آسکر بمقابلہ ڈاکٹر - مصطفیٰ جتوئی

اگر آپ ایک عام فرد ہیں اور اتنے مشہور نہیں تو خبردار! کسی بھی خاتون کو فیس بک فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے میں احتیاط برتیں کیونکہ پاکستان کی مایہ ناز فلم ساز اور دو مرتبہ کی آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے نے، اپنی فیمینسٹ طاقت کی بناء پر، اس عمل کو جنسی ہراسگی کی کیٹیگری میں شامل کرا لیا ہے۔

یہ واقعہ سننے کے بعد مجھے اکثر رام پادا چودھری کی کہانی ’’ابھی مانوو‘‘سے ماخوذ فلم ’’ایک ڈاکٹر کی موت‘‘ کا نام بار بار میرے ذہن میں دوڑ رہا ہے کہ کس طرح ایک فرینڈ ریکوئسٹ سے چار بچوں کے باپ اور پاکستان کی مایہ ناز اسپتال میں مسیحائی کا کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کے خوابوں، کیریئر اور اس کی عزت کی موت ہوگئی۔ لیکن اس ایک فرینڈ ریکوئسٹ سے ایک بات واضح ہوگئی کہ اگر آپ ملک کے لیے کوئی تمغہ جیت کر آئے ہیں، ایک سیلیبرٹی بن چکے ہیں اور آپ کے پاس چیمپئن شپ کا میڈل ہے تو پھر آپ محض ٹوئٹ کرکے پاکستان کے بڑے سے بڑے ادارے سے کسی کو نوکری سے فارغ کراسکتے ہیں یا پھر لاہور کی سڑک پر تیررفتار ڈرائیو کرکے سگنل توڑ سکتے ہیں، کسی وارڈن کو پیٹ دیں یا پھر سیلفی کے شوق میں اگر آپ کا مداح آپ سے چمٹ جائے تو اس کی جی بھر کے دھلائی کرسکتے ہیں۔

جب اس ڈاکٹر کی مسیحائی کی موت ہورہی تھی تو میں سوچ رہا تھا کہ گزشتہ دنوں ساتھی اداکاراؤں کو جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں آسکر ایوارڈ کے اکیڈمی بورڈسے فارغ ہونے والے ہالی ووڈ کے مشہور فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے ساتھ جب شرمین عبید کی تصویر دیکھی تو ان دونوں کے درمیان بمشکل کوئی ایک انچ کا فاصلہ ہوگا۔جو ہاروی برسوں سے اپنی حرکات سے باز نہیں آرہا تھا اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’’سیکچوئل ایڈکشن‘‘ کا شکار ہے اور اس کی اب سیکس ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں تھراپی کی جارہی ہے۔ ان سے ملاقات کے وقت اس کی ہراسمنٹ کی عادت کو کسی نہ کسی پہلو سے شرمین عبید نے بھانپ لیا ہوگا۔ تو کیا اچھا ہوتا کہ اسی وقت اپنے آسکر ایوارڈ سے اسی ہاروی کا بھی سر پھوڑ دیتیں؟ مگرپر دیسی اور گوری چمڑی کا فرق تو رکھنا ہے۔ کاش کہ ہالی ووڈ کی کسی معروف شخصیت کو فرینڈز ریکوئسٹ بھیجتے وقت آپ نے بھی ایسی کسی ہراسمنٹ کا خیال کیا ہوتا۔

آپ ایک بڑی شخصیت ہیں اور لوگ آپ کے اعزازات پر آپ کے ساتھ خوش ہوتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے دل کو بھی وسعت دینی چاہیے۔ آپ نے مدّاحوں کی تعداد اور اعزازات کو انتہاپسندی کا ہتھیار بنانے کے بجائے پھولوں کا گلدستہ بنائیں۔ وہ ڈاکٹر اتنی بڑی سزا کا مستحق نہیں تھا کہ نوکری گئی، وقار کو داغ لگ گیا، اس کے بچے اور بیوی کس کرب سے گزر رہے ہوں گے، اس کی پیشہ وارانہ زندگی درہم برہم ہوگئی اور مالی نقصان بھی ساتھ میں اٹھانا پڑا۔

تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ ایک نامور ادارہ جو پاکستان کے صف اوّل کے اداروں میں شمار ہوتا ہے اور ملازمین کی انتھک محنت اور لگن کی وجہ سے جس نے اپنی علیحدہ پہچان بنالی ہے وہ کس طرح اپنے دیرینہ ملازم کو چند منٹوں کے اندر بغیر کسی دلیل اور منطق کے ایک معمولی شکایت پر نوکری سے فارغ کردیتا ہے؟ اداروں کے اندر ملازمین کی عزت اور وقار کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں کس طرح ایک برانڈ کے نام پر اعلی ٰ سے اعلی ٰ اداروں کو بھی کوئی اپنی منشا کے مطابق چلاسکتے ہے۔

اب ہمارے ہاں ہر قسم کے انتہاپسند پیدا ہورہے ہیں۔ کوئی برقعے کے اندر انتہاپسند ہے تو کوئی جینز اور ٹی شرٹ میں انتہاپسند ہے۔ کوئی نظریات میں انتہاپسند ہے تو کوئی اپنی شخصیت میں انتہاپسند ہے۔ خدارا! یہ انتہاپسندی کے نت نئے تجربات اب بند کردیجیے۔