کتاب اور مسلم امہ - عابد رحمت

کہنے کو تو کتاب چند صفحات ہیں مگر اس میں کامیابی و ترقی کے راز پنہاں ہیں۔ ایسی شمع ہے جو ہر آن فروزاں رہتی ہے اور کبھی بھی مدہم نہیں ہوتی۔ فاصلے اس میں سمٹ آتے ہیں، اس کے سامنے صدیوں کی خاموشیاں دم توڑ دیتی ہیں، یہ تاریخ، ثقافت، تہذیب و تمدن، زندگی کے نشیب و فراز، طرز بود و باش اور علوم و فنون کا منبع ہے۔ علمی، فکری اور ادبی راہوں کی منزل، شگفتہ ذوق کی حامل، صدائے ماضی، قوموں کی تقدیر اور عروج و زوال کے تغیر و تبدل کی ضامن، زندہ قوموں کاشعار، مطالعے اور مشاہدے کا ایسا سفر کہ جس کے ذریعے حضرت انسان نے چاند پر قدم جمائے، چوٹیاں سر کیں، الغرض سبھی کچھ تو انسان نے اس سے حاصل کیا۔

یہ کتاب ہی ہے جو کسی بھی معاشرے کو مہذب، تعلیم یافتہ، تحمل مزاج، باوقار اور اعلیٰ اقدار سے روشناس کراتی ہے۔ کتابوں ہی سے عالمگیر انسانیت، اخوت، بھائی چارے اور فلاح و بہبود کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ کتاب کو بہترین رفیق کار اور شفیق دوست کہا گیا ہے۔ علامہ مسعودی کا کتابوں سے یہ کہنا بجا ہے کہ اے میری کتابو! تم میری جلیس وانیس ہو، تمہارے ظریفانہ کلام سے نشاط اور تمہاری ناصحانہ باتوں سے تفکر پیدا ہوتا ہے۔ تم پچھلوں اور پہلوں کو ایک عالم میں جمع کردیتی ہو، تمہارے منہ میں زبان نہیں لیکن تم زندوں اور مردوں دونوں کے افسانے سناتی ہو۔ سقراط کا یہ قولِ زریں بھی سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہے کہ جس گھر میں اچھی کتابیں نہیں وہ گھر حقیقتاً گھر کہلانے کامستحق نہیں ہے یہ تو مردوں کا قبرستان ہے۔

اسلام نے بھی کتاب کی اہمیت کو روز اول سے ہی واضح کردیا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات، احادیث اور اسلاف کی علم دوستی کتاب کی اہمیت و افادیت پر دلالت کرتی ہے۔ قرآن نے قلم کی قسم کھائی، اسی طرح قلم کو علم کا ذریعہ کہا، یعنی قلم سے لکھی ہوئی عبارت (کتاب) ہی سے علم و فن اور شعور آگہی کے روزن وا ہوتے ہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے علم سیکھنا فرض قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے کتابیں دے کر بھیجا۔ انہی کتب نے انسان کو انسانیت سکھائی۔ اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسی وجہ سے مسلمانوں کا کتاب سے خاص قلبی لگاؤ رہا ہے۔ مسلمانوں نے کتاب کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا اور ترقی کی منازل طے کرتے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

مسلمانوں کی گم گشتہ عظمتیں اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ مسلمانوں نے ماضی میں عظیم کتب خانے قائم کئے۔ یہی کتب خانے ان کی علمی عظمت، فکری بصیرت اور تہذیب اسلامی کے آئینہ دار تھے۔ یورپ اس لحاظ سے مسلمانوں کا زیر احسان ہے کہ مسلمانوں کی قائم کردہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں یورپی اپنی علمی تشنگی دور کرتے رہے۔ مسلمانوں نے یورپ کے اندھیروں کو علم سے جلا بخشی۔ مسلمانوں کی قائم کردہ لائبریریوں میں بیک وقت لاکھوں کتب موجود ہوتیں۔ قرطبہ میں خلفائے اموی نے 70 دار الکتب قائم کیے، ہرمکتب و مسجدکے ساتھ لائبریری ملحق ہوتی، علماء، وزراء، امراء اور سلاطین کے ذاتی کتب خانے ان کے علاوہ تھے۔ اگر اس کے برعکس یورپ کی لائبریریوں کا جائزہ لیں تو ایک تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ چھوٹے درجے کے کلیسا کے پاس درجن بھر، درمیانے کلیسا کے پاس چند سو کتب ہوتیں، جبکہ نویں صدی عیسوی میں یورپ میں کتابوں کا سب سے بڑا ذخیرہ صرف پانچ سو کتابوں پرمشتمل تھا۔ اسی طرح وسطی کے اختتام تک ایوینان (Avignon) فرانس کی پاپائی لائبریری اور پیرس کی سوربون لائبریری صرف دو ہزار کتابوں پر مشتمل تھی۔

مسلم امہ کتب سے دور اس وقت سے ہے جب عیسائیوں نے مسلم ممالک پر یورش کی اور ان کے عظیم کتب خانے جلا دیے، کچھ کتابیں بہادی گئیں اور کچھ یورپ کی لائبریریوں کی زینت بنیں۔ مخالف قوموں کی یلغار نے مسلمانوں کو کتابوں کے حوالے سے مفلس بنا کر رکھ دیا۔ یہ سب مسلمانوں سے نفرت اور عداوت کی بنا پر کیا گیا۔ سپین میں قرطبہ، غرناطہ، اشبیلیہ اور طلیطلہ میں بڑے ثقافتی مراکز اور عظیم الشان کتب خانے موجود تھے۔ پادریوں نے بے دردی سے انہیں جلادیا۔ صرف طلیطلہ میں ہی 80 ہزار کتب کو نذر آتش کردیا گیا۔ طرابلس میں مسلمانوں کی 600 سالہ محنت کو 30 لاکھ کتابیں جلا کر تباہ کردیا گیا۔ فرانس اور سسلی میں بھی وحشی عیسائیوں کے ہاتھوں لاکھوں کتابوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

اگر مسلمانوں کے کتب خانوں کی بربادی کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 7 لاکھ اسکندریہ میں، 15 لاکھ سپین میں، 30 لاکھ طرابلس میں، 3 لاکھ سسلی میں اور کئی لاکھ قسطنطنیہ میں کتابوں کو آگ میں جھونکا گیا، تیرہویں صدی میں تاتاریوں نے بغداد، کوفہ، بصرہ، حلب، دمشق، نیشاپور، خراسان، خوارزم اور شیراز میں سینکڑوں کتب خانوں میں موجود تین کروڑ کے لگ بھگ کتب بھسم کرڈالیں۔ دریائے فرات میں تو کتب کا ذخیرہ اس قدر بہایا گیا کہ دریا کا پانی سیاہی کی وجہ سے سیاہ ہوگیا۔

یہ مسلمانوں کا ورثہ تھا کہ جس کے یوں ضائع ہونے سے مسلمان اپاہج ہوگئے اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ علوم و فنون سے عاری ہیں۔ اس کے برعکس اہل یورپ کی لائبریریوں میں مسلمانوں کی آج بھی تقریباً 6 لاکھ کتب موجود ہیں، جن سے وہ استفادہ کرتے ہوئے تحقیق کی دنیامیں مسلمانوں سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ دنیا میں 28 ممالک ایسے ہیں کہ جن میں سب سے زیادہ کتب فروخت ہوتی ہیں مگر صد افسوس کہ ان ممالک میں کہیں بھی مسلمان ملک کا نام و نشان نہیں ملتا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اسی جانب اشارہ کیا تھا کہ

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ

ٹیگز