خورشید ندیم صاحب کی خدمت میں - اسامہ الطاف

جناب خورشید ندیم صاحب کا شمار پاکستان کے معروف کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔ فکری و نظریاتی امور پر بحث اور ادبی انداز تحریر خورشید صاحب کے کالمز کا طرّہ امتیاز ہے۔گزشتہ ہفتے خورشید صاحب کا کالم "جمہوریت کے ناقدین"نظر سے گزرا، جس میں انہوں نے نظام جمہوریت اورجمہوریت پر اسلامی نقطہ نظر سے اٹھنے والے اعتراضات کے متعلق بحث کی۔ کالم پڑھ کر اس ضمن میں کچھ اہم نقاط کی وضاحت کی ضرورت محسوس کی۔ ان نقاط کے ذریعے مذکورہ کالم میں موجود نقائص کی نشاندہی بھی ہوجائی گی لیکن کالم کے اقتباسات نقل کیے بغیر عمومی انداز میں نقاط بیان کیے جائیں گے تاکہ ان حضرات کے لیے بھی مفہوم ہو جنہوں نے خورشید ندیم صاحب کا کالم نہیں پڑھا۔

جمہوریت اور اسلام پر بحث کرنے سے قبل اول جمہوریت کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ جمہوریت کا بنیادی فلسفہ عوام کی حکمرانی ہے،جس کو "عوام کی عوام پر عوام کے ذریعے حکمرانی"سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس فلسفے کی بنیاد پر جمہوریت عوام کی مطلق حکمرانی کا نام ہے۔ پارلیمانی نظام عوام کی حکمرانی کو عملی شکل دینے کی ایک صورت ہے،جس میں عوام پارلیمان کے ارکان کو منتخب کرتے ہیں، یہی ارکان پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔یوں پارلیمان کو قانون سازی کا مکمل اختیار ہے،اگر پارلیمان آئین سے متصادم قانون پاس کرے تواس کو عدالت کے ذریعے کالعدم کیا جا سکتا ہے تاہم پارلیمان آئین میں ترامیم کرنے کی بھی مجاز ہے۔ لہٰذا پارلیمان ملک کا اعلیٰ اور بااختیار ادارہ ہوتا ہے (ان ممالک میں جہاں سینیٹ کی اہمیت نہیں ہوتی)۔جمہوریت کا تصوّر مغربی مفکرین کی جانب سے یورپ میں قائم مذہبی حمایت یافتہ بادشاہت کے مقابل انقلاب فرانس سے قبل پیش کیا گیا۔ ابتداء میں یہ تصورات انفرادی طور پر پیش کیے گئے لیکن بعد ازاں جمہوریت نے پورے عالم میں ایک نافذ العمل نظام کی شکل اختیار کرلی۔

نظام جمہوریت اور اسلامی اصول میں کئی اختلافات ہے۔ تمام اختلافات کا ذکر ممکن نہیں،صرف دو بنیادی اختلافات ذکر کیے جاتے ہیں۔اسلام میں حق حکمرانی اللہ کو حاصل ہے۔ علماء کرام اس ضمن میں سورہ یوسف کی آیت "ان الحکم الا اللہ" کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں جب کہ جمہوریت میں عوام کو مطلق حکمرانی حاصل ہے۔ مثال کے طور پر اگر پارلیمان میں یہ منظور ہوجائے کہ ملک میں شراب کی خرید و فروخت کی اجازت ہے تو یہ قانون نافذ ہوجائے گا اور جمہوری نظام میں اس قانون پر کوئی اعتراض قابل قبول نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر پارلیمان میں خواتین کے حجاب پر پابندی لگادی جائے تو یہ قانون، اسلامی اصول کے خلاف ہونے کے باوجود، جمہوری اعتبار سے بالکل جائز ہوگا۔جمہوریت اور اسلامی نظام حکومت میں دوسرا بنیادی فرق مرجع نظام سے متعلق ہے۔ اسلامی اصول میں نظام حکومت کو قرآن و سنت کے طے کردہ اصول اور شریعت کے مطابق ہونا چاہیے جبکہ جمہوری نظام کی بنیاد مغربی مفکرین کے اصول ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اسلامی اصول اور جمہوریت کے مراجع صرف مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد ہیں کیونکہ جمہوری اصول کا مرجع وہ نظریات ہے جو بشری کوششوں کا نتیجہ ہے جب کہ اسلام میں مرجع نصوص وحی (قرآن و سنت)ہے،جن کا تعلق بشری کوششوں سے نہیں کلام اور الہام الٰہی سے ہے۔ان دونوں اختلافات سے ثابت ہوتا ہے جمہوریت اور اسلامی نظام میں اصولی اختلافات ہے،جن کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔

جمہوری نظام کی اسلامی اصولوں سے عدم مطابقت کے پیش نظر درمیانی راستہ نکالنے کی کئی کوششیں ہوچکی ہے۔ جمہوریت کے اصول میں ردّ و بدل کرکے اس کو اسلام اصول کے مطابق تشکیل دیا جاتا ہے یا اسلامی نصوص کو توڑ موڑ کر جمہوریت کے موافق پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم غالب ثقافت ، جو کہ آج کل مغربی ثقافت ہے، سے مرعوب ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ کسی طرح ہماری ثقافت غالب ثقافت کے مطابق ہوجائے تاکہ اقوام عالم کے سامنے ہماری سبکی نہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کو اسلام کے مطابق ڈھالنا موروثی، بادشاہی اور فردی حکومت سے قدرے بہتر ہے لیکن اعلیٰ اسلامی اقدار اور اصول ہونے کے باوجود اغیار سے مطابقت کی خواہش فکری تبیعت کی نشانی ہے۔

ایک انتہائی اہم اور قابل غور نقطہ یہ ہے کہ فلسفہ جمہوریت اور عملی جمہوریت میں بہت فرق ہے۔ مثال کے طور پر جون رالز کی کتاب نظریہ انصاف (Theory of Justice) میں عصری جمہوریت کے عملی اصول میں عوامی مظاہروں کو سرکاری طاقت سے روکنے کو جائز قرار دیا ہے، جو کہ فلسفہ جمہوریت کے منافی ہے،اس کے علاوہ جمہوریت میں اقتدار تک پہنچنے میں سرمایہ کی اہمیت سے سب خوب واقف ہے۔

آخر میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلامی نظام سیاست کو عملی شکل دینے کا تصور کچھ علما ء کرام نے پیش کیا تھا،مراکش کے محمد الددو الشنقیطی ان میں شامل ہے،اس نظام کو انہوں نے نظام الرشد کا نام دیا تھا،تاہم اس نظام یا اور کوئی عملی نظام جس پر علماء متفق ہو اس کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی اور پذیرائی دینے کی ذمہ داری ادا نہیں کی گئی۔واللہ اعلم

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.