جماعت اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل - گل رحمان ہمدرد

این اے 258 کراچی، این اے 120 لاہور اور اب این اے 4 پشاور کے ضمنی انتخابات نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت اس حد تک کم ہوگئی ہے کہ اب اس کا سیاسی وجود شدید خطرے سے دوچار ہے، اور سیاسی منظرنامے میں وہ غیر متعلق ہوتی جا رہی ہے۔ فلسفہ اور سیاسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس مسئلے پر جتنا غور و فکر کیا ہے، اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جماعت کی سیاست میں ناکامی کی چند بڑی وجوہات ہیں۔ جماعت کو چاہیے کہ آئندہ اپنی حکمت عملی تشکیل دیتے ہوئے ان پہلوؤں کا خیال رکھے۔

اوّل، ہر کام کا ایک میرٹ ہوتا ہے اور سیاست کا میرٹ یہ ہے کہ ٹکٹ ایسے لوگوں کو دیا جائے جو پہلے سے ہی معاشرے میں اپنا کوئی سیاسی، معاشی اور معاشرتی مقام رکھتے ہوں، یعنی وہ 'الیکٹیبلز' ہوں۔ جماعت اسلامی مسلسل اور تواتر کے ساتھ اس میرٹ کی خلاف ورزی کرتی چلی آ رہی ہے۔ جب خلافت راشدہ قائم تھی تو سیاسی عہدوں کے لیے علم وتقویٰ کے علاوہ معاشرے میں ان کا سماجی مقام بھی دیکھا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے عبداللہ بن مسعودؓ اور عمار بن یاسرؓ کو ایک ہی وقت میں کوفہ بھیجا۔ وہاں گورنری کا عہدہ خالی تھا۔ حضرت عمرؓ نے عمار بن یاسرؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا حالانکہ علم و تقویٰ دونوں میں عبداللہ بن مسعودؓ کا مرتبہ زیادہ تھا۔ کچھ عرصے بعد عماربن یاسرؓ کو واپس مدینہ بلا لیا گیا، اور ابو موسیٰ اشعریؓ کو نیا گورنر نامزد کیا، حالانکہ عبداللہ ابن مسعود کوفہ ہی میں مقیم تھے، لیکن انہیں گورنر نہیں بنایا گیا۔ ایک حدیث میں آیا ہے ''انزلوا الناس منازلھم'' یعنی لوگوں کو ان کا مقام دو۔ فتح مکہ تک حضرت ابوسفیان اسلام کے بدترین دشمن تھے،جب مکہ فتح ہوا تو اس کے بعد آپ نے اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے مقام و مرتبہ اور سماجی حیثیت کو برقرار رکھا اور انہیں طائف کا گورنر مقرر کیا۔

جماعت اسلامی اسلام کی تعلیمات، سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم، خلفائے راشدین کی روایت، قومی مزاج، انسانی فطرت، سیاسی حرکیات اور علم سیاسیات کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاشرےکے سیاسی ومعاشی اور سماجی مقام رکھنے والوں کو نظرانداز کرکے عام اہل علم اور عام کارکنوں کو ٹکٹ دیتی ہے۔ سیاسی میرٹ کو نظرانداز کرنا جماعت کی ناکامی کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ عمران خان نے 2002ء کےالیکشن میں صاف اور شفاف کردار کے حامل پارٹی کارکنوں کوٹکٹ دیے۔ وہ سب کے سب بری طرح ہارے، قومی اسمبلی کا کوئی بھی امیدوار ایک ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کرسکا۔ اس وقت کے ایک پارٹی رہنما (جو اب تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں) کا کہنا ہے کہ اس الیکشن کے دوسرے روز جب میں بنی گالہ گیا تو عمران خان نماز پڑھ رہے تھے، نماز سے فراغت کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے‌، اور مجھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہماری ہار کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کرکٹ کے میچ میں ہاکی کےکھلاڑی اتار دیے تھے۔ اس کے بعد عمران خان نے اپنے مشن پر سمجھوتہ کیے بغیر ایک بالغ نظر کپتان کی طرح اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور الیکٹیبلز کے لیے پارٹی کے دروازے کھول دیے۔ ان کی یہ حکمت عملی بہت مؤثرثابت ہوئی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ماچھی گوٹھ کے تاریخی اجتماع میں اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ تدابیر کے رد و بدل کو اصول و مقاصد کا رد و بدل نہیں کہا جاسکتا۔ دنیا کی کوئی جماعت بھی ایک تدبیر کو ہمیشہ کے لیے پکڑ کر نہیں بیٹھ سکتی۔ اسی تقریر میں مزید فرمایا کہ جو شخص حالات اور مواقع و ذرائع کی تبدیلی کے ساتھ اصولوں اور مقاصد کے حصول کی حکمت عملی اور تدابیر میں ردوبدل نہ کر سکے، وہ اس اتائی طبیب کی طرح ہے جو ایک نسخہ لے کر بیٹھ جائے اور آنکھیں بند کرکے تمام مریضوں پر اسے جوں کا توں استعمال کرتاچلا جائے۔ مزید برآں 'تفہیمات' میں مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ پالیسی اورحکمت عملی کے تحت دو برائیوں میں سے چھوٹی برائی کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اسی اصول کے تحت انہوں نے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کی حمایت کی اور اسی اصول کے تحت انہوں نے 1970ء کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں بعض سرمایہ داروں کو (جو جماعت کے رکن نہیں تھے) ٹکٹ دیے تھے اور ان میں سے دو جیت بھی گئے تھے۔ جماعت اگر اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر مولانا مودودی کے تصور حکمت عملی کی روشنی میں زمینی حقیقتوں کے مطابق اپنی منصوبہ بندی ترتیب دینی ہوگی اور دستیاب الیکٹیبلز میں سے نسبتاً اچھی شہرت رکھنے والوں کو اپنے پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہوگا۔

دوم، جماعت نے اپنی شرائط رکنیت کی وجہ سے عوام کے لیے اپنے دروازے خود بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ جن لوگوں کو آپ اپنی پارٹی کی رکنیت کے لیے نااہل سمحتھے ہیں، ان سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ آپ کو اسمبلیوں کی رکنیت کے لیے اہل سمجھیں گے؟ ظاہر ہے جب آپ جماعت کے دروازے ان پر بند کریں گے تو وہ اس کے جواب میں پارلیمنٹ کے دروازے آپ پر بند کر کے آپ سے اپنی توہین کا انتقام ضرور لیں گے۔ اگرجماعت چاہتی ہے کہ عوام میں اس کی مقبولیت بڑھے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی مزید توہین بند کرے اور عوام کے لیے اپنی پارٹی کے دروازے کھولیں۔

سوم، 1957ء کے بعد جماعت اسلامی دعوت کا کام عملاً چھوڑ چکی ہے۔ نئی نسل جس کی اکثریت پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہے، جماعت کی دعوت انقلاب سے واقفیت نہیں رکھتی۔ جس کی وجہ سے جماعت کے ووٹرز اور حامیوں کی تعداد بڑی تیزی کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔ مولانا مودودی کے شاگرد رشید اور علمی، فکری و تحریکی جانشین مولانا نعیم صدیقی کی قائم کردہ تحریک اسلامی بہت منظم طریقے سے دعوت کا کام کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کو چاہیے کہ وہ تحریک اسلامی کے ساتھ ایک معاہدہ کرے جس کے تحت جماعت کےکارکن دعوت کے کام میں تحریک اسلامی کے ساتھ تعاون کریں اور تحریک اسلامی کے کارکن انتخابات میں جماعت اسلامی کو سپورٹ کریں۔ 1993ء کے انتخابات میں شکست کے بعد نعیم صدیقی صاحب نے انتخابی سیاست سے مایوس ہو کر اپنی راہیں جب جماعت اسلامی سے الگ کیں اور 1994ء میں تحریک اسلامی قائم کی، تو اس وقت کے امیر جماعت قاضی حسین احمد نے فرمایا تھا کہ "نعیم صدیقی صاحب ہمارے لیے محترم ہیں۔ اگر وہ دین کا کام کرنے کے لیے کوئی جماعت قائم کرتے ہیں تو ہم ان سے تعاون کریں گے۔" (قومی اخبارات +روزنامہ جسارت کراچی 15 ستمبر 1994ء)۔ انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ "ساری دینی جماعتیں ایک گلدستے کی حیثیت رکھتی ہیں اور نعیم صدیقی صاحب بھی اس کا ایک پھول ہیں (ایضاً)۔ دوسری طرف تحریک اسلامی کی تشکیل کے مراحل سے گزرنے کے بعد نعیم صدیقی صاحب اسی تگ و دو میں تھے کہ جماعت اسلامی اور تحریک اسلامی کے درمیان تعاون کی کوئی شکل بن جائے۔ لیکن اس دوران 1996ء میں خود تحریک ایک بڑے آئینی بحران سے دوچار ہو گئی، جس کے نتیجے میں تحریک اسلامی عملاً دو گروہوں میں بٹ کر رہ گئی۔ 1998ء تک یہی بحرانی کیفیت جاری رہی، تاآنکہ عرب میں مقیم کچھ مشترکہ دوستوں نے نعیم صدیقی اورحفیظ الرحمان احسن میں صلح کرا دی اور تحریک اسلامی پھر سے متحد ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔ تحریک کا اندرونی بحران حل ہوجانے کے بعد مولانا نعیم صدیقی صاحب جماعت اسلامی اور تحریک اسلامی میں ایک وفاق کے قیام کے خواہش مند تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی نے 2008ء میں نعیم صدیقی پر ڈاکٹریٹ کا جو مقالہ لکھا ہے، اس میں نعیم صدیقی صاحب کے فرزند مصباح الایمان صدیقی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ: "جماعت اسلامی اور تحریک اسلامی کی نظریاتی اساس مشترک ہے اور اسی چیز کے پیش نظر والد صاحب نے اپنے آخری دور میں قاضی صاحب اور جماعت کے دیگر زعماء کے ساتھ دعا سلام کا سلسلہ بحال کر لیا تھا۔" (نعیم صدیقی حیات و خدمات،صفحہ55)۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کراچی، جائزہ لینے میں کیا حرج ہے - حبیب الرحمن

جماعت اسلامی خود اب دعوت کا کام کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی، کیونکہ آپ اگر عام روایتی مذہبی نظریات کی تبلیغ کریں گےتو اس کے لیے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے تجدیدی کام اور فکر پر خط تنسیخ کھینچنا ہوگا اور ساتھ ہی اپنی نظریاتی موت کا اعلان کرناپڑےگا اور اگر روایتی مذہبی نظریات کے بجائے فکر مودودی اور جدید فکر کی روشنی میں دعوت کا کام کریں گے تو معاشرے میں قدم قدم پر فرقہ وارانہ ذہنیت اور قدامت پسندانہ اور انتہاپسندانہ سوچ رکھنے والوں سے تصادم اور مناظرہ بازی کرنا پڑے گی جس کے نتیجے میں آپ کا ووٹ بنک بڑھنے کے بجائے کم ہوگا۔ پھر جب آپ سیاست میں ہوں تو آپ کے سیاسی حریف آپ کی دعوت کو بھی اپنا حریف سمجھیں گے اور آپ کے خلاف پروپیگنڈا کرکے لوگوں کو آپ سے بدظن کرنے کی کوشش کریں گے جس سے آپ کے ووٹ بنک کو نقصان پہنچے گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ جماعت کے پلیٹ فارم سے دعوت کا کام نہ کیا جائے۔ بلکہ تحریک اسلامی دعوت کا جو کام کر رہی ہے، جماعت بحیثیت جماعت اور ارکان جماعت بحیثیت فرد انفرادی طور پر جتنا ممکن ہو، تحریک اسلامی کے ساتھ تعاون کریں۔

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

چہارم، جماعت کو یہ تلخ حقیقت بھی اب تسلیم کرلینی چاہیے کہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں اس کا سیاسی وجود سکڑ کر برائےنام رہ گیا ہے اور بحالت موجودہ اس کے احیاء کا بھی دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ لہٰذا اپنے وسائل، اپنی توانائیاں اور اپنی افرادی قوت کو منتشر انداز میں استعمال کرنے کے بجائے اپنا پورا فوکس خیبر پختونخوا پر ہی رکھنا چاہیے، اور وہاں بھی ملاکنڈ ڈویژن پر زیادہ فوکس کرنا چاہیے۔ خیبر پختونخوا، بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن، پر توجہ کے بجائے اگر منتشر کوششیں کی گئیں تو جس طرح پاکستان کے دیگر صوبے ہاتھ سے نکلے ہیں، اس طرح یہ صوبہ بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ویسے بھی جماعت کو آئندہ انتخابات میں اپنے مضبوط گڑھ دیر میں تحریک انصاف کے ساتھ سخت مقابلہ درپیش ہے۔

پنجم، جیسا کہ 2008ء کےانتخابات کے بائیکاٹ کے نقصانات سے واضح ہے کہ سیاسی جماعت کے لیے انتخابات سے بائیکاٹ کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ لہٰذا آئندہ کے لیے اپنے حلقہ ہائے نیابت میں کسی بھی سطح پر کسی بھی الیکشن سے بائیکاٹ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جماعت پاکستان کے تمام حلقوں سے ہر حال میں امیدوار کھڑے کرے بلکہ صرف ان حلقوں میں امیدوار کھڑے کرے جہاں اس کا کوئی قابل ذکر ووٹ بنک ہو۔ سندھ اور پنجاب میں جماعت کوئی قابل ذکر ووٹ بنک نہیں رکھتی، اس لیے وہاں درست حکمت عملی یہ ہے کہ وہاں کی جیتنے والی پارٹیوں کی حمایت کی جائے اور اس کے بدلے دو، تین حلقوں میں ان کی حمایت سے الیکشن لڑا جائے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے ہر حلقہ میں امیدوار کھڑے کرنے کے بجائے صوبے کی کی مقبول سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد اور سیٹ ایڈجسمنٹ کرکے صرف منتخب حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے جائیں۔ اس طرح ایک طرف شرمندگی سے جماعت اپنے آپ کو بچاسکتی ہے تو دوسری طرف اپنے کارکنوں کا مورال گرنے سے بچا کر ان کی حرکت و محنت کی رفتار میں تیزی لاسکتی ہے۔

ششم، سیاست میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت یہ رہی ہے کہ اپنے بدترین نظریاتی اور سیاسی مخالفین سے بوقت ضرورت حکمت عملی کے تحت اتحاد کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودیوں اور مشرکین تک سے پرامن بقائے باہمی کے تحت سیاسی معاہدات کیے تھے۔ جماعت اسلامی کو بھی ہر پارٹی سے اتحاد کے لیے اپنے دروازے کھولنے چاہییں۔ یہ ادراک تو جماعت کے لوگوں کو شاید ہو ہی چکا ہوگا کہ پاکستان میں نظریات کی سیاست کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ اب ریاست پاکستان کا نظریہ صرف ایک ہے اور وہ ہے 1973ء کا اسلامی آئین، تمام پارٹیاں جسے قبول کرتی ہیں۔ نظریاتی سیاست کے دورکے خاتمے کے ساتھ ہی سیاست کے میدان میں 'رائٹ' اور 'لیفٹ'' کی تفریق بھی ختم ہوگئی ہے۔ اب یہ تفریق سراج الحق صاحب کے الفاظ میں رائٹ اور رانگ کی ہے۔ یہ پاکستان کے سیاسی منظرنامہ پر بالکل نئی حقیقت ہے۔ لہٰذاجماعت کو اپنے اتحاد کے دروازے اب تمام پارٹیوں کے لیے کھولنے چاہییں۔ خیبرپختونخوا کے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے انتہائی عملیت پسندی کا ثبوت دیا اور پیپلزپارٹی، اے این پی، وطن پارٹی، جمیعت علمائے اسلام، مسلم لیگ اور تحریک انصاف سمیت صوبے کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کےساتھ اتحاد کیا، جس کی وجہ سے جماعت کو قابل ذکر کامیابی ملی۔ لیکن یہ اتحاد جماعت کو اپنی الگ شناخت برقرار رکھ کر کرنا چاہیے، کسی اسلامی جمہوری اتحاد اور کسی متحدہ مجلس عمل میں اپنا وجود فنا نہیں کرنا چاہیے۔ جماعت کے ووٹ بنک کم ہونی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے زیادہ تر انتخابات میں اپنی شناخت اور اپنے نشان کے تحت حصہ نہیں لیا۔ 1977ء میں وہ پاکستان قومی اتحاد کاحصہ تھی، 1988ء اور 1990ء میں وہ میاں محمدنواز شریف کےساتھ آئی جے آئی میں شامل رہی۔ 1993ء میں اسلامک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا، 1997ء میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل میں شامل ہو گئی اور 2008ء میں ایک بار پھر بائیکاٹ کیا۔ 2013 میں اپنے نام اور نشان پر الیکشن لڑا۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات 2015ء میں کئی جگہوں پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا گیا۔ آج کل پھر ‏‏ایم ایم اے کی بحالی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جماعت کو کسی دوسرے اتحاد میں ضم کرنے سے جماعت کا ووٹ بنک متاثر ہوتا ہے، اس لیے اس تجربے سے گریز کرنا چاہیے۔

ہفتم، جماعت اپنے سیاسی حجم کے اعتبار سے ہی نشستیں جیتنے کی توقع رکھے اور اس کا سیاسی حجم یہ ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی زیادہ سے زیادہ پانچ، کشمیر اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلیوں میں پختونخواہ میں زیادہ سے زیادہ دس، بلوچستان اور گلگت بلتستان سے ایک ایک، جبکہ سندھ اور پنجاب میں دو، دو نشستیں جیت سکتی ہے۔ اس سے زیادہ کی خود توقع رکھنی چاہیے نہ ہی اپنے کارکنوں کو سبز باغ دکھانا چاہیے۔

ہشتم، سیاسی جماعت کا حقیقی وجود صرف عوامی خدمت سے زندہ رہ سکتا ہے اور عوام کی خدمت صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب آپ مرکزی، صوبائی، ضلعی اور تحصیل حکومتوں کا حصہ ہوں۔ اپوزیشن میں رہ کر عوامی خدمت ممکن نہیں۔ چھوٹی پارٹیوں کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ وہ حکومتی بنچوں کاحصہ بنیں۔ اس سے ایک طرف اپنے حلقہ ہائے نیابت میں عوامی خدمت کے ذریعہ پارٹی کے ووٹ بنک میں اضافہ ہوگا تو دوسری طرف پارٹی کا دائرہ اثر خود بخود پھیلتا چلا جائے گا۔ کیونکہ آپ کی کارکردگی اگر اچھی ہو تو قرب و جوار کےحلقے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے اور لوگ آپ کی پارٹی کی طرف متوجہ ہوں گے۔ اس لیے جماعت اگر یہ چاہتی ہے کہ اس کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو اور اس کا سیاسی وجود نہ مٹے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آئندہ کے لیے وہ مرکزی، صوبائی، ضلعی و تحصیل حکومتوں کا مستقل حصہ ہو۔ مزید اپوزیشن کی سیاست اگر جاری رہی تو جماعت کا وجود ختم ہو جائے گا۔ ہر حکومت میں شامل ہونا کسی خاص پارٹی کی حمایت کرنا نہیں ہے، بلکہ اس پارٹی کو حاصل عوامی مینڈیٹ کی حمایت و احترام کرنا ہے۔ بالفاظ دیگر اس صورت میں آپ کسی پارٹی سے اتحاد نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس پارٹی کے حمایتی عوام سے اتحاد کر رہے ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمان اور جمیعت علمائےاسلام پر جو تنقید کی جاتی رہی ہے، وہ بلاجواز ہے۔ ملک میں عوام کی اکثریت ایک پارٹی کی حمایت میں اپنا فیصلہ کر لے تو اس کے بعد صحیح رویہ یہ ہے کہ دوسری سیاسی جماعتیں بھی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے دین و شریعت اور آئین و قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے جہاں تک ممکن ہوسکے، اس حکومتی پارٹی کی حمایت کریں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت میں تحریک انصاف اور کشمیر میں مسلم لیگ سے اتحاد کرکے ان حکومتوں کا حصہ بننا جماعت کا دانشمندانہ اور عقل مندانہ فیصلہ ہے۔ اسی طرح بونیر میں اےاین پی، ملاکنڈ میں پیپلز پارٹی، چارسدہ میں وطن پارٹی، چترال میں جمعیت علمائے اسلام، ایبٹ آباد میں تحریک انصاف اور سوات میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کر کے جماعت ضلعی اور تحصیل حکومتوں کاحصہ بنی ہے۔ یہ درست سیاسی حکمت عملی ہے، اس کو جاری رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل کشمیر نڈھال مت ہوجانا - سید مصعب غزنوی

نہم، جماعت کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ وہ ٹکٹ سب سے پہلے جاری کرتی ہے۔ ٹکٹ سب سے آخر میں جاری کرنا چاہیے، اور اس ضمن میں دوسری پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ ہولڈرز کے اعلان کے بعد حلقہ کی تشکیل پانے والی نئی سیاسی پوزیشن کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرناچاہیے۔ مثلاً ایک حلقہ 'ایکس' ہے، اس کی تین تحصیلیں اے، بی، سی ہیں۔ تحصیل 'اے' سے دو پارٹیوں کے امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں، تحصیل 'بی' سے دوسری دو پارٹیوں کے امیدوار کھڑے ہیں، جبکہ تحصیل 'سی' سے کوئی بھی شخص امیدوار نہیں ہے تو دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ جماعت اسلامی تحصیل 'اے' اور 'بی' میں کسی کو ٹکٹ نہ دے بلکہ تحصیل 'سی' سے کسی الیکٹیبلز کو ٹکٹ دے، کیونکہ الیکشن میں علاقہ، برادری، رشتہ داری اور ذاتی تعلقات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص کرعلاقے کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں ہم نے دیکھا کہ اگر ایک علاقے سےایک سیٹ کے لیے دو امیدوار الیکشن لڑ رہے ہوں اور دوسرے علاقے سے صرف ایک ہی شخص امیدوار ہو تو جہاں سے دو امیدوار کھڑے تھے، وہاں کے ووٹ تقسیم ہو گئے اور جس علاقے سےایک شخص کھڑا تھا وہ جیت گیا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی پارٹی سے تھا۔ اس بات کے پیش نظر جماعت اسلامی کو چاہیے کہ وہ دوسری پارٹیوں کے ٹکٹ کی تقسیم کے بعد حلقہ کی معروضی صورتحال اور تازہ تشکیل پانے والی سیاسی پوزیشن کا جائزہ لے کر سب سے آخر میں ٹکٹ جاری کرے۔ اسی ضمن میں سید ابو الاعلیٰ مودودی کی یہ بات بھی پلّے باندھ لیں کہ "دنیا میں جو نظامِ زندگی بھی قائم ہے، اُس کو اعلیٰ درجے کے ذہین اور ہوشیار لوگ چلا رہے ہیں اور ان کی پشت پر مادّی و سائل کے ساتھ عقلی اور فکری طاقتیں اور علمی و فنی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرے نظام کو قائم کر دینا اور کامیابی کے ساتھ چلا لینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ بسم اللہ کے گنبد میں رہنے والوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ سادہ لوح خواہ کتنے ہی نیک اور نیک نیّت ہوں اس سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے، اس کے لیے گہری بصیرت اور تدبّر کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دانشمندی اور معاملہ فہمی درکار ہے۔ اس کام کو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو موقع شناس اور باتدبیر ہوں اور ان کی زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ حکمت ان کے سب اوصاف کے لیے ایک جامع لفظ ہے اور اس کا اطلاق دانائی کے متعدد مظاہر پر ہوتا ہے۔ یہ حکمت ہے کہ آدمی انسانی نفسیاتی سمجھ رکھتا ہو اور انسانوں سے معاملہ کرنا جانتا ہو۔ لوگوں کے ذہنوں کو اپنی دعوت سے متاثر کرنے اور ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کے طریقوں سے واقف ہو۔ ہر شخص کو ایک ہی لگی بندھی دوا دیتا نہ چلا جائے بلکہ ہر ایک کے مزاج اور مرض کی صحیح تشخیص کر کے علاج کرے۔ یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اپنے کام کو اور اُس کے کرنے کے طریقوں کو جانتا ہو۔ یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اس وقت کے حالات پر نظر رکھتا ہو، مواقع کو سمجھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ کس موقع پر کیا تدبیر کی جانی چاہیے۔ حالات کو سمجھے بغیر اندھا دھند قدم اٹھا دینا، بے موقع کام کرنا اور موقع پر چوک جانا غافل لوگوں کا کام ہے اور ایسے لوگ خواہ کتنے ہی پاکیزہ مقصد کے لیے کتنی ہی نیکی اور نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے ہوں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے"

دہم، سب سے اہم بات یہ کہ جماعت اسلامی کے وابستگان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ جماعت اسلامی اصلاً ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک انقلابی تحریک ہے اور کسی انقلابی تحریک کی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ انتخابات میں کامیابی یا ناکامی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوئی ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی کی کامیابی قابل رشک ہے۔ ریاست پاکستان نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر کو عملاً قبول کر کے ایک طرف اعلیٰ سطح پر اسے نصاب میں شامل کیا ہے تو دوسری طرف اس کی بنیاد پر اپنے آئین و قانون کی تشکیل کی ہے۔ علاوہ ازیں اس ملک کی رائٹ ونگ کی سیاست کی علمبردار دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی تشکیل جماعت اسلامی سے متاثر ہونے والے علمی، عسکری اور سیاسی ذہنوں کی رہین منت ہے۔ دوسری طرف تمام مذہبی مکاتب ہائے فکر اور ان کی نمائندہ جماعتوں نے جماعت کے بیانیے کو تھوڑی بہت ترمیم کےساتھ قبول کر لیا ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر میں جماعت کی شاخیں قائم ہیں۔ علاوہ ازیں نعیم صدیقی کی تحریک اسلامی اور ڈاکٹر اسرار احمد کی تنظیم اسلامی علم و تحقیق اور دعوت کے میدان میں فکر مودودی کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ مولانامودودی کے دیگر تلامذہ مولانا کی فراہم کردہ تنقیدی بصیرت کو بروئےکار لاتےہوئے اپنے اپنے زاویہ نظر سے احیائے اسلام کا کام کر رہے ہیں۔ نئی نسل کی ایک بہت بڑی تعداد ان حلقوں سے وابستہ ہے۔ اس کےعلاوہ ایران، سوڈان اور ترکی نے ریاستی سطح پر مولانا کی فکر کی روشنی میں نظام کی تشکیل کی ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام یونیورسٹیوں نے مولانا کی کتابوں کو اپنے نصاب میں شامل کیا ہے۔ عالم اسلام کی تمام احیائے دین کی تحریکوں نے مولانا کی فکر کو من وعن قبول کیا ہے۔ اس لیے انھیں اسلام کی تاریخ کے پانچ سب سے زیادہ اثرانداز ہونے والے دینی مفکرین میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ اگرجماعت کا وجود خدانخواستہ ختم بھی ہوجائے، تب بھی مؤرخ اس کو تاریخ کی کامیاب تحریکوں کی صف میں رکھے گا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ مولانا مودودی کی روح خاموش ہوگئی ہے اور تحریک ناکام ہوگئی ہے۔ اصل میں ان کی روح نے نئے قالب تلاش کرلیے ہیں.

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری

اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری

میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی

پھر اس کے بعد تو آواز جابجا تھی مری