چور بمقابلہ ڈکیت - کفیل اسلم

موبائل چھوٹو کو بہت پسند آیا۔ یہ موبائل نہیں اس کا خواب تھا۔ اس نے جلدی سے تھیلی میں لپٹا ہوا لفافہ نکالا، پیسے گِنے اور فروخت کار کو دے دیے۔

چھوٹو نے اس سے پہلے کبھی ٹچ اسکرین والا موبائل استعمال نہیں کیا تھا۔ اب تو گویا اس کے پاس خزانے کی کنجی آ گئی تھی۔ گھر پہنچنے تک وہ بار بار میلے کچیلے بیگ کے اوپر سے ہی اندر پڑے ڈبے کو ٹٹول کر طمانیت کا احساس جگاتا رہا۔ یہ 10 ہزار اُس نے کیسے جمع کیے تھے، یہ وہی جانتا تھا۔ گیراج میں کام کرتے وقت نظر بچا کر استاد کی دراز سے 3 بار پانچ پانچ سو مارے۔ ایک بار شکور چاچا کی جیب پر ہاتھ صاف کیا۔ گھر آکر گنے تو 4ہزار نکلے۔ باقی کی رقم اماں کی سہیلی کے گھر کسی کام سے گیا تھا وہاں سے نکال لی۔ آج ہی رقم پوری ہوئی تھی سوچا بغیر وقت ضائع کیے موبائل خرید لوں۔

بس سگنل پر رکی اور وہ اب تک اسی احساس میں غرق تھا۔ بار بار موبائل کی صاف شفاف جگمگاتی سکرین کا تصور تھا کہ اُسے چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ بس ٹھنڈی سڑک کے مین سٹاپ پر پہنچی، مسافر سوار ہوئے اور اترنے والے اتر گئے۔

اب مسافر سیٹ بائی سیٹ براجمان تھے۔ بس چلی تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بھی چل پڑی۔ پسینے سے شرابور تھا کہ ہوا کے جھونکے سے ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ چھوٹو نے بستے کو ہنوز سینے سے چپکا رکھا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا کا لمس اسے نیند کی وادی تک لے گیا۔ آنکھ لگنے کو ہی تھی کہ ایک نوجوان دراز قد لڑکا منہ پر رومال باندھے بس کے اندر سے ہی کھڑا ہوگیا۔ اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ اس کا ایک مددگار پیچھلے دروازے پر کھڑا ہوگیا، جس کے ہاتھ میں چُھرا تھا۔ پستول والا لڑکا زور سے چلّایا "چلو موبائل نکالو سب!"

چھوٹو اچانک اٹھ گیا، اس کے لبوں سے بے اختیار "یا اللہ خیر"نکلا۔ اسے اپنی جان سے زیادہ موبائل کی فکر لاحق ہوگئی۔

مسافر باری باری اپنے موبائل دینے لگے۔ اُس نے صورتِ حال کا جائزہ لیا تو سب کو موبائل دیتے ہوئے بغور دیکھتا رہا۔ ہر مسافر چوُں چراں کیے بغیر، آرام سے موبائل دیے جارہا تھا۔ اس نے ٹھان لی وہ ضرور مزاحمت کرے گا۔ وہ قریب آیا تو چھوٹو ساکت بُت بنا اسے دیکھنے لگا۔

"تو نے سنا نہیں؟ موبائل نکال!" وہ چلایاا۔

چھوٹو خوف اور گھبراہٹ کی کیفیت میں تھا۔ چاہ کربھی کچھ بول نہ پایا۔ اسی اثناء میں ڈکیت کا ہاتھ فضا میں اٹھا اور آواز گونجی "چٹاخ!"

تھپڑ تھا یا دُرّہ؟

چشم زدن میں ہاتھ دائیں گال پر چھپ گیا اور کانوں میں سیٹیاں بجنے لگیں اور ساتھ ہی آواز آئی"دیتا ہے کہ نہیں؟" وہ جھنجلا کر پستول لوڈ کرتے ہوئے بولا

وحشت کا مارا چھوٹو سناٹے میں آگیا۔ جس طرح اس نے بیگ سینے سے لگا رکھا تھا، ڈکیت سمجھ گیا کہ موبائل کہاں ہے۔ اس نے بیگ دبوچا اور چھین لیا۔ پھر دونوں نے جلدی جلدی سب سے موبائل سمیٹے اور گاڑی سے اتر گئے۔ ان کے بس سے اترنے کے بعد سب اپنا اپنا تجزیہ کرنے لگے مگر چھوٹو کی دنیا ویران ہوچکی تھی۔ حرام مال سے خریدا ہوا موبائل چھن جانے کے بعد اس کے دل میں وہ احساس جاگا، جس کے بارے میں وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔

Comments

Avatar

کفیل اسلم

کفیل اسلم شعبہ ِ تدریس سے وابستہ ہیں۔ معاشیات میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر چکے ہیں۔ بنیادی تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور ہر کشمیری کی طرح پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ شاعری اور کامیابی لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */