ہیلوئین: روشنی سے اندھیرے کی طرف سفر - عائشہ غازی

لاہور کے ایک مغرب زدہ سکول کا بچوں کے گھر بھیجا ہوا ہدایت نامہ نظر سے گزرا جس میں اکتیس اکتوبر کو سکول میں "ہیلوئین " منانے کے لیے تیاری کی ہدایات تھیں ۔ معلوم نہیں پاکستان میں یہ تہوار منانے کے خواہشمند لوگ اس تہوار کی حقیقت جانتے ہوئے بھی اسے منانا چاہتے ہیں یا بس انگریز کا منہ لال دیکھ کر اپنے گالوں پر چانٹے مارنے لگے ہیں ؟

اکتیس اکتوبر کو مغربی دنیا میں منایا جانے والا تہوار "ہیلوئین " کیا ہے؟ یہ شیطان، چڑیلوں اور کئی خداؤں کی عبادت کرنے والے قدیم مذہب کا ایک تہوار ہے جن کا ماننا تھا کہ ہیلوئین کی رات مرے ہوئے لوگ بھوت اور چڑیلیں بن کر ان کے درمیان اترتے ہیں۔ اس لیے وہ خود کو ان سے بچانے کے لیے ان جیسا روپ دھار کر، جانوروں کی کھالیں اور ان کے سر پہن کر آگ کے گرد ناچنے تھے، اس آگ پر قربانیاں پیش کرتے تھے اور پھر وہی آگ گھروں میں لے جا کر جلاتے تھے، یہ مانتے ہوئے کہ یہ آگ ان کی حفاظت کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ان مرے ہوئے لوگوں کی بدروحوں کے لیے کھانے کا سامان بھی گھر سے باہر رکھتے تھے تاکہ بدروحیں انہیں تنگ نہ کریں ۔ جب عیسائیت آئی اور ان قبائل تک پھیلی تو عیسائیت نے اپنے مُردوں کو یاد کرنے کے دن کو اس دن کے ساتھ ملا لیا تاکہ ان غیر عیسائی قبیلوں کو اپنے اندر سمونے میں آسانی ہو۔ غریب عیسائی امیروں کے در کھٹکھٹاتے کہ وہ انہیں کچھ کھانے کو دیں گےاور غرباء اس کے بدلے ان کے مُردوں کے لیے دعا کریں گے۔لیکن تب سے آج تک بنیاد پرست عیسائی اس تہوار کو ناپسند کرتے ہیں اور یہودیوں کے ہاں بھی یہ دن نہیں منایا جاتا البتہ یہودی ساری مغربی دنیا میں اس دن کی مناسبت سے ڈراؤنے لباس فروخت کر کے پیسہ کمانے میں پیچھے نہیں رہتے۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ اہم کام جو بچوں‌کو اعتماد دیں-ہمایوں‌مجاہد تارڑ

1966 میں شیطانیت نے خود کو دوبارہ ایک مذہب کے طور پر عوام الناس کے سامنے رکھا اور چرچ آف سیٹن ( شیطان کا گرجا) نام کی تنظیم منظر عام پر آئی۔ مذہب شیطانیت میں تین اہم تہوار ہیں اور دو کم اہم۔ ان تین اہم تہواروں میں پہلا ہر شیطان (اس تنظیم کے رکن ) کی سالگرہ ہے جسے یہ اس لیے مناتے ہیں کہ کہ اپنی ذات کو یہ اپنا خدا مانتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں کہ اس دن شیطان ( ان کا اپنا آپ) دنیا میں آیا۔ دوسرا اہم ترین تہوار ان کے لیے یہی ہیلوئین ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ اس دن یہ تہوار منانے والا ہر انسان ان شیطانوں جیسا ہو جاتا ہے اور اپنے وجود میں سے ان شیطانی جبلتوں کو کھنگھالتا ہے جسے یہ عام دنوں میں محسوس نہیں کرنا چاہتا۔ مذہب شیطانیت کا کہنا ہے کہ سارا سال جو لوگ ان پر ہنستے ہیں، ہیلوئین کے دن شیطان ان پر ہنستے ہیں کہ آج تم بھی ہم جیسے ہو۔ یہ تمام باتیں افسانے نہیں حقائق ہیں۔ مذہب شیطانیت کی آفیشل ویب سائیٹ پر یہ تمام حقائق موجود ہیں۔

ان تمام حقائق کو جاننے کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ پاکستان کے ایسے پرائیوٹ سکولوں میں جنہیں ابتدائی تعلیم میں اعلیٰ معیار تصور کیا جانے لگا ہے، بچوں پر ایسے شیطانی تہوار کا اہتمام لازم کیوں کیا جارہا ہے ؟ والدین کو کئی روز پہلے ہدایات بھیج دی جاتی ہیں کہ بچوں کو اس تہوار کی مناسبت سے لباس پہنا کر بھیجیں ۔ والدین پوچھتے تک نہیں کہ آخرایسی کون سی تربیت یا ایسی کون سی معاشرتی اور سائنسی ترقی ہے جو بچوں کو ہیلوئین منوائے بغیر نہیں ہو سکتی ؟ اگر یہ ناسمجھی ہے تو کیا ایسے بے عقل لوگ بچوں کی تعلیم کے ٹھیکیدار بن کے بیٹھے رہنے کے قابل ہیں جنہیں خود شعور کی پہلی جماعت میں زیر تعلیم ہونا چاہیے؟ اگر یہ ناسمجھی نہیں تو سوچ سمجھ کر کیا کیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ دجّالیت کی ایک سوچی سمجھی تدبیر ہے جس کے تحت شیطانیت کو اس طرح غیر محسوس طریقے سے روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے لوگوں کے لیے یہ زندگی کا حصہ بن جائے ؟ وہی پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا تھا اور جہاں ہر سال مغربی سروے رپورٹس یہ جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ کتنے فیصد لوگ اسلامی نظام زندگی چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ اہم کام جو بچوں‌کو اعتماد دیں-ہمایوں‌مجاہد تارڑ
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ہیلوئین تہوار مناتے ہوئے

حیرت ہے کہ اندھی تقلید کرنے والے لوگ مغرب کی محبت میں اس قدر بے شعور اور کھوکھلے ہو چکے ہیں کہ یہ اپنی اولادوں کو کالے انگریز بنانے کے لیے کوئی بھی قیمت دینے کو تیار ہیں ۔اپنا مذہب، اپنی تہذیبی شناخت سے لے کر بھاری مالی معاوضوں تک، کوئی بھی قیمت ۔ ان کے خالی پن میں صرف زمینی آقاؤں کی آواز گونجتی ہے، ایسے آقا جن کے لیے ان کی اہمیت بے روح غلاموں سے زیادہ کچھ نہیں ۔ شاید فکری غلامی، اندھی تقلید اور احساس کمتری کی اس سے بدتر مثال کہیں آس پاس نہ ملتی ہو لیکن پھر بھی یہ بے نظریہ طبقہ بضد ہے کہ تہذیب کا معیار یہی ہیں۔

یہ یاد رہے کہ اسلام اور شیطانیت ایک دل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے کہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ جہاں اللہ کی روشنی نہ رہے، اس دل کا نصیب لامتناہی اندھیرا ہے۔ ہم کیسے اپنی اور اپنے بچوں کی روشنی کی حفاظت نہ کریں کہ ہم اپنی قبروں کے منور ہونے کی دعا کرتے ہیں اور ہم وہ لوگ نہیں جن کے مردے بدروح کی شکل میں خوف پھیلانے اترتے ہیں ۔ ہمارے لیے سال میں خوف اور بدروحوں کی رات نہیں ہوا کرتی بلکہ ایسی رات اترتی ہے جو طلوع صبح تک سلامتی ہے ۔ اللہ فتنوں کے دور میں سلامتی کے خواہشمندوں کی حفاظت کرے

Comments

عائشہ غازی

عائشہ غازی

برطانیہ میں مقیم عائشہ غازی وکیل، سماجی کارکن، ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ، اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ تھر اور ڈرون متاثرین پر ڈاکومنٹری بنا چکی ہیں۔ جذبات شعر کی صورت ڈھالنے کا ہنر رکھتی ہیں، شاعری کی دو کتب شائع ہوئی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    ماشاء اللہ ، بہت اچھا لکھا عائشہ بہن ، اللہ پاک کو بہترین جزاء عطااء فرمائے اور آپ پر راضی ہو، اور آپ کو اُس کی حفظ و امان میں رکھے ،
    ہمارے نام نہاد ’’’ اِسلامی ‘‘‘ پاکستانی مُعاشرے میں اِسلام چند گنی چنی عبادات اور اِسلام سے وابستہ لیکن خود ساختہ رسموں تک ہی محدود بنا دِیا گیا ہے ، اور اِس محدود کو بھی مزید محدود کیے جانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں ،
    جن میں سے ایک کوشش وہ بھی ہے جِس کی آپ نے نشاندہی کی ، کہ بس دُوسروں کی نقالی کر کے اُن کے جیسا ظاہر ہونا ہی ہے ، خواہ اُس نقالی میں دُنیا اور آخرت دونوں ہی ہی تباہی ہو ،
    ہمارے ہاں ہمارے مُسلمان بھائی بہنوں کو شاید ہی یہ علم ہو کہ غیر مُسلموں کی نقالی کس قدر خوفناک انجام والا کام ہے ، اور یہ کہ غیر مسلموں کے تہواروں میں کِسی بھی قِسم کی شمولیت بھی ایک گھناؤنا گناہ ہے ،
    اللہ عزّ و جلّ ہم سب کو اور ہمارے سب ہی مسلمان بھائی بہنوں کو ہمارے رب اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کرنے کی ہمت عطاء فرمائے ، والسلام علیکم۔
    اُمید کرتا ہوں کہ درج ذیل مضمون کا مطالعہ اِن شاء اللہ ہر قاری کے فائدے کا سبب ہو گا ۔
    ’’’ غیر مُسلموں کے تہواروں میں شمولیت ‘‘‘
    http://bit.ly/1f0W3Xn