بے سمت زندگیوں کا رب - وقاص احمد

جب ثاقب کے پاس گاڑی نہیں تھی تو وہ اکثر اپنی عادت سے مجبور ہوکر ٹیکسی یا رکشا ڈرائیور سے اُن کے معمولات زندگی خاص طور پر معیشت کے بارے میں ضرور سوالات کرتا تھا کہ کتنا کما لیتے ہو؟ کتنا بچا لیتے ہو؟ بچے کتنے ہیں؟ کہاں رہتے ہو؟ گھر کا کرایا کتنا ہے وغیرہ۔ اسی طرح گھر میں آنے والے مزدور، صفائی کرنے والوں سے بھی سوالات کرنا، تحقیقات کرنا اور ان کو مختلف مشورے دینا ثاقب کی گفتگو کا لازمی حصہ ہوتا تھا۔ وہ مشوروں میں اِن محنت کش طبقات کو کراچی کے اُن ہسپتال اور اسکول اور سینٹرز کے نام بتاتا جہاں علاج، تعلیم اور ہنر سیکھنا مفت ہے اور انہی سوالات و جوابات کے دور میں وہ حکومت کو کوسنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتا کہ اگر انڈس جیسا ہسپتال کراچی کے شمالی حصے میں بھی قائم ہو جائے، سیلانی، الخدمت اور ایدھی سینٹر فلاں علاقے میں بھی کھل جائیں یا سٹیزن فاؤنڈیشن والے کچی آبادیوں میں کچھ اسکول اور کھول لیں تو کتنا اچھا ہوجائے۔ غریب لوگوں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ جو کھانے پینے اور علاج معالجے میں خرچ ہوتا ہے بچ جائے، بچوں کی تعلیم ان کو بوجھ نہ لگےاور خاندان بتدریج غربت سے نکل آئے۔

یہ بتا نا وہ کبھی نہیں بھولتا تھا کہ دیکھو! بچوں کو ضرور پڑھانا، ہمت کرلینا بچپن میں کام کرانے کے بجائے ان کو تعلیم دلانے کی، اگر ICOM یا BCOM کرلے گا، حساب کتاب سیکھ لے گا تو اچھی نوکری مل جائے گی۔ گوکہ اس بے تکلفی اور ہمدردی کی بنا پر اکثر اسے مزدوری یا کرایا کبھی سامنے والے کے اصرار پر اور کبھی خود اپنے دل سے زیادہ دینا پڑتا تھا لیکن اس کے باوجود ثاقب میں یہ جاننے اور سمجھنے کا تجسّس برقرار رہتاتھا کہ غربت، مجبوریوں اور محرومیوں کے کتنے رنگ اور عکس ہوتے ہیں۔ ایک ہی شہر میں ایک ہی علاقے میں ایک طرح کے جسم و جاں رکھنے والوں کی زندگیاں اتنی مختلف بھی ہوسکتی ہیں؟ وہ اپنی پر سکون، متوازن زندگی کو دیکھتا تو اسے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس میں کون سے ایسے سُرخاب کے پر لگے تھے کہ وہ ایک اَپر مڈل کلاس فیملی میں پیدا ہوگیا، جنہوں نے اسے کراچی کے ایک بہترین اسکول سے پڑھوا کر ایم بی اے کروایا اور پھر اسے ایک ملٹی نیشنل میں جاب مل گئی ۔ آج بارہ سال کی نوکری کے بعد آسائشوں سے بھرا اس کا اپنا گھر ہے، کمپنی نے برانڈ نیو لمبی کار دی ہوئی ہے۔ اس کے بچے بھی ایک زبردست اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔

ان سب چیزوں سے بڑھ کر اسے جو چیز بے چین کرتی وہ یہ کہ جب وہ آفس جاتے وقت پھول جیسے بچوں کو وزنی کچرے کی بوری اٹھائے کچرے میں کچھ ڈھونڈتے دیکھتا، چوک سے ذرا پہلے سڑک کے کنارے ایک نشہ کرنے والے ایک ادھیڑ عمر بابا کو دنیا و آخرت سے بے خبر نیم بے ہوشی کی حالت میں دیکھتا اور واپسی کے رُوٹ پر ویک اینڈ کی راتوں میں ایک دو خاص مقامات پر برقع پوش خواتین کو گزرتی کاروں میں متلاشی نگا ہوں سے جھانکتا دیکھتا تو بہت دور تک یہ سوچنے پر مجبور رہتا تھا کہ ان بے سمت زندگیوں کا رب بھی تو وہی ہے جو اس کے اور اس جیسے اپر مڈل کلاس لوگوں کا رب ہے۔ ڈیفنس، کلفٹن اور PECHS جیسے علاقوں میں رہنے والوں کا رب ہے جن کی آخرت کی سمت درست ہو یا نا ہو دنیا کے حوالے سے اور اس کی چکا چوند، اس کی دلفریبی اور اس کی دلکشی کے حصول کے حوا لے سے تو بالکل درست لگتی ہے۔ گوکہ اس کی زیادہ تر توجہ اپنی زندگی اور اس میں پائی جانے والے نعمتوں اور برکتوں کی طرف ہی رہتی جو کسی سے کم نہ تھی۔ وہ اس خیال میں کبھی کبھی گم رہتا کہ اگر کچرا اٹھانے والا بچہ وہ ہوتا، اس نشئی بابے کی جگہ وہ ہوتا اور اس برقع پوش لڑکی کی جگہ وہ سڑک کنارے کھڑا ہوتا تو کیا اس کی سوچ کی حدود، دائرہ کار، منزل کی پہچان، مقصد حیات، اصل کامیابی، حقیقی خوشی کے مفاہیم وہی ہوتے جو ابھی اس کے ہیں؟ کبھی نہیں، بالکل نہیں ! وہ سوچتا۔ بلکہ ابھی صرف تین سال پہلے جب اس کی والدہ کا انتقال ہوا اس کی وہ سوچ نہیں تھی جو آج ہے۔ پتا نہیں کہاں کسی اخبار میں اس نے یہ حدیث پڑھ لی جس کا مفہوم یہ تھا کہ جب ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور درخواست کی کہ مجھے کوئی نصیحت کریں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ اس نے کیا نہیں۔ رسول اللہﷺ نے پھر پوچھا کہ تمہارا باپ زندہ ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پھر تم کو اب کس نصیحت کی ضرورت ہے؟

یہ تو والدہ کو لحد میں اتارنے کا سانحہ تھا اور نوکری میں قدرے ا طمینان کہ اس نے شعور کے ساتھ قرآن و سنت سے رجوع کرنے کا آغاز کیا۔ اس کے یہ تو سمجھ میں آنا شروع ہوگیا تھا کہ اللہ اپنے ہر بندے سے بے انتہا محبت کرتا ہے البقرہ کی یہ آیت کہ ’’وہ تو تمہارے قریب ہے اور ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہے ‘‘ اور سورۃ ق میں مزید وضاحت سے کہ’’ وہ تو تمہاری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔‘‘

توبہ کے حوالے سے اور بندے کے پلٹ آنے پر رب کی خوشی، انعامات اور مغفرت کی احادیث سن کر تو اسے یقین ہی نہیں آتا تھا۔ بار بار حوالے چیک کرتا تھا۔ خاص طور پر وہ والی حدیث جس میں اللہ کا ارشاد ہے کہ اسے اپنے بندے کے پلٹ آنے پر، گناہوں کو ترک کر دینے پر اتنی خوشی ہوتی ہے کہ جیسے صحرا میں کسی کا اونٹ کھو گیا ہو اور اس پر اس کا کھانا پانی بھی ہو، گویا کہ اس کی موت یقینی ہو لیکن اونٹ کے اچانک مل جانے سے وہ اتنا خوش ہو کہ اس کے منہ سے اللہ کا شکر ادا کرنے میں الٹا یہ نکل جائے کہ تو میرا کتنا اچھا بندہ ہے میں تیرا رب ہوں (معاذاللہ) لیکن اللہ فرماتے ہیں کہ خوشی میں اس بے ہوش و بد حواس شخص سے زیادہ خوشی مجھے ہوتی ہے، جب میرا بندہ توبہ کرتا ہے۔ توبہ کے حوالے سے سو آدمیوں کے قاتل اور عادی بدکار کی مغفرت کی احادیث بھی اس نے پڑ ھ رکھی تھیں جو اس کے اندر خوشی اور انبساط کی کیفیت لاتیں۔ لیکن اسے شرک، نفاق، تکبر کے حوالے سے بھی آیات ِ قرآنی اور احادیث کی تشریحات سمجھ آنا شروع ہو گئی تھیں۔ جو اسے اکثر مضطرب اور بے چین رکھتیں اور محاسبے کی حالت میں رکھتیں۔ اسے یہ سمجھ میں آنا شروع ہوگیا تھا کہ کیوں صحابہ کرامؓ علم و عمل میں ذرا سی بھی کمی کو بھی نفا ق سمجھنا شروع کردیتے تھے کیونکہ غیر شعوری نفاق، شرک ِ خفی اتنے چپکے سے سرایت کرتا ہے کہ پتا بھی نہیں چلتا اور انسان اپنے سارے اعمال اکارت کر چکا ہوتا ہے۔ اسے سورۃ التکاثر کی یہ آیت بھی پریشان کرتی کہ ’’ قیامت کے دن تم سے ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا‘‘ کہ کیا تم نے نعمتوں کا مطلوب طریقے سے شکر ادا کیا؟ شکر دل اور زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی ہوتا ہے۔ قرآن بعض آیات میں شکر کو کفر کے مقابلے میں لاتا ہے۔ یعنی کفر کو نا شکری سے تعبیر کرتا ہے۔ اِنَّا هَدَيۡنٰهُ السَّبِيۡلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوۡرًا (سورۃ الانسان)۔۔’’ (اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا‘‘

ثاقب کو قرآن پڑھ کراس بات کا ادراک ہورہا تھا کہ دنیا کا مال و دولت محض آزمائش ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ کسی بہت بڑی نیکی کا انعام ہو یا اس کا نہ ہونا کسی گناہ کی سزا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اسے اور اس کے کئی دوست جنہوں نے نہ جانے کتنے برس سے کوئی سجدہ نہ کیا ہو، مسجدکے ماحول کا لطف نہ لیا ہو اور نہ جانے کتنی راتیں غفلت و خرافات میں گزاری ہوں کبھی ان آسائشوں کے مستحق نہ ہوتے جن کے آج وہ مزے اٹھا رہے ہیں۔ وہ جان رہا تھا کہ اس دنیا میں موجود ہر ذی روح جہاں بھی ہے، جس حالت میں بھی ہے اس کا اپنے رب سے تعلق ہے۔ ہر متنفس کو اپنے نقطہ آغاز، اپنی تقدیر، اپنی جینیاتی عطائی صلاحیتوں، اپنی استعداد اور وہ حالات جس میں وہ پیدا ہوا یا جہاں اس نے پرورش اور تربیت پائی اس کے مطابق اللہ سے تعلق جوڑنا ہے، جستجو کرنی ہے، محنت کرنی ہے، ہمت کرنی ہے، مشکلات پر صبر اور نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہے۔ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا (البقرہ)۔ اور اسی کے مطابق ہی اس سے جواب طلبی ہوگی۔ وَكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا (المریم)۔۔ ’’اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے۔ ‘‘

وہ کچرا چننے والے بچہ، وہ بابا، وہ سڑک کنارے کھڑی عورت سب اللہ کے عیال ہیں۔ ثاقب بھی اس عیال کا با شعور، مضبوط، آسودہ حال رکن ہے۔ اس رشتے سے یہ لوگ ثاقب کے بیٹے، بھائی اور بہن ہیں۔ قیامت کے د ن اللہ کہے گا اے میرے بندے تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا اے میرے بندے تو نے مجھے کپڑا نہیں پہنایا۔ بندہ کہے گا کہ یا اللہ! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آ پ تو ان چیزوں سے پاک ہیں۔ اللہ فرمائیں گے کہ فلاں دن میرا جو بندہ تم سے مانگنے آیا تھا وہ میں ہی تو تھا۔ میرے عیال کی تو نے عزت افزائی، حاجت روائی نہیں کی۔ (مفہومِ حدیث)

ثاقب کبھی کبھی یہ بھی تصور کرتا کہ اگر اس کی موجودہ عقل اور اس کا حالیہ شعور اگر اس بابا، یا اس برقع پوش عورت میں ہوتا تو اس کی ذمہ داری کیا ہوتی؟ اس کی کامیابی کس چیز میں ہوتی؟ شا ید ثاقب ضرور یہ سوچتا کہ وہ اللہ پر توکل کرکے اس نشے یا عصمت فروشی کے کام سے نکلنے کی ضرور کوشش کرے۔ نہیں پتا کہ کن مجبوریوں اور حالات کی وجہ سے وہ لوگ ز ندگی کی اس پٹری پر آئے؟ لیکن ثاقب کو یہ حدیثِ رسول اللہ ﷺ ازبر تھی کہ میرا بندہ مجھے یاد کرتا تو میں بھی اسے یاد کرتا ہوں۔ میرا بندہ اگر ایک ہاتھ میری طرف آتا ہے تو میں دس ہاتھ اس کی طرف آتا ہوں۔ میرا بندہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔ ثاقب اس زندگی میں میسر وقت کو ہر اس طریقے سے اللہ کی رضا سے گزارنے کی کوشش کرتا جس کی وہ استطاعت رکھتا ہے۔ اسے پتا ہوتا کہ ایک غریب متقی انسان قیامت کے روز ایک امیر متقی سے 500 سال پہلے جنت میں پہنچ جائے گا اور جنت میں غالب اکثریت غریب صابرین کی ہی ہوگی جن کو جب جنت کی ایک ڈبکی لگائی جائے گی تو وہ دنیا کا ہر غم بھول جائیں گے اور اکثر پیسے والے اور دولتمند اپنی دولت کے فتنے اور اور اس کے غلط استعمال کی وجہ سے خسارے میں ہوں گے۔ اس دنیا کو عارضی کھیل تماشہ اور دھوکے کا سامان سمجھ کر گو کہ وہ اپنے حالات سدھارنے کی کوشش تو جاری رکھتا مگر توکل اللہ پر رکھتا اور گناہوں، جرائم اور بے سمتی و مدہوشی سے دور رہتا۔ اسے رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ ؓکی دنیا وی زندگی کے مسائل، فاقے اور غربت کے واقعات طاقت و ہمت دلائے رہتے اور وہ اس بات کی دعا کرتا کہ وہ اپنے الخالق، اپنے الباری اور اپنے المصور سے اس حالت میں ملے جب وہ(رب) اس سے راضی ہو۔ قرآ نمیں آتا ہے نا کہ پس جو اس دن آگ سے بچا لیا گیا وہی فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

اور جب ثاقب یہ خیالات جھٹک کر حقیقت کی دنیا میں آتا تو اس کے آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے کہ ان بے سمتوں کو درست سمت پر لانے کے لیے اسلام نے اس کے جیسے خوشحال، پڑھے لکھے آسودہ حال لوگوں پر کتنی بڑی ذمہ داری ڈالی ہے۔ اس کے آقا، ہادی، سرکار دوجہاںﷺ نے کتنی تاکید و آرزو سے اس سے کہا تھا کہ پہنچاؤ میری جانب سے چاہے ایک آیت ہو اور یہ کہ تم لوگوں پر خرچ کرو اللہ تم پر خرچ کرےگا۔ اور یہ کہ اللہ تمہارا صدقہ دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور پھر اس کو بڑھاتا ہے یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ جتنا ہو جاتا ہے۔

ثاقب سوچتا کہ ہم ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہونے والے سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اسلام کو سمجھ کر اپنے آبائی مذہب کو خیر باد کہہ دے۔ ایک لمبا سفر طے کرکے ایک بڑی قربانی دے۔ ہم اس بابا سے امید رکھتے ہیں کہ کچھ سوچے، نشہ ترک کرے اور کوئی کام شروع کرے۔ اس سڑک کنا رے عورت سے امید رکھتےہیں کہ وہ یہ دھندہ چھوڑ کر کوئی اور حلال پیشہ اختیا ر کرلے چاہے وہ گھروں میں کام کرنا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اپنے لیے صرف یہ کہ نماز، رو زہ، زکوٰۃ؟ کثیرآمدنی، بچت اور تفریح و عیاشی پر بے دریغ و بے حساب خرچ کے بعد برا ئے نام صدقہ، خیرات اور وہ بھی کبھی کبھی ؟ کیا یہ ہے مجھ سے امید میرے رب کو؟، میرے رسول ﷺکو؟ اس لیے مجھے میرے رب نے اپر مڈل کلاس میں پیدا کرکے بغیر کسی بڑی قربانی کے ہزاروں، لاکھ کی نوکری دلا ئی؟ کیا میرے فرائض میں یہ شامل نہ ہوگا کہ میں اپنے اخراجات میں کمی کروں، وقت جہاں جہاں ضائع ہوتا ہے ان کو بچاؤں اور خدمت خلق کی تین منزلوں پر اپنی ذمہ داریاں شعور اور محنت سے ادا کروں۔ پہلی سطح پر لوگوں کو کھانا کھلا ؤں، ان کا علاج کراؤں، بچوں کو اسکول میں داخل کراؤں۔ ذاتی طور پر بھی اور اداروں سے بھی بھرپور تعاون کر کے۔ ان اداروں سے تعاون کروں جو نشے کے عادی لوگوں کو کار آمد شہری بناتے ہیں۔ ان اداروں کے لیے بھی اپنی خدمات یا اپنا مال پیش کروں جہاں بے سہارا بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کی پرورش اور امداد ہوتی ہے۔ دوسری سطح پر معاشرے کے تمام طبقات میں، کچی آبادیوں سے لیکر پوش علاقوں میں قرآن و سنت کا فہم عام کروں۔ لوگوں کے حالات، ذہنی سطح اور شعور کے حساب سے دعوت و تبلیغ کروں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا پیغام عام کروں کہ کیا ذمہ داریاں، کیا فرائض اور کیا حقوق ہیں؟ خوشحبریاں سناؤں، تنبیہات کے بارے میں بتاؤں۔ کمزور اور غریب طبقات کو بھی اور ا میر، خوشحال طبقات کو بھی۔ اکیلے نہیں تو کسی کے ساتھ مل کر اور آخری سطح پر اُس نظام کو دینی لحاظ سے بدلنے کی کوشش کروں جو اوپر بتائے گئے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ وہ کسی تحریکی کا قول ہے کہ جب میں لوگوں کو روٹی کھلاتا ہوں تو لوگ مجھے اللہ کا ولی کہتے ہیں اور جب میں حکمرانوں سے سوال کرتا ہوں کہ لوگوں کو روٹی کیوں نہیں ملی تو لوگ مجھے انقلابی کہتے ہیں۔

ثاقب نے اب فیصلہ کرلیا ہے کہ اب وہ اپنے اس دنیا میں باقی ماندہ وقت کو زیادہ سے زیادہ، پوری امکانی کوشش کے ساتھ انہی کاموں میں صرف کرے گا اور اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے اُس نقطہ آغاز سے، اُس ماحول سے جہاں اسے ایمان کی دولت ملی، نعمتوں اور صلاحیتوں کے خزانے ملے، ایک سفر طے کرے گا جو اسے امت وسط، امت ِخیرکا حقیقی معنوں میں رکن بنائے گا۔ سچا امتی بنائے گا۔

كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ‌ؕ ( آل عمران)

(مسلمانو! )تم بہترین امت ہو جسے انسانوں کے لیے نکالا گیا ہے۔ (کیونکہ) تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.