صحافت کی ساکھ داؤ پر - فیض اللہ خان

سندھ لٹریچر فیسٹول میں حامد میر اور اظہر عباس صاحبان کے ساتھ مختصر جبکہ عامر ہاشم خاکوانی صاحب سے تفصیلی نشست رہی۔ اظہر عباس صاحب سے میں نے سوالات کیے کہ اے آر وائی اور آپ کی جنگ کب ختم ہوگی؟ جواب ملا کہ ہم نے شروع نہیں کی، زیادہ سے زیادہ کوئی خبر ہو اے آر وائی سے متعلق تو اسے جگہ دیتے ہیں۔ حامد میر صاحب نے اس سوال پر صرف مسکرانے پر اکتفاء کیا اور مجھے کہا کہ دوبارہ افغانستان جانے کا ارادہ تو نہیں رکھتے؟ عرض کیا قطعی نہیں بالکل نہیں ہم توبہ تائب ہوچکے۔

اظہر عباس سے دورسرا سوال تھا کہ آپ کی شہ سرخیاں بیس منٹ تک کیوں جا پہنچیں؟

جواب کے بجائے انہوں نے سوال کیا کہ کیوں نہ ہوں؟

میں نے کہا کہ کیوں ہوں؟

بہرحال اس مختصر مکالمے کے بعد میں نے دانشوری کرتے ہوئے کہا کہ افتخار محمد چوہدری بحالی تحریک میں میڈیا کا طاقتور کردار سامنے آیا، جس نے چیف جسٹس کو عہدے پر بحال کراکے چھوڑا۔ ان دنوں میڈیا ایک آواز تھا اور سول سوسائٹی و سیاسی جماعتوں کی اکثریت ان کے ساتھ تھی (واضح رہے کہ جے یو آئی ایف اور پیپلز پارٹی وغیرہ کو اس بحالی سے شدید اختلاف تھا)۔

ایسے میں پہلی بار میڈیا کی اہمیت کو طاقت کے ایوانوں میں خطرے کی علامت کے طور پر لیا گیا اور (میرے خیال میں) تب ہی میڈیا کی تقسیم سے
متعلق سوچے سمجھے منصوبے کا آغاز ہوا۔ کھیل بڑا تھا اور منصوبہ بندی طویل لیکن اس کے ثمرات بہرحال حاصل ہوچکے۔

حالیہ پانچ چھے سال پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ دو تین ادارے ایک طرف، دو تین دوسری طرف کھڑے ہیں۔ یہاں تک کہ اینکرز ایک
دوسرے کے خون کے پیاسے دکھے اور عجیب و غریب پروگرام کیے ۔ اظہر صاحب سے میں نے کہا کہ عامر لیاقت کو اینکر بنانا، ریٹنگ لینا اور بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں شامل کرنا آپ کے چینل کا وہ کارنامہ ہے جو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ اس کے جواب میں انہوں نے صرف یہ کہا کہ جب وہ ہمارے چینل میں تھا ایسی گفتگو نہیں ہوتی تھی ۔

میں نے ان سے کہا کہ نشریاتی گھروں کو اپنے معاملات بہرحال درست کرنا ہوں گے کیونکہ صحافت جگ ہنسائی کا سبب ہی بن رہی ہے۔ پھر نشست اختتام پذیر ہوگئی ۔

جیو سے متعلق یہ الزامات عام ہیں کہ "ذرا سوچیے" سے لیکر "امن کی آشا" تک بہت سے ایسے پروگرام تھے جن کا چندہ غیر ملکی قوتوں نے دیا، مقتدر حلقوں کی جیو سے ناراضی کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہو۔ بہتر تو یہی تھا کہ جیو مخالف ادارے اس مہم کے خلاف متبادل علمی بیانیہ پیش کرتے لیکن بدقسمتی سے معاملات الزامات اور عدالتوں تک چلے گئے نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔

صورتحال اب یہ ہے کہ مجھ جیسا صحافی بھی درست خبر کے لیے پریشان پھرتا ہے کہ کس چینل کو دیکھے، ہر ادارے کا ایجنڈا سامنے ہے؟

نشریاتی ادارے صرف وہ دکھا رہے ہیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں اور کوشش اب ہر ایک کی یہی ہے کہ ملک میں جاری اقتدار کے کھیل میں وہ اپنے حصے کا کیک لے سکے۔ بدقسمتی سے اس کا آغاز جیو ہی نے کیا۔ اس سے وابستہ اینکرز و صحافی نجم سیٹھی، عرفان صدیقی اور ابصار عالم وغیرہ حکومت کا حصہ بنے۔ مشتاق منہاس بھی اسی کی ایک شکل ہے اور باقی رہ جانے والے صحافی جیسا کہ وجاہت مسعود وغیرہ ہیں، وہ سرکاری نشریاتی ادارے کی نوکری حاصل کرکے میاں محمد نواز شریف کی ترجمانی کرتے ہیں۔

صحافتی تنظیموں کا اس سے بھی زیادہ برا حال ہے۔ تقسیم در تقسیم اور لاتعداد دھڑے عجب بھونڈی صورتحال کا مظہر ہیں بلکہ انتخابات کے دوران مار کٹائی کے واقعات بھی ہوئے۔ گزشتہ دنوں احمد نوارانی، اعزاز سید اور مطیع اللہ جان جیسے صحافیوں پر تشدد ہوا لیکن اس متعلق مختلف چینلز اور اینکرز کا طرز عمل تکلیف دہ رہا حالانکہ اس عمل کی مکمل مذمت ہونی چاہیے تھی۔

پاکستان میں صحافت کی آزادی پرویز مشرف کا کمال نہیں بلکہ ان روشن خیال لوگوں کی قربانیاں ہیں جنہوں نے ماضی کی آمرانہ حکومتوں کا سامنا کیا۔ منہاج برنا صاحب جیسے اصول پسند صحافیوں کی قربانی تھی جسے مختلف حصوں میں منقسم صحافتی تنظیمں برباد کرچکیں۔

ابلاغی گھروں پر عوام کا اعتماد ختم کرنا مقصود تھا، ہدف پورا ہوچکا اور لوگوں کی اکثریت متبادل یعنی سماجی میڈیا کو ترجیح دے رہی ہے، اپنی ساکھ کو بحال کرنا صحافیوں کا کام ہے بہت زیادہ تو ممکن نہیں کیونکہ نوکری کرنی ہے، بچوں کا پیٹ بھرنا ہے، لیکن کسی نہ کسی درجے میں صحافی تنظیموں کو اس جانب توجہ دیکر اپنی ساکھ بحال کرنا ہوگی۔ ہر وقت مالکان کے مفادات کا تحفظ انہیں تیزی سےبےوقعت کرتا جارہا ہے ۔

امید ہے سینئر صحافی اور تنظیمیں اپنی ساکھ بحال کرنے کے حوالے سے کچھ نہ کچھ ضرور غور کریں گی تاکہ اپنے درخشاں ماضی کی طرح مستقبل کو روشن کر سکیں۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.