بچوں کی نماز والدین کی ذمہ داری - عادل سہیل ظفر

رسول اللہ صلی علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی اُمت کو حکم فرمایا مُرُوا أَوْلاَدَكُمْ بِالصَّلاَةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِينَ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِى الْمَضَاجِعِ جب تمہارے بچے ساتھ سال کے ہو جائیں تو اُنہیں نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز (نہ پڑھنے پر اُن کی پٹائی کرو، اور اُن کے بستر الگ الگ کر دو (سُنن ابو داؤد/حدیث /495کتاب الصلاۃ /باب 26 مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلاَمُ بِالصَّلاَةِ، سُنن ابو داؤد/حدیث /409کتاب الصلاۃ /باب 187 مَا جَاءَ مَتَى يُؤْمَرُ الصَّبِىُّ بِالصَّلاَةِ، إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے دونوں روایات کو"حِسنٌ صحیح"قرار دِیا)۔ اِس کے علاوہ یہ حدیث شریف اِلفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ، مُسند احمد، اور سنن الدار قطنی میں بھی مروی ہے،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِس مذکورہ بالا حکم کے مُطابق مُسلمانوں میں سے ہر ایک ماں اور باپ اپنی اولاد کو نماز سِکھانے اور پڑھانے کا ذمہ دار ہے، حتیٰ کہ اگر بچہ یا بچی دس سال کے ہو جانے کے بعد نماز میں کوتاہی کریں تو اُنہیں اِسلامی حُدود میں رہتے ہوئے مارنے کا حکم دِیا گیا۔

اگر کوئی بچہ یا بچی کسی بھی غلط تربیت، یا غلط خیالات و اِفکار کی وجہ سے نماز پڑھنے میں کوتاہی کرتا ہے، تو والدین کی جان صِرف اُس غلط تربیت، یا غلط خیالات و افکار کو کوسنے سے ادا نہیں ہو جائے گی بلکہ اُن کی ذمہ داری میں یہ اِضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اُس غلطی کے بارے میں اچھے، نرم اور مدلّل انداز میں سمجھائیں، ایسے انداز میں جِس کے ذریعے اُن کی اولاد کو یہ احساس ہوتا رہے کہ والدین اُس کی بھلائی اور خیر کے لیے ہی اُسے یہ سب کچھ سمجھا رہے ہیں۔

مزید یہ کہ اِس حدیث شریف سے مُراد صِرف نماز کی تعلیم و تربیت ہی نہیں، بلکہ عقیدے اور مُعاشرت سے متعلقہ تمام تر بنیادی اِسلامی احکام کی تعلیم اور تربیت بھی ہے، نماز کا ذِکر اِس لیے فرمایا گیا کہ نماز بدنی عبادات میں سب سے أہم اور مُستقل طور پر ادا کیے جانے والا فریضہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ارض پاک میں نماز پڑھنا کتنا مشکل - محمد عاصم حفیظ

پس اپنی ذمہ داریوں میں ادائیگی کی کوتاہی کو دُوسروں کی غلطیوں کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کرنا یقیناً خیر والا ہے۔ جب تک اِسلامی تعلیم اور تربیت گھر سے میسر نہیں ہو گی، اچھے مُسلمان کی شخصیت سازی کی بنیاد مُیسر نہیں ہو گی، اور جہاں اچھی مُسلم شخصیات نا پید ہو ں گئی، تو،، ، بلا شک وہاں کوئی صالح مُعاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔

اللہ تعالیٰ کی سُنّت کے خِلاف، حکومتیں حاصل کرنے کے بعد، قوت اور اختیارات حاصل کرنے کے بعد، زور زبردستی کے ذریعے صالح مُعاشرہ بنانے کے زعم میں مُبتلا لوگوں نے اِسلامی مُعاشرے کو سوائے تفرقہ بازی اور نفرتوں کے اور کچھ نہیں دِیا۔

فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا لہذا آپ ہر گِز بھی، اللہ کی سُنّت میں کوئی تبدیلی نہیں پا سکتے، اور ہر گِز بھی اللہ کی سُنّت کے متوازی کچھ اور نہیں پا سکتے(سُورت فاطر (35)/آیت 43)

یاد رکھیے، اللہ پاک کی سُنّت کے خِلاف اپنایا گیا کوئی بھی راستہ، کوئی بھی منھج و مسلک، کوئی بھی سوچ و فِکر، کوئی بھی منطق و فسلفہ دُنیا اور آخرت کے نُقصان کے عِلاوہ کچھ اور لانے والا نہیں اور اللہ تعالٰی کی سُنّت یہ نہیں کہ پہلے اپنے اِیمان والے بندوں کو حکومتیں دے، اور پھر اپنا دِین نافذ کرنے کا حکم دے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی سُنّت اپنے ایمان والے بندوں کو ایمان لاتے ہی، اپنے اور اپنے اِرد گِرد والوں پر اللہ کی تابع فرمانی کا حکم دینا ہے، اور یہی اُس کے ہاں مطلوب و مقبول ہے، اور یہی اُس کا مقرر کردہ طریقہ ہے کِسی صالح مُعاشرے اور نظام کو وجود میں لانے کا،

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ اے اِیمان لانے والو، اپنی جانوں کو اور اپنے اھل خانہ و خاندان کو اُس آگ سے بچاؤ جِس کا ایندھن اِنسان اور پتھر ہیں، اور اُس آگ پر ایسے نگران مقرر ہیں جو بہت ہی سخت دِل اور تُند خُو ہیں، جو کچھ اللہ اُنہیں حکم دیتا ہے اُس کی نافرمانی نہیں کرتے (سُورت التحریم (66)/آیت6)

یہ بھی پڑھیں:   ارض پاک میں نماز پڑھنا کتنا مشکل - محمد عاصم حفیظ

اپنے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو بھی یہی منھج عطاء فرمایا وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ اور (اے محمد) اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈراؤ (سُورت الشُعراء(26)/آیت214)

اور اِسی منھج پر اُنہوں نے کام کیا، اور اللہ تعالٰی نے صحابہ رضی اللہ عنہم پر مُشتمل ایسا صالح مُعاشرہ اور نظام قائم فرما دِیا جِس کی نظیراِنسانی تاریخ میں نہیں ملتی اور نہ مل سکتی ہے۔

اِسی طرح اور صِرف اِسی طرح نیکو کار افراد مہیا ہوتے ہیں، جن کی کثرت سے صالح مُعاشرہ وجود میں آتا ہے، اور پھر اللہ تبارک و تعالیٰ خود ہی اُن میں سے اُن کے لیے صالح قیادت بھی مہیا فرماتا ہے، جو اللہ کے دِین کو سارے مُعاشرے میں نافذ کرنے والی ہوتی ہے، اور نیک لوگوں کی کثرت کی وجہ سے دِین کا نفاذ آسان اور دیرپا ہو جاتا ہے۔

یہی اللہ تعالیٰ کی سُنت ہے، جِس میں تبدیلی کی قطعا کوئی گنجائش ہی نہیں۔ پس، اپنے بچوں کی، اور اپنے اہل خانہ و خاندان، اور اِرد گِرد والوں کی تربیت ہم سب کی ذمہ داری ہے، نہ کہ کِسی نظام کی، جب تک ہم اپنی ذمہ داری کِسی اور کے سر منڈھ کر اُسے قصور وار ٹھہراتے رہیں گے، اِصلاح کا نہیں فساد کا سبب بنتے رہیں گے، اور جب تک ہم اللہ تعالٰی کی سُنّت کے مُطابق، اُسی کے دیے ہوئے منھج کے مُطابق اپنی، اپنے بچوں، اپنے اھل خانہ و خاندان اور اپنے قریب والوں کی تعلیم و تربیت نہیں کرتے، خیر پانے اور پھیلانے کی بجائے شر پانے اور پھیلانے والے ہو جانے کے زیادہ قریب رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق جاننے، ماننے، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.