آپ کا تقدس بحال رہے عوام کی خیر ہے - اصغر خان عسکری

میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد ملک سیاسی عدم استحکام کا شکارہے۔سیاسی بے چینی کی وجہ سے آئے روزنت نئے بحرانوں کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔پہلے "ٹماٹر" بحران پیدا کیا گیا۔پورے ملک میں ٹماٹر کی قیمت 300 روپے کلو تک پہنچ گئی تھی۔اس بحران نے ملک کے عام لوگوں کو براہ راست متا ثر کیا۔اس بحران کے دوران بعض لوگوں نے یاد دہانی کرائی کہ دیکھ لیا میاں نواز شریف کو نا اہل کرنے کا انجام؟

"ٹماٹر" بحران کے بعد "سبزیوں" اور "پھلوں" کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔ عام آدمی مہنگائی کی اس نئی اور خودساختہ لہر سے پریشان ہے۔ وزیر اعظم شاہد خان قان عباسی کو "اہل شریف" سے ملا قاتوں کی وجہ سے فرصت نہیں کہ وہ اس خودساختہ مہنگا ئی کا نو ٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔بڑے صوبے کے متحرک وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو خاندانی اور پارٹی مسائل سے فرصت نہیں مل رہی ہے کہ "شہباز سپیڈ " سے اس غیر متوقع اور خودساختہ مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیں۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو صرف ٹیکس لگانے کی فرصت ہے لیکن احتساب عدالت میں پیشیاں بھگتنے کی وجہ سے وہ بھی اس خود ساختہ مہنگائی پر خاموش ہیں۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو چاہیے کہ وہ پورے ملک میں جاری "مہنگائی کی دہشت گردی" کا فوری نو ٹس لیں، اس لیے کہ ان کے قائد میاں نواز شریف کو ملک کے عوام نے ووٹ کے ذریعے سے نااہل نہیں کیا بلکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ان کو نکا لا ہے۔اس لیے نا کردہ گناہوں کی سزا ملک کے عام آدمی کو دینا ووٹ کے تقدس اور سویلین با لادستی کی بدنامی کے مترادف ہے۔عوام نے تو 2013 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن)کوووٹ دے کر جمہوریت کی گاڑی آگے چلا نے کے لیے منتخب کیا تھا،مگر بد قسمتی سے وہی گاڑی جمہو ر کو کچلنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔اب اس میں عوام کا کیا قصور کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو سرکار سے ہٹا دیا؟ آخر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ بڑوں کی لڑائی میں نقصان صرف عوام ہی کا ہو؟ جس طر ح نا اہلی کے بعد میاں نواز شریف نے سوال کیا تھا کہ "مجھے کیوں نکالا؟" اسی طر ح عوام پوچھ رہی ہے کہ مہنگائی کا یہ نیا طوفان کیوں؟

"مجھے کیوں نکالا؟" کے بعد نوازشریف نے ایک اور نعرہ بھی بلند کیا تھا کہ ووٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔آج اسی کاغذ کے ووٹ کی پرچی کو ہاتھ میں لیے گوشت پوست کے انسان سوال کررہے ہیں کہ تقدس صرف کاغذ کی پرچی کا بحال کرناہے یا اس انسان اور ضمیر کا بھی جو کا غذ کی اس بے جان پرچی کو اتنا تقدس عطا کرتے ہیں کہ ایک مہر سے ان کا تقدس بحال ہو جاتاہے، با لا دستی بھی قائم ہو جاتی ہے اور جمہوریت کی گاڑی بھی چلنے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دلوں کی باتیں!ارشدزمان

آج پورے ملک میں عام آدمی سبزیوں اور پھلوں کی گراں فروشی سے پریشا ن ہے۔اسی "مہنگائی کی دہشت گر دی" کی وجہ سے عوام پوچھ رہے ہیں کہ ووٹ کے تقدس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ خاندان سمیت سرکار بنائیں؟سویلین بالا دستی کا مفہوم آپ نے یہ لیا ہے کہ آپ کمائیں گے اور آپ کی اولاد اس سے باہر ملکوں میں جائیداد یں بنا ئے گی؟کیا جمہوریت صرف وہ ہوگی جو آپ اور آپ کے خاندان کو عیاشی کی تمام ضروریات فراہم کرے؟اگر آپ کے ہاں ووٹ کا تقدس، سویلین بالادستی اور جمہوریت کا مفہوم یہی ہے تو پھر تمہارے یہ سب نعرے کھوکھلے ہیں۔جب بات آپ کی بالادستی کی ہو تو آپ کے چیلے دنوں میں ترمیم کر کے آپ کو دوبارہ پارٹی کا سربراہ منتخب کریں۔جب با لا دستوں نے آپ کی "معاشی دہشت گر دی " کے خلاف صرف ایک تقریر کی تو آپ نے اگلے روزان کو بلا کر ملکی معیشت پر تفصیلی بر یفنگ دی۔ اس لیے کہ کہیں وہ اس "معاشی دہشت گر دی " کے خلاف "ضرب عضب" یا "ردالفساد" شروع نہ کر دیں؟ اگر آپ کو ووٹ کے تقدس کا خیال ہے اور سویلین با لادستی کا علمبردار بننے کے خواہش مند بھی ہیں،تو پھر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ذمہ داری ہے کہ اس خود ساختہ " مہنگائی کی دہشت گردی" کا فوری نو ٹس لیں۔اس لیے کہ کروڑوں لوگ اس دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

مگر افسوس کہ وزیراعظم کو کروڑوں لوگوں کی یہ چیخ وپکار سنائی نہیں دے رہی، جو کہ جمہوری حکومت کے لیے ایک المیہ ہے۔آپ کو یادہو گا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت اور مارشل لاء کی افواہیں گر م تھیں تو جناب وزیر اعظم آپ نے بیان دے کر ان تمام افواہوں کی تر دید کی تھی۔کیوں؟ اس لیے کہ آپ کے تقدس اور با لا دستی کا مسئلہ تھا۔اب یہاں کروڑوں لوگوں کے تقدس اور بالا دستی کا مسئلہ ہے تو اس پر آپ اور آپ کی حکومت خاموش کیوں ہے؟مو جودہ مہنگائی کے خلاف صوبائی حکومتوں کا کردار بھی قابل مذمت ہے۔چلیں کوئی بات نہیں ابھی ان کا تقدس بحال ہے، ان کی بالادستی قائم ہے اوران کی جمہوریت بھی چل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پانچ آدمی ہیں، پانچوں کی کہانی معلوم - ہارون الرشید

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں مہنگائی کی اس نئی لہر پر چپ کیوں ہیں؟اپوزیشن کی یہ خاموشی حکومتوں کی چپ سے زیادہ خطر ناک اور تشویش ناک ہے۔اس لیے کہ جمہوری معاشروں میں حزب اختلاف عوام کی آواز ہوتی ہے۔وہ ہر حکومتی ظلم اور جبر سے عوام کی حفاظت کر تی ہے،لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔شاید اپوزیشن کو بھی اپنا تقدس بحال کر نے، سویلین بالادستی قائم کرنے اور اپنی جمہوریت پٹڑی پر چڑھانے سے فرصت نہیں۔ اگر سرکار اور حزب اختلاف ووٹ کے تقدس، سویلین بالادستی اور جمہوریت کے ایک جیسے مفہوم پر متفق ہے تو پھر ووٹ کا یہ حق عوام سے چھین کر خواص کو کیوں نہیں دیتے؟کیا ضرورت ہے ہر پانچ سال بعد عوام کی عدالت میں جانے کی؟وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں مخصوص ایوان میں یہی خواص ووٹ ڈال لیا کریں۔اس سے اتنا تو ہو گا کہ ووٹ کا تقدس بحال رہے گا۔

سویلین با لا دستی کا مفہوم اگر تمام سیاسی جماعتوں کے ہاں یہی ہے کہ ہم ہی سرکارمیں رہیں گے۔ ہمیں اگر نکالا تو پھر تمہیں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی نہیں ملیں گی، تو سرکار میں آنے کا راستہ عوام میں سے گزارنے سے بہتر ہے کہ اسے خواص کے گھروں تک محدودکیا جائے۔ ان کے ہاں جمہوریت اگر صرف حکمرانی ہے خواص کا عوام پر تو پھر عوامی جلسوں میں جمہوریت کا راگ کیوں الاپتے ہیں؟لیکن قصور تو عوام کا بھی ہے کہ باربار ان کو منتخب کر تے ہیں جو ہر بار ان کو ڈستے ہیں۔میرا خیال ہے کہ ووٹ کا تقدس تب بحال ہو گا جب عوام خود اس کو بحال کر نے کی کو شش کریں گے۔سویلین با لادستی اس وقت قائم ہو گی،جب عوام ذات پات، رنگ ونسل اور زبان کے نعروں سے بالا ہو کر کارکردگی کی بنیاد پر اسے قائم کر نے کا ارادہ کرلیں گے۔جمہوریت تب جمہوری ہو گی جب خواص کی بجائے عوام بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کردیں گے،ورنہ آج ایک کو نکالا گیا اور ملک کا وزیر اعظم ذاتی کام کا بہانہ بنا کر ان سے ملاقات کے لیے لند ن پہنچ گیا۔گھنٹوں سفر کرکے ایک آدمی کے مسائل کے حل کے لیے ان کے پاس وقت ہے لیکن مہنگائی کے جن کو قابو کر نے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں اس لیے کہ یہ عوامی مسئلہ ہے۔