ریاست سے محبت کس نے کی؟ مولوی نے یا لبرلز نے؟ ابوبکر قدوسی

ایک سے زیادہ بار یہ معاملات سامنے آئے کہ کوئی گروہ ریاست کا ہی باغی ہو گیا، اور اس گھر کے ہی درپے ہوا کہ جس نے اس کو عزت سے رہنے کی جگہ دے رکھی تھی. پاکستان بننے کے بعد ریاست سے الگ ہونے کی، ریاست سے غداری کی ایک سے زیادہ مہمات سامنے آئیں. سب سے بڑی تحریک بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوئی.

کیا یہ امر آپ کے لیے حیران کن نہیں کہ یہ سب تحاریک لبرل طبقات کی طرف سے شروع ہوئیں، اسباب کچھ بھی رہے ہوں، ان سے بحث نہیں، بھلے زبان کا جھگڑا ہو یا علاقائی خود مختاری کا، حقوق کی جنگ ہو یا مقامی عصبیت کی، آپ لبرلز کو ہی دیکھیں گے کہ قطار اندر قطار آتے رہے اور ریاست پاکستان کے خلاف بغاوت میں ملوث ہوئے.

بلوچستان میں تیسری بغاوت چل رہی ہے، اور سب سے طویل یہی موجودہ بغاوت رہی ہے. اس کے چلانے والے تمام کے تمام لبرل ہیں. اسی طرح بھٹو دور کی بلوچی بغاوت کا تو یہ عالم تھا کہ غیر بلوچی لبرل بھی سر پر بلوچی پگڑی باندھے رائفلیں اٹھائے وہاں جا پہنچے تھے. آپ کو نجم سیٹھی صاحب کی ایسی تصویریں مل چکی ہوں گی. اسی طرح سندھو دیش کے جی ایم سید تھے، پکے لبرل اور مذہب دشمن. مذہب اور مسلمانوں سے ان کے بیر کا یہ عالم تھا کہ محمد بن قاسم کو ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا کیے اور راجہ داہر کو ہمیشہ اپنا ہیرو مانا. سندھی قوم پرست ابھی بھی انھی نظریات کے پرچارک ہیں لیکن وقت کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں.

آپ کو سابقہ صوبہ سرحد کی نیپ تو یاد ہی ہوگی کہ جو قومی دھارے میں آتے آتے آئی تھی اور اب اے این پی ہو گئی ہے، ورنہ ان کو بھی پختونستان کے ہجر نے مدت تک مجنوں بنائے رکھا، حتی کہ خان عبد الغفار خان نے تو اپنی تدفین کی وصیت بھی جلال آباد کے لیے کی تھی اور وہیں دفن ہوئے. گو یہ جماعت روشن خیال تھی اور مذہب دشمنی ان کا وتیرہ نہ تھا. باچا خان ذاتی زندگی میں نمازی تھے اور جی ایم سید کی طرح مذہب دشمن نہ تھے، لیکن ان کی جماعت لبرل خیالات کی ہی پرچارک سمجھی جاتی ہے.

اسی طرح مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ تھی ، مکمل لبرل خیالات کی حامل جماعت جس نے ریاست کی دشمنی میں ہر حد عبور کر لی اور ملک کو دو ٹکڑے کر کے دم لیا. اور آج بھی ان کی مذہب دشمنی کے نظریات بنگلہ دیش میں نظر آ رہے ہیں.

کراچی میں ایم کیو ایم جو اب لندن میں سمٹ گئی ہے، اس کے بانی کے نظریات سے کون آگاہ نہیں. جی ہاں! الطاف حسین کہ جو مکمل لبرل خیالات کے حامل ہیں، جناح پور کے قیام تک جا پہنچے تھے. پچھلے دنوں انہوں نے ریاست دشمنی کے خیالات کے اظہار میں ہر حد عبور کر لی اور اپنے انجام کو پہنچے.

کمال مگر یہ ہے کہ لبرل افراد صبح سویرے منہ دھوئے بنا اٹھتے ہیں اور مولوی کو طعنہ دیتے ہیں کہ اس نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی. بات درست ہے کہ مذہبی طبقات کے ایک بڑے حصے نے علی وجہ البصیرت تقسیم کی مخالفت کی تھی، اس کے لیے ان کے پاس مضبوط دلائل تھے. جن کی اصابت آج روز روشن بن گئی ہے، لیکن یہی مذہبی طبقہ جب پاکستان بن گیا تو دل و جان سے اس کا حامی اور محافظ بن گیا. سقوط مشرقی پاکستان سے پہلے جماعت اسلامی کی البدر اور الشمش کی قربانیوں کی داستانیں آج بھی آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں، اور آج بھی ریاست سے محبت کا خراج ان کی جماعت بنگلہ دیش میں پھانسیوں کی صورت دے رہی ہے، اور کمال یہ ہے کہ لبرل طبقہ کہ جو ملک توڑنے کا مجرم ہے، جھوٹے جنگی جرائم گھڑنے میں مصروف عمل ہے، اور پاکستان میں موجود لبرلز اس کی تائید کر رہے ہیں.

آج تک کوئی ایسی تحریک اس مذہبی طبقے کی طرف سے نہیں چلائی گئی کہ جو ریاست کو ہی ختم کرنے کے ایجنڈے پر مشتمل ہو. پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک لبرل اور مذہب بیزار جرنیل مشرف کے بزدلانہ فیصلے کے سبب اس کے چند نوجوان بھٹک کے ریاست کے سامنے آن کھڑے ہوئے. جی ہاں! جب مشرف امریکہ کےسامنے لمبا لیٹ گئے، بزدلی کی انتہا کر دی، تب بھی اس طبقے میں بےچینی کے باوجود ریاست سے دشمنی کی کوئی لہر پیدا نہ ہوئی، لیکن جب مشرف حکومت نے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر امریکہ کو اپنے اڈے دے دیے، راہداری کی سہولت دے دی اور کھلی چھٹی ہی نہ دی بلکہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ناحق قتل میں شریک مجرم کا کردار ادا کرنے لگ گئی تو اس کے ردعمل میں ایک قلیل گروہ پہلی بار ریاست کے سامنے آن کھڑا ہوا، اور اس گروہ کی بھی ہر دو مذہبی طبقات یعنی دیوبندی اور اہل حدیث کے علماء نے مذمت کی، ان کو غلط کہا اور ان کی اس باغیانہ روش پر نکیر کی. لیکن جس بات کی طرف میں آپ کو لے جانا چاہتا ہوں کہ ریاست کے باغی ان مذہبی عناصر کی یہ روش بھی اصل میں احتجاج تھا، اپنے مسلمان بھائیوں کے قتل میں سہولت کاری کے خلاف، نہ کہ یہ لوگ ریاست کے وجود کے درپے تھے. حیرت کی بات ہے کہ اس گروہ نے تمام تر گناہوں کے باوجود یہ نعرہ نہیں لگایا کہ اس کا مقصد پاکستن کو توڑنا ہے یا اس کے بطن سے کسی نئی ریاست کو نکالنا ہے جیسا کہ لبرل جماعتوں کا مقصد رہا ہے.

یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ہمارے پالیسی سازوں کو سمجھ نہیں آ رہا. بہت مختصر الفاظ میں کہوں تو یہ بات ہوگی کہ یہ آپ کے ہی بچے تھے جو آپ کی پالیسوں کی بدولت گمراہ ہوگئے. گو اب ان کے گناہ اس حد تک پہنچ گئے کہ ہم کہتے ہیں کہ ان میں موجود مجرموں کی بیخ کنی کرنا ہی پڑے گی. مگر آج آپ امریکہ کی لڑائی سے نکل آئیں، یہ ویسے ہی آپ کے وفادار ہوں گے جیسے ساٹھ برس رہے.

فکر ان کی کیجیے کہ جنھوں نے ایک سے زیادہ بار ریاست کے ٹکڑے کرنا چاہے، اور کبھی بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کب ان کو موقع ملے اور یہ نیا بنگلہ دیش بنانے چل پڑیں.