مجھے بتا تو سہی اور "منافقت" کیا ہے؟ - اسماعیل احمد

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جو چیزیں جیسی نظر آتی ہیں اکثر ویسی نہیں ہوتیں۔ یہ دعویٰ محض دعوٰی نہیں ایک حقیقت ہے جس کا مشاہدہ نہایت آسانی سے ہرروز کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ہم سب جانتے ہیں پاکستان کا دارلحکومت اسلام آباد ہے لیکن اگر آپ کی نظرنیوز چینلز اور اخبارات پر رہتی ہے تو آپ کے علم میں ہوگا ہمارے بڑے اکثر فیصلہ سازی کے لیے لندن شہر کا انتخاب کرتے ہیں۔ الطاف حسین تو نام کے بدنام ہیں نواز شریف، آصف زرداری وغیرہ بھی تو سال کے بیشتر دنوں وہی براجمان رہتے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی کسی اجلاس کے سلسلہ میں گزشتہ دنوں لندن پدھارے۔

پاکستان کا ایک مشہور نیوز چینل ہے جو "امن کی آشا" اور "ذرا سوچیے" نامی تشہیراتی مہمات کے تحت کچھ پروگرام نشر کرتا ہے۔ ان پروگراموں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وطن کی تعمیر و ترقی کی خاطر اور وطن کی محبت میں یہ پروگرام نشر کیے جاتے ہیں لیکن یہ بات بھی اب ہمارے خاصی عوام کے علم میں آچکی ہے کہ وطن کی یہ محبت غیرملکی فنڈنگ سے پروان چڑھتی ہے۔ غیر ملکی فنڈنگ صاف ظاہر ہے صرف ان بظاہر بہت اچھے سمجھے جانے والے مقاصد کے لیے ہی نہیں، دراصل کسی نامعلوم ایجنڈے کی تکمیل کے لیے دی جاتی ہے۔ پاکستانی صحافتی اور علمی حلقوں میں سیکولر اور اسلامسٹوں کے علمی مباحث چلتے رہتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات کوئی خاص واقعہ ہماری سیکولر اور اسلام پسندی کے تشخصات کا بھرم بھی اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بات صرف اپنی دم پر پاؤں آنے کی ہوتی ہے ورنہ کیا سیکولر اور کہاں کے اسلامسٹ؟

کسی دور میں سرخوں، معاف کیجے گا سوشلسٹ، کمیونسٹوں اور ترقی پسندوں، کا بڑا چرچا تھا۔ ان لوگوں کا من پسند نعرہ "سرخ ہے سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے" تھا جس کے جواب میں اسلامسٹ طلبہ نے "سبز ہے سبز ہے، ایشیا سبز ہے" کا نعرہ پیش کیا۔ اب باقی تاریخ ہے کہ سبز ایشیا کا نعرہ تو سبز باغ ثابت ہوا جبکہ سرخ ایشیا کا نعرہ بھی افق کی سرخی کی طرح غائب ہو گیا۔ سیکولر طبقے سے تعلق رکھنے والی آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کی ہمشیرہ کو ایک ہسپتال کے ڈاکٹر نے اس کی طرف سے ہسپتال میں دی گئی معلومات حاصل کرکے فیس بک پر فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی جسے شرمین عبید چنائے نے ہراساں کرنا قرار دیا۔ ہسپتال انتظامیہ کو ڈاکٹر کی شکایت کی، ڈاکٹر صاحب کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ اس کے بعد حسبِ روایت سیکولر اور اسلامسٹ حلقوں نے اپنی اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ اسلامسٹوں کو شکایت شرمین عبید چنائے سے تھی جنہوں نے بلاوجہ ایک فرینڈ ریکویسٹ بھیجنے پر "غریب ڈاکٹر" کو نوکر ی سے برخاست کروا دیا۔ جبکہ سیکولر حلقوں کا مؤقف یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو اپنے پروفیشنل ازم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہسپتال کے کسی مریض کی ذاتی معلومات کی بنیاد پر موصوفہ کو اپنی فرینڈ بنانے کی کیاضرورت آن پڑی تھی؟

اب ذرا تھوڑا سا غور کریں اس معاملےمیں بھی ہمارے اسلامسٹ اور سیکولر حلقے ہمارے ساتھ ہاتھ کر گئے۔ یعنی اسلامسٹ ایک ڈاکٹر صاحب کی وکالت کرتے رہے جنہوں نے واقعی میں ایمرجنسی وارڈ میں ایک خاتون مریضہ کو طبی معائنے کے بعد سوشل میڈیا پر ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا، تصاویر پر کمنٹس کیے اور فیس بک پر فرینڈ بنانے کی کوشش کی۔ ہمارے آج کل کے اسلامسٹ تو شاید ان سب امور کی اجازت ڈاکٹر صاحب کو دے دیں لیکن میرا اسلام کا جتنا بھی ناقص علم ہے اس کے مطابق انہوں نے انتہائی نازیبا اور غیراخلاقی حرکت کی۔ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے تو ایسا کرنا کسی مرد مریض کے حوالے سے بھی شائستہ نہیں تھا چہ جائیکہ ایسا ایک خاتون کے ضمن میں کیا گیا۔ اب ذرا سیکولر دماغوں کا سیکولر پن بھی ملاحظہ ہو، شرمین عبید چنائے نے اپنے ٹویٹس میں لکھا کہ ریکویسٹ بھیجنے والے نے غلط خاندان کا انتخاب کیا ہے۔ محترمہ کے اس ایک ٹویٹ سے ان کی انسان دوستی کا بھرم کھل رہا ہےیعنی ان کے نزدیک ایسا کسی اور خاندان کی خاتون کے ساتھ کیا جاتا تو وہ سوشل میڈیا پر گمنام فرینڈ ریکویسٹوں کو قبول کرنے کے حوالے سے درست خاندان تھا۔ گویا انسانی مساوات تو گئی خاک میں۔ آپ چونکہ مقام اور مرتبے والی ہیں توآپ خود کو بھی اس مقام اور مرتبے کی روشنی میں سب سے بڑا سمجھیں اور باقی سب مفروضہ خواتین کوجنسی ہراسانی کےآسان شکار کے طور پر چھوڑ دیں۔ ایک ڈاکٹر کے پرفیشنل ازم کا رونا رونے والی ایک آرٹسٹ کی ا پنے پیشے سے اخلاص کا پول بھی اسی ایک ٹویٹ میں مرکوز تھا جن کی وکالت کرنے کی ذمہ داری اٹھانے والے سیکولر حلقوں نے بھی ان کی ٹویٹ میں موجود سوچ کے اس دقیانوسی پن پر کوئی کلام نہیں کیا۔

وطنِ عزیز کے حالات مختلف واقعات پر "اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ" والی صورتحال سے ذرا آگے نکل چکے ہیں۔ یہ اسلامسٹ اور سیکولر کی جنگ بھی ہماری خرابیوں کے مداوے میں ممد و معاون نہیں ہے۔ دوسروں کے عقائد و نظریات کے پرخچے اڑانے کے بجائےضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اپنے عقائد و نظریات سےتعصبات سے اوپر اٹھ کر اخلاص کے ساتھ وابستہ ہوا جائے ورنہ مشہور تو ہم اس حوالے سے بھی ہیں کہ اپنے شہر وں کو جلتا دیکھ کر بھی ہمارے علمی حلقے کوّا حلال ہے یا حرام کی بحث میں مشغول ہوتے ہیں۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ایک اسلامسٹ کبھی بھی ایک مریضہ جو ایمرجنسی میں آئی ہو اسے فرینڈ ریکوسٹ بھیجنے کی حمایت نہیں کرسکتا۔ آپ ذرا Twitter پر دیکھیں کہ کون لوگ شرمین صاحبہ پر تنقید کر رہے ہیں ۔ یہ لبرل طبقہ ہی ہے جو لبرل شرمین صاحبہ کا تضاد نمایاں کر رہا ہے۔ یعنی لبرل نارمز میں جو اصول ہیں یا سوشل میڈیا کی جو Ethics ہیں اسکے حساب سے شرمین صاحبہ نے Over React کیا ۔ جن دین داروں، اسلامسٹ سے میری ملاقات ہے اسمیں سے کوئی ڈاکٹر کو معصوم نہیں کہہ رہا ہے ایک دین دار ایسا کیوں کہے گا مناسب عقل والا کیسے صحیح سمجھ سکتا ہے۔ بس سزا کو زیادہ کہہ رہا ہے اور شرمین صاحبہ کے ردعمل پر نقد کر رہا ہے۔ باقی ڈاکٹر اور مریض کے تعلق اور پیشے کی حسساسیت کے حوالے سے ڈاکٹر نے گِرا ہوا کام کیا۔ اور بہت سے حوالوں سے شرمین صاحبہ کی تشویش انتہائی جائز ہے۔

    • آپ کا تبصرہ نہایت مناسب ہے ۔ بس اس موضوع پر جو مواد پڑھنے کو ملا اس سے جو تاثر مجھے ملا وہ یہی تھا گویا صرف شرمین عبید چنائے غلط جبکہ ڈاکٹر صاحب صحیح ہیں ۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے عمل کو جائز یا حلال تو نہیں کہا جا سکتا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */