کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

احمد جاوید: بعض تحریکیں بہت اچھی ہیں، یہ تحریکیں نہ اٹھتیں تو کئی مسلم ممالک، خصوصاً عرب دنیا اپنے مسلم تشخص کو کب کی چھوڑ چکی ہوتی۔ یہ ان تحریکوں کی یقیناًکامیابی ہے کہ ان کی وجہ سے عالم اسلام کا اچھا خاصا حصّہ برائے نام ہی سہی مگر اپنی مسلم شناخت پر قائم ہے۔ تو ایک پہلو سے ان تحریکوں کا ایک مثبت کردار ہے، لیکن دوسری طرف یہ منظر بھی آنکھوں پر مسلّط ہے کہ یہ تحریکیں اپنی چھوٹی بڑی عارضی کامیابیوں کو بھی سنبھال نہیں پاتیں اور پھر ایک زیادہ بڑی اور پہلے سے زیادہ بھیانک ناکامی کی خوراک بن جاتی ہیں۔ تیسری پریشان کن بات یہ ہے کہ اکثر اسلامی تحریکیں عسکریت پسند ہیں یا عسکریت پسندی کا مزاج رکھتی ہیں۔ یہ ایک ایسا ہولناک عنصرہے جو اسلام کے سیاسی نظام کے قیام کی جد وجہد کرنے والی بیشتر تحریکوں میں داخل ہو گیا ہے۔ خونی انقلاب کے آئیڈیل سے تحریکی ذہن نے بہت گہری اور مستقل مناسبت پیدا کرلی ہے۔ یہ بڑی خطرناک چیزہے، اور اس سے اسلام اور مسلمانوں کو جو نقصان پہنچ رہا ہے یا پہنچ سکتا ہے، وہ غیروں کے دیے ہوئے ضررسے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم سب تحریکیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ نام لیے بغیر عرض کر نا چاہتا ہوں کہ موجودہ دینی سیاسی تحریکوں میں تھوڑی ہی سہی مگر کچھ تحریکیں اب بھی ایسی ہیں جن میں ایک تو متشدّدانہ مزاج نہیں ہے اور دوسرے وہ تحریکیں ’’معاشرت کی مبنی بر خیر تشکیل‘‘ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایسی سیاسی تحریکوں سے فکری اِختلاف تو ہوسکتا ہے لیکن اخلاقی تصادم نہیں۔ اور یہ اچھی بات ہے، فکری اختلاف اور اخلاقی ہم آہنگی انسانی اور اسلامی معاشرے کی تعمیر میں معاون ہی ہوسکتے ہیں، رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ تو بحیثیت مجموعی موجودہ اِسلامی تحریکوں سے جہاں مسلمانوں کو کچھ فائدے پہنچے ہیں وہیں اُن کی وجہ سے ہم نے ناقابلِ تلافی نقصانات بھی اٹھائے ہیں۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ یہ تحریکیں ذہنی اور جذباتی طور پر نوجوان لڑکوں کی سطح سے آگے نہیں بڑھ پائیں۔ ظاہر ہے تبدیلی اور انقلاب کی باگ ڈور لڑکوں کے ہاتھ میں نہیں دی جاسکتی، کیونکہ جذباتی لڑکپن المیہ فضا میں خوش رہتا ہے اور ناکامی سے کچھ سیکھنے کی بجائے لذّت لینے لگتا ہے۔ کاش ہم رجز خوانی اور المیہ پسندی کے اس مزاج سے چھٹکارا پاسکیں، اور ایک عاجزانہ ذمہ داری اور عابدانہ استقامت کے ساتھ دین کو ا س کی حقیقی حیثیت کے ساتھ اس کے مطلوبہ دائروں میں پھیلانے کا کام کر سکیں۔

بعض تحریکیں بہت اچھی ہیں، یہ تحریکیں نہ اٹھتیں تو کئی مسلم ممالک، خصوصاً عرب دنیا اپنے مسلم تشخص کو کب کی چھوڑ چکی ہوتی۔ یہ ان تحریکوں کی یقیناًکامیابی ہے کہ ان کی وجہ سے عالم اسلام کا اچھا خاصا حصّہ برائے نام ہی سہی مگر اپنی مسلم شناخت پر قائم ہے۔

سوال: اب ہم اَدب سے متعلق کچھ گفتگو کرلیتے ہیں۔ اَدب کے دائرے میں مختلف نقطہ ہائے نظر کے لوگ موجود ہیں۔ کچھ لوگ ادب برائے ادب کے قائل ہیں توکچھ لوگ ادب برائے زندگی کے۔ آپ انسانی معاشرے میں اَدب کا حقیقی کردار اور اس کی اہمیت کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

احمد جاوید: اب یہ سوال موجود ہی نہیں ہے کہ اَدب برائے زندگی ہوتا ہے کہ اَدب برائے اَدب ہوتا ہے۔ تنازع کی وہ فضا گزر چکی ہے۔ اب وہ ہمارا ماضی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اشتراکیت اور جدیدیت سے پیدا ہونے والی تحریک میں تصادم کی فضا تھی۔ اشتراکی کہتے تھے کہ ادب مقصد کے تحت ہوتا ہے، جبکہ جدیدیت پسند کہتے تھے کہ نہیں ادب کا مقصد ادب ہی ہوتا ہے۔ یعنی ادب ایک جمالیاتی سرگرمی ہے، اس کا کوئی سیاسی اور اخلاقی پہلو نہیں ہوتا۔ وہ دور اب گزر گیا۔ آج کے ادیب کو ان دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ اب فضا یہ ہے کہ ادب زندگی میں انسان کی داخلی اور خارجی صورت حال میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے: اگر میرا جمالیاتی شعور اور احساس نظرانداز ہوجائے تو میرے مجموعی شعور اور میرے وجود میں ایک بنیادی نقص رہ جائے گا۔ یعنی یہ کہ آپ کا مذہبی شعور بھی بہت پختہ ہو، آپ کا عقلی شعور بھی بہت پختہ ہو، آپ کا اخلاقی شعور بھی بہت پختہ ہو لیکن آپ چیزوں کو خوبصورتی اور بدصورتی میں تقسیم اور اس کا فیصلہ نہ کرسکتے ہوں تو گویا آپ کا ادراک اور آپ کی سطحِ وجود کم تر ہے۔ جمالیاتی شعور یعنی چیزوں کو خوبصورتی اور بدصورتی کے تناظر میں دیکھنا اور ان میں فرق کرنا۔ جیسے عقل کرتی ہے کہ یہ صحیح ہے اور یہ غلط ہے، یہ مفید ہے یا مضر ہے۔ مذہبی شعور کہتا ہے کہ حق ہے یا باطل ہے، یہ حلال ہے یا حرام ہے۔ اخلاقی شعور کہتا ہے کہ یہ بھلا ہے یا برا ہے، خیر ہے یا شر ہے۔ یہ سب ان کے دائرہ کار ہیں۔ تو اگر ہم حق و باطل، حلال و حرام، مفید و مضر اور خیر و شر تک ہیں تو ہم تعمیر ہوئے۔ لیکن چیزیں اپنا جمیل ہونا اور بدصورت ہونا میرے اندر پیدا نہ کریں تو ان چیزوں کے بارے میں میرا فہم، ان چیزوں سے میرا تعلق ناقص رہ جائے گا۔ اور میری عقل نے ان چیزوں کا جس طرح ادراک کیا ہے اس میں کمی رہ جائے گی۔ یعنی میری عقل بھی سیرابی کے تجربے سے محروم رہ جائے گی، میری مذہبیت بھی اطمینان کے تجربے سے خالی رہ جائے گی، میرے اخلاق بھی دل کی نرمی سے، دل کی حرارت سے منقطع حالت میں رہ جائیں گے۔ تو گویا جمالیاتی شعور اور طرزِ احساس کی یہ اہمیت ہے کہ یہ انسان کے شعور اور وجود دونوں کی تکمیل میں لازمے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اگر یہ کمزور یا معدوم حالت میں ہیں تو انسان شعور اور وجود دونوں سطح پر ایک کم تر ہستی رہ جائے گا۔ یہ تو رہا اُصولی مطلب۔

اب دوسرا مطلب یہ ہے کہ میری سب سے بڑی آرزوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ جو جانے، جو مانے، جو کرے اس میں اس کا دل لگے۔ اس میں اسے تسکین محسوس ہو۔وہ اسے ایک خوبصورتی کی فضا میں رکھے کہ جس مورتی کو اس نے ڈھونڈ کرنکالا ہے اسے ٹاٹ کے بورے میں جمع نہ کرے بلکہ اس کے لیے اچھا صندوق بنائے۔ اخلاق بھی یہ چاہتا ہے کہ عمل صرف مبنی بر خیر نہ ہو، بلکہ میرے خیر میں ایک کشش اور جمال بھی ہو۔ مذہبی شعور بھی یہ چاہتا ہے کہ اللہ کی طرف آپ یکسو ہوں۔ احسان کے ساتھ ہوں۔خوبصورتی کے ساتھ ہوں۔ حسن کے ساتھ ہوں۔ گویا حسن ہر شعورکے ہر حاصل میں ایک نئی چمک دمک پیدا کرتا ہے، ایک کشش پیدا کرتا ہے، وہ عقل کے لیے معقول کو، مذہبی ذہن کے لیے عقیدے کو پر کشش بناتا ہے۔ جو اِن عقائد اور اِن نظریات سے تسکین پانے کے لیے ضروری ہے۔ تو جمالیاتی شعور میرے عقائد،نظریات اور اعمال کو پرکشش بنانے کا کام کرتا ہے۔ ان کو بدلے بغیر، ان کو چھیڑے بغیر۔ لیکن اگر فرض کیا کہ خدا میرے لیے پُرکشش نہ رہے تو خدا کو ماننے کی تمام تفصیلات رکھنے کے باوجو د مجھے اس سے تسکین حاصل نہیں ہوگی، مجھے اس سے ایک زندہ تعلق کا تجربہ نصیب نہیں ہوگا۔ ان معنوں میں جمالیات علم الحضور ہے۔ یہ حضوری کا احساس ہے۔یہ غیب میں حضوری کی لگن پید اکرنے کی قوّت ہے۔ اگر یہ نہ رہے تو اس کے نتیجے میں پھر شعور کی اور طبیعت کی حالتیں، خام اور ناتمام رہ جائیں گی۔

پریشان کن بات یہ ہے کہ اکثر اسلامی تحریکیں عسکریت پسند ہیں یا عسکریت پسندی کا مزاج رکھتی ہیں۔ یہ ایک ایسا ہولناک عنصر ہے جو اسلام کے سیاسی نظام کے قیام کی جدوجہد کرنے والی بیشتر تحریکوں میں داخل ہو گیا ہے۔ خونی انقلاب کے آئیڈیل سے تحریکی ذہن نے بہت گہری اور مستقل مناسبت پیدا کرلی ہے۔ یہ بڑی خطرناک چیزہے، اور اس سے اسلام اور مسلمانوں کو جو نقصان پہنچ رہا ہے یا پہنچ سکتا ہے، وہ غیروں کے دیے ہوئے ضررسے کہیں زیادہ ہے۔

بڑا ادب یہ کام کرتا ہے کہ وہ انسانی شعور اور اس کی طبیعت کو بلند کرتا ہے۔ اس کی تمام صلاحیتوں کو، تمام قابلیتوں کو حالتِ تسکین میں رکھتے ہوئے اس کے تمام عقائد و تصوّرات کو حسین اور پُرکشش بناتا ہے۔ جمالیات مجھے کوئی نظریہ نہیں دیتی، جمالیات میرے مانے ہوئے نظریے کی تزئین کردیتی ہے۔ اسے خوبصورت بنادیتی ہے۔ تو ادب اگر واقعی تخلیقی ادب ہے تو اس کا یہ کردار، اس کا یہ کارنامہ سامنے کی چیز ہے۔ اسی وجہ سے افلاطون نے کہا تھا کہ ’’یونانی تہذیب کا بانی ہومرؔ ہے‘‘۔ اس نے کسی فلسفی کا نام نہیں لیا کیونکہ اس نے یونانی تہذیب کے جو آئیڈیلز تھے اُنھیں پُرکشش بنادیا تھا، اُنھیں خوبصورت کردیا تھا۔ ہمارے رسولﷺ جب ’’احسان کیا ہے؟‘‘ کا جواب دیتے ہیں تو فرماتے ہیں: ’’اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔‘‘ تو گویا اللہ کو دیکھنے کا حال ایک پختہ جمالیاتی شعور کے بغیر ناممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ”صحافت چھوڑنے کا وقت آگیا؟“ - حامد میر کا خصوصی انٹرویو

سوال: آپ نے بڑے ادب کا ذکر کیا۔ یہ کس طرح تخلیق پاتا ہے؟ بڑے ادب کا تخلیق کار ادیب کیسے پیدا ہوتا ہے؟

احمد جاوید: اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں ہے۔ بڑے ادب کی تخلیق یا بڑے ادب کی پیدائش کا ماحول اور اس کے اسباب و محرّکات مختلف ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہنا بھی جزوی طور پر درست ہے کہ تہذیب اور زبان میں مادۂ عظمت ہوگا تو پھر بڑے ادب کی پیدائش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اور اگر زبان میں بھی معنی دینے کی قوّت کمزور اور محدود ہو، اس کے ساتھ ساتھ تہذیب میں بھی کوئی ایسا نظامِ اقدار عمل یا تصوّر میں موجود نہ ہو جس سے شعور کی تخلیقی قوتوں کو تحریک ملتی ہے، تو پھر ان حالات میں بڑے ادیب کا آنا بہت مشکل ہے۔ لیکن دوسری طرف ماضی میں اس کی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ چھوٹی زبانوں اور کمتر درجے کے تہذیبی حالات میں بھی بڑا ادب پیدا ہو ا ہے۔ تو بہرحال آپ کے سوال کا دو ٹوک جواب ممکن نہیں ہے۔ البتہ اگر ہم اپنی موجودہ صورتِ حال کو دیکھیں تو شاید قدرے اعتماد سے یہ کہہ سکیں کہ گراوٹ اور پسماندگی نے ہمیں بُری طرح لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے ہمارا اپنے بارے میں اور اپنے حالات کے بارے میں جو تصوّر ہے، اُ س تصوّر میں نہ اتنی جان ہے کہ کسی بڑی فکر میں ڈھل سکے اور نہ اُس میں وہ احوال انگیزی ہے جو بڑے یا سّچے ادب کی تخلیق کا موجب بن سکے۔ ہمارے ذہن اور احساس کی range بھیانک حد تک کم ہوچکی ہے۔ ہم چیزوں کو، بلکہ خود کو بھی گہرائی اور تہہ داری کے ساتھ محسوس نہیں کرتے۔ اسی طرح ہم چیزوں کی کسی کاوشِ دید کے بغیر نظر آجانے والی صورت کو اپنا کُل علم بنانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس صورتِ حال میں وہ سمبلزم (symbolism) ہی غائب ہوگیا ہے جو چیزوں کی معنوی توسیع کرتا تھا، اُنھیں وجودی بلندی دیتا تھا اور ایک ایسے مجموعی تناظر کی حیثیت رکھتا تھا جو تہذیب، تاریخ، ذہنی تجربے وغیرہ کو ایک رفعت اور گہرائی کے ساتھ اور متحرک حالت میں جوڑے رکھتا تھا۔ اس سمبلزم کے غائب ہو جانے کی وجہ سے تہذیب میں سے انسانی پن منہا ہوگیا، تاریخ اور شعور کا جدلیاتی تعلق ٹوٹ گیا، اور مزید ستم یہ کہ الفاظ کی حیثیت معمولی چیزوں کی طرح ہو کر رہ گئی۔ اب آپ خود سوچیے کہ لفظ اگر ٹھیکروں کی طرح ہوجائیں تو ان سے کوئی بڑی عمارت کیسے بن سکتی ہے؟ تاہم میں مایوس نہیں ہوں۔ ہم جس طرح کے ہمہ گیر بحرانوں کی زد میں ہیں، کوئی عجب نہیں کہ اس غیر معمولی صورتِ حال میں کوئی بڑاآدمی سامنے آجائے اور بڑا ادب بھی تخلیق کر کے دکھا دے۔ یہ وہ آدمی ہو گا جو ان بحرانوں کو ان کی پوری شدت اور پیچیدگی کے ساتھ internalize کرے گا اور اپنی قوّتِ اِظہار سے لفظوں کی موجودہ بے مائیگی کا ازالہ کر دے گا۔ میرے استاد سلیم احمد کہا کرتے تھے کہ اب بڑا ادب یا تو نوحہ ہوگا یا رجز۔ اس وقت نوحے کے عناصرِ ترکیبی بھی حاضر ہیں اور رجز کی تعمیر کا سامان بھی فراہم ہے۔ دیکھیے وہ معمار کب آتا ہے جو اس ساز وسامان کو بڑی تخلیقی سطح پر استعمال کر کے دکھائے۔

’’ہم سے تو بس کوشش کے بارے میں پوچھا جائے گا، نتائج کے بارے میں نہیں۔‘‘ یہ بات ٹھیک ہے لیکن اس کو بعض مرتبہ بہانہ بھی بنالیا جاتا ہے۔ ہر جماعت کو اپنے اندر اصلاح کا مسلسل عمل اور حکمتِ عملی میں تبدیلی کی نئی نئی صورتیں درکار ہوتی ہیں۔ اس طرح کے فقروں سے جماعتوں کا یہ اندرونی نظام رک سکتا ہے۔ کوشش پر ہم مامور ہیں اور اس کوشش کے نتائج ہمیں پوری قوت کے ساتھ مطلوب ہیں۔

سوال: آپ کے ادبی استاد سلیم احمد نے آج سے تیس، پینتیس سال پہلے ’’ادب کی موت‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس جملے کی معنویت کیا ہے؟ اور اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ادب کی واقعی موت واقع ہوگئی ہے؟

احمد جاوید: جب اُنھوں نے برسوں پہلے محمد حسن عسکری کی لکھی ہوئی یہ بات جس مجلس میں کہی تھی تو اُس وقت میں بھی موجود تھا۔ اُن کے یہاں ہونے والی نشستوں میں یہ ایک موضوع بھی تھا کہ ’’ادب کی موت‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ ظاہر ہے کہ جس نے یہ بات کہی ہے اگر اُس شخص نے اس کی تشریح کردی ہے تو اسی بات کو حتمی کہیں گے۔ سلیم احمد نے ایک سلسلہ کلام میں یہ بات کہی تھی۔ وہ سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے نطشے سے، نطشے نے کہا تھا کہ ’’خدا مرگیا ہے‘‘۔ اس پر سلیم احمد کی تعبیر کے مطابق نطشے کہہ رہا ہے کہ وہ آدمی فنا ہوگیا ہے جس کا سب سے بڑا مسئلہ ’’خدا‘‘ تھا، تو نطشے نے اصل میں خداپرست آدمی کی موت کا اعلان کیا۔ اسی طرح اگلا نعرہ لگا کہ ’’انسان مر گیا ہے‘‘۔ اس پر سلیم بھائی فرماتے تھے کہ وہ انسان مرگیا ہے جو خود کو اپنا مقصود سمجھتا تھا، یا خود کو مرکزِ کائنات سمجھتا تھا۔ ایک تبدیلی یہ آئی کہ پہلے خدا مرکز کائنات تھی، اس کی موت کا اعلان نطشے نے کردیا اور اس کی جگہ آدمی کو مرکز کائنات بنایا، پھر پتا چلا کہ اب آدمی بھی مر گیا ہے یعنی اب آدمی بھی کائنات کا مرکز نہیں رہا تو اس تسلسل میں سلیم احمد نے کہا کہ ’’ادب مرگیا ہے‘‘۔ یعنی وہ آدمی غائب ہوگیا ہے جس کے لیے ادب ایک سنجیدہ مسئلہ اور مشغلہ تھا۔ یہ اُن کے اس اعلان کا انہی کے بیان کردہ الفاظ میں براہِ راست مطلب ہے۔ اس لیے میرے نقطہ نگاہ سے یہ بات بالکل درست ہے کہ ادب کی موت واقع ہوگئی ہے۔ اس بات کو دو چیزوں پر غور کرکے بہت آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے: (۱)کیا ہماری تہذیب اپنے اُصول پر زندہ رہنے کا دعویٰ کرسکتی ہے؟ کیا ہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہماری تہذیب اپنے اصول پر زندہ ہے؟ ظاہر ہے نہیں۔ ہم کہیں گے ہماری تہذیب مر گئی ہے۔ (۲)کیا ہماری زبان اپنے معنیات (semantics) کے ساتھ، اپنے لسانیاتی اسٹرکچرز کے ساتھ، اپنی علامتیت (symbolism) کے ساتھ زندہ رہ گئی ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ نہیں۔ تو جب ہم اپنی تہذیب اور اپنی زبان کی زندگی کا انکار کررہے ہیں تو ادب انہی دونوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والا بچّہ ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ تہذیب مر گئی ہے کہنا درست ہو، زبان فوت ہوگئی ہے کہنا درست ہو، اور ان دونوں اموات کی موجودگی میں ہم یہ امکان روا رکھیں کہ ادب زندہ رہ جائے گا۔ یہ ناممکن ہے۔ تو ادب بھی مر گیا۔

بڑا ادب یہ کام کرتا ہے کہ وہ انسانی شعور اور اس کی طبیعت کو بلند کرتا ہے۔ اس کی تمام صلاحیتوں کو، تمام قابلیتوں کو حالتِ تسکین میں رکھتے ہوئے اس کے تمام عقائد و تصوّرات کو حسین اور پُرکشش بناتا ہے۔

سوال: ہمارے مذہب اور ہماری تہذیب میں انسان کی فضیلت دو چیزوں کی بنیاد پر ہے: تقویٰ اور علم۔ اس کا کیا سبب ہے؟ اور کیا یہ دو فضیلتیں ہمارے معاشرے میں فضیلتوں کی حیثیت میں موجود ہیں؟

احمد جاوید: آپ علم و تقویٰ کے جو اصول بتارہے ہیں، بلاشبہ ہماری روایت میں انسانی فضیلت کی یہ دو بنیادیں ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری روایت میں اس کے معنی ہیں: حق کا علم، علم ہے اور اس علم سے نفس پر مرتّب ہونے والا حال تقویٰ ہے۔ علم اللہ کی معرفت ہے، اس کی تخلیقی قدرت سے آگاہی کے ساتھ۔ اللہ کو جاننا ہے اس کی تخلیق کے اندر تک جھانک لینے کی صلاحیت کے ساتھ۔ یہ علم ہے۔ اس میں دونوں طرح کے علم آگئے۔ لیکن اس علم کا مادّہ معرفتِ الٰہی ہے۔ معرفتِ کائنات کا بھی مادّہ اصل میں معرفتِ خداوندی ہے۔ تو ایسا علم جو حضور حق رکھتا ہے اور کائنات کے اندر تک جھانکنے کی صلاحیت فراہم کرسکتا ہے، میری طبیعت اور میرے نفس پر جو اثر چھوڑے گا، میرے نفس کی جو conditioning کرے گا، جس حالت کو اس کی بنیادی حالت بنائے گا اُس بنیادی حالت کا نام تقویٰ ہے۔ یعنی یہ ممکن نہیں کہ آدمی اللہ کو جانتا ہو اور اللہ سے ڈرتا نہ ہو۔ تقویٰ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ڈر ہے جو اللہ کی معرفت کے پیڑ کی سب سے اونچی شاخ پر لگنے والا پھل ہے۔ اس سے توازن قائم ہوتا ہے۔ غیاب وحضور کا توازن! انسان بہ اعتبارِ نفس اگر کامل ہے تو متّقی ہے، اور بہ اعتبارِ شعور اگر پختہ ہے تو صاحبِ علم ہے، یعنی علم کائنات کے حساب سے عارفِ خداوندی ہے۔ یہ جو ہم پیچھے نوحہ پڑھتے آرہے ہیں اسی سے جوڑ کر دیکھ لیں کہ علم و تقویٰ کی یہ فضیلتیں موجود نہیں ہیں، جبھی تو ہم اس حال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ آخر علم کیا ہے؟ جس میں ایمان بالغیب یقینی ہو اور حضور خداوندی بھی حتمی ہو، یہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ حضور سے پیدا ہوتا ہے، علم غیب سے پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح حضور و غیب کے توازن سے بننے والا انسان، اس کا ذہن، اس کا معاشرہ، اس کی انفرادیت وہ سارا عمل مکمل طور پر رکا ہوا ہے جبھی تو ہم یہ نوحہ پڑھ رہے ہیں۔

سوال: آپ کا تعلق فلسفے اور اس کی تفہیم سے بھی ہے، مگر ہماری تاریخ میں فلسفہ کو علم کی ایک خطرناک شاخ کہا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ امام غزالی ؒ نے فلسفے کو بالادست علم کی حیثیت سے رد کیا۔ آپ ہمیں یہ بتائیے کہ ہمارے لیے فلسفے کا جاننا کتنا اہم ہے؟ اور کیوں؟

احمد جاوید: اِمام غزالی ؒ نے جس نکتے کے تحت فلسفے کو رد کیا ہے، اس کی ایک بہت مضبوط بنیاد ہے۔ وہ یہ کہ فلسفہ عقل کو حاکم مانتا، عقل کی حکومت تسلیم کرتا، اور وحی سے بے نیاز رہنا چاہتا ہے۔ اس بنیاد پر انھوں نے فلسفے کو رد کیا ہے۔ اس کی تفصیلات تکنیکی ہیں۔ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اب اس سوال کا دوسرا حصّہ یہ ہے کہ فلسفہ ایمان کے لیے خطرناک ہے لہٰذا اسے نہیں پڑھنا چاہیے۔ اس میں واقعی صورت حال یہ ہے کہ بغیر تیاری کے اور جوشِ تقلید میں فلسفہ پڑھنا خطرناک ہے۔ یہ ایمان کو نقصان پہنچاسکتا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پہنچاتا آیا ہے۔ اب اس کا تیسرا حصّہ یہ ہے کہ اس کے باوجود ایک مذہبی آدمی جو ذہین ہے، وہ فلسفہ پڑھتا ہے تو اس کی نظر میں فلسفے کی کیا افادیت ہے؟ یعنی اتنے ضرر کے پہلو اس علم میں ہیں، اس کے باوجود اگر کوئی مذہبی آدمی فلسفہ پڑھتا ہے تو وہ فلسفے سے کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یا فلسفے میں کیا افادیت دیکھتا ہے؟ کہ وہ اس خطرے کو خاطر میں لائے بغیر اسے پڑھ رہا ہے۔ میرے خیال میں اگر اس کا ایک جملے میں جواب دوں تو وہ یہ ہوگا کہ ’’فلسفے کو جاننا بہتر ہے، فلسفے کی ماننا خطرناک ہے‘‘۔ فلسفے کو جاننے سے ذہنی سطحیت دور ہوتی ہے۔ فلسفے کو ماننے سے ایمانی ذہن کمزور پڑتا ہے۔ اس لیے جو لوگ فلسفے کو تقلید کی نظر سے نہیں پڑھتے اُنھیں یہ فائدہ حاصل ہوجاتا ہے کہ ان کے ذہن میں سطحیت پیدا نہیں ہوتی۔ ان کے ذہن میں گراوٹ نہیں پیدا ہوتی۔ ان میں ذہانت کا ملکہ ضرور بڑھتا ہے۔ تو فلسفہ ذہانت کا ملکہ بڑھاتا ہے، حقائق کا علم فراہم نہیں کرتا۔ فلسفہ جاننا ان لوگوں کے لیے بہت ضروری ہے جو اپنے دین کا عقلی دفاع کرنے کی ذِمّہ داری ادا کرنا چاہتے ہیں اوریہ دفاع باہر سے آنے والے اعتراضات کے مقابلے میں بھی ہوسکتا ہے، اور خود اپنے اندر اٹھنے والے سوالات کے مقابلے میں بھی۔ویسے اس زمانے میں ادب کی طرح فلسفے کی روایت بھی لا وارثی کی حالت میں ہے۔ حقیقت کا علم جو کبھی فلسفے کی جاگیر ہو ا کرتا تھا، اُس پر اب سائنسی علوم کاقبضہ ہوگیا ہے۔ فلسفے کو کہیں پاؤں جمانے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ تاہم ذہن کی فلسفیانہ بناوٹ یعنی ذہن میں صورتوں سے ما ورا حقائق تک پہنچنے کا داعیہ اور تصّور چونکہ فطری ہے، اس لیے یہ تو برقرار ہے مگر اس داعیے نے اپنی تسکین کے وسائل بدل لیے ہیں۔ تو یوں کہنا چاہیے کہ مذہبی ذہن، مجموعی شعور کی ایک فعّال قوّت یعنی حقائق پر غور و فکر کی قوّت، سے بے نیازی نہیں برت سکتا۔ بلکہ مذہبی شعور کا اصل کام یہ ہے کہ وہ شعور کی دوسری قوّتوں سے متعلق رہتے ہوئے اپنی مرکزیت کو محکم کرے اور اپنی قبولیت کا دائرہ بڑھائے۔

میں دین کے لیے کی جانے والی ہر دعوتی، تعلیمی اور سیاسی جدّ وجہد کو اُمَّت پر احسان سمجھتا ہوں، یہ جدّ وجہد کرنے والے مبارک لوگ ہیں اور ہمارے محسن ہیں۔ میں ان کی کسی کمزوری یا کوتاہی کی طرف سخت یا نرم لفظوں میں توجہ دلاؤں گا تو یہ تنقید بھی احساسِ ممنونیت اور جذبہء احسان مندی کے ساتھ ہوگی۔

سوال: مغربی فکر سے متاثر لوگ تنقید کرتے ہیں کہ فلسفے سے متعلق غزالیؒ کے رد سے مسلمانوں میں اِرتقا کا عمل رک گیا ہے اور اس کی وجہ سے مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ گئے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

احمد جاوید: یہ تنقید ذرا جلدی میں کی گئی ہے۔ آپ نے غزالی ؒ کو اتنا بڑا بنا دیا کہ اُن کے اتنا کچھ کہنے پر تو کچھ ہوا نہیں، لیکن ایک خرابی ہی ان کے کہنے پر آپ میں پیدا ہوگئی!!! اور وہ تہذیب کتنی بھولی ہے جو ایک آدمی کے کہنے پر اپنے ارتقا کے عمل کو روکنے پر تیار ہوگئی!!! حالانکہ غزالی ؒ کی سب سے کم پڑھی جانے والی کتاب ’’تہافتہ الفلاسفہ‘‘ ہے۔ یہ سب بہانے بازیاں ہیں۔ غزالی ؒ نے فلسفے کے تین یا چار مسائل پر کہا کہ یہ کفر ہے۔ مادّہ قدیم ہے۔ یہ ماننا کفر ہے۔ کلاسیکی فلسفہ اس عقیدے پر کھڑا ہوا ہے کہ مادّہ قدیم ہے، زمانہ قدیم ہے۔ اٹھائیس یا بتیس میں سے چار مسائل ہیں جن پر انھوں نے کہا کہ یہ کفر ہیں، باقی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس میں یہ فلسفہ مفید ہے۔ پھر یہ کہ غزالی ؒ نے کہیں یہ نہیں کہا کہ فلسفے کی کتاب کی طرف آنکھ اُٹھانا بھی منع ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسفہ پڑھتے وقت یہ احتیاطیں کرو۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلم تہذیب میں ارتقا کا عمل رکنے کے عوامل کچھ اور ہیں، لیکن ان میں سے کسی ایک کی ذِمّہ داری بھی غزالی ؒ پر نہیں جاتی۔

یہ ممکن نہیں کہ آدمی اللہ کو جانتا ہو اور اللہ سے ڈرتا نہ ہو۔ تقویٰ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ڈر ہے جو اللہ کی معرفت کے پیڑ کی سب سے اونچی شاخ پر لگنے والا پھل ہے۔ اس سے توازن قائم ہوتا ہے۔

سوال: کہا یہ جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقّی نہ کرنامسلمانوں کے زوال کا سبب ہے۔ کیا آپ کے خیال میں تہذیب کے ارتقا میں ٹیکنالوجی کوئی معیار ہے؟

احمد جاوید: آج ٹیکنالوجی نے جدید دنیا کی بناوٹ میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کرلی ہے، یعنی آپ کا آرام اور آپ کی طاقت یہ ٹیکنالوجی ہے، آپ ٹیکنالوجی کے بغیر طاقت ور قوم نہیں بن سکتے، اور اسی طرح ٹیکنالوجی کے بغیر معاشرے کے لوگوں کو راحت فراہم نہیں کرسکتے۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ معاشرے کی ضرورت ہے کہ اس کے باشندے راحت میں رہیں، یہ معاشرے کا مقصود ہے۔ اسی طرح ریاست کی ضرورت ہے کہ وہ طاقتور ہو، اس کے بغیر ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔ تو ہماری ریاست اور معاشرے میں زوال کے جو عوامل ہیں ان میں ایک یقیناًٹیکنالوجی میں پسماندہ رہ جانا بھی ہے۔ یعنی فزیکل سائنسز میں پیچھے رہ جانا۔ لیکن یہ سبب اصولی نہیں ہے۔ یہ بہت سے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ ہم جب اپنی ترقّی اور پسماندگی کو ناپیں گے تو اس میں معیار مغرب کو نہیں بنائیں گے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر کردہ سوسائٹی کو بنائیں گے۔ ہم اپنی تہذیب کو ترقّی یا تنّزل کے معیارات پر دیکھنے کا جب آغاز کریں گے کہ ترقّی یافتہ تہذیب کیا ہوتی ہے تو اس کا ماڈل مغرب سے نہیں بلکہ اپنے ماضی سے لیں گے جب ہم مسلم معاشرہ یا ریاست بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن ہمارے یہاں ایک اور مصیبت جو پیدا ہوگئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے مغرب کو کامیابی اور ترقّی کا لازمی ماڈل سمجھ لیا ہے اور ہماری تہذیب کے اسبابِ مرگ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم جب بھی ترقّی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ویسی ترقّی ہوگی جیسی کہ مغرب نے کی ہے۔ جب بھی ہم طاقت کا لفظ استعمال کریں گے تو وہی طاقت جو مغرب کے پاس ہے۔ جیسے ہی ہم ایک فلاحی معاشرے کا تصوّر قائم کریں گے تو یہ کہیں گے کہ وہی فلاحی معاشرہ جو ناروے نے قائم کیا، یا مغرب میں قائم ہوا، وغیرہ وغیرہ۔ تو جو تہذیب اپنے آئیڈیلزکی حفاظت کرنے سے قاصر رہ جائے وہ پھر اسی طرح کیمرا لیے لیے پھرتی رہے کہ کہیں کوئی ترقّی نظر آجائے تو اس کی تصویر اتار سکے۔ اس لیے ہماری تہذیب اس وقت کیمرا بردار آدمی کی طرح ہے جو دوسروں کے دروازوں کی، دیواروں کی تصاویر کھینچ رہا ہے کہ میں اپنا گھر بنواؤں گا تو اس نقشے پر بنواؤں گا، یا اس ڈیزائن پر بنواؤں گا۔یہ تو مکمل طور پر دست نگری ہے جوہماری موت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ ہم مکمل طور پر دست نگر ہوگئے ہیں، یعنی اپنے تصوّرِ خُدا کو بھی مغربی ذہن کے مطابق بنانا چاہتے ہیں، یعنی سائنسی بنانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے تصوّرِ انسان کو بھی مغرب سے اخذ کرنے کی عادت ڈال چکے ہیں۔ ہم اپنے تصوّرِ دنیا میں بھی مغرب کی نقّالی کے جنون میں مبتلا ہیں۔ مطلب یہ کہ اتنے زیادہ انحصار کی حالت میں کوئی تہذیب اپنے امتیازات کے ساتھ قائم کیسے رہ سکتی ہے۔

سوال: مغربی دنیا اگرچہ باطل کی پرستش کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اُسے عالمگیر غلبہ حاصل ہے۔ آخر مغرب کے عالمگیر غلبے کی وجوہات کیا ہیں؟

احمد جاوید: اس کی دو ہی وجوہات ہیں: اَوّل طاقت اور دوم علم۔ تو یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا بنایا ہوا ایک نظامِ قُدرت ہے، جس میں کافر بھی اس کے مطابق ہوجائے گا تو غالب ہوجائے گا، اور مومن اس کی خلاف ورزی کرے گا تو مغلوب ہوجائے گا۔ تو طاقت اور علم، یہ مغرب کے غلبے کے مکینکس کے دو پارٹ ہیں۔ غلبہ اُس قوم کو حاصل نہیں ہوسکتا جس کے پاس طاقت نہ ہو۔ اس قوم کو حاصل نہیں ہوسکتا جس کے پاس دنیا کا علم نہ ہو۔ جو معاصر دنیا ہے اس کا علم، یہ عروج و زوال کا معیار ہے۔ اس کا تیسرا معیار اخلاقی ہے، کہ وہ معاشرہ اپنے آپ کو مربوط رکھنے، اپنے آپ کو ایک نظام میں ڈھالنے کے لائق ہو۔ یہ تینوں ضرورتیں مغرب نے پوری کردیں۔ یہ تینوں چیزیں جب تک کسی قوم میں موجود ہیں اُس وقت تک اس قوم کو زوال نہیں ہوگا، چاہے وہ کافر ہو یا مومن۔

اِمام غزالی ؒ نے جس نکتے کے تحت فلسفے کو رد کیا ہے، اس کی ایک بہت مضبوط بنیاد ہے۔ وہ یہ کہ فلسفہ عقل کو حاکم مانتا، عقل کی حکومت تسلیم کرتا، اور وحی سے بے نیاز رہنا چاہتا ہے۔

سوال: کیا مغرب کمزور پڑرہا ہے؟

احمد جاوید: مغرب کمزور پڑتا رہتا ہے لیکن اس کے ہاں تلافی (repairing) کا نظام بہت مضبوط ہے۔ وہ اپنی کمزوری کو فوراً بھانپ لیتا ہے اور اس کا علاج کرلیتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ مغرب میں کتنے بڑے بڑے معاشی زلزلے آئے، کتنے بڑے بڑے معاشرتی زلزلے آئے، انہوں نے سب کو ایک ڈھب سے رام کرلیا۔ کیونکہ ان کا تو کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں ہے۔ جب بھی کوئی ایشو اٹھا تو مغربی معاشرے میں ایک ہلچل پیدا ہوئی۔ اس سے بالادست قوتوں نے بھانپ لیا کہ اس کے نتیجے میں مغربی معاشرے کا جو تانا بانا ہے وہ کمزور پڑجائے گا، تو انہوں نے اسے قانونی تحفظ (legal cover) دے دیا کہ قانوناً یہ جائز ہے۔ تو وہ ہرچیز کی مرمت کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہے، ان کے ہاں خدا کو جواب دینے کا کوئی تصوّر نہیں ہے، ان کے ماڈلز یا محرکاتِ عمل دینی، مذہبی یا ایمانی نہیں ہیں۔ ان کا ماڈل تو یہ ہے کہ ہمیں طاقتور رہنا ہے اور اپنے لوگوں کو آرام سے رکھنا ہے، اس کے لیے ہمیں جو جو سمجھوتے (compromises) کرنے پڑیں، جیسی جیسی لچک دکھانی پڑے، جتنا جتنا قانون کو، تعلیم کو بدلنا پڑے ہم بدلتے رہیں گے۔

سوال: اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ امریکہ کے معروف دانشور سیموئیل پی ہن ٹنگٹن نے 1990ء کی دہائی میں تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیا تھا، لیکن تہذیبوں کے تصادم کی باتیں اقبالؒ اور سیّد ابوالاعلیٰ مودودی ؒ بھی بہت پہلے کرچکے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اقبال ؒ ،مودودی ؒ اور سیموئیل پی ہن ٹنگٹن کے فکری تناظر میں کیا فرق پایا جاتا ہے اور اس نظریے کی ہمارے لیے کیا اہمیت ہے؟

احمد جاوید: تہذیبوں کے تصادم کا آئیڈیا بہت پرانا ہے۔ خود ہمارے یہاں بھی یہ آئیڈیا بہت پہلے سے ایک موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن آپ کے سوال کی حدود میں رہتے ہوئے یہ عرض کروں گا کہ اقبال ؒ اور مولانا مودودی ؒ نے مغرب کے ساتھ اسلام کے جس تہذیبی تصادم کی بات کی ہے یا اس کی پیش بینی کی ہے، وہ تصادم ایک اخلاقی اور نظریاتی تناظر میں ہے۔ جیسے جیسے تہذیبی آفاقیت کا عنصرانسانیت میں مضبوط ہوتا جائے گا، اِسلامی اصولِ حیات اور مغربی اسلوبِ زندگی میں تصادم نا گزیر ہوتا جائے گا۔ اقبال ؒ اور مولانا مودودی ؒ اس تناظر میں بات کر رہے ہیں۔ اور یہ بالکل ٹھیک ہے کہ انسان ایک عالمی تہذیبی اکائی بننا چاہے گا تو اُس کے پاس اِس وحدت اور اکائی کا آئیڈیا کہاں سے آئے گا، نقشہ کہاں سے آئے گا۔ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی مطلوبہ آفاقی تہذیب یا تو اسلام فراہم کر سکتا ہے یا پھر مغرب۔ ان دونوں کی صورتحال یہ ہے کہ ان کا تصوّرِ انسان الگ بلکہ تمام بنیادی تصوّرات متضاد حد تک الگ ہیں۔ تو اسلام اور مغرب میں ایک بلند علمی سطح پر تو تصادم کچھ صدیوں سے جاری ہے۔ یہ علمی تصادم ظاہر ہے کہ عملی تصادم بھی بن سکتا ہے اقبال ؒ نے علمی تصادم پر اپنی نگاہ زیادہ جمائی اور مودودی ؒ صاحب نے عملی تصادم کو زیادہ پیشِ نظر رکھا۔ ان دونوں حضرات میں فطری طور پر ایک نظریاتی تیقّن غالب ہے لیکن اس تیقّن کے جواز کے لیے ان کے پاس جو تاریخی شہادتیں ہیں وہ بہت پرانی ہیں۔ تاریخ اپنے موجودہ بہاؤ میں ان دونوں حضرات کے تصوّر کے رخ پر نہیں چل رہی۔ اور یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے، تاریخ کی یہ مخالف طغیانی اقبال ؒ بھی اپنے زمانے میں دیکھ رہے تھے، مودودیؒ صاحب کو بھی اس کا مشاہدہ تھا۔ دونوں نے اس طوفان کے آگے جو بند تعمیر کیا اُس میں اینٹوں سے زیادہ اینٹوں کے تصوّر کو کام میں لایا گیا۔ اور یہ ان کی کمزوری نہیں، مجبوری تھی۔ ان کی معاصر اسلامی دنیا میں ان کے تہذیبی اور سیاسی آئیڈیلز سے مناسبت رکھنے والی کوئی چیز موجود ہی نہ تھی۔ مغرب کے سب سپاہی اصلی تھے اور ہمارا ہر سپاہی خیالی تھا۔ تو ایسی رزم گاہ میں آئیڈیلسٹک انداز ہی اختیار کیا جا سکتا تھا، جو اِن دونوں نے خوبی کے ساتھ کیا۔ ہنٹنگٹن کا معاملہ دوسرا ہے وہ جس تہذیبی تصادم کی بات کر رہا ہے وہ در اصل مغرب کے آفاقی غلبے کی ضرورت ہے۔ یہ غلبہ نظریاتی کم اور سیاسی و معاشی زیادہ ہے۔ تاریخ بھی ہنٹنگٹن کے موافق نظر آتی ہے کیونکہ اس کی کتاب تصادم کی تیاری پوری کر لینے کے بعد لکھی گئی ہے جس کا موضوع یہ ہے کہ مغرب کی گلوبلائزیشن کے راستے میں چند رکاوٹیں رہ گئی ہیں اُنھیں کیسے گرایا جائے یا گرایا جائے گا۔ تو یہ کتاب ایک روڈ میپ ہے جو سفر کی پوری تیاری اور منزل کے ٹھوس تعیّن کے ساتھ بنایا گیا ہے تو ہنٹنگٹن کوئی تصوّر سازی نہیں کر رہا بلکہ آنے والی دنیا کی پیشگی تصویر کھینچ رہا ہے، نظریاتی اسلوب سے بچ کر اور واقعاتی انداز کے ساتھ۔ بہر حال مغرب اور اسلام کا تصادم چاہے اقبال ؒ اور مودودی ؒ صاحب کی بنائی ہوئی رزم گاہ میں ہو یا ہنٹنگٹن کے تیار کیے ہوئے میدان جنگ میں ہو، یہ تصادم جاری ہے اور اسے کسی نتیجے تک پہنچنا ہے۔ ہم اس سے گزر رہے ہیں اور اس کی مزید شدّت اور پھیلاؤ کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ تصادم زندگی کی تمام سطحوں پر برپا ہو کر رہے گا لیکن واقعی صورت حال یہ ہے کہ مغرب تو ’ہم‘ بننے میں بڑی حدتک کامیا ب ہوچکا ہے لیکن امتِ مسلمہ ایک ہمہ گیر ’ہم‘ بننے سے دور ہے، اور اس دوری میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اس یک طرفہ تصادم میں مسلمان اپنی تہذیبی، اخلاقی، ایمانی اور نظریاتی قوّت کے ساتھ مغرب کے سامنے صف آرا دکھائی نہیں دیتے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ نظر آتا ہے،نہ اس کی کوئی تیاری دکھائی دیتی ہے اُدھر مغرب کی تہذیب عالمگیر پھیلاؤ اختیار کرتی جارہی ہے اور ادھر ہم ہیں کہ اپنی شناخت کو محدود سے محدود تر کیے جا رہے ہیں۔

ہم جب اپنی ترقّی اور پسماندگی کو ناپیں گے تو اس میں معیار مغرب کو نہیں بنائیں گے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر کردہ سوسائٹی کو بنائیں گے۔ ہم اپنی تہذیب کو ترقّی یا تنّزل کے معیارات پر دیکھنے کا جب آغاز کریں گے کہ ترقّی یافتہ تہذیب کیا ہوتی ہے تو اس کا ماڈل مغرب سے نہیں بلکہ اپنے ماضی سے لیں گے جب ہم مسلم معاشرہ یا ریاست بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

مختصر یہ کہ اسلام اور مغرب کے جاری تصادم میں فی الحال تو ہم بے دست و پا ہیں، اور اوپر سے یہ مشکل بھی ہے کہ ہمیں بڑھکیں مارنے کی ایسی بری عادت پڑی ہوئی ہے جو ہماری موجودہ حالت کو ہماری نظر سے اوجھل رکھ کر ہمیں اس صورتِ حال میں درکار عمل کی طرف نہیں آنے دے رہی۔ ہم ایک تہذیبی شیزوفرینیا میں مبتلا ہیں جس نے خود ہمیں اپنی نگاہ سے پوشیدہ کررکھا ہے۔ خیالی غلبے کی لذّت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ واقعی مغلوبیت کی کسک محسوس ہی نہیں ہوتی۔ اپنے دین کے ساتھ اُس کی مطلوبہ سطح پر وابستگی پیدا کیے بغیر، اور اس دین کے آفاقی جوہر اور اخلاقی مادّے کو علم اور قوّت کے ساتھ عمل میں لائے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ باقی اس کی تفصیل بہت ہے، پھر کبھی سہی۔

سوال: یہ جو اُمَّت واحدہ کا منصوبہ یا تصوّر ہے یہ کیسے اور کہاں بنے گا؟ کسی ایک جگہ بنے گا؟ اُمَّت تو کہیں نظر نہیں آرہی! اس کا وجود کہاں ہے؟پاکستان میں بنے گا، ترکی میں یا سعودی عرب میں؟ اور پوری دنیا کے لیے یہ نظریۂ اُمَّت کیسے قابلِ قبول ہوگا؟یا یہ کہ آج کے جغرافیائی دور میں تبدیلی کس طرح آئے گی؟

احمد جاوید: اُمَّتِ مسلمہ اجتماعیت اور قومیتوں کے مجموعے کو کہتے ہیں، یعنی مسلم تہذیبیں، قومیں اور ممالک ہم عقیدہ ہونے کی بنیاد پر، ہم مقصد ہونے کی اساس پر ایک دائرۂ وحدت کے اندر ہیں۔ اس دائرۂ وحدت کا نام اُمَّت ہے۔ اور اس اُمَّت کو پاکستانی اور ملائشین ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم مختلف قوموں، معاشروں، ریاستوں اور ثقافتوں کے ہوتے ہوئے بھی متّحد ہوسکتے ہیں، یہ اتّحاد جب برپا ہوجائے گا تو ہم قوم کے ساتھ ساتھ اُمَّت کا تشخص بھی حاصل کرلیں گے۔ اُمَّت کا تشخص قومیت کی نفی سے نہیں ہے، قومیت کو اپنے اندر جذب کرلینے سے ہے۔ ان معنوں میں مسلمان عملاً اب بھی اُمَّت ہیں، لیکن اُمَّت کا یہ تصوّر کہ اس کا سیاسی نظم، اس کا ریاستی اسٹرکچر ایک حاکم کے تابع ہو، ایک حکومت کے تحت ہو تو یہ اب محالات میں سے ہے۔ نہ ہی یہ اسلام کا مطالبہ ہے۔

سوال: آپ کو اس وقت دنیا میں وہ نرم زمین کہاں نظر آرہی ہے جہاں سے تبدیلی کے امکانات ہیں؟

احمد جاوید: اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں ترکی وہ خطۂ زمین ہے جہاں تبدیلی نظر آرہی ہے۔ وہ مرحلہ شروع ہوگیا ہے، اور اگر یہ کامیابی سے چلتا رہا تو ترکی مرکزِ اُمت (Centre of Ummah) بننے کی قابلیت رکھتا ہے، کیونکہ طاقت، علم، اخلاق، کمٹمنٹ اور آزادی کا جذبہ۔۔۔ یہ تمام چیزیں ان میں موجود ہیں۔ وہ نفسیاتی طور پر آزاد لوگ ہیں۔ یہ سب عناصر مل کر کسی قوم کو اپنی ہم خیال اقوام کے لیے نمونہ یا لیڈر بناتے ہیں۔

ہماری تہذیب اس وقت کیمرا بردار آدمی کی طرح ہے جو دوسروں کے دروازوں کی، دیواروں کی تصاویر کھینچ رہا ہے کہ میں اپنا گھر بنواؤں گا تو اس نقشے پر بنواؤں گا، یا اس ڈیزائن پر بنواؤں گا۔یہ تو مکمل طور پر دست نگری ہے جوہماری موت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔

سوال: جب ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا ذکر کرتے ہیں تو تین نقطہ ہائے نظر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مغرب قابلِ تقلید ہے اور مسلمانوں کو آنکھ بندکرکے مغربی فکر کی تقلید کرنی چاہیے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ مغرب کو یکسر مستردکردیا جائے، مغرب باطل ہے اور باطل کی پیروی ممکن نہیں۔ تیسرا نقطہ نظر درمیان کی راہ نکالتا ہے اور مغرب اور مشرق کے اندر امتزاج تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے ذریعے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان جو تصادم ہے اس کی راہ روکی جاسکتی ہے اور اس سے دونوں تہذیبوں کو بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔ ان تین نقطہ ہائے نظر کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

احمد جاوید: یہ ایک پرانا تناظر ہے جس میں یہی تین باتیں مغرب کے بارے میں کہی جارہی تھیں۔ سرسیّد کے دور کے فوراً بعد مغرب کے حوالے سے یہ تین رویّے پیدا ہوئے تھے۔ ان تینوں رَویّوں کے پیچھے ایک مفروضہ قائم کرنے کی غلطی ہے، یعنی ان تینوں کی پشت پر بنیادی مفروضہ ہی غلط ہے۔ تہذیبیں معاہدوں کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتیں۔ تہذیبوں کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے وہ نامیاتی (organic) ہوتا ہے۔ وہ کسی مذاکرات، ناپ تول یا سیاسی فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ سارے فیصلے اور منصوبہ بندیاں اثرانداز تو ہوتی ہیں لیکن یہ تصوّر کرلینا کہ ہم مغرب کی تہذیب کو مکمل طور پر روکنے کا ایک پلان بناکر اس کی پابندی کریں یا اس کو مکمل طور پر قبول کرنے کا منصوبہ تیار کرکے اس کے پیچھے رہیں، اس کو عمل میں لائیں، یا یہ کرلیں کہ دین سے تعلق رکھیں۔ یہ چیزیں کسی طرح کے فیصلوں سے نہیں پیدا ہوتیں۔ مغربی تہذیب سے ہمارے تعلق کی جیسی بھی نوعیتیں بنیں گی وہ یکطرفہ نہیں ہوں گی، وہ ایسی نہیں ہوں گی کہ جیسے ہم نے پہلے کوئی فیصلہ کیا، اب تعلق کا سارا نظام ہمارے پہلے کیے گئے فیصلے پر چل رہا ہے۔ گویا یہ ایک مصنوعی سوچ ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ مغرب اس وقت عالمگیر تہذیب بننے کے عمل میں ہے۔ جس چیز کو ہم ستّر اسّی برس پہلے مغربی تہذیب کہتے تھے اُس وقت اس کا ایک جغرافیہ تھا مغربی یورپ اور امریکہ ملاکر۔ لیکن اب جو مغربی تہذیب ہے وہ مغرب کے جغرافیہ میں محصور نہیں ہے۔ اب مغربی تہذیب ہندوستان اور چین میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس وقت موجود تہذیبی مظاہر میں ایک مغرب ہی ہے جو عالمگیر تہذیب بننے کے عمل سے سردست کامیابی کے ساتھ گزر رہا ہے اور اس کو جو چیلنج پیش آرہے ہیں وہ معمولی نوعیت کے ہیں۔ اب حقیقی اور برسرزمین صورت حال یہ ہے۔ اس طغیانی اور مغرب کے اس تہذیبی طوفان میں، مغرب کے اس عالمگیر اخلاقی، علمی، عقلی غرض ہر طرح کے تہذیبی غلبے کے ماحول میں ہم یہ فکر کررہے ہیں کہ ہم بطور مسلمان اپنے تہذیبی امتیاز کی حفاظت کیسے کریں؟ ہم خود کو مغربی تہذیب میں ضم اور جذب ہوجانے سے کیسے بچائیں؟ یہ اس وقت کا مسلم سولائزیشن کو درپیش ایک مسئلہ ہے۔

اس مسئلے کو کچھ طریقوں سے حل کرنے یا اس مسئلے سے نکلنے کے لیے کچھ راستے ہم اپنے سامنے ایسے موجود پاتے ہیں جن سے یہ اُمید باندھی جاسکے کہ یہ ہمیں مغرب کے تہذیبی غلبے سے بچانے کی قُوَّت رکھتے ہیں۔ ان میں ایک راستہ یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ تصادم کا روّیہ اختیار کریں، اور کیوں کہ مغربی تہذیب کے پھیلاؤ میں اس کی قُوَّت کا بہت عمل دخل ہے لہٰذا اِس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قُوَّت ہی کا استعمال ضروری ہے۔ مسلم تہذیب اپنے کچھ خِطّوں میں طاقت کے خلاف مزاحمت (Power Resistance) کررہی ہے کہ اس کا راستہ ہم طاقت سے روک لیں گے، جس کی ایک موجودہ صورتِ حال جنگجوئی (Militancy) ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کچھ تنکے آپس میں اِتّحاد کرکے سونامی کو روکنے کا منصوبہ بنائیں۔یہ انتہائی لغو خیال اور بے معنی طرزعمل ہے۔ یہ جنگجوئی مغرب کے غلبے کی قبولیت میں اضافہ کررہی ہے، یعنی مغربی تہذیب کو اخلاقی جواز فراہم کررہی ہے۔ تہذیبوں کے پھیلاؤ میں جو سب سے بڑے جواز ہوتے ہیں ان میں سے ایک جواز اُن کی اخلاقی برتری ہوتا ہے۔ اب مغرب کے خلاف تَشدُّد کا رَوّیہ اور دہشت گردی کے واقعات جتنے بڑھتے چلے جائیں گے ان سے مغرب کے جسم پر خراش تک نہیں آئے گی بلکہ ان کی طرف ہمارا رَوّیہ بدلنے لگے گا اور ہم ان کی اخلاقی برتری کے قائل ہونے لگیں گے۔ تو اس سے ان کے پھیلاؤ کا راستہ اور زیادہ ہموار ہوجائے گا۔

بعض سیکولر اور لبرل حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کوئی شخص راسخ العقیدہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی سیکولر اور لبرل ہو سکتا ہے۔ دینداری اور ان میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ ان باتوں سے کسی غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہیے، مطلب ایسی باتیں محض دکھاوا ہیں۔ اگر سیکولرزم اور لبرلزم اپنی اصل پر ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس میں خدا، آخرت، دین وغیرہ کا انکار ایک نظریے کے طور پر نہ پایا جائے۔

دوسرا رَوّیہ یہ ہے کہ ہم مغرب کی وہ اقدار، مغربی نظام کے وہ عناصر جن کی عالمگیریت مسلّم ہوچکی ہے، جو اس وقت دنیا کا قانون بن چکے ہیں اور ان کا موجد مغرب ہے، مثلاً جمہوریت، مائلڈ کیپٹلزم (mild capitalism)، انسانی حقوق کا تصوّر، آزادئ اظہار کا آئیڈیا، دین بدلنے کی آزادی وغیرہ، تو ہم مغرب کی یہ جو قدریں آفاقی اقدار کی صورت اختیار کرتی جارہی ہیں ہم ان میں سے کچھ قدریں منتخب کرکے اختیار کرلیں۔ دو راستے ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم جمہوریت اختیار کرلیں، کیونکہ جمہوریت کے نتائج اچھے ہیں۔ ہم آزادئ اظہار اختیار کرلیں، ہم انسانی حقوق کی وہی فہرست مان لیں جو مغرب نے بنائی ہے اور اقوام متحدہ سے منظور کروائی ہے، تو اس کے ساتھ ساتھ ہم نماز، روزہ جاری رکھیں۔ ہم اپنا آئین نیا بنادیں کہ جس میں لکھ دیا جائے کہ قرآن و سنّت سے ٹکراؤ رکھنے والا کوئی قانون نہیں بن سکتا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تو ہم اسلام کو آئینی طور پر غالب رکھیں اور زندگی کا پورا مزاج جو ہے وہ مغرب سے نزدیک رہ کر بنائیں۔ مغرب میں ضم ہوئے بغیر اپنی بعض شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے، یا یوں کہیں کہ اپنی اُن شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے، جن پر مغرب کو اعتراض نہیں ہے، ہم اپنے ان تہذیبی امتیازات کو برقرار رکھتے ہوئے زندگی کو چلانے والا اجتماعی نظام، چاہے وہ سیاست کے دائرے میں ہو، اخلاق کے دائرے میں ہو، چاہے معیشت میں ہو، چاہے تعلیم میں ہو، چاہے انصاف میں ہو، وہ ہم مغرب سے نقل کریں، مغرب سے پورا پیکیج لے لیں اور اس پیکیج کو لے کر بس اس پر عنوان یہ لگادیں کہ یہ ہماری ہی تہذیب کے بنیادی عناصر ہیں جو مغرب نے ہم سے لیے تھے، تو ہم گویا اپنی دی ہوئی چیز اُن سے واپس لے رہے ہیں۔ تو دوسرا رَوّیہ یہ ہے، ٹھیک ہے ناں! مغرب کی بنائی ہوئی دنیا کو مغرب ہی کا ایجاد کیا ہوا نظام چلا سکتا ہے۔ ہم اس وقت مغرب کی بنائی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں اور اس دنیا میں رہنے کے لیے اُنہی کے بنائے ہوئے نظام کے محتاج ہیں۔ یہ دنیا کسی اور نظام سے چل نہیں سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   میں باغی کیوں ہوں؟- اوریا مقبول جان کا اہم انٹرویو

تیسرا رَوّیہ ابھی تصور کی سطح پر ہے، ابھی اس کے مظاہر پیدا نہیں ہورہے، وہ یہ ہے کہ مغرب سے لاتعلق ہوکر مثبت انداز میں اپنی تہذیب کو اس کی بنیادی اقدار پر چلانے کا عمل شروع کیا جائے۔ جیساکہ دنیا میں کئی خطّے ہیں جو مغرب سے لاتعلق ہوکر اپنی تہذیبی اقدار کو بچانے، برقرار رکھنے اور برسرِ عمل رکھنے میں بڑی حد تک کامیاب ہیں، تو اس ماڈل کو ہم بھی اپنالیں۔ تو یہ تین ممکنہ راستے ہیں جن سے ہم یہ اُمید باندھ رہے ہیں کہ شاید یہ ہمارے دینی اور تہذیبی بقا میں ہمارے معاون ثابت ہوں۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی راستے کو سفر کے قابل بنانے کا جو سامان ہوتا ہے وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ ہم نے ریل کی پٹری کے تین نقشے بنالیے ہیں لیکن اس نقشے پر پٹری بچھانے کا سامان ہمارے پاس نہیں ہے۔ تو ان تینوں تصوّرات پر عمل کرنے کے لیے جو چیزیں درکار ہیں وہ ہمارے پاس نہیں ہیں، اس وجہ سے ہم ایک طرح سے عادی ہوگئے ہیں کہ تصوّر میں اپنے امتیاز کی حفاظت کرتے ہیں اور عملاً مغرب کی پیروی میں چلتے رہیں۔ ہماری موجودہ صورتحال یہی ہے۔

مغرب کے غلبے کی دو ہی وجوہات ہیں: اَوّل طاقت اور دوم علم۔ تو یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا بنایا ہوا ایک نظامِ قُدرت ہے، جس میں کافر بھی اس کے مطابق ہوجائے گا تو غالب ہوجائے گا، اور مومن اس کی خلاف ورزی کرے گا تو مغلوب ہوجائے گا۔

سوال: آئیڈیل طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟

احمد جاوید: آئیڈیل طریقہ مغرب سے تصادم کی فضا ختم کرکے اپنے perspective سے ترقّی اور کامیابی کے تصوّرات کو عمل میں لانا ہے۔ ہمیں یہ کہنے کے لائق ہونا چاہیے کہ ترقّی کا مغربی ماڈل ہمیں قبول نہیں، کامیابی کا مغربی نظام ہمیں قبول نہیں، ہم انسانی فضائل اور انسانی زندگی کی آسانیوں اور راحتوں کا اپنا ایک تصوّر رکھتے ہیں اور اس تصوّر کو عمل میں لانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری خوشحالی سود سے پاک ہونی چاہیے۔ ہمارا یہ آئیڈیل ہے، ہم اس کے پابند ہیں کہ ہمارا مال سود سے پاک ہو، ہمارے اخلاق حیا کی بنیاد پر ہوں، آزادی یا کاروبارکی بنیاد پر نہیں۔ ہماری شخصیت انکسار کے جوہر سے تعمیر ہو، کسی اور تصوّر سے نہیں۔ میں صرف مثال دے رہا ہوں۔ تو جب تک ہم اسلام کا ورلڈ ویو بنانے یا بتانے اور اسے عمل میں لانے کی صلاحیت پیدا نہیں کریں گے اُس وقت تک ہمیں مغرب کے تسّلط سے بچانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ ہر اُمَّت، قوم، تہذیب کی پہلی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ بتائے کہ اس کا ورلڈ ویو کیا ہے۔

سوال: ورلڈ ویو سے آپ کی کیا مراد ہے؟

احمد جاوید: ورلڈ ویو سے مراد ہے: اس کا تصوّرِ علم کیا ہے؟ اس کا تصوّرِ دنیا کیا ہے؟ اس کا تصوّرِ انسان کیا ہے؟ جب تک ہم اپنے ورلڈ ویو کو فراموشی کی دھند سے نکال کر سب سے پہلے خود اپنے ذہن میں لانے اور اپنی زبان سے اظہار دینے کے لائق نہیں ہوں گے اُس وقت تک مغرب کے تسلّط سے نکلنے کا کوئی نقشہ تیار نہیں ہوگا۔

سوال: اس آئیڈیل تصوّر کا شعور ہمارے معاشرے میں کس طبقے کو ہونا چاہیے یا ہوگا؟

احمد جاوید: اس کا شعورتو آ پ کے حاکم طبقے کو ہونا چاہیے، آپ کے علما کو ہونا چاہیے، آپ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو ہونا چاہیے بلکہ اِس کا احساس عام ہونا چاہیے۔ حقیقت کی دو نسبتیں ہوتی ہیں۔ اس کا شعور اُن طبقات کو ہونا چاہیے جو سوسائٹی کو چلانے کی قوّت رکھتے ہیں، جو اپنے فیصلوں کو نتیجہ خیز بنانے کے اَسُباب رکھتے ہیں یا جن کی ذِمّہ داری ہے۔

سوال: یہ احساس اور شعور تو ہمیں کسی طبقے میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ علما کی صورتِ حال بھی مختلف نہیں بلکہ اُن کے بارے میں ایک طبقے کی رائے ہے کہ علما مغرب کے بارے میں ہی نہیں جانتے تو اس کا شعور وہ کیسے رکھ سکتے ہیں۔

احمد جاوید: یہ اعتراف صحیح ہے کہ ہمارے عُلما مغرب کو نہیں سمجھتے۔ لیکن صرف اتنی سی بات نہیں ہے، ہمارے پی ایچ ڈی بھی مغرب کو نہیں سمجھتے۔ یہ مکّاری کی جاتی ہے کہ زوال کی ساری ذِمّہ داری مذہبی طبقے پر ڈال دی جائے، مغرب کو نہ سمجھنا اگر ایک جرم ہے تو اس کے بڑے مجرم علما نہیں ہیں، کیونکہ ان کی ذِمّہ داریوں میں مغرب کو سمجھنا ثانوی چیز ہے۔ اس کے ذِمّہ دار جدید مغربی تعلیم یافتہ طبقات ہیں جنھوں نے مغربی نظام تعلیم میں اپنی تحصیلات مکمل کی ہیں اور مغرب کے حوالے سے بے حس اور نابلد ہیں۔ تو فہمِ مغرب جو ہے، یعنی وہ فہم جوان کی تہذیب کے اثرات، ان کی تہذیب کے مزاج، ان کی تہذیب کے پوشیدہ (Hidden) مقاصد کو سمجھ سکے،وہ شعور ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقے میں بالکل نہیں ہے اور اپنی تہذیب کی عائد کردہ ذِمّہ داریوں کا کوئی احساس ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقات میں نہیں ہے۔ مولویوں میں کم از کم اپنی تہذیب کے تّحفظ کا اِحساس تو ہے۔ بالعموم جدید تعلیم یافتہ آدمی اپنی تہذیب کا غدّار ہوتا ہے، وہ اپنی تہذیب سے وفاداری کی رمق سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔یہ مغرب کا سب سے کامیاب حربہ ہے، جسے وہ اپنے سے مختلف تہذیبوں کے تعلیمی نظام میں سرایت کرکے استعمال کرتا ہے۔

مغرب کمزور پڑتا رہتا ہے لیکن اس کے ہاں تلافی (repairing) کا نظام بہت مضبوط ہے۔ وہ اپنی کمزوری کو فوراً بھانپ لیتا ہے اور اس کا علاج کرلیتا ہے۔

سوال: آپ جو علم کی بات کرتے ہیں تو اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ دنیا میں جو فساد ہے وہ تعلیم یافتہ لوگوں کا ہی بَرپا کیا ہوا ہے اور اس میں جدید تعلیم یافتہ اور دینی تعلیم یافتہ دونوں ہی شامل ہیں، لیکن بدنام جاہل ہیں اُن کا کیا قصور؟

احمد جاوید: جاہلوں کا قصور یہ ہے کہ وہ جاہل نہ رہتے تو علم کا غلط استعمال نہ ہوتا۔ جہل اپنی جگہ جرم ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کم ازکم ایک خاص طرح کے فساد میں اَن پڑھ طبقے کو بُری طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ مجموعی صورتِ حال کی خرابی کی ذِمّہ داری سب ہی طبقات پر جاتی ہے۔ یہ بات گو کہ اب زیادہ با معنی نہیں رہی، اور ایک کلیشے بن گئی ہے کہ ہمارے تمام مصائب کی بنیاد دین سے دوری ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے چاہے اس کے اظہار کا، اس کے بیان کا کوئی بھی اسلوب چُن لیا جائے۔ ہم ایمان اور علم کے ٹکراؤ کے ماحول میں جی رہے ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے اس پر فکر مند بھی نہیں ہیں اور اسی طرح ایمان اور عمل کے تعلق میں ہم اتنے غیر سنجیدہ ہوگئے ہیں کہ دین کی ایک لازمی پروڈکشن یعنی اخلاق اور اس کے رنگا رنگ مظاہر فرد میں بھی نظر نہیں آتے اور معاشرتی زندگی میں تو سرے سے نا پید ہیں۔ تو اس پہلو سے میں کہہ رہا تھا کہ ہم نے دین کو شعور کا مرکز اور مُرَبّی نہ بننے دیا اور دین کو جو ہرِ وجود بننے سے بھی روک رکھا ہے حالانکہ دین کو ذہن، زندگی وغیرہ کا سانچہ بنانے میں ہماری تقریبًا مکمل ناکامی، اس المیے کی خالق ہے جس سے ہمیں گزرنا پڑ رہاہے۔ اس سے نکلنے کا راستہ یہی ہے کہ ایمان کے علمی اور اخلاقی ثمرات کو حاصل کر کے اُسے دوسروں میں بھی بانٹا جائے، یعنی ایمانی تناظر سے ایک پورے علمی،اخلاقی اور سیاسی نظام کی تشکیل کو اپنے مرنے جینے کا مسئلہ بنایا جائے۔ ورنہ سماج، فرد، ریاست، حکومت وغیرہ کا موجودہ پیچ دار لیکن نتیجہ خیز عالمی نظام ہمیں کسی ناکارہ اور بے مصرف چیز کی طرح تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینک دے گا۔ ہمیں سب سے پہلے اس نا موافق عالم گیر فضا میں اپنے کھڑے رہنے کی جگہ بنانی ہے اور پھر اپنی ہی سمتِ سفر پر اور اپنی ہی منزل کی طرف چلنے کا آغاز کرنا ہے۔ اس سفر میں ہمیں اوریجنل (original) رہنا ہوگا اور سامانِ سفر بھی خود ہی مہیا کرنا ہوگا۔ اور یہ باتیں کسی رومانوی تصوّر کی پیداوار نہیں ہیں، اُنھیں عمل میں ڈھالا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہم اپنے تصوّرِ انسان بلکہ تصوّرِ وجود کو ٹھیک سے سمجھنا، اسے اپنے اجتماعی شعور میں مرکزی اور فعّال جگہ دینا، اور اس سے تسکین پانا، سیراب ہونا سیکھ لیں۔ یہ سب کچھ ہوسکتا ہے اگر دین کی مطلوبہ اجتماعیت اورآدمیت کو پُرتاثیر طریقے سے عمل میں لانے یا لاسکنے والی قوّتیں اس طرف متوجہ ہو جائیں۔ ظاہر ہے کہ حکومت بھی ایک بہت بڑی اجتماعیت ساز قوّت ہے، اسے اپنے دین اور اپنی تہذیب کا وفادار بنائے بغیر بہت سے ضروری کام شروع بھی نہیں کیے جا سکتے۔ اس لیے تبدیلیِ نظام کی جد وجہد بالکل نا گزیر ہے، اور اس جد وجہد میں شرکت سے گریز گویا بَدر و حُنین سے فرار ہے۔ بس اللہ کرے کہ ایسی تحریکیں اپنے اندر پائی جانے والی کمی کو دور کرنے میں مستعد ہو جائیں اور نظام کی تبدیلی کو محض ایک نعرہ نہ بننے دیں بلکہ اپنے مطلوبہ نظام کی علمی اور عملی تفصیلات کو بھی سامنے لائیں تاکہ جدید دنیا اور اس کے نظامِ تغیّر کو سمجھنے والا ذہن بھی ان کے جذ بے کے علاوہ ان کی فراست اور بصیرت پر بھی اعتماد کر سکے۔

اس وقت مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں دین کے لیے کی جانے والی سیاسی جدّوجہد سے لاتعلق ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ان تحریکوں اور جماعتوں کے ذہن پر اعتماد نہیں کرتا اور ان کے اخلاقی نتائج کے مشاہدے سے بھی محروم ہے۔ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ فساد پھیلانے میں تعلیم یافتہ لوگوں ہی کا ہاتھ ہے۔ لیکن ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری مذہبی تعلیم سے فساد زیادہ پھیل رہا ہے اور ہماری جدید تعلیم سے الحاد۔ کوئی تہذیب ان دو سوالوں کا جواب دیے بغیر وجود ہی میں نہیں آسکتی۔ علم کیا ہے اور علم کس لیے ہوتا ہے؟ مغرب کہتا ہے علم محسوسات کا علم ہے اور علم آرام سے، آزادی اور سلامتی‘ خوشحالی کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے ہے۔ علم دنیا کو اپنے لیے آسان اور پُرآسائش بنانے کے لیے ہے۔ان کے پاس دونوں سوالوں کا واضح جواب ہے اور وہ ان دونوں جوابات کو عملی جامہ پہنانے میں بھی کامیاب ہیں۔ مثلاً اُنھوں نے کہا کہ علم محسوساتی (Empirical) ہوتا ہے اس سے اُنھوں نے فزکس‘ حساب اور تمام علوم جو دنیا اورانسان سے تعلق رکھتے ہیں وہ قطار در قطار پیدا کرکے دکھا دیے اور پھر اُس علم کو نتیجہ خیز بنا کر دکھا دیا۔ مثلاً اُنھوں نے کہا کہ ہم صرف یہ نہیں کہتے کہ ایٹم ہوتا ہے۔ ہم ایٹم کو پکڑ کر استعمال بھی کرسکتے ہیں اور استعمال کرکے دکھا دیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ خوشحالی ہونی چاہیے ہم وہ خوشحالی لاکر دُنیا کے لیے دِکھابھی چکے ہیں۔ یہ خوشحالی ہمارا تصوّر ہے او ریہ دیکھ لو کہ اس تصوّر کو ہم نے کس طرح عملی روپ دے دیا۔ تو وہ (مغرب) واضح ہیں اُنھوں نے پوری طرح یکسو ہوکر اپنی تہذیب کی تعمیر میں ان دو جوابات سے مدد لی اور ان دو جوابات کو زندگی کے تمام گوشوں میں جاری کرکے دکھادیا اورنہ صرف اپنے اندر کی زندگی میں بلکہ جو،اِن کے اس نظریے کو قبول کرلے وہ بھی ان کے معیار پر خوشحال ہوسکتا ہے،ترقّی یافتہ ہوسکتا ہے۔عالمِ اسلام میں جتنی بھی ترقّی اور خوشحالی ہے وہ مغربی اصول کی تقلید کے نتیجے میں ہے۔ تو بھائی! اس غلبے سے نکلنے یا اس میں مسلمان کی حیثیت سے سانس لینے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم ان دو سوالوں کا جواب پہلے بتائیں، اپنے جواب میں خود کو واضح کریں اور پھر اس جواب کو عمل میں لانے کی اجتماعی سرگرمیوں کا پورا ایک مربوط نظام بنائیں۔ اب اس میں چاہے سو سال لگیں لیکن یہ کیے بغیر ہم تہذیبی بقا حاصل نہیں کرسکتے۔

مذہبی آدمی سیکولر نہیں ہوسکتا۔ سیکولرزم کا مطلب ہے دنیا سے خدا کو غیر متعلق کردینا۔ تو سیکولرازم مذہب کی اور خاص طور پر اسلام کی نفی ہے۔

سوال: یہاں ایک سوال تحریکوں کی کامیابی اور ناکامی کے پس منظر میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریکوں کی ناکامی واقعی ان کی ناکامی ہوتی ہے؟ تحریکوں اور جماعتوں کا کام تو جدّوجہد کرنا ہے آپ سے سوال جدّوجہد کا ہوگا؟۔۔۔ آپ کا پیغام قبول ہوا، یا نہیں ہوا لوگ تبدیل ہوئے یا نہیں ہوئے۔ یہ مطلوب نہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

احمد جاوید: نہیں اس کو دوسری طرح بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک تحریک اگر پچاس سال سے ناکام ہے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پا رہی اور اپنے کام میں لگی ہوئی ہے تو اسے ناکام نہیں کہا جائے گا۔ بالکل ٹھیک ہے،اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اور اسے دینی معنوں میں بھی ناکام نہیں کہا جائے گا۔ دنیاوی معنوں میں بھی ناکام نہیں کہا جائے گا۔ اسے ناکام کہنے کا کوئی دینی یا عقلی جواز نہیں ہے۔ لیکن ا گر کوئی تحریک اس طرح کی ہوکہ وہ سکڑنے لگے، اس کی فعالیت (activism) کم ہونے لگے، اس کے مقاصد بدلنے لگیں، تو پھر کہا جائے گا کہ یہ ناکام ہوگئی ہے۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ ناکامی کے احساس سے بچانے والی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بھی اب تیزی سے کم ہوتی جارہی ہیں۔ جدّوجہد تو کررہے ہیں، بس جدّوجہد کرتے رہنے پر ہم راضی ہیں۔ اپنی جدّوجہد کو نتیجہ خیزبنانے کے لیے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہے، اُن سے غافل ہیں۔ یہ مذہبی طبقے کا ایک المیہ (Dilemma) ہے کہ آپ انقلاب لانے کی جدوجہد میں مخلص بھی ہیں، سرگرم بھی ہیں لیکن انقلاب لانے کے لیے جو قوّت اور صلاحیت لازماً درکار ہے اِس قوّت و صلاحیت کو حاصل کرنے کی کوئی سنجیدہ اور مربوط کوشش نہیں کررہے۔

اُمَّت کو پاکستانی اور ملائشین ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم مختلف قوموں، معاشروں، ریاستوں اور ثقافتوں کے ہوتے ہوئے بھی متّحد ہوسکتے ہیں، یہ اتّحاد جب برپا ہوجائے گا تو ہم قوم کے ساتھ ساتھ اُمَّت کا تشخص بھی حاصل کرلیں گے۔

باقی رہی یہ بات کہ ہم سے تو بس کوشش کے بارے میں پوچھا جائے گا، نتائج کے بارے میں نہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے لیکن اس کو بعض مرتبہ بہانہ بھی بنالیا جاتا ہے۔ ہر جماعت کو اپنے اندر اصلاح کا مسلسل عمل اور حکمتِ عملی میں تبدیلی کی نئی نئی صورتیں درکار ہوتی ہیں۔ اس طرح کے فقروں سے جماعتوں کا یہ اندرونی نظام رک سکتا ہے۔ کوشش پر ہم مامور ہیں اور اس کوشش کے نتائج ہمیں پوری قوت کے ساتھ مطلوب ہیں۔ یہ ہے وہ بات جسے مذہبی تحریکوں کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ ہاں نتائج کی طلب میں شدّت محض جذباتی نہ ہو بلکہ نتائج کو حاصل کرنے کا جو معروف طریقہ اور اسبابی ذریعہ ہے وہ بھی اعلیٰ درجے کی ذہنی بیداری اور قلبی یکسوئی کے ساتھ استعمال میں رہنے چاہئیں۔ یہ وہ شرط ہے جس پر ان جماعتوں اور تحریکوں کو پورا اترنے کی مسلسل کوشش کرنی چاہیے، ایسی کوشش جس کی مہار جذباتیت اور نعرے بازی کی بجائے ایک گہرے تاریخی شعور اور غور و فکر پر اُکسانے والی سنجیدگی کے ہاتھوں میں ہو۔ اس جدّوجہد کو مریضانہ رومانویت، متکبّرانہ اِدّعائیت اور مفلس کی خود پسندی اور خودنمائی سے پاک ہونا چاہیے۔ میں دین کے لیے کی جانے والی ہر دعوتی، تعلیمی اور سیاسی جدّ وجہد کو اُمَّت پر احسان سمجھتا ہوں، یہ جدّ وجہد کرنے والے مبارک لوگ ہیں اور ہمارے محسن ہیں۔ میں ان کی کسی کمزوری یا کوتاہی کی طرف سخت یا نرم لفظوں میں توجہ دلاؤں گا تو یہ تنقید بھی احساسِ ممنونیت اور جذبہء احسان مندی کے ساتھ ہوگی۔ یوں سمجھیں کہ ان کی کامیابی کی تَمنّا رکھنے والا شخص،فی الحال اِن کی ناکامی کا رونا رو رہا ہے اور جان و دل سے چاہتا ہے کہ اس ناکامی کے اسباب دور ہو جائیں۔

سوال: مولانا مودودیؒ نے اسلامی معیشت پر بہت لکھا، سود پر ’’سود‘‘ ہی کے عنوان سے ایک مفصّل کتاب لکھی اور آج اگر دیکھا جائے تو غالباً اسی کا اثر ہے کہ مولانا تقی عثمانی نے اسلامی بینکنگ کا نظام متعارف کروادیاتو کام تو ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ آپ اسلامی بینکنگ کے تجربے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟

احمد جاوید: جی ہاں!مولانا مودودی ؒ کی کتاب مسئلہ سود پر ایک اچھی کتاب ہے۔ اس کتاب کی ایک برکت یہ ہے کہ اس میں اسلام کے اصولِ معیشت بہترین اظہار کے ساتھ بیان ہو گئے، اور معیشت کی اخلاقی تاسیس کا عمل جس سطح پر اس کتاب میں ہوا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام اب بہت کچھ بدل گیا ہے۔ اب معیشت میں کچھ نئی پیچیدگیاں اور باریکیاں پیدا ہوگئی ہیں اور سود کا معاملہ آج معیشت میں اس حیثیت کا حامل نہیں رہاہے جو حیثیت اسے مولانا کے زمانے میں حاصل تھی۔ ظاہر ہے مولانا کوئی ٹھیٹھ معیشت دان نہیں تھے، اُنھوں نے سرمایہ دارانہ معیشت یا سودی معیشت جو اُن کے زمانے میں رائج تھی، اس کے کچھ معروف اور نسبتاً غیر تکنیکی نکات کو موضوع بنایا ہے۔ کیپیٹلزم اپنے اصول و اقدار میں کیا ہے؟ اور یہ اصول و اقدار کس طرح عمل میں لائے جاتے ہیں؟ اِس کا کوئی گہرا علمی اور فَنّی تجزیہ اس کتاب میں نہیں ملتا۔ اس وجہ سے ہم سرمایہ داری آرڈر کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی نہیں تیار کر سکتے اور سرمایہ داری کے عالمی نظامِ معیشت کا متباد ل معاشی نظام دینے کی تیاری نہیں کر سکتے۔ یہ خاصا اُلجھا ہوا اور کثیر الجہات کام ہے جس کی ذِمّہ داری ظاہر ہے کہ صرف علمانہیں اٹھا سکتے۔ مودودی صاحب نے اس کتاب میں اپنے حصّے کا کام عمدہ طریقے سے کر دیا لیکن اس کے بعد بھی بہت سا کام رہتا ہے جس کے لیے ایک پورے نظام اورا جتماعی ارادے کی ضرورت ہے۔ سود تو سب مانتے ہیں کہ حرام ہے لیکن سود کو حرام ماننے کے نتائج نہیں نکل رہے۔ پوری اسلامی دنیا میں بلا سودی معیشت کا نظام کہیں رائج نہیں ہے۔ اس سے یا تو سود کی حرمت کا یقین کمزور پڑنے لگتا ہے یا پھر ایسے تجدّد پسندوں کو دینیات میں داخل ہونے کا راستہ مل جاتا ہے جن کی کوشش ہے کہ سود کی کوئی ایسی تعریف وضع کر دی جائے کہ اسے حرام کہنا ممکن نہ رہے اور رائج الوقت سودی نظام کسی تبدیلی کے بغیر یوں ہی چلتا رہے۔

آپ نے مولانا تقی عثمانی کے حوالے سے اسلامی بینکاری پر جو بات کی ہے، اُس پر میری گزار ش یہ ہے کہ اسلامی بینکاری ہماری ایک بڑی ضرورت ہے اور اسلامی معیشت کا کوئی خاکہ بینکنگ سسٹم بنائے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا اس رُخ سے تو اسلامی بینکاری ایک اچھاآئیڈیا ہے جس پر کام نا گزیر ہے۔تقی عثمانی صاحب کو یہ کریڈٹ بہر حال دینا چاہیے کہ اُنھوں نے سودی معیشت کے گرداب میں اصلاحی عزم کے ساتھ کودنا قبول فرمالیا لیکن وہ اس گرداب پر قابو پانے میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں؟ اس کا اندازہ لگانا کم از کم میرے لیے مشکل ہے۔ میرے ایک بینکار دوست ہیں وہ بینکاری کے ساتھ ساتھ سرمایہ داری نظامِ معیشت سے اتنے واقف ہیں کہ شاید علما بھی اتنی آگاہی نہ رکھتے ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی بینکاری کا عمل محض کچھ لفظی اور آرائشی تبدیلیوں تک محدود ہے۔ اس جسم میں بھی خون سود ہی کا دوڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ میرے علم میں ہے کہ خود تقی عثمانی صاحب کے مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے کثیر علما اسلامی بینکاری کے مسئلے پر ان کے مخالف ہیں۔ اس صورتِ حال میں مجھے تو یہی لگتا ہے کہ اسلامی بینکاری بھی اسی طرح کی ایک کوشش ہے جو ماضیِ قریب میں Islamization of Knowledge کے عنوان سے بڑے زورو شور کے ساتھ شروع کی گئی تھی اور اب اس کا کوئی اتا پتا نہیں ملتا۔ اسلامی بینکاری کو خیر معدومیت کا تو خطرہ نہیں ہے لیکن اس کی علمی سطح بہرحال وہی ہے جو Islamization of Knowledge کے تصوّر کی تھی۔ دونوں جگہ سسٹم تو مغرب کا بنایا ہو اہے اورہم اس سسٹم میں اپنے لیے ذرا سی جگہ نکالنے کی کاوش کر رہے ہیں۔ ایسی در اندازی سے ہم اس سسٹم میں کوئی بڑی اور بنیادی تبدیلی نہیں لا سکتے۔اسلامی بینکاری کے پیچھے دو چار پرائیویٹ بینکوں کی کمک نہیں بلکہ ریاست اور ایک مکمل نظامِ معیشت کا ہاتھ ہونا چاہیے ورنہ باطل کے بھٹّے سے نکلی ہوئی اینٹوں کو حق کی عمارت کی تعمیر کے لیے جمع کرتے رہنے کا یہ معصومانہ عمل یوں ہی جاری رہے گا۔

سوال: آپ کی شہرت ماہر اقبالیات کی بھی ہے۔آپ نے اپنی عمر کا طویل عرصہ اقبال کی فکر کو عام کرنے میں بسر کیا ہے، اقبال کی فکر ہمارے لیے اور بحیثیت مجموعی پوری اُمَّت مسلمہ کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے؟

احمد جاوید: اقبال ہماری جدید روایات میں وہ آدمی ہیں جن کے یہاں ہم اسلامی ورلڈویو کو زیادہ کامل حالت تلاش کرسکتے ہیں۔ اقبال معاصرین میں غالباً عالم اسلام میں سب سے ممتاز اور منفرد آدمی ہیں جنھوں نے اِس ضرورت کا اِدراک کیا کہ اسلامی ورلڈ ویو جو ہے وہ پہلے تشکیل دینا چاہیے۔ اِسلامی تہذیب کے اصول ومبادی کو پہلے بیان ہونا چاہیے، واضح ہونا چاہیے۔ ورلڈ ویو کی میں نے تعریف کردی کہ تصوّرِ خدا‘ تصوّرِ انسان‘ تصوّرِ کائنات اور تصوّرِ علم اقبالؒ کا یہ ورلڈ ویو اتنی بلند ذہنی اور اتنی مضبوط جذباتی سطح پر ظاہر ہوا ہے کہ ان کے معاصرین کو اس کا شعور اور احساس تک نہیں تھا۔ اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ اور افادیت یہ ہے کہ جب بھی ہم ہوش میں آکر اپنا ورلڈ ویو بنانے کی کوشش کریں گے تو اس میں اقبال سے مدد لینی ناگزیر ہے۔

دنیا میں ترکی وہ خطۂ زمین ہے جہاں تبدیلی نظر آرہی ہے۔ وہ مرحلہ شروع ہوگیا ہے، اور اگر یہ کامیابی سے چلتا رہا تو ترکی مرکزِ اُمت (Centre of Ummah) بننے کی قابلیت رکھتا ہے، کیونکہ طاقت، علم، اخلاق، کمٹمنٹ اور آزادی کا جذبہ۔۔۔ یہ تمام چیزیں ان میں موجود ہیں۔ وہ نفسیاتی طور پر آزاد لوگ ہیں۔ یہ سب عناصر مل کر کسی قوم کو اپنی ہم خیال اقوام کے لیے نمونہ یا لیڈر بناتے ہیں۔

سوال: اقبال ؒ کے بارے میں آپ کے استاد سلیم احمد سمیت کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اقبال ؒ کی شاعری اور اقبالؒ کے خطبات میں تضاد پایا جاتا ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

احمد جاوید: اقبال ؒ کی شاعری اور خطبات میں تضاد نہیں ہے، موضوعات اور موضوعات کو بیان کرنے کا فرق ہے،تضاد کہیں نہیں ہے۔ وضاحت تو اس بات کی ہونی چاہیے کہ کہاں تضاد دیکھا ہے۔

سوال: یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی شاعری میں عشق اور اپنے خطبات میں عقل کی فوقیت کے قائل نظر آتے ہیں۔ شاعری میں ہم ایک مذہبی انسان کو دیکھتے ہیں تو خطبات میں مغربی فکر سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔آپ کے خیال میں یہ اعتراض درست ہے؟

احمد جاوید: اس سوال کے دو حِصّے ہیں۔۔۔ ایک کا تعلق اقبالؒ کے تصوّراتِ عشق و عقل سے ہے جبکہ دوسرے حِصّے میں اقبال کے یہاں ایک بہت بنیادی تضاد کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔سوال کے پہلے حصے کا جواب یہ ہے کہ عشق اور عقل میں اگر مقابلے کی صورتِ حال پیدا ہو جائے تو اقبالؒ اپنا فیصلہ عشق کے حق میں دیتے ہیں۔ خطبات میں بھی اُنھوں نے اپنا یہ موقف بدلا نہیں ہے بلکہ موضوعات کی رعایت سے اس موقف یعنی فضیلتِ عشق بر عقل کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ بعض ضروری تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے میں اس سلسلے میں بس ایک بات کہوں گا۔اقبال کی نظرمیں عشق حقیقتِ وجود ہے اور اپنی اس حیثیت میں عشق عقل سے تضاد یا دوری کی نسبت نہیں رکھتا بلکہ عقل کو حقائق سے مانوس ہونے کی حالتیں فراہم کرتا ہے۔ عشق اور عقل میں تصادم کی صورتِ حال عشق نے نہیں بلکہ عقل نے پیدا کی ہے۔ اس پسِ منظر میں اقبال عشق کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں تا کہ انسان اپنی حقیقت، کائنات کے حقائق اور حق کے ساتھ تعلق کا خوگر ہو جائے اور ا س کی ذِہنی اور وُجودی پیش قدمی مجرّد تصوّرات کا تعاقب نہ بنے بلکہ حق کی حضوری میں عمل میں آئے۔ چونکہ خطبات میں خطاب ہی اہلِ عقل سے ہے اور موضوعات بھی عقلی تناظر میں ہیں لہٰذا وہاں عشق کے تذکرے کا موقع نہ تھا۔ لیکن خطبات کو غور سے پڑھنے والا یہ بھانپ لیتا ہے کہ وہاں بھی اقبال اُس تصوّرِ عقل کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو جدید عقل نے خود اپنے بارے میں بنا رکھا ہے۔ اگر خطبات میں بیان کردہ عقل کا تجزیہ کیا جائے تو پہلے ہی مرحلے پر یہ نظر آجائے گا کہ عقل عشق کے ساتھ تصادم کی فضا سے نکل کر ایک مناسبت پیدا کرنے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے۔اس سوال کے دوسرے حِصّے پر یہ عرض کروں گا کہ اقبال جس طرح شاعری میں مذہبی ہیں ویسے ہی خطبات میں بھی ہیں۔ البتہ اس بات میں ایک وزن ہے کہ خطبات میں مغربی فکر کہیں کہیں غالب نظر آتی ہے، بلکہ شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو کہ خطبات کا مادّہ تفکر اور اصولِ استدلال مغربی ہے۔ اقبال نے کوشش کی تھی کہ مغرب کے اصولِ علم اور تصوّرِ عقل کے دائرے میں رہتے ہوئے، اور جدید سائنسی اور نفسیاتی مزاج کو قبول کرتے ہوئے اسی دائرے میں اور اسی مزاج کے اندر دینی حقائق کے لیے قبولیت کی جگہ بنائی جائے، اور خاص طور پر مذہب اور سائنس میں ٹکراؤ سے پوری طرح بچا جائے۔ اس کاوشِ تطبیق میں مغربی فکر اور بالخصوص سائنس کو ایسا غلبہ مل گیا کہ بعض مقامات پر مذہبی شعور جدید علوم کے ساتھ سمجھوتے کرنے کی پوزیشن پر آگیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اقبال کی شاعری اور خطبات دونوں کا مقصد ایک ہی ہے، اُس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شاعری میں کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لا یا گیا لیکن خطبات میں کئی مَصلحتیں پیشِ نظر رکھی گئیں۔ اور پھر یہ سامنے کی بات ہے کہ مخاطب بدل جانے سے کلام کا اُسلوب اور استدلا ل بھی بدل جاتا ہے۔ اقبال کی شاعری کا مخاطب کوئی اور ہے، مثلاً دل، اور خطبات کا مخاطب کوئی اور ہے،یعنی ذہن۔

آئیڈیل طریقہ مغرب سے تصادم کی فضا ختم کرکے اپنے perspective سے ترقّی اور کامیابی کے تصوّرات کو عمل میں لانا ہے۔

سوال: سلیم احمد صاحب نے جب اس رائے کا اظہار کیا تو ان کے سامنے آپ نے اپنی رائے کا اظہار کیا؟ ان سے بات ہوئی؟

احمد جاوید: ’’اقبال ایک شاعر‘‘ انہوں نے لکھی وہ بہت جلدی میں لکھی، انہوں نے وہ کتاب ایک مہینے میں لکھی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے جب سلیم بھائی نے یہ کہا تھا تو ہم اس بات کے قائل تھے کہ خطبات کا اقبال کوئی اور ہے،شاعری کا اقبال کوئی اور ہے۔ خطبات کا اقبال مغرب سے مغلوب ہوچکا ہے اور شاعری کا اقبال مغرب سے لڑنے پر اکساتا ہے۔ اس وقت میری بھی یہی رائے تھی جو استاد کی رائے تھی،اوریہ فطری بات ہے۔ لیکن جب میرا خود اقبالیات سے عملی تعلق سلیم احمد کے انتقال کے دو سال بعد پیدا ہوا، تو جب میں اقبالیات کے شعبے سے متعلق ہوا اور جب میں نے اقبال کو تفصیل سے اور زیادہ سنجیدگی سے پڑھا تو پھر مجھے یہ معلوم ہوا کہ سلیم احمد کی اس رائے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اقبال ایک بہت منضبط آدمی تھے۔ تضاد چھوٹے ذہن کے افکار میں ہوتا ہے۔ ایک آدمی چیزوں کو ایک کُلّی تناظر میں دیکھتا ہے۔ اُس تناظر میں غلطی کا امکان ہے۔ اس میں غلطی ہوسکتی ہے کہ مغرب علم کی وجہ سے ترقی کررہاہے اور عالم اسلام علم نہ ہونے کی وجہ سے تنزّل میں ہے۔ یہی وہ خطبات میں بھی کہتے ہیں۔ شاعری مغرب کے تصوّرِ وجود کے مقابلے میں اسلام کا تصوّرِ وجود پیش کرتی ہے اور خطبات مغرب کے تصور علم کے سامنے اسلام کا تصوّرِ علم پیش کرتے ہیں۔تو اتنے بڑے بنیادی تھیمز (موضوعات) کا ادراک اور کلام کے دو ذرائع اختیار کرنا بڑے آدمی کاکام ہے۔

سوال: آج کل سیکولرازم اور لبرل ازم کی اصطلاح ایک بار پھر موضوع بحث بنی ہوئی ہے اس موضوع پر بہت بات کی جارہی ہے اورلکھا بھی جارہا ہے یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا سیکولرازم کفر ہے؟ آخر ان کا مطلب کیا ہے؟ ذرا ہمیں سمجھایئے۔

احمد جاوید: سیکولرازم اور لبرل ازم ایک ہی ڈسکورس کی دو جڑواں شاخیں ہیں۔ لبرل ازم ایک سماجی قدر اور معاشرتی اور ذہنی روّیہ ہے جبکہ سیکولرزم پورا نظامِ ریاست و مملکت ہے۔ لبرلزم کی بناوٹ ذہنی اور نفسیاتی ہے جبکہ سیکولرزم کی ساخت قانونی اور نظریاتی ہے۔ البتہ ہمارے زمانے میں آکر ان دونوں نے اپنے بارے میں اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے کہ یہ خدا کے منکر اور دین کے مخالف ہیں، یعنی سیکولرزم لا دینیت نہیں ہے اور لبرلزم الحاد یا کفر نہیں ہے۔ بعض سیکولر اور لبرل حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کوئی شخص راسخ العقیدہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی سیکولر اور لبرل ہو سکتا ہے۔ دینداری اور ان میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ ان باتوں سے کسی غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہیے، مطلب ایسی باتیں محض دکھاوا ہیں۔ درست بات یہی ہے کہ اگر سیکولرزم اور لبرلزم اپنی اصل پر ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس میں خدا، آخرت، دین وغیرہ کا انکار ایک نظریے کے طور پر نہ پایا جائے۔ ریاستی اور معاشرتی اداروں سے، یعنی انسانی اجتماعیت کی ہر سطح سے دین کو بے دخل کر دینا، یہ دین کا انکار کیے بغیر کیسے ممکن ہے۔۔۔ دین کو فرد تک محدود کر دینا اور فرد کو بظاہر یہ قانونی حق دینا کہ جس دین کو چاہے اختیار کر لے، یہ سیکولرزم کی بنائی ہوئی عملی دنیا خود سیکولرزم ہی کے مقرر کردہ معیارِ کامیابی پر سیاسی اور معاشرتی نتائج تو پیدا کررہا ہے، اور بعض آفاقی انسانی ضروریات، مثلاً امن وامان وغیرہ کی بظاہر تکمیل بھی کررہا ہے، لیکن ہمارے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ دین کے رد وقبول کو فرد کا شخصی حق مان کر اُسے اجتماعی زندگی کے معاملات سے لا تعلق کردینا، خود دین کے لیے قابلِ قبول ہے یا نہیں؟ اگر فرد اپنے دین کے اُن احکام پر چلنا چاہے جو ایک خاص طرح کے قانونی نظم اور معاشرتی در و بست کا تقاضا کرتے ہیں تو کیا سیکولر ریاست اور لبرل معاشرت میں فرد کو اِس کی آزادی دی جائے گی کہ وہ اِس بات پر اصرار اور جدّوجہد کرسکے کہ سود خلافِ اسلام ہے، ہماری معیشت کو اس سے پاک ہونا چاہیے، حیا مرد وزن کی مشترکہ معاشرت کی بنیادی قدر ہے، اس لیے بے حیائی کی تمام صورتوں پر قانونی اور اخلاقی پابندی لگنی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ تو جنا ب سیکولر ازم میں فرد کو جو مذہبی آزادی دی گئی ہے اُس کی کوئی دینی معنویت اور حیثیت نہیں ہے۔ ایسی محدود اور آرائشی آزادی مذہب تو دور کی بات ہے انسانوں کے بنائے ہوئے سیاسی اور تہذیبی نظریات بھی قبول نہیں کریں گے۔ مسلمانوں کے لیے سیکولرازم سے جُزوی اور عارضی تعلق پیدا کرنا بھی اس لیے ممکن نہیں ہے کہ مسلمان اپنے اجتماعیت کے سب سے بڑے دائرے کو اپنے دین سے اخذ کرتے ہیں۔ اِ ن کے لیے یہ اِ ن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ اپنے حتمی اور اِنتہائی تشخص کی بنیاد اسلام پر رکھیں اور اپنی دیگر حیثیتوں اور شناختوں کو مٹائے بغیر اپنے دینی تشخص کے ساتھ ہم آہنگ رکھیں۔

ظاہر ہے کہ سیکولرزم اور لبرل ازم نہ اُ س دین کا مُتحّمل ہوسکتا ہے،جو زندگی کا مستقل اور فعّال مرکز بنائے جانے کا مطالبہ کرتا ہو اور نہ اُس دین کے ماننے والوں کے عمرانی اور نفسیاتی ’مزاج‘ کو عمل میں آنے کی اِجازت دے سکتا ہے۔ اَب ذرا دیکھیے کہ مسلم اکثریتی معاشرت اور ریاست میں سیکولر اور لبرل نظام نافذ ہوجائے تو یہ کیسی لایعنی صورتِ حال ہوگی۔ یہ صورتحال غیر دینی ہی نہیں، غیر فطری اور غیر انسانی بھی ہوگی۔ لیکن ہمیں اپنے اندر، اپنی سوچ میں بعض بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اِس ضرورت کی طرف ہماری سیاسی تحریکوں کو خاص طور پر متوجہ ہونا چاہیے۔ اِس میں پہلی بات یہ ہے کہ سیکولرازم اور لبرل ازم اپنے اصول، تصوّرِ انسان اور کُلّی نظریہء حیات میں یقیناً لا دینی ہے، لیکن اس کا پورا ایجنڈا، یعنی اس کے ایجنڈے کی ہر شق کو کفر کہہ کے رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظریے اور روّیے کے کئی نکات ایسے ہیں جنھیں نظر انداز کرکے اسلامی ریاست اور معاشرت کی تشکیل محال ہے۔ مثال کے طور پر ریاست میں شہری حقوق کی برابری اور معاشرت میں انسانی حقوق کی بلا امتیاز پاس داری، اِ ن دو اَقدار کو مقصد بناکر اپنانا ہوگا تاکہ مسلم ریاست اور مسلم سوسائٹی غیر مسلموں کے لیے جبر کا پنجرہ نہ بنے۔ انسانی حقوق اور آزادی کا مسئلہ اب ایک آفاقی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اخلاقی اہمیت بھی حاصل کرچکا ہے، مسلم اجتماعیت کے تمام اداروں اور منصوبوں کو اس طرح کے عالم گیر مسلّمات اور اَقدار سے تصادم نہیں مول لینا چاہیے، اور دنیا کو بتانا اور دکھانا چاہیے کہ اِن آفاقی اخلاقی آئیڈیلز کو عمل میں لانے کا بہترین سامان مسلمانوں کے پاس ہے۔

یہ اعتراف صحیح ہے کہ ہمارے عُلما مغرب کو نہیں سمجھتے۔ لیکن صرف اتنی سی بات نہیں ہے، ہمارے پی ایچ ڈی بھی مغرب کو نہیں سمجھتے۔ یہ مکّاری کی جاتی ہے کہ زوال کی ساری ذِمّہ داری مذہبی طبقے پر ڈال دی جائے، مغرب کو نہ سمجھنا اگر ایک جرم ہے تو اس کے بڑے مجرم علما نہیں ہیں، کیونکہ ان کی ذِمّہ داریوں میں مغرب کو سمجھنا ثانوی چیز ہے۔

بعض تہذیبی اصول اور اخلاقی اقدار ایک مستقل سیاق و سباق (context) کی حیثیت رکھتے ہیںِ، ان سے باہرنکل کر یا ان سے لا تعلق رہ کر انسان اور دنیا کے بارے میں کوئی نظام نہ بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی چل سکتا ہے۔ اپنے ایمانی وجود کو اس طرح کے تہذیبی و اخلاقی سیاق و سباق کا مرکز بنا کر دکھانا ہی وہ چیلنج ہے جس کا ہماری سیاسی اور اصلاحی تحریکوں کو پورا شعور ہونا چاہیے۔ باتیں بہت سی ہیں، اُنھیں مجبورًا چھوڑتا ہوں۔ ورنہ سیکولر تصوّرِ آزادی جو اصل میں خدا اور دین سے متصادم ہے، اس پر بھی گفتگو ہونی چاہیے۔یہ بھی مسلم دانش کا بہت بڑا امتحان ہے کہ وہ دین اور انسانی آزادی کے آدرش کو کس طرح جوڑتے ہیں۔ اس مبحث میں ہمارا اکثر استدلال غیر مؤثر اور سطحی ہے۔ قرآن انسان کو آزادی کے موقف پر کھڑا کر کے اُسے بندگی کی دعوت دیتا ہے۔ اِسی بنیادی بات میں ہمارا وہ جواب موجود ہے جو سیکولر تصوّرِ آزادی کی غیر ذمہ داریاں اور اِ س کا غیر انسانی پن واضح کر سکتا ہے۔

سوال: ایک شخص اگر مسلمان ہے اور وہ خود کو سیکولر کہے تو کیا اس نے اسلام کی جس بنیاد کا حلف لیا ہے اس کی خلاف ورزی کررہاہے؟

احمد جاوید: مذہبی آدمی سیکولر نہیں ہوسکتا۔ سیکولرزم کا مطلب ہے دنیا سے خدا کو غیر متعلق کردینا۔ تو سیکولرازم مذہب کی اور خاص طور پر اسلام کی نفی ہے۔ عیسائیت نے تو اپنی اس پوزیشن کو قبول کرلیا کہ چلو دین انفرادی معاملہ ہے لیکن اسلام کا تو دعویٰ ہی اس پر ہے کہ انسان، اس کی انفرادیت اور اجتماعیت سب کی سب اسلام کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ یعنی اسلام کو انسان کی اجتماعی اور انفرادی سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے اور سیکولرازم اِس کو مانتا ہی نہیں، وہ توکہتا ہے مرکز خود اِنسان ہے۔

یہ مذہبی طبقے کا ایک المیہ (Dilemma) ہے کہ آپ انقلاب لانے کی جدوجہد میں مخلص بھی ہیں، سرگرم بھی ہیں لیکن انقلاب لانے کے لیے جو قوّت اور صلاحیت لازماً درکار ہے اِس قوّت و صلاحیت کو حاصل کرنے کی کوئی سنجیدہ اور مربوط کوشش نہیں کررہے۔

سوال: آپ کے جو اساتذہ ہیں وہ اپنی بات کو آسان اسلوب میں بیان کرنے والے ہیں مثلاً ایّوب دہلوی، سلیم احمد وغیرہ لیکن بہت سے لوگوں کو آپ کے اظہار کا سانچہ بہت مشکل اور پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔اس کا کیا سبب ہے؟

احمد جاوید: بھائی میں کمزور آدمی ہوں، اپنے اوپر ہونے والے زیادہ تر اعتراضات کو درست مان لینے کا عادی ہوں۔ مشکل پسندی کا یہ اعتراض بھی ٹھیک ہی ہوگا۔ ممکن ہے دماغ پر ورم اور زبان کی اینٹھن کی وجہ سے میرے اِدراک اور اِظہار میں وہ چیز سرایت کرگئی ہو جسے بعض لوگ خیال کی پیچیدگی اور بیان کی ٹیڑھ قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے نا پختہ علم پیچ دار اظہار میں اپنے آپ کو چُھپاتا ہے، ممکن ہے مجھے بھی یہ عارضہ لاحق ہو۔ تو جناب اِس اعتراض پر میں اپنا دفاع کرنے کی نہ خواہش رکھتا ہوں نہ اہلیت۔ ہاں معافی طلب کرسکتا ہوں اور آیندہ کے لیے محتاط رہنے کی کوشش بھی کرسکتا ہوں، جو ان شاء اللہ کروں گا۔ بس ایک عرض ہے کہ کسی بات کو مشکل کہنے سے پہلے اُس پر سنجیدگی سے غور ضرور کر لینا چاہیے۔ غور سے سمجھنے کی کوشش کے بعد بھی اگر وہ بات مشکل ہے تو پھر اُسے دھڑلّے سے مشکل کہنا چاہیے۔ اپنے خیر خواہ معترضین سے بھی یہی درخواست ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • کامل پڑھ چکا۔ اللہ فرصت ارزاں فرمائے تو بار دگر پڑھنے کا ارادہ ہے، یعنی نکات پر ذرا ٹھہر کے غور کرتے ہوئے، ہر چیز اخبار کی خبر کی طرح جلد جلد پڑھنے کی تو نہیں ہوتی۔ بہت جگہ یوں لگا جیسے ہمارے مرض کو تشخیص اور ہمارےتشنہ اظہار جذبوں کو زباں مل گئی ہو۔ یقینا یہ ایک صاحب ادراک شخص کی زندگی بھر کے عالمانہ تفکر کا نتیجہ خیالات ہیں ، سو پختہ اور رسیلے۔ جو جذبات سے زیادہ خیالات کو آسودہ کرتے ہیں۔ ہاں سوالات بھی نہایت دردمندی اور واقفیت سے کیے گئے۔ بہت شکریہ۔ احمد جاوید صاحب، انٹرویو نگار اور اصحاب دلیل کا بیت شکریہ!

  • ادب کا طالبعلم ہونے کے ناتے جاوید صاحب کی ادب کے متعلق کی گئی تمام باتوں سے تقریباً متفق ہوں، خاص طور پر سلیم احمد کی کہی گئی بات آج عرصے بعد دوبارہ پڑھنے کو ملی کہ ’’بڑا اب یا تو رجز یا پھر نوحہ ہوگا ‘‘سوفیصد درست معلوم پڑتی ہے ۔ انٹرویوخاصا طویل ہے ، اور ایک متعدد بار پڑھنے کا متقاضی ! لسان کے حوالے سے بہت چشم کشا باتیں کی گئی ہیں۔ حسن عسکری کے بارے میں ان کی رائے سے پہلے جملے پڑھ کر اختلاف ہوا لیکن بعد ازاں انہوں نے خود ہی آگلی سطور میں اس کی وضاحت کردی۔یعنی ادب کے بارے ان کی رائے کی تبدیلی۔ موجودہ عہد میں حسن عسکری کے بارے بعض اہل دانش و بینش اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ جن کا یہاں مذکور ضروری نہیں سمجھتا، بہرحال پہلی قرات میں متاثر کن باتیں پڑھنے کو ملی ۔۔ (جمال ! اچھی تحریر کی نشان دہی کے لیے شکریہ قبول کیجیے)

    • سر بہت شکریہ، بڑے لوگوں کی باتیں بڑے لوگ ہی زیادہ بہتر طور سمجھ سکتے ہیں۔ آپ نے اچھا تبصرہ فرمایا۔ دلیل سے جڑے رہیں، ان شاء اللہ آپ کو مستقبل میں ایسی اچھی تحاریر پڑھنے کو ملتی رہیں گی 🙂

  • نہایت ہی بہترین سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ فی زمانہ احمد جاوید صاحب کی شخصیت علمیت و عالمیت کے لحاظ سے قد آوری میں بے نظیر ہے ۔ ان کے قد کاٹھ کا علم اب فسوں ہے ۔ ان کو پڑھ ، سن کر سب سے پہلی چیز جو انسان محسوس کرتا ہے وہ ہے پیاس ۔ علم کی پیاس ۔ اپنے آپ کو علمی سطح پر اس قدر ناتواں محسوس کرتا ہے اور اپنی حقیقت سے آگاہ ہوتا ہے ۔ ذہن میں منتشر ناپختہ خیالات منتشر الفاظ یک بیک ایک مکمل تصویر کی شکل میں واضح ہونے لگتے ہیں ۔ الفاظ جملوں کی شکل میں سامنے آنے لگتے ہیں ۔ یہ انٹرویو بھی ایسی بہت سی مفید باتوں سے مزین رہا ۔ جس نے کئی پیچیدگیوں کو توڑآ اور مطلع صاف کیا ۔ مزید علم میں اضافہ ہوا ۔یہ انٹرویو ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ پڑھنے کے لائق ہے ۔ جزاکم اللہ خیر ۔۔۔