کامیابی کا راز - مصباح الامین

کامیابی ایک ایسا پھل ہے، جس کے حصول کی خواہش ہر انسان کے دل میں مچلتی رہتی ہے۔کوئی اس کے قرب کی حسرت لیے دنیا سے سدھار جاتا ہے تو کسی پر اس کی فرحت و تازگی کا لطف عیاں ہو جاتا ہے۔بہت سے افراد ایسے ہیں جو کسی کام میں اپنی کامیابی کا سپنا دیکھ کر، پورے جوش و جذبے کے ساتھ اس کو شروع کر دیتے ہیں، انتہائی مہارت اور محنت کے ساتھ اس کام میں لگ جاتے ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ان کی دلچسی میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے۔جس جوش و جذبے کے ساتھ ابتدا کی تھی، اس کی جگہ اکتاہٹ اور سہل پسندی گھیر لیتی ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کامیابی کی اس جدوجہد کو ترک کر دیا جاتا ہے اور ناکامی کو گلے لگا لیا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے کہ کسی بھی کام کو اس کے مطلوبہ نتائج تک پہنچانے کے لیے صرف یہی ضروری نہیں کہ انسان میں شوق اور ہمت ہو بلکہ کامیاب ہونے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز، کامیابی کا یقین یعنی خود اعتمادی اور مستقل مزاجی ہے۔ جس چیلنج کو ایک دفعہ گلے لگا لیا، اب چاہے کچھ بھی ہو جائے اس کام سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹنا۔جیسے قطرہ قطرہ پانی ٹپک کر پتھر میں سوراخ کر دیتا ہے، اسی طرح قدم بہ قدم اپنی منزل کی طرف بڑھنا ہے۔ لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ سفر جاری رکھنا ہے چاہے کچھوے کی چال ہی کیوں نہ ہو۔ جو لوگ کسی کام کو تسلسل کے ساتھ کرتے رہتے ہیں وہ اپنی ناؤ کو ایک دن ضرور ساحل تک پہنچا کر رہتے ہیں ـ۔

یہ بات بھی ذہن نشیں رکھیے کہ اگر آپ وہی کچھ کرتے رہیں گے جو آپ اب کر رہے ہیں، تو آپ وہ کچھ ہی حاصل کر پائیں گے جو آپ اس وقت حاصل کر رہے ہیں۔ جب تک اپنی مخفی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر موجودہ کام کے ساتھ ساتھ، مزید کسی ہنر میں خود کو مصروف نہیں کریں گے۔ تب تک کامیابی کی حسرت ہی دل میں لیے پھرتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   کامیابی کا فارمولا - ناصر محمود بیگ

اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک کو بے پناہ تخلیقی قوت عطا کی ہے لیکن یہ قوت ہماری شخصیت کی کسی گہرائی میں دفن ہوتی ہے۔ جس طرح ایک نگینے کو مختلف اوزاروں کے ساتھ تراش خراش کر کے، انگوٹھی میں جڑنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمیں اپنی تخلیقی صلاحیت کو دریافت کرنے کے لیے اپنی شخصیت کی تراش خراش کر کے روایتی طرز فکر سے نجات حاصل کرنا پڑتی ہے۔یہی کامیابی کا راز ہے۔

کوئی کامیابی راتوں رات میں آسمان سے نہیں اتر تی ہے۔ ہر کامیابی کی تہہ میں ضرور کوئی چھوٹی کامیابی پیوستہ ہوتی ہے، جس طرح کوئی تناور درخت ایک چھوٹے سے دانے سے نکلتا ہے، اسی طرح کوئی بڑی کامیابی کسی چھوٹی کامیابی سے پھوٹتی ہے۔ بس کامیابی کے اسی اصول کو جاننا ہے کہ تنکا تنکا مل کر آشیاں بناتاہے، قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے، اینٹ پر اینٹ رکھی جاتی ہے تب عالی شان محل کو وجود ملتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا زینہ طہ کرتے جائیے، وہ دن دور نہیں جب بڑی کامیابی کا "تمغہ" آپ کا منتظر ہوگا۔ باحوصلہ اور اولوالعزم افراد ہی، نئے نئے میدانوں میں فتوحات اور کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور انسانی زندگی کے ظلمت کدوں میں امیدوں کے چراغ روشن کرتے جاتے ہیں۔