کیا اسلام نے غلامی کی لعنت جاری رکھی اور اہل مغرب نے ختم کیا؟ محمد سعد

٭غلامی قدیم سے جدید دور تک:
غلامی دنیائے انسانیت کا ایک قدیم اور محبوب مشغلہ رہا ہے۔ ہر طاقت ور قوم اپنی مغلوب و مجبور اقوام كو بلاوجہ اپنا غلام بنا لیتی تھی اور اپنے گھروں، کھیتوں، کاروباری مراکز اور دیگر مقامات پر ان سے انتھک کام کرایا جاتا تھا۔ اس دوران مالک کو غلام پر ہر طرح کی زیادتی کرنے کا قانونی حق حاصل تھا اور جانوروں کی طرح ان کی تجارت بھی ہوتی تھی۔ قدیم اقوام میں اہلِ مصر، ہنود اور فارسیوں کے یہاں انہیں ادنیٰ حقوق بھی حاصل نہیں تھے اور کسی بھی غلطی کے ارتکاب پر انہیں زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ یونانی اور رومی تہذیب میں بھی غلاموں کو حیوانات کی طرح استعمال کیا جاتا اور ان کی تحقیر و تذلیل اور ظلم و زیادتی کو آخری حد تک پہنچا دیا گیا۔ یہودیوں، عیسائیوں کے ہاں بھی وہی رویّہ اختیار کیا گیا جو عموماً پوری دنیا میں اپنایا گیا ہے۔

1685ء میں مملكتِ فرانس نے یہ قانون بنایا كہ اگر غلام نے كسی آزاد پر كوئی زیادتی كی یا چوری كی تو اسے قتل كر دیا جائے گا اور اگر كوئی غلام پہلی یا دوسری بار بھاگ گیا تو اس كے كان كاٹ كر اسے گرم لوہے سے داغا جائے گا اور اگر وہ تیسری بار بھاگا تو اسے قتل كردیا جائے گا۔ غلاموں کو صرف یورپ نے پنجروں میں بند کرکے رکھا، ورنہ اس سے قبل ان کو پنجروں میں رکھنے کا کوئی رواج نہ تھا، ایب اوریجنز کو باقاعدہ گلے میں رسیاں ڈال کر اور جانوروں کی طرح پنجروں میں بند کر کے رکھا گیا تھا۔ گیمبیاء، نائجیریا، ساؤتھ اور سینٹرل افریقہ میں باقاعدہ جال لگا کر جانوروں کی طرح نیگروز کو پکڑ پکڑ کر امریکہ منتقل کیا گیا، جہاں ان سے دو وقت کی روٹی کے بدلے بیگار لیا جاتا تھا۔ ان ریڈ انڈینز کو کیا مرد و کیا عورت سب کو جنسی غلام بنا کر رکھا گیا۔

یہ ہے وہ تصوّرِ غلامی جو قدیم زمانے سے پوری دنیا میں عموماً اور قرونِ وسطیٰ كے یورپ اور امریكہ میں خصوصاً انیسویں صدی عیسوی كے نصف اوّل تک قائم رہا۔ یہ زیادہ پرانی نہیں، نو آبادیاتی نظام کے دور کی باتیں ہیں۔ امریکہ یورپ والے ڈیڑھ سو سال پہلے تک اسی دورِ جاہلیت کی طرز کی غلامی کو جاری رکھے ہوئے تھے، ان کی زرعی ترقی کے پیچھے ہزاروں حبشی غلاموں کا خون ہے جنہیں پکڑ پکڑکے زرعی فارموں میں جوت دیا جاتا تھا، اس پر کئی ایک فلمیں بھی بن چکی ہیں، حال ہی میں ایک فلم کو ایوارڈ بھی ملا۔ جب مشینی دور آگیا اور اس کی ضرورت نہ رہی تو انہوں نے پابندی لگا کر انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن ہونے کا ایوارڈ بھی اپنے نام کروا لیا۔

٭اسلام میں غلامی كا تصوّر اور اس كا محدود جواز:
اسلام میں بلاوجہ کسی آزاد انسان کو غلام بنانے کے تمام طریقےحرام اور ناجائز قرار دیے گئے البتہ ایک ایسی صورت تھی جسے اختیار كرنا مسلمانوں كے لیے ان كے داخلی اور خارجی معاملات كے حوالے سے ضروری تھا، وہ جنگی قیدیوں کی صورت تھی۔ ہر قوم جنگی قیدیوں كو اپنا غلام بنا لیتی تھی، اگر مسلمان اپنی فتوحات میں گرفتار كیے جانے والے دشمنوں كو چھوڑ دیتے تو ایک طرف اپنے مسلمان قیدیوں كو آزاد كرانا مشكل ہو جاتا اور دوسری جانب كفّار كے جنگی قیدیوں كو یکطرفہ طور پر چھوڑ دینے کا مطلب دشمن کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ دوبارہ قوت پکڑیں اور ایک بار پھر مسلمانوں پر حملہ کریں۔ اس لیے اس بات کی اجازت دی گئی کہ اگر تو دشمن کا رویہ مناسب ہو تو قیدیوں کو بغیر معاوضہ کے، یا معاوضہ لے کر، یا قیدیوں سے تبادلہ کر کے رہا کیا جا سکتا ہے۔ اگر حاکم مناسب سمجھے تو انہیں رہا کرکے دارالالسلام میں رہائش کا حق بھی دے سکتا ہے بجائے اس کے کہ انھیں دارالحرب میں بھیج کر دشمن کی قوت میں اضافہ کا باعث بنے، اس طرح بعض مخصوص قیدیوں کے مخصوص جرائم یا افعال پر وہ سزائے موت بھی دے سکتا ہے۔

لیکن اگر دشمن قیدیوں کے تبادلے میں دلچسپی نہ لے اور مسلمان انھیں بغیر معاوضہ رہا کرکے دشمن کی فوجی طاقت کے اضافے کے متحمل نہ ہو سکتے ہوں اور انہیں سزائے موت بھی نہ دی جا سکتی ہو تو پھر اس کا حل یہ رکھا گیا کہ ان مارجنل لوگوں کو ساری زندگی قید میں رکھنے کے بجائے اسلامی معاشرے میں مکمل انسانی حقوق کے ساتھ اس مخصوص انداز میں سمو internalize دیا جائے کہ وہ ہمیشہ marginal اور alien طبقے میں ہی نہ رہیں۔ یہ اسی انٹرنلائزیشن کا نتیجہ ہے کہ ہماری تاریخ میں باقاعدہ سلطنت غلامان قائم ہونے کی نوبت تک آگئی اور غلاموں میں سے بڑے بڑے علماء، اولیاء و سکالر بھی سامنے آئے۔ غلامی كی عارضی اجازت دے كر انہیں اپنے تصرفات میں بے اختیار كر دیا گیا تاكہ معاشرے میں كفر كے نظری و عملی اثرات نہ پھیل سكیں، لیكن اس كے ساتھ ان كی ضروریاتِ زندگی، عزتِ نفس اور حقوق كا مكمل خیال ركھتے ہوئے مسلمانوں كو ان كے متعلق اخلاقی اور قانونی ضوابط كا پابند بنا دیا گیا۔ اس کے لیے ایسے احکام و قوانین وضع کیے گئے کہ ان کی آزادی کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوئے اور ان کے رہن سہن اور ان کے ساتھ سلوک کے ایسے قواعد طے کیے جن سے آزادی اور غلامی کے درمیان فاصلے کم ہوتے چلے گئے۔

مختصر یہ کہ غلامی مسلم معاشرہ كا كوئی مستقل حصہ نہیں ہے بلكہ اسے اپنے وقت كے بین الاقوامی حالات كے تحت اسیرانِ جنگ كے مسئلہ كے حل كے طور پر گوارا كر لیا گیا، تاكہ جب تک بین الاقوامی سطح پر انسانی مساوات كا شعور پیدا نہیں ہوجاتا اس وقت تک اسے محدود طور پر جائز ركھا جائے۔ (اصلاحی، امین احسن، تدبّرِ قرآن٥٢/٢) غلامی کے اس آپشن کو مخصوص انداز میں کھلا رکھنے کے پیچھے اضطرار کا قاعدہ بھی کارفرما تھا، نیز اس میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ مسلمانوں کے درمیان رہ کر انہیں اسلام کے محاسن سے واقف ہونے کا موقع بھی ملے گا اور وہ اپنی آنكھوں سے تہذیبِ اسلامی كا مشاہدہ كر كے اسلام كو سمجھ سكیں گے۔

اسلام میں غلامی کی یہ محدود سی صورت جو جنگی قیدیوں کے بارے میں حکم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک آپشن کے طور پر باقی رہی، مغرب کے نزدیک ہمیشہ قابل اعتراض رہی، اور اسلام پر کیے جانے والے بڑے اعتراضات میں یہ بھی ایک اہم ترین موضوع رہا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ اعتراض اس دور میں بھی شد ومد کے ساتھ وارد ہوتا تھا، جب خود مغرب، خصوصاً امریکہ میں آزاد انسانوں کی خرید و فروخت کا دھندا عروج پر تھا، اور مویشیوں کی طرح انسانوں کی بھی منڈیاں لگتی تھیں، جن میں افریقہ سے انسانوں کے بحری جہاز بھر بھر کر لائے جاتے تھے، اور جانوروں کی طرح ان کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ امریکہ کی شہرۂ آفاق خانہ جنگی جو شمال اور جنوب کی جنگ کے نام سے معروف ہے، اس میں آزاد انسانوں کی اس خرید و فروخت کا مسئلہ بھی وجہ نزاع تھا۔ اس دور میں امریکہ کے جنوب کے دانشوروں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس غلامی اور انسانی خرید و فروخت کے حق میں دلائل پیش کیا کرتی تھی۔ جبکہ اسلام اس سے ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل آزاد انسانوں کی اس خرید وفروخت کے خاتمے کا اعلان کر چکا تھا۔

٭جدید دور میں غلامی پر پابندی کا قانون
جیسا کہ اوپر ذکر آیا کہ اسلام نے جنگوں میں قید ہونے والوں کے لیے غلامی کا مکمل خاتمہ نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ایک انٹرنیشنل رواج اور قانون تھا اور عالمی قوانین کسی ایک قوم کے خاتمے سے ختم نہیں ہو سکتے۔ غلامی کے جس محدود جواز کو اسلام نے اختیار كیا تھا اس كی اصل وجہ خود كفار كی اجارہ داری تھی۔ اب جبکہ اقوام متحدہ کے ذریعے سب قوموں کا غلامی کے خاتمے پر اس پر ایگریمنٹ ہوگیا تو دیگر ممالک کی طرح مسلم ممالک بھی اس فیصلے میں شریک ہوگئے۔ چنانچہ آئینِ پاکستان 1973ء كی شق نمبر11 میں درج ہے كہ غلامی كا كوئی وجود نہیں اور كسی كو غلام بنانا اس كے بنیادی انسانی حقوق كی خلاف ورزی ہے۔ دیکھا جائے تو اس معاہدے سے مسلمانوں كا اجتماعی فائدہ غیر مسلموں كی بہ نسبت زیادہ ہے كیونكہ اس سے قبل مسلمان تو كفار كے صرف جنگی قیدیوں كو غلام بناسكتے تھے اور ان سے حسنِ سلوك كے بھی پابند تھے لیكن كفار تو جنگ كے علاوہ بھی كمزور مسلمانوں كو جہاں پاتے غلام بنانا عموماً اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اس لیے اس معاہدہ سے عالمِ اسلام كو خصوصاً اور عالمِ دنیا كو عموماً تحفظ حاصل ہوا۔

عصرِ جدید میں عالمی سطح پر انسانی مساوات كے شعور كی بیداری كے باعث مسلمانوں كے بشمول دنیا كے تمام لوگوں كا ابطالِ غلامی پر اتفاق ہوچكا ہے۔ اس لیے مسلم فقہا كے نزدیك اب غلامی كے تفصیلی مسائل بیان كرنے كی بھی ضرورت نہیں ہے۔ (الموسوعة الفقیہہ، ١٢:٢٣۔ ازحیلی، وہبہ، الفقہ الاسلامی وادلتہ، ٢٥٨/٨۔)، لیکن اگر كفار آگے چل كر یہ معاہدہ توڑ دیں تو مسلمان بھی غلامی كے محدود جواز كی طرف دوبارہ لوٹ جائیں گے، اس لیے اس معاہدے سے شرعی احكام كا نسخ نہیں ہوسكتا۔ جو حكم كسی تقاضے كے تحت ہو تو اس كے تقاضے كی عدم موجودگی میں اس حكم پر عمل نہیں كیا جاتا۔ مثلاً طلاق كی اجازت ہے لیكن ہر جگہ اس كا اطلاق نہیں ہوتا بلكہ حالات سے مجبور ہوكر اس پر عمل كیا جاتا ہےیہی حال غلامی كا ہے۔

٭دور جدید میں غلامی کی شکلیں
مغرب آج اس بات کو فخر کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اس نے انسانی حقوق کے نام سے انسانوں کی خرید وفروخت کا خاتمہ کیا ہے، اور غلامی کی تمام صورتوں کو ممنوع قرار دیا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج بھی غلامی ضلالت نہیں قرار پائی بلکہ اس کواپنے مفاد کے لیے اک نئی شکل میں قبول کروا دیا گیا۔ اس غلامی کی ہزاروں شکلیں ہیں۔ آج افراد کے بجائے قوموں کو غلام بنایا جاتا اور ان کے وسائل کو لوٹا جاتا ہے۔ جدید دور کی لونڈی سیکس ورکر کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ شرعی طور پر تو موجودہ حالات اور منظرنامے میں کسی لونڈی غلام کی کوئی گنجائش موجود نہیں، لیکن جدید مہذب معاشرے میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ آج بھی اس کا کنسیپٹ موجود ہے۔ آج لونڈی کے بجائے طوائف اور سیکس ورکر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ قدیم مسلم معاشرے میں جنگ کے علاوہ کسی آزاد مرد عورت کو غلام بنانے پر بالکل پابندی تھی، جو جنگ سے قید ہوکے آتے تھے، ان لونڈی غلام کے رہن سہن، کھانے پینے، خرید و فروخت کے متعلق مسلم معاشرے میں قانون سازی کی گئی تھی، کچھ حدود مقرر کی گئیں تھیں۔ آج کی آزاد سیکس ورکرز کے لیے اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں۔ اسے ایک برگر یا ایک وقت کے کھانے کے لیے اپنا انگ انگ دکھانا ہے، اپنے حسن کی مارکیٹ لگوانی ہے پھر ان چند ٹکوں کے بدلے اس کا بری طرح جنسی استحصال کیا جانا ہے، اس کی عزت نفس مجروع کی جانی ہے۔ یہ سب بھی اس وقت تک جب تک اس میں کچھ کشش موجود ہے، کشش ختم ہونے کے بعد اسے کیسے مرنا ہے، یہ اسے خود فیصلہ کرنا ہے۔ ۔یہ بات دعوی سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ سو روپے کے لیے ذلیل ہونے والیاں اگر مسلم معاشرے کی لونڈیوں کی حالت دیکھ لیں تو لونڈی بننے کو ترجیح دیں۔

یہ تو مہذب معاشرے کی ان سیکس ورکرز (لونڈیوں) کا حال ہے جنہوں نے اپنی مرضی سے اس ضلالت کو اختیار کیا، انسانی حقوق کے چیمپئن اپنے مخالف جنگی مردوں عورتوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں، اس کی مثالیں ویت نام، عراق اور افغانستان سے دی جا سکتی ہے۔ آج سے صرف چالیس سال پہلے تھائی لینڈ، ویت نام میں لڑنے والے امریکی فوجیوں کے لیے عیاشی کا اڈا تھا، امریکی فوجیوں کے لیے اردگرد علاقوں سے لڑکیاں اغوا کرکے وہاں لائی جاتی تھیں۔ یہی کچھ اکیسویں صدی میں ان مہذب اقوام نے عراق اور افغانستان کی عوام کے ساتھ کیا، ان کے فوجیوں نے ہزاروں افغانی اور عراقی لڑکیوں کے ریپ کیے، وہ یورپ امریکہ کے بازار حسن میں لا کے بیچ دی گئیں۔ ان جنگوں میں دشمن کے مرد قیدیوں کے ساتھ گوانتاناموبے میں کیسا سلوک رکھا گیا، اس کے مناظرگوگل سے سرچ کر کے دیکھے جا سکتے ہیں، لیکن پھر بھی ہمارے لبرلز کے نزدیک یہ نہ صرف مہذب ہیں بلکہ جدید تہذیب کے بانی اور انسانیت کے رہنما بھی ہیں، ان کے مطابق ان لوگوں نے انسانیت کو تہذیب سکھلائی ہے، جینا سکھایا اور تحفظ فراہم کیا ہے۔