سردیوں کی سوغات - سید جعفر شاہ

وادی کوئٹہ میں سردی کے موسم میں خوشک میوہ جات کا استعمال بہت بڑھ جاتا ہے، جن میں خاص اہمیت انجیر کو حاصل ہے ۔ دوکانوں میں لٹکی انجیر ہر آنے جانے والے کو ضرور لبھاتی ہے ۔ یہاں کے مقامی لوگ کہتے ہیں کہ منفرد رنگ اور ذائقہ رکھنے والی انجیر سردی کے لحاظ سے ایک اچھا میوہ ہے، جس کے فوائد کا ذکر اسلامی تعلیمات میں بھی پایا جاتا ہے۔

سردیوں کے ایام میں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں خشک میوہ جات کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور چھوٹے بڑے تاجروں کی خوب چاندی ہوتی ہے۔ اخروٹ، بادام، کشمکش، چلغوزے کی مختلف اقسام ایران اور افغانستان سے درآمد بھی کی جاتی ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مہنگائی کے مارے عوام کی اکثریت کی پہنچ سے خشک میوہ جات دور ہوتے جا رہے ہیں۔

موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی خشک میوہ جات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں حالانکہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں سخت سردی پڑتی ہے بلکہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی گر جاتا ہے۔ اس سردی میں خشک میوہ جات کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے لیکن یہ فائدہ آجکل صرف مراعات یافتہ طبقے کو حاصل ہے۔

حالیہ دنوں میں پاک-افغان سرحدی کشیدگی کی وجہ سے بھی خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی وجہ سے افغانستان سے تازہ اور خشک میووں کی ترسیل بند ہوگئی ہے۔ دونوں ملکوں میں تناؤ بڑھا تو افغانستان نے بھی پاکستان سے آنے والی بعض اشیاء پر ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اب نوّے فیصد اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوچکی ہے اور درحقیقت قومی خزانے کو سخت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بہرحال، بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانا اور ڈائیلاگ حکمرانوں کا کام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان یونیورسٹی انتظامیہ - گہرام اسلم بلوچ

خشک میوہ جات کی مہنگائی اپنی جگہ اب تو مونگ پھلی بھی عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ بلوچستان کی ایک اور مشہور سوغات ہے، جسے مقامی زبان میں شینے کہتے ہیں۔ یہ بالخصوص پشتونوں میں بہت مقبول ہے۔ بلوچستان کے شہریوں کے علاوہ بہت ہی کم لوگ شینے کو چبانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ شینے بلوچستان کے مختلف پہاڑوں میں پائی جاتی ہے، جہاں سے شہروں تک پہنچتے پہنچتے اتنی مہنگی ہو جاتی ہے کہ پانچ سے لے کر ایک ہزار روپے تک میں بکتی ہے یعنی عام شہری کے بس کی بات نہیں ہے۔

بلوچستان کے یہ میوہ جات صرف صوبے میں ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہریوں تک بھی پہنچتے ہیں بالخصوص سردیاں آتے ہی دیگر صوبوں میں مقیم دوست رشتہ داروں کو بطور تحفہ دیے جاتے ہیں۔

یہ خشک میوے محض کھانے میں ہی نرالا مزا نہیں رکھتے بلکہ ماہرین کے مطابق سردیوں کے موسم میں بہت ہی مفید ہیں۔ ان کے اندر مکمل غذائیت اور وٹامنز ہوتے ہیں۔ بالخصوص چلغوزہ سرد موسم میں بہت ہی کارآمد ہے۔ بادام اور پستے کے علاوہ اسے بھی اہم ترین خشک میوہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے اور یہ طبی لحاظ سے بھی بے حد قوت بخش ہے۔ سرد موسم میں انسان کے اندرونی نظام کو محفوظ رکھنے کا کام کرتا ہے۔ اس پر لذت ایسی کہ کھاتے جائیں، جی نہیں بھرتا۔ یہ کمر اور گردوں کو بھی طاقت دیتا ہے، رنگت نکھارتا ہے، فالج سے بچاتا ہے، خون پیدا کرتا ہے، کولیسٹرول کو بہتر بناتا ہے اور پھیپھڑوں کو تقویت دیتا ہے۔

ایک ایسے خطے میں جہاں سرد موسم میں خشک میوہ جات عوام کی ضرورت بن جاتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ خشک میووں میں نہیں تو دیگر اشیائے خورد و نوش میں عوام کو ضرور ریلیف دیا جائے تاکہ وہ اپنے خطے کے ان انمول تحفوں کو سرد دنوں میں استعمال کر سکیں اور اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کر سکیں۔