سندھ لٹریچر فیسٹیول - محمد عامر خاکوانی

پچھلے تین دن کراچی میں گزرے۔ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کا جشن لاہور میں منایا گیا۔ کہتے ہیں کہ لاہوریوں کی بڑی تعداد اپنے مخصوص والہانہ انداز میں میچ دیکھنے گئی۔اگرچہ سخت ترین سکیورٹی کی وجہ سے سڑکیں بند کی گئیں اور عوام خاصے پریشان ہوئے، اس کے باوجود کرکٹ سے محبت غالب رہی ،” شکریہ سری لنکا“ کا ممنونیت بھرا ہیش ٹرینڈ سوشل میڈیا پر خوب چلا۔کرکٹ سے محبت کے دعوے کے باوجود ہم نے کراچی کا رخ کیا ،جہاں چند نوجوانوں نے سندھ لٹریچر فیسٹول (SLF)کا میلہ سجایا تھا۔کیا شاندار فیسٹیول تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ روح سرشار ہوگئی۔ لاہور میں کرکٹ کی رنگینی دیکھنے کے بجائے کتابوں، سنجیدہ مباحث، فکری نشستوں اور دل آویز سندھی موسیقی کے ساتھ وقت گزارنے کا فیصلہ سوفی صد درست نکلا۔

کراچی میں کئی برسوں سے کے ایل ایف (کراچی لٹریچر فیسٹول )کا علمی، فکری میلہ ہوتا ہے۔سندھ لٹریچر فیسٹول شائد کراچی لٹریچر فیسٹول سے متاثر ہو کر شروع کیا گیا ہو، مگر اس میں وہ خامیاں دور کرنے کی شعوری کوشش کی گئی، جو KLF میں نظرآتی ہیں۔ Slf سندھ کی دھرتی سے جڑی ہوئی ، سندھی تہذیب کے حسین گوشوں کو سامنے لاتی شاندار سرگرمی تھی ۔ اس میں سماج کے مختلف اہم ایشوز پر بحث مباحث ہوئے، مختلف دانشوروں اور اہل علم نے فکرانگیز باتیں کیں۔چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سے ایک مکمل سیشن”یہ ریاست کس کی ریاست ہے“ کے عنوان پر ہوا۔سامعین نے ربانی صاحب کو خاصا ٹف ٹائم دیا۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی بدترین کارکردگی کے بعد ایسی کھنچائی ہونا فطری تھی۔سندھ میں گندے پانی کے حوالے سے ایک صاحب نے شاندار ڈاکومینٹری پیش کی۔ ان کی کوشش سے سپریم کورٹ نے ایک واٹر کمیشن بھی قائم کیا ہے۔ اس دستاویزی فلم میں سندھ کے ہر شہر کا ڈیٹا پیش کیا گیا اور بڑی تفصیل سے بتایا گیا کہ کس طرح مختلف نہروں میں گٹروں کا پانی شامل کیا جا رہا ہے اور آگے پھر اسی نہر کا پانی پینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بات کہی گئی کہ پیپلزپارٹی کا نعرہ روٹی ، کپڑا ، مکان ہے ، وہ تو اس نے کیا دینا تھا، الٹا سندھیوں کو جوصاف پانی ملتا تھا، وہ بھی چھین لیا۔پنجاب میں رہنے والے سوال کرتے ہیں کہ سندھی دانشور اور صحافی پیپلزپارٹی کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ انہیں اندازہ نہیں کہ سندھی پریس پیپلزپارٹی کی حکومت پر سخت تنقید کرتا ہے، معروف سندھی کالم نگار ، دانشور اور ادیب پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ تصویر بنوانا بھی پسند نہیں کرتے کہ پھر انہیں عوام کی تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ پیپلزپارٹی سے تعلق سندھی ادیبوں اور لکھاریوںکے لئے طعنہ بن چکا ہے، ہر کوئی اس طوق رسوائی سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ تھر کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ایک دلچسپ سیشن ذہن سازی میں یونیورسٹیوں کے کردار کے حوالے سے ہوا، جس میں وائس چانسلرز بھی شامل ہوئے۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی فکر سے ناچیز کو سخت اختلاف ہے، ان کے سیشن میں شریک ہونے کی خواہش تھی، مگر نہ ہوپایا کہ اسی وقت علاقائی زبانوں کے حوالے سے سیشن تھا، جس میں مجھے سرائیکی زبان پر بات کرنا تھی۔

ایک اہم اور سامعین کی تعداد کے حوالے سے بھرپور ترین سیشن میڈیا پر ہوا۔ موضوع تھا ،”کیا میڈیا کو ایسا ہی ہونا چاہیے؟“ اس سیشن میں سینئر اینکر، کالم نگار حامد میر، الیکٹرانک میڈیا کی دنیا کا ایک ممتاز نام سینئر صحافی اظہر عباس ، سندھی چینل کے ڈائریکٹر نیوز اشفاق آذر شریک تھے، ماڈریٹر بی بی سی کے معروف صحافی اور کاٹ دار کالم نگار وسعت اللہ خان تھے۔ خاکسار کو بھی اس سیشن کےلئے مدعو کیا گیا تھا۔ دلچسپ گفتگو ہوئی، وسعت اللہ خان نے اپنے مخصوص انداز میں نوکیلے جملے پھینکے، رہی سہی کسر سامعین نے اپنے تند وتیز سوالات سے پوری کر دی۔ الیکٹرانک میڈیا چونکہ ہدف بن گیا، اس لئے زیادہ تر سوالات محترم حامد میر اور اظہر عباس سے ہوئے۔ میر صاحب نے کمال دانائی سے اعلان کیا کہ میں تو صحافی ہوں، خود کو اینکر نہیں سمجھتا۔ یوں نیوز چینلز پر ہونے والی گولہ باری کے دفاع کی ذمہ داری اظہر عباس کے کاندھوں پر آگئی۔ وہ وضاحتیں دیتے رہے، مگر ہمارے نیوز چینلز کا جو حال ہے، ایسے میں دفاع کس قدر ہو سکتا ہے؟ فیسٹول کے دو دن مسلسل مشاعرے ہوئے۔ ایک دن سندھی شاعری اوراگلے دن پاکستان کی تمام زبانوں کا مشاعرہ ہوا۔ ملٹی لینگویج مشاعرہ کی شاید یہ پہلی مثال ہے۔

سندھ لٹریچر فیسٹول میں چار پانچ باتیں اہم اور دلچسپ لگیں۔ اس کی انتظامیہ، موضوعات ، ماحول سب پر مڈل کلاس فکر ، سوچ اور دردمندی غالب تھی۔زمین سے جڑا ہوا، اپنی زندگی اور اپنے آس پاس کی دنیا کو خوبصورت بنانے کا متمنی عام آدمی نظر آیا۔ جسے یہ فکر ہے کہ سماج میں علم وادب کی اہمیت گھٹ رہی ہے، جو کنزیومر ازم کے خدشات پر نظر رکھے ہے، جسے کتاب کی اہمیت کا ادراک اور جو اپنے بچوںکو کتاب کی محبت اور سوچنے کی لذت سے آشنا کرانا چاہتا ہے۔سندھی زبان وکلچر سے محبت بلکہ شدید ترین محبت کے مظاہر ہر جگہ نظر آئے۔ یہ بتانا مگر ضروری ہے کہ سندھی زبان اور تہذیب سے یہ محبت کسی دوسری زبان اور تہذیب سے نفرت کی قیمت پر نہیں تھی ۔ کہیں پر ، ایک لمحے کے لئے بھی کسی دوسری زبان سے نفرت، ناراضی یا تلخی نظر نہیں آئی۔ آخری دن شاہ لطیف کی شاعری میں خواتین کے کردار پر ایک نشست تھی۔ نہایت عالمانہ گفتگو ہوئی، دقیق فکری نکات اٹھائے گئے، اس میں کوئی خاص بات نہیں، علمی نشستوں میں ایسا ہی ہوتا ہے، سندھ فیسٹول میں مگر لوگوں کی بڑی تعداد نے وہ سیشن اٹینڈ کیا، سینکڑوں لڑکے، لڑکیاں خاموشی سے بیٹھے گھنٹے بھر کا پروگرام سنتے رہے۔ اس کے بعد محفل موسیقی تھی، جس میں بعض دوسرے مقبول گلوکاروں کے ساتھ آج کی مقبول ترین سندھی گلوکارہ صنم ماروی نے گانے سنانے تھے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ لوگ شاید محفل موسیقی میں اچھی جگہ پانے کے لئے پہلے آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس وقت حیرت ہوئی، جب دیکھا کہ موزوں مقامات پر کسی اچھے جملے یا فکری نکتے کو یہ نوجوان سراہتے اور تالیاں بجا کر داد دیتے۔ ایسے علم دوست شائقین کم ہی دیکھنے میں ملتے ہیں۔ اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ سندھی زبان کو دنیا کی کوئی قوت ختم نہیں کر سکتی، سندھیوں کی اپنی زبان، تہذیب اور تمدن سے محبت ایسا نہیں کرنے دے گی۔ ہم سب اپنی زبانوں سے محبت کرتے ہیں، کرنی بھی چاہیے، مگر جو والہانہ پن اور وارفتگی سندھی عوام میں دیکھی، وہ بہت کم نظرآتی ہے۔

اس فیسٹول کے روح رواں معروف سندھی اور اردو کالم نگار، دانشور اعجاز منگی تھے۔ اعجاز منگی سندھی کے مقبول ترین لکھاری ہیں، مگر انہوں نے جیسے سحرانگیز کالم اردو میں لکھے، ویسی قدرت کم ہی لکھنے والوں کو نصیب ہوئی۔اعجاز منگی ممتاز سندھی قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو کے داماد ہیں، مگر سچ تو یہ ہے کہ اعجاز جیسے قیامت خیز لکھاری کو اس تعارف کی ضرورت بھی نہیں، ان کا اپنا ہنر ان کی شناخت کے لئے کافی ہے۔ اعجاز منگی کے ساتھ مصطفی جروار، نصیر گوپانگ، ناجیہ میر ، ذوہیب کاکا جیسے کمٹیڈ نوجوانوں نے سندھ لٹریچر فیسٹول جیسا کمال درجے کا میلہ سجایا۔ ان چند نوجوانوں نے عطیات جمع کئے اور نہایت کم رقم سے اس ناممکن کام کو ممکن بنا دکھایا۔ کراچی آرٹس کونسل کے پاس کروڑوں کے فنڈز ہوتے ہیں، وہ ہرسال اردو کانفرنس کراتے ہیں، مگر سندھ فیسٹول میں آنے والے کئی لوگوں کی رائے تھی کہ یہ فیسٹول اس اردوکانفرنس سے کئی گنا زیادہ منظم، دلچسپ اور بھرپور تھا۔

سندھ لٹریچر فیسٹول کے مختلف سیشنز اٹینڈ کرتے ہوئے بار بار مجھے یہ خیال آتا رہا کہ ایسی سرگرمی لاہور میں کیوں نہیں ہوتی؟ میں جو ایک سرائیکی ہوں، مگر اپنی زندگی کے، اپنی جوانی کے بائیس سال شہر لاہور کو دے چکا ہوں، یہ شہر میرے رگ وپے میں سما چکا ہے۔،میرے بچے یہیں بڑے ہو رہے ہیں، شائد مجھے مٹی بھی یہاں کی نصیب ہو، اس شہر لاہور کا ایک باسی سندھ کی سرزمین پر کھڑا ، سندھیوں کی اس شاندار کاوش کو رشک سے دیکھتا رہا۔ بڑے دکھ اور کرب سے سوچتا رہا کہ کاش اس سوچ کا چوتھا حصہ بھی ہم لاہور والوں میں آ جائے ۔ علم وادب کا گہوارہ لاہور شہر ہمارے سامنے دم توڑ رہا ہے اور ہم سب بے حسی سے اسے مرتا دیکھ رہے ہیں۔یہاںالحمرا آرٹس کونسل والے اردو کانفرنس کراتے تھے، عطاالحق قاسمی صاحب کے جانے کے بعد اس کا سلسلہ بھی رک گیا۔ انگلش لٹریچر فیسٹول کی طرح ڈالی گئی، مگر پچھلے سال تو وہ صرف ایک دن تک محدود رہا ۔ ایک زمانے میں رفیع پیر والے عالمی آرٹ فیسٹول کراتے تھے، دنیا کے کئی ممالک سے آرٹسٹ آتے، برسوں سے دہشت گردی کے خوف سے وہ بھی ختم ہوگیا۔ کراچی دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوا ہے، وہاں علمی سرگرمیاں کم نہیں ہوئیں۔ کاش لاہور میں بھی اس طرح کے فیسٹول ہوں۔ ملتان میں بھی سرائیکی لٹریچر فیسٹول کرایا جا سکتا ہے۔ شاکر حسین شاکر اور دیگر متحرک دوست اس جانب توجہ دیں تو یہ خواب عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں مختلف شہروں میں اس نوعیت کی سرگرمیاں ہونی چاہئیں۔ پشاور والے پشتو، ہندکو لٹریچر فیسٹول اور کوئٹہ والے بلوچی، بروہی، پشتو زبانوں کےلئے بھرپور فیسٹول کرا سکتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے کردار ادا کرنا چاہیے۔ ملک میں کرکٹ کی بحالی اچھا شگون ہے، عوام کے لئے خوشی کشید کرنے کے مواقع ارزاں ہونے چاہییں۔ کھیلوں کی اہمیت اپنی جگہ، مگر علم وادب کا درجہ بڑا اور اہم ہے۔ کھابہ کلچر بے شک چلتا رہے، مگر سوچنے اور غور کرنے کا کلچر سب سے ضروری ہے۔ دماغ کام کرنا چھوڑ جائے تو افراد کی طرح اقوام کی بھی موت واقع ہوجاتی ہے۔ کاش ہمارے اہم لوگ اس سادہ حقیقت کو جان سکیں۔