امانت کا سفر - ریاض علی خٹک

ایک نسل کا علم و عمل دوسری نسل کے لیے امانت ہوتی ہے۔ آدم علیہ السلام سے شروع انسانیت کے اس سفر میں ہر نسل اپنے پیغام و مقاصد زندگی کی امانت دوسری نسل کو منتقل کرنے پر مامور تھی اور ہے۔ جب اور جہاں اس میں خیانت کرنے والی نسل آئی، یا ایسا دور آیا، اللہ رب العزت نے نبی و رسول بھیج کر آدم کی نسل کو سبق واپس یاد دلایا۔

یہ سبق اللہ رب العزت سے صرف زبانی ہی نہیں ملا، کتابی بھی ملا۔ یہ امانتوں کا سفر تھا۔ یہ امانت ٹھیک ٹھیک پہنچانے کا سفر تھا۔ نبی مرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر امانتوں کا یہ سفر تکمیل کو پہنچا۔ آدم علیہ السلام سے نوح، یعقوب و ابراہیم علیہم السلام کا زبانی سفر بھی مکمل ہوا، موسی علیہ السلام سے داؤد و عیسی علیہ السلام تک کا کتابی سفر بھی۔

اس کے بعد کے سفر کا انداز بدلا گیا۔ یہ آخری امت کا انعام تھا۔ اسے ان امانتوں کا امین بنایا گیا جن پر پہلے نبی، پیغمبر اور رسول بھیجے جاتے تھے۔ وہی نسلوں کی امانت اب اس آخری امت نے تاقیامت نسل در نسل منتقل کرنی تھی۔ خطبہ حجۃ الوداع میں نبی مرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔

لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ خانہ خدا کا حج بجا لاؤ۔

میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے، وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ۔

اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
لوگو! قیامت کے دن خدا میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہم کہیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘، ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘، ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘ اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں، وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:   عقیدۂ نبوت و رسالت - مفتی منیب الرحمن

اس امت کی پہلی نسل اصحاب نبی تھے۔ تکمیل دین کی امانت ان کو منتقل کردی گئی۔ اصحاب نبی نے اس امانت کا حق ادا کردیا۔ جزیرہ عرب میں کسمپرسی میں جینے والے یہ امانت دار اپنی امانت کو سر کا تاج اور حیات کی روح بنا کر چہار سو پھیل گئے۔ عراق سے فارس شام و فلسطین سے ہندوستان تک سمندر میں محصور جزیروں تک کونسی جگہ ہے جہاں اس صحرا عرب کے سرفروش نہیں پہنچے۔

یہ امانتوں کی اول امین نسل تھی۔ یہ وہ نسل تھی جن کو زندگی میں ہی جنتوں کی بشارت ملی تھی۔ آج امت اپنی سانس سانس ان کے قرضوں کی مقروض ہے۔ شیطان جس نے نسل انسانیت کو بہکانے کا چیلنج دیا تھا۔ آدم کو جنت سے نکلوانے والے اس شیطان کو بھی اب اپنا انجام نظر آرہا ہے۔ شیطان کا چیلنج کیا ہے؟ اس امانت کی ترسیل روکنا یا اس میں خیانت کی آلودگی ڈالنا۔ تکمیل رسالت کے بعد اب اس کا آخری وار یا ختم نبوت پر ہوتا ہے، یا امانت کی اولین نسل کو مشکوک کرنے پر۔ قرآن اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ اس پر چودہ سو سال قبل ہی اللہ نے شیطان کے ہر چیلے کو چیلنج کیا تھا کہ اگر کرسکتے ہو تو آؤ اس کی آیت کے مثل ایک آیت ہی بنا دو۔ آج چودہ سو سال بعد بھی یہ ممکن نہ ہوسکا۔ امت پر امانت میں ذات کے عمل کے علاوہ دوسری نسل تک یہ امانت ٹھیک ٹھیک پہنچانا فرض ہے۔ جب بھی جہاں بھی جس انداز میں بھی کوئی ختم نبوت یا اصحاب رسول پر شک کا بیج ڈالے، سمجھو کہ وہ شیطان کا چیلہ ہے کہ اصحاب نبی اس آخری امت کی پہلی نسل اور دین کی عمارت کی بنیاد ہیں۔ پہلی نسل مشکوک تو شیطان کا ہر وار آسان ہوجائے گا۔ یاد رکھو ہر نسل دوسری نسل کو تاقیامت اس امانت کو مکمل دینے پر مامور ہے۔ یہی امت محمدی کی شان ہے۔ یہی امانت داری اس کی پہچان ہے۔ اپنی پہچان کو داغدار نہ کریں۔

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.