مائنس نواز فارمولا وقت کی ضرورت - یاسر محمود آرائیں

کہتے ہیں کہ مال اور اولاد انسان کی سب سے بڑی آزمائش ہوتی ہے اور اکثر انہی کی محبت میں مبتلا ہوکر انسان جائز ناجائز کی پروا چھوڑ دیتا ہے اور کوئی ایک قدم غلط اٹھاکر برسوں کی ریاضت سے کمائی گئی عزت لمحوں میں گنوا بیٹھتا ہے۔ شاید اسی لیے مال اور اولاد کے فتنے سے قرآن پاک میں بھی پناہ مانگی گئی ہے۔ میاں صاحب بھی آج کل اپنے مال اور اولاد کی محبت کی وجہ سے قطار در قطار غلطیاں کرتے چلے جارہے ہیں اور ان کو بالکل بھی اندازہ نہیں ہورہا کہ اس وقت خلقِ خدا اُن کے بارے میں کیا سوچ رہی ہے یا پھر وہ جانتے بوجھتے ہوئے نوشتہ دیوار پڑھنا نہیں چاہ رہے۔

میاں صاحب کا مزاج ویسے تو شروع سے مطلق العنانی اور آمریت کا نمونہ رہا ہے اور انہوں نے آج تک ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود کسی بھی معاملے میں کبھی اپنے رفقاء سے مشاورت کی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ ان کا کلی انحصار ہمیشہ سے اپنی کچن کابینہ اور خوشامدیوں پر رہا ہے اور ماضی میں اپنے اسی رویّے کی وجہ اُن کو اور ان کی جماعت کو بہت نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔

اس بار توقع کی جارہی تھی کہ میاں صاحب نے شاید ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہوگا اور آئندہ ایسے اقدامات سے گریز کریں گے، جن کی وجہ سے وہ اور ان کی جماعت ماضی میں نقصان سے دوچار ہوچکی ہے۔ مگر اب کی بار بھی حکومت سنبھالنے کے بعد میاں صاحب نے ایک بار پھر انہی خوشامدیوں کی باتوں کو ترجیح دینا شروع کردی جنہوں نے اپنے مفادات کے تحت غیر محسوس انداز سے میاں صاحب کے ذہن میں یہ بات ڈالنا شروع کردی کہ پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے اور اقتدار کو اپنے خاندان میں رکھنے کے لیے مریم نواز شریف کو آگے لانا چاہیے۔

ان باتوں میں آکر میاں صاحب نے مریم نواز کی گرومنگ کے لیے ان کی قیادت میں وزیراعظم ہاؤس میں ایک ٹیم بنادی اور موجودہ دور حکومت میں پس پردہ تمام رموز حکومت وہی ٹیم سر انجام دے رہی تھی۔ میاں صاحب نے بہت سے معاملات پر اپنے سینئر رفقاء کی تشویش کو نظر انداز کرکے اپنی بیٹی اور ان کی ٹیم کی گائیڈ لائن پر عمل کیا جس کا نتیجہ وہ اب تک بھگت رہے ہیں۔ مگر پدرانہ محبت نے ان کی عقل پر ایسا پردہ ڈالا ہوا ہے کہ وہ اب بھی اپنی غلطیوں سے رجوع کرنے کے بجائے انہی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

بلا شبہ ہر انسان کے اندر اولاد کی محبت ایک فطری جذبہ ہے اور یہ نسل انسانی کی بقا کے لیے لازم ہے۔ اس کے علاوہ ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرے بعد میری چھوڑی ہوئی میراث میرے بچوں کو منتقل ہوجائے اور میاں صاحب کے دل میں بھی اس خواہش کا پیدا ہونا اک فطری عمل ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات ہرگز نہیں۔ مگر میاں صاحب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت میں قیادت وراثت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر منتقل ہوتی ہے اور میاں صاحب شاید یہ بات بھول گئے ہیں یا پھر وہ قوم کے حافظے کو اتنا کمزور تصور کررہے ہیں کہ ماضی میں وہ عورت کی حکمرانی کے سخت ناقد رہے ہیں اور محترمہ بینظیر کی حکمرانی کو غیر شرعی ثابت کرنے کے لیے تو انہوں نے پانچ سو علماء سے فتویٰ بھی حاصل کیا تھا مگر اب اپنی بیٹی کی خواہش اور پدرانہ شفقت میں شاید انہوں نے یہ بات فراموش کردی ہے اور اپنی بیٹی کی ہی خواہش پر انہوں نے اپنے سگے چھوٹے بھائی شہباز شریف، جن کی وفاداری اور تابعداری کسی شک وشبہے سے بالاتر ہے، وزیراعظم بنانے سے انکار کردیا تھا اور اب جب کہ خود نواز شریف مختلف مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی پارٹی پر گرفت دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ خود جماعت کے اندر سے بارہا شدت سے یہ مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ جماعت اور اس کے سیاسی مستقبل کو بچانے کے لیے نواز شریف کو چاہیے کہ پارٹی شہباز شریف کے حوالے کردیں اور خود یکسوئی کے ساتھ اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں۔ مگر اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نواز پارٹی صدارت اپنے چچا کو سونپنے پر آمادہ نہیں ہورہیں کیونکہ وہ انہیں اپنے سیاسی مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور اس صورت ان کو اپنے پس پردہ چلے جانے کا اندیشہ ہے اسی واسطے میاں صاحب اب تک اس بات سے انکاری ہیں۔

ملک کا وزیراعظم بننا ہر سیاست دان کے دل کی آرزو ہوتی ہے اور میاں صاحب کی نااہلی کے بعد ان کے بھائی شہباز شریف اپنی بے مثال انتظامی صلاحیتوں اور سب سے بڑی بات تمام سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں قبول عام کی سند رکھنے کی وجہ سے بجا طور پر اس بات کے سب سے زیادہ اہل تھے اور ان کے دل کی بھی یہ خواہش تھی کہ وہ وزیراعظم بنتے۔ مگر انہوں نے اپنے بھائی کی رواداری میں کھل کر اس بات کا مطالبہ نہیں کیا لیکن ان کے اس منصب کو سنبھالنے میں بھی ان کی بھتیجی کی خواہش رکاوٹ بن گئی کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ایک بار اگر اقتدار ان کی فیملی کے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر وہ دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ اپنی اس بے توقیری اور حق تلفی پر شہباز شریف سخت رنجیدہ ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب داتا دربار پر تقریر کے لیے ان کے نام کی اناؤسمنٹ کی گئی تو انہوں نے تقریر سے صاف انکار کردیا۔ مگر بعد میں جب سعد رفیق کے پرزور اصرار پر انہوں نے تقریر کی تو اس میں بھی انہوں نواز شریف کے برعکس اداروں پر تنقید کے بجائے سیاسی مخالفین تک ہی خود کو محدود رکھا۔ اس کے بعد ورکرز کنونشن میں بھی کھلے عام انہوں نے نواز شریف کی پالیسیوں سے اختلاف کرکے اپنی ناراضگی کا ثبوت دیا۔ گزشتہ کچھ دنوں سے یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ شہباز شریف کےحامی ایم این ایز میں سخت اضطراب اور بے چینی پنپ رہی ہے اور تاثر یہ مل رہا ہے کہ جماعت کے اندر نواز شریف کے خلاف بغاوت قائم ہوچکی ہے اور مختلف لوگ اب کھلے عام شہباز شریف کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جماعت اور حکومت کو میاں صاحب اور ان کی بیٹی کے شوق مہم جوئی کی بدولت ہونے والے کسی بڑے نقصان کے اندیشے کے پیش نظر آگے بڑھ کر پارٹی کو ٹیک اوور کرلیں۔ مگر شہباز شریف کی نفسیات اور ان کے ماضی کو جاننے والے جانتے ہیں کہ خواہ میاں صاحب کے خیالات ان کے بارے میں کچھ بھی ہوں، وہ کبھی بھی اپنے بھائی کو بائی پاس کرکے کسی سرگرمی کا ہرگز حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی ان کی رضامندی اور آشیرباد کے بغیر کبھی کسی منصب کو قبولنے پر تیار ہوں گے۔

مگر اب نواز شریف صاحب کو لازماً سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ اپنی جماعت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پارٹی صدارت شہباز شریف کے حوالے کردیں۔ انہیں کھلے دل سے یہ بھی تسلیم کرلینا چاہیے کہ ان کی جماعت میں آئندہ وزارت عظمیٰ کے لیے وہی اہل ہیں اور وہی ان کے بعد ان کی جماعت کو متحد رکھ سکتے ہیں۔ محض اپنی بیٹی کی خواہش پر اپنی جماعت کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگائیں۔ پہلے ہی ان کی بیٹی اور اس کے میڈیا سیل نے ہی انہیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔ پاناما کیس میں بھی نواز شریف نے سینئر اور سنجیدہ رہنماؤں کے مشوروں کو نظر انداز کرکے تمام انحصار خوشامدیوں پر کیا تھا، جن کی وجہ سے آج وہ نااہل ہوکر نا صرف وزیراعظم ہاؤس سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ گرفتاری کا خطرہ بھی ان کے سر پر منڈلا رہا ہے ۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ اولاد کی فرمائش کی تکمیل کرتے کرتے ان کی پارٹی کا ہی شیرازہ ہی بکھر جائے۔

نواز شریف کو یہ ادراک بھی ہونا چاہیے کی ان کی آئندہ زندگی اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کاروباری مفادات کی نگہبانی کے لیے لازم ہے کہ ان کی پارٹی میں آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرے اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب ان کی جماعت متحد ہوگی۔ موجودہ سیناریو میں جب پاناما کا فیصلہ مخالفت میں آچکا ہے اور عوام الناس کے ذہنوں میں موجود نواز شریف کے بارے میں ایمانداری کا تاثر ڈانواں ڈول ہوچکا ہے، مخالفین اس بات کو سر پر کھڑے آئندہ الیکشن میں اپنے حق میں پوری طرح استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایسے نازک موقع پر پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کی تقسیم کا ذرّہ برابر بھی تاثر مسلم لیگ کے لیے سیاسی موت کا سبب بن جائے گا۔ اس لیے نواز شریف صاحب کو چاہیے کہ پارٹی اور خود اپنے وسیع تر مفاد میں جب تک حالات سازگار نہیں ہوتے سامنے سے ہٹ جائیں اور جماعت کو اپنے بھائی کے حوالے کردیں جو دوسروں سے زیادہ خود ان کے مفاد میں سب سے بہتر ثابت ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com