محبت نیوز: کیمرہ وومین، شرم و حیا کے ساتھ - عفیفہ شمسی

میں نے کہا ذرا رکیں جناب!
محبت پہ گفتگو کر لیتے ہیں، جس نے فضول کے تماشے کھڑے کر رکھے ہیں۔ بھئی، یہ عجیب معاملہ ہے کہ محبت نے ہر جگہ ٹانگ اڑا رکھی ہے۔ ہسپتال میں یا تو ڈاکٹر کو ڈاکٹر سے محبت ہو جاتی ہے، یا نرس کو ڈاکٹر سے۔ بزنس میں باس کو سیکرٹری سے محبت ہو جاتی ہے، یا کولیگ کو کولیگ سے۔ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ کو سٹوڈنٹ سے، یا سٹوڈنٹ کو ٹیچر، یا ٹیچر کو سٹوڈنٹ سے، یا پھر ٹیچر کو ٹیچر سے محبت ہو جاتی ہے۔

جوائنٹ فیملی میں کزن کو کزن سے، یا کزن کی دوست سے عشق ہو جاتا ہے۔ فیس بک پہ فرینڈ لسٹ کو ایک پوری فرینڈ لسٹ سے محبت ہو جاتی ہے، کوئی ٹیم ورک ہو تو اس ٹیم ورک کے ممبرز میں سے کسی کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی میں سے ایک ڈیپارٹمنٹ کے سٹوڈنٹ کو دوسرے ڈیپارٹمنٹ کے کسی سٹوڈنٹ سے محبت ہو جاتی ہے۔

جب کسی سے محبت ہوتی ہے اور ملتی نہیں تو کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی قسم کی خودکشی کرکے قبر سے محبت کر لیتا ہے۔ دماغ میں تو ان کے یہی ہوتا ہے کہ لیلی مجنوں کی طرح امر ہو جائیں گے، آگے جو ڈنڈے تیار ہیں، ان کی خیر ہے۔ لیکن بس محبت ہو جائے سہی۔ ایک بات بتائیں ذرا، دنیا میں کوئی اور کام رہ گیا یا بس محبت کر کے نوبل پرائز جیتنا چاہتے ہیں۔

اگر کوئی زیادہ ہی شریف بنتا ہے تو جی اپنے ابو کا نمبر دے دیں، میں شرافت سے رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں۔ جی میں بڑا شریف، اعلی بندہ، سپرمین، بیٹ مین تو پتا نہیں کون کون سا مین ۔۔۔ ہاں، جی جی، آپ کے لیے ہی تو گھر سے نکلے ہیں، کہ ابھی آپ کی پڑھائی کا پہلا سال ہو، پہلے سمسٹر میں تھوڑے سے اچھے نمبر آ جائیں تو دوسرے میں آپ کو محبت ہو گئی ہے۔ اب چونکہ آپ بہت شریف ہیں تو آپ کو شادی کرنی ہے، باقی سب جائے بھاڑ میں ۔۔۔ جی آپ پیدا ہوئے ہی شادی کرنے کے لیے تھے۔

اب چونکہ آپ کو ڈاکٹر سے محبت ہو چکی ہے، تو مریض جائیں بھاڑ میں، آپ تو ادھر رشتہ دیکھنے آئے تھے۔ جیسے گھر میں زنجیروں سے باندھ رکھا تھا سب نے، ایک ایسے علاقے میں رہتے تھے جہاں صنف مخالف کا قحط پڑا ہوا تھا، لہذا جیسے ہی فیس بک پہ آئے، آپ کو محبت ہو گئی ہے۔ خدا کا خوف کریں، آئے دن کوئی لڑکی ایسا مسئلہ لے آتی ہے کہ جس میں کوئی اس سے محبت کرتا ہے، یا اس کو کسی سے محبت ہوتی ہے۔

اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں اس بارے میں؟ تو جی اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ جو حرکتیں کر رہے ہو، یہ نہیں کرنی ہیں۔ جی محبت تو ہو ہی جاتی ہے جی، تو پھر اسلام میں پسند کی شادی سے بھی تو منع نہیں کیا ہوا۔ ہاں جی، بالکل بالکل! اس کام سے پہلے بھی شاید اسلام نے کچھ فرمایا تھا کہ ایسی نوبت ہی نہیں آنی چاہیے۔ اور اگر آ ہی گئی ہے تو یہ جو چٹ چیٹ ہے، یہ بالکل بھی فطری نہیں ہے۔

ایک بات بتائیں کہ آپ ابھی کسی جگہ قدم رکھتے نہیں ہیں کہ ان خرافات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پیدا آپ ہوتے ہی نہیں ہیں کہ آپ کو محبتیں ہو جاتی ہیں، کچھ اللہ کا َخوف کریں۔ یہ جو چند فٹ کے منوں کو آج کل محبتیں ہو رہی ہیں، میرا خیال ان کو تو love کے علاوہ کسی چیز کے سپیلنگ بھی نہیں آتے ہوں گے۔ آپ ہیں کتنے؟ رولا آپ نے ایسے ڈالا ہوا ہے جیسے آپ ما شاءاللہ دس فمیلیز کو سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ فیس بک پہ تو تماشا ہی لگا دیا جیسے دو فٹے کے بچے اور بے حیاؤں کی طرح فضول مذاق اور محبت و شادی کی رٹ۔

اٹھارہ سال کے یہ ہوتے نہیں ہیں، شور ایسے ڈالا ہوتا ہے جیسے پچاس کی عمر کراس کر گئے ہیں اور کنوارگی آوارگی میں بدلنے لگی ہے۔ دیکھیں بھئی! جن کے والدین یا گھروں کا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ جہاں شادیاں جلدی ہو جاتی ہوں، وہاں سولہ سال کی عمر میں بھی ہو جاتی ہے، لیکن یہ جو دوستوں سے سیکھ کر یا دیکھا دیکھی دو نمبر لطیفے آپ پوسٹ کر رہے ہیں، یا سنا رہے ہیں، یہ آپ کوئی کمال نہیں کر رہے ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   باقی سب کون ہیں ؟ - اسماء طارق

اتنا مسئلہ ہے تو آپ کی شادی فیس بک نے نہیں کروانی، آپ کے گھر والوں نے کروانی ہے، ان کے سر پہ جا کر ناچیں۔ یہ ماحول نہ خراب کیا کریں۔ ایک آتا ہے چار نمبر لطیفہ پوسٹ کرتا ہے یا بات کرتا ہے۔ دوسری طرف پوری ایک لائن لگی ہوتی ہے، آدھے کنوارے تو آدھے شادی شدہ سارے سرکس دیکھنے آ جاتے ہیں۔ اچھا جی! اب چونکہ اپنی جاگیر ہے، اس لیے رشتے کے پیغامات جا رہے ہیں، والدین کو بعد میں بتا دیں گے، پہلے آپ تو قبول کر لیں بہن جی! جی بالکل! اسی لیے تو فیس بک جوائن کیا ہوا ہے سب نے۔

اب یہ ہے کہ بھائی تھوڑا انتظار کرنا ذرا، جتنے رشتے آئے ہیں اس کی لسٹ بنا لوں، پھر جو اچھا لگا اس پہ ٹک کر دیں گے۔ جی اپنا معیار بھی تو دیکھنا ہوتا ہے نا جی، جی جی بالکل۔ جی، اب چونکہ ہماری شادی ہو جانی ہے، اس لیے تھوڑی چیٹ کر لیتے ہیں اور چونکہ مجھے آپ سے محبت ہے، آپ کو بھی ہو جانی چاہیے۔ جی جی بالکل! اسی میں پی ایچ ڈی کرنی ہے نوجوانوں نے۔ آپ لوگوں کو کوئی خیال بھی ہے کہ ایسے کر کے آپ کیا کر لیتے ہیں؟

اس وقت فیس بک نو سال کی بچی بھی یوز کرتی ہے، آٹھ سالہ بچے کو مسئلہ ہے کہ اسے فیس بک آئی ڈی بنا کر دی جائے، بی کوز فرینڈز گیم کھیلتے ہیں۔ اچھا جی، یہ لیں جی، جیسے آپ کہیں جی اور پھر گیم سے نئی گیم شروع ہو جاتی ہے۔ صرف لڑکے تھوڑی، لڑکیاں بھی بھرپور طور پر شامل ہیں۔ مگر جس سے آپ نے باتیں شروع کی ہیں، وہ تیرہ چودہ سالہ لڑکی بھی ہو سکتی ہے جسے آپ شادی کے خواب دکھا دیتے ہیں اور پھر اسے تو آپ سے محبت ہونی ہی ہے، کیوں نہیں ہونی؟اسے تو اس انکل سے بھی محبت ہونی ہے جو بچی سمجھ کر مفت میں چاکلیٹس دے دیتے ہیں۔ اسے سکول کے مالی بابا سے بھی محبت ہونی ہے کیوں کہ مالی بابا سب کے سروِں پہ ہاتھ رکھتے ہیں۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ جی امی، آپ کی ماں نہیں رہیں، یا تو امی ان کی نہیں مان رہیں۔ تو چلیں جی ہم اللہ میاں کے پاس چلتے ہیں، بڑے ویلے ہیں ہم۔ قبر کی مٹی کھودیں گے، تھوڑی سی ورزش ہو جائے گی۔ اب اگر آپ بڑے ہیں تو آپ تو چل دیں پیچھے، جس بچی کی زندگی خراب کی ہے، اس کا کیا کرنا ہے؟

ارے بھئی! وہ آپ کا مسئلہ تھوڑی ہے، والدین اٹھائیں گے، کسی جگہ شادی کر دیں گے۔ اور چونکہ آپ مرد ہیں (جو مردانگی اس وقت غائب ہوتی ہے) اس لیے آپ اپنی مرضی کے فیصلے کریں گے۔ اور یہ جو کاکوں کو کاکیوں سے محبتیں ہو جاتی ہیں، ان سے میرا سوال ہے کہ بیٹا آپ برتن دھونے کے لیے گھر کے لیے صابن لے آتے ہو؟ اگر امی کہیں تو دسترخوان لگا لیتے ہو؟ سکول چلے جاتے ہو نا اکیلے۔ آپ میٹرک میں کیا آ گئے ہیں، آپ کے دماغ میں بھوسہ بھر گیا ہے۔

یہ جو دو ٹکے کی محبت اور شاعری ہو جاتی ہے، آگے زندگی میں کیا ہوتا ہے، کچھ پتہ ہے؟ موبائلز ان کے ہاتھوں میں ہیں، رانگ نمبرز ان کے پاس ہیں۔ دوست سے لے کر ہر بندہ اسی قسم کا رکھا ہوا ہے۔ ما شاءاللہ جی، اقبال کے شاہین اڑ کے شادی کریں گے۔ اور یہ جو ہمارے ما شاءاللہ سے جوان داڑھی والے باجے اور نقابوں والی باجیاں ہیں، کچھ عقل ہے؟ آپ کو کوئی راستہ کیا ملا، آپ کا مقصد ہی یہ بن گیا کہ آپ زندگی خراب کر لیں؟ ایسے جیسے ڈبے میں آپ کو بند کر کے رکھا تھا انڈے میں گھسایا ہوا تھا باہر نکلے ہیں تو مارے شدت خوشی کے آپ کو جی محبت ہو گئی ہے۔

گروپ میں آپ جاتے ہیں کہ وہ جو ایک بندہ ہے نا، روز پوسٹ لائک کرتا ہے، وہ ہے اچھا بندہ، لڑکیوِں کی بڑی عزت کرتا ہے۔ وہ جو آپ کے فالوورز میں سے ایک باقاعدگی سے آپ کی پوسٹ لائک کرتا ہے نا، عنقریب اس کا رشتہ آ جانا ہے۔ او بی بی! میری بات سنو امی ابو مان جائیں گے؟ لڑکا منوا لے گا، وہ سپائیڈر مین؟ نہیں پتا؟ تو یہ کیسے پتا ہے کہ گپ شپ کرنی ہے، وعدے کرنے ہیں، مرنا ہے تو زندہ ہونا ہے۔ جی ہماری محبت تو چھ سال پرانی ہے۔ اچھا جی؟ تو کتنے سال کی تھی آپ؟ جی چودہ۔ یہ نا ہمارا ہمسایہ ہے، اسے پیدا ہوتے ہی مجھ سے محبت ہو گئی تھی۔ اللہ کی قسم مر جاؤں گی، گڑ کھا لوں گی، دودھ پی لوں گی پر اس کے سوا کسی سے شادی نہیں کروں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا سے فرار! - شیخ خالد زاہد

لو جی! خواتین بھی کم نہیں ہوتیں۔ ان کو ایک تو یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ دوسرا ہماری طرف متوجہ کیوں ہے یا پھر ان کو یہ مسئلہ ہے کہ دوسرا ہماری طرف متوجہ کیوں نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بگڑتے معاشرے میں جس طرح کی امیدیں قائم ہو چکی ہیں، ان پہ ضرب لگے تو بڑی انا جاگتی ہے۔

یہ عورتوں نے بھی بڑوں کے ایمان خراب کیے ہیں۔ مجھے بتائیں کبھی مرد نہیں دیکھا؟ اور یہ اتنے سال کی تربیت کہاں جاتی ہے؟ کہ جی آپ یونیورسٹی میں کیا چلے گئے، کسی نے پیشکش کیا کر دی، سارا کچھ بھاڑ میں گیا؟ فیس بک پہ کسی نے میسج کیا کر دیا کچھ دن، سارا کچھ شروع؟ اور مردوں کی بھی خوش فہمیاں ذرا چیک کریں کہ اگر کوئی خاتون ایک دو دفعہ کسی کام کے سلسلے میں بھی آپ سے رابطہ کر لے تو آپ کی گردن میں سریا آ جاتا ہے کہ جی وہ نا بس ہو گئی، عاشق ہو گئی بس۔

اگر آپ مرد ہیں اور عمر میں بڑے ہیں اور کسی چودہ پندرہ سالہ لڑکی کو عمر جاننے کے باوجود چکنی چپڑی باتوں میں لگائے رکھتے ہیں، تو بھائی جان قصور اس کا نہیں، آپ کا زیادہ ہوگا۔ دوسرا لڑکی کو بھی پتا ہونا چاہیے کہ ادھر سارے انکل نہیں ہیں، جو آپ کو گڑیا کہہ دیں گے تو آپ محبت میں فنا و غرق و غارت ہو جائیں گی۔ حد ہی ہو گئی ہے، مصیبت ڈال رکھی ہے۔ نہ صرف اپنی زندگی خراب، پھر اگلے کی بھی خراب۔ دیکھیں یہ مصروفیات ان کی ہوتی ہیں، جنھیں اور کوئی کام نہیں مل رہا ہوتا۔ اور کام ملنا نہیں ہوتا آپ نے ڈھونڈنا ہوتا ہے، جو آپ نے مقصد بنایا ہے، نظر وہیں رہے گی۔ اور پھر اس مقصد سے نظر جھکانے کا حکم کیوں دے دیا اللہ نے؟ پھر جی ایک طرف وہ لوگ ہیں جو واقعی شرافت سے نکاح کی پیشکش کرتے ہیں، تو حضور والا! یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا دور نہیں ہے یہ ساڑھے چودہ سو سال بعد کا زمانہ ہے، ٹھیک ہے ؟ جہاں آپ کتنا ہی کہہ لیِں کہ آپ کی پسند ہے لڑکی کا کردار ٹھیک یے، الزام ملے گا لڑکی کو ہی اور آپ کی بھی عزت نہیں ہو گی۔ بد دعائیں ملیں گی لڑکی کو ہی۔

تو سیدھا سادا مشورہ ہے کہ اللہ پہ بھروسہ کریں، والدین پہ بھروسہ کریں۔ ٹھیک ہے، نہیں کہتے کہ محبت کی نہیں جاتی، ہو جاتی ہے، بالکل ہو جاتی ہے، لیکن اپنے سورس تک جائیں، ان کو بتائیں، اور اس سے پہلے ایک دوسرے کو ساتھ جینے مرنے اور لٹنے لڑنے کے خواب مت دکھائیں۔ صاف سیدھا کرپشن سے پاک کام کریں اور موج کریں۔ تھوڑا سکون بھی لینے دیں کسی جگہ، لیکن اللہ کا واسطہ یہ پبلک میں شادی یا محبت کے حوالے سے عجیب و غریب ڈھنڈورے پیٹنا بند کر دیں۔

آپ جانتے بھی نہیں ہیں کہ اس وقت کتنے آپ کو کچا کھانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں ان خرافات کی وجہ سے۔ اور اب اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد جتنے لوگ مجھ سے یہ پوچھیں گے کہ کیا ہوا، کس نے آپ کو ایسا کہہ دیا وغیرہ وغیرہ، کیوں کہ امی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہ خود ہوتا ہے، اس لیے یہ سب آپ پہ بیتا ہے، تو جی کس کی ہمت ہوئی ایسا کہنے کرنے کی؟ ان سے میری گزارش ہے کہ آپ کو اردو بہتر کرنے کی از حد ضرورت ہے۔ مجھے جو مسئلہ ہوگا وہ میں یہاں نہیں لکھوں گی، اسے حل کروں گی۔ یہ مسئلے اس جوان عوام کے ہیں، جن کی محبت جوش میں آ گئی ہے اور خود کشیاں کر کر کے مرے جا رہے ہیں۔