غور طلب باتیں - امجد طفیل بھٹی

یہ بات عموماً محاورتاً یا طنزیہ طور پر استعمال کی جاتی ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔ لیکن جب ہم اپنے اعمال کی طرف دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ بات مذاق نہیں سچ ہے کیونکہ دنیا واقعی چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم لوگ ابھی تک زمین پر بھی نہیں بلکہ زیر زمین یعنی غاروں کے زمانے کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اب غار کے دور کی کہانیاں تو سبھی لوگوں نے سُن رکھی ہوں گی کہ اُس دور میں انسان کیسے زندگی گزارتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں ضروریات زندگی کی فراہمی کا نام و نشان بھی موجود نہیں تھا۔ نہ بجلی، نہ گیس، نہ پانی، نہ تعلیم، نہ ہسپتال، نہ ٹرانسپورٹ، نہ سڑکیں، غرض اس کے علاوہ بھی جتنی ضروریات ہوتی ہیں ان میں سے ایک بھی میسر نہ ہوتی تھی۔

اب ذرا غور سے اوپر بیان کردہ سہولیات کو دیکھیں تو حقیقت کھلے گی کہ اپنے پیارے ملک میں آج اکیسویں صدی میں بھی ایسے علاقے موجود ہیں کہ جہاں کے باسی ابھی تک ان سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ اس میں جہاں ایک طرف تو قصور حکومت کا ہے تو دوسری طرف ہم عوام خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ ہم آج بھی سبزیوں، پھلوں، جانوروں اور بادلوں پر نظرآنے والے نشانات کی مشابہت اسلامی ناموں اور معجزات سے جوڑنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان اصلی نما جعلی تصاویر کو آگے شیئر کرنے اور ثواب دارین حاصل کرنے کی ترغیب بھی دے رہے ہوتے ہیں۔ یہاں پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے کیونکہ ہم اپنے مذہب کے معاملے بھی کافی سنجیدگی رکھتے ہیں اور بطور مسلمان ہمارا اوڑھنا بچھونا اسلام ہی تو ہے، لیکن تھوڑا کھلے دماغ سے سوچیں اور قرآن وحدیث کا مطالعہ کر کے دیکھیں تو شاید ہمیں اپنے مذہب کے بارے میں ایسی کوئی مثال نہ ملے۔ لیکن ہم لوگ آج بھی مسلک اور فرقوں میں اس طرح بٹ چکے ہیں کہ نہ تو اپنے دین پر کاربند رہے ہیں اور نہ ہی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے ہیں اور نتیجتاً پستی ہی مقدر بنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لٹتی انسانیت اور ہمارے لیے کرنے کا کام - ابراہیم جمال بٹ

ہمارے لوگ آج بھی جعلی پیروں کے پاس اپنے مسائل لے کر جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں اور ابھی بھی خالص میڈیکل مسائل کو جنات یا پھر جادو ٹونے کے اثرات سے منسوب کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی بیشتر خواتین آج بھی اپنی ساس اور اپنے سسرال کو قابو کرنے کے لیے تعویزوں کا سہارا لیتی ہیں۔ ابھی تک ہمارے پسماندہ علاقوں کے لوگ ایک آزاد ملک کے شہری ہوتے ہوئے بھی وڈیروں، نوابوں اور جاگیرداروں کے غلام ہیں اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے سے قاصر ہیں۔ ہمارے ملک کے لوگ آج بھی کُتوں اور مرغوں کی لڑائیاں کروا کر اپنا پیسا اور وقت ضائع کرتے ہیں۔ آج بھی ہمارے دیہاتوں کے سکولوں میں بھینسوں کے باڑے بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک کے سرکاری ہسپتال اور سرکاری سکول ویسے ہی اسٹاف کی کمی کا شکار ہیں، سونے پر سہاگہ یہ لوگ بھی ڈیوٹی پر نہیں آ سکتے۔

دنیا سائنس اور میڈکل میں اتنی زیادہ ترقی کر گئی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں پچھلے کچھ سالوں میں شرح اموات میں واضح کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اس کے برخلاف پاکستان میں آج بھی زچگی کے دوران ایک لاکھ میں سے تقریباً 300 خواتین کی موت واقع ہو جاتی ہے جبکہ یہ اوسط تعداد ہے۔ دیہات میں اور پس ماندہ علاقوں میں یہی تعداد 700 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں موت کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے جو کہ ایک ہزار بچوں میں تقریباً 100 ہے۔ بیان کردہ اموات کی تعداد جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جو کہ یقیناً ریاست پاکستان کے لیے قابل فکر ہے بشرطیکہ اگر فکر کی جائے تو۔

ہم آئے روز یہ واقعات سنتے رہتے ہیں کہ فلاں شہر میں ہسپتال کے باہر بچے کی پیدائش ہو گئی تو کبھی سنتے ہیں کہ سڑک پر یا رکشے میں بچے نے جنم لیا۔ یہ تمام باتیں بحیثیت قوم ہمارے لیے باعث شرمندگی بھی ہیں اور باعث فکر بھی ہیں کیونکہ عزت سب کی برابر ہوتی ہے، چاہے امیر ہو یا غریب۔ پھر بھی ہم لوگ سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کی وڈیوز بڑے شوق سے دیکھتے بھی ہیں اور پھیلاتے بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اللہ سے دعائیں پوری کرانے کا یقینی نسخہ - مجیب الحق حقی

یہاں ذکر چونکہ ترقی کا ہورہا ہے کہ کیسے ہم لوگ دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں؟ تو وجہ صرف ایک ہی ہے “ بے ایمانی “۔ ہم لوگ ہر چیز میں دو نمبری کرنے کے ماہر ہیں۔ حرام کو حلال، ناجائز کو جائز، خراب کو ٹھیک، برے کو اچھا اور گندے کو صاف قرار دینا ہمارے بعد ختم ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ہماری قوم کو خود ہمارے ہی مردہ ضمیر لوگوں نے گدھے کھلا دیے ہیں۔ اس سے بڑی انسانیت کی تذلیل اور کیا ہوگی؟ حالانکہ مسلمان ہونے کے ناطے اس طرح کے خلاف اسلام کام کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا لیکن باوجود اس کے بعض لوگ سال کے سال حج اور عمرے جیسے مقدس فریضے بھی اسی حرام کمائی سے کر انجام دے کر خود کو نئے سرے سے بے گناہ اور پاک باز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ سراسر اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

جبکہ ترقی کرنے والی قوموں نے اسلامی اصولوں کو نہ صرف اپنایا ہواہے بلکہ اپنے قوانین کا حصہ بھی بنایا ہوا ہے، اسی لیے تو یورپ اور امریکہ میں ملاوٹ نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے، کوئی شخص کسی کھانے پینے کی چیز میں ملاوٹ کا تصور بھی نہیں کر سکتا جبکہ اس کے برعکس ہمارے ملک میں کوئی ایک بھی کھانے کی چیز خالص ہونے کا امکان نہیں ہے۔ باقی چیزوں کا تو سوچیں ہی نہ، ملاوٹ کرنے والے اگر کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کر کے انسانی زندگی پر ہونے والے اثرات کا نہیں سوچتے تو پھر باقی چیزوں میں ملاوٹ کرنے سے انہیں اُن کا ضمیر کیسے روک سکتا ہے؟

ان تمام برائیوں کی اصلاح تعلیم عام کرنے میں ہی مضمر ہے کیونکہ جب تک ہمارے عوام پڑھے لکھے نہیں ہوں گے وہ اچھے برے کی تمیز نہیں کر سکیں گے۔ جب اچھائی اور برائی کی تمیز ہی نہ ہوتو کیسے کوئی کسی کا اچھا یا برا سوچ سکتا ہے۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.