سندھ یونیورسٹی؛ انگلش میں پاس ہونے کےلیے ٹیچر سے زنا کی شرط؟

علامہ آئی آئی قاضی اور جی ایم سید جیسے عالموں کی محنت سے قائم ہونے اور عروج پانے والی سندھ یونیورسٹی آج کل اساتذہ کی طرف سے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسے سنگین الزامات کی زد میں ہے۔

کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ایک طالبہ نائلہ رند کی پنکھے میں لٹکتی ہوئی لاش کی ملی تھی۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یونیورسٹی کے استاد طالبات کو پاس کرنے کے عوض ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر میں ماسٹرز کرنے والی دو طالبات رمشا میمن اور نسیم ڈیپر نے سادہ کاغذ پر ایک صفحے کی فریاد لکھ کر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی محتسب، وزیر اعلٰی سندھ ، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، وائیس چانسلر سندھ یونیورسٹی، بختاور بھٹواور متعدد اساتذہ کو ارسال کی مگر کسی کی بیٹی کی عزت لوٹنے کے خلاف کسی نے فریاد نہیں سُنی ۔

طالبات کی شکایت کا عکس

رمشا میمن اور نسیم کا کہنا ہے کہ انسٹیٹیوٹ آف انگلش لئنگویج اینڈ لٹریچر میں ماسٹرز کرنے والی کئی طالبات کو ان کے ایک دو نہیں بلکہ کئی ٹیچر (جن میں اسسٹنٹ پروفیسر بھی شامل ہیں) کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم نے مندرجہ بالا زعما کو یہ فریاد بھیجی ہے مگر ایک مہینہ گذرنے کے بعد ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ اس لیے یہ معاملہ میڈیا میں لایا جا رہا ہے۔ مہربانی کر کے ہماری مدد کی جائے۔ ( واضع رہے کہ چیف جسٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس واقعے کا نوٹس لے کر رپورٹ طلب کی ہے۔)

رمشا میمن اپنی فریاد میں اگے لکھتی ہیں کہ ، میں نے اپریل 2017ء میں شکایت درج کروائی کہ انسٹیٹیوٹ آف انگلش لئنگویج اینڈ لٹریچر کا ایک ٹیچر فراز بگھیو مجھے جنسی تعلق قائم کرنے کے لئے بلیک میل کر رہا ہے۔ میں وائس چانسلر، سندھ یونیورسٹی ڈاکٹر فتع محمد برفت کے پاس گئی اور شکایت درج کروانے کے ساتھ ان کو ثبوت کے طور پر وہ ایس ایم ایس بھی دکھائے جو ٹیچر فراز بگھیو کی طرف سے مجھے بھیجے گئے تھے۔ وائس چانسلر نے اس معاملے پر ایکشن لینے کا وعدہ کیا مگر ہوا کچھ بھی نہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اساتذہ کے ایک گروپ نے وائس چانسلر کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے ٹیچر کے خلاف کوئی ایکشن لیا تو احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے فورا بعد یونیورسٹی کے ایک آفیسر افتخار پٹھان نے سندھ یونیورسٹی میں ہی پڑھنے والی میری بہن سے رابطہ کیا اورفراز بگھیو کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو کہا اور انکار کی صورت میں معاملہ میرے والد کو بتانے کی دھمکی دی۔ جو دل کے مریض ہیں اور جن کی حال ہی میں سرجری ہوئی ہے۔

دوسری طالبہ نسیم ڈیپر کا کہنا ہے کہ میں نے بھی اسی شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر ثناءاللہ انصاری کے خلاف بلیک میل کرنے کی شکایت کی اور جامشورو پولیس اسٹیشن پر ایف آئی آر بھی درج کروائی، ساتھ ہی اپنے بھائی کے ساتھ جا کر وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی سے بھی شکایت کی، مگر وائس چانسلر نے ایکشن لینے کے لیے ایف آئی آر واپس لینے کی شرط رکھی۔ ساتھ ہی انسٹیٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر کے سب ٹیچرز نے میری ایم فل کی سپروائزری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں نے ان کے ساتھی استاد کے خلاف شکایت کی ہے۔ ہم وائس چانسلر کے پاس مدد کے لیے گئے مگر انہوں نے مدد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جا کر ڈین سے ملو۔

ان دونوں بہادر لڑکیوں نے ساتھ ہی انسٹیٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ کے روپ میں بھیڑیوں کی ایک اور گندگی ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آگست میں ڈائریکٹر اسٹیج فدا چانڈیو نے ہاسٹل میں رہنے والی ہم کلاس فیلوز کو شام کے ٹائم اپنے گھر پر بلایا کہ چودہ اگست کے سلسلے میں جشنِ آزادی کی ریہرسل کرنی ہے۔ وہاں فدا چانڈیو کے کچھ دوست اور انسٹیٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر کے کچھ ٹیچر پہلے سے موجود تھے ۔ سب کے سب نشے میں تھے۔ انھوں نے وہاں ہم سب کو قابل اعتراض حرکات کرنے پر مجبور کیا۔ دوسرے دن ہم سب لڑکیاں وائس چانسلر کے پاس شکایت کرنے پہنچیں تووہ ملک سے باہر گئے ہوئے تھے۔

رمشا میمن اور نسیم ڈیپر نے تو صرف ہمت کی ہے ورنہ یونیورسٹیز سے اسٹوڈنٹس پولٹیکس کے کمزور ہوتے ہی کچھ اساتذہ نے اس معزز پیشے کو ہتھیار بنا کر مارکس دینے کے عوض جنسی تعلق قائم کرنے کی ڈیمانڈ کھلے عام رکھی ہوئی ہے۔ یونیورسٹی کے کچھ استاد یونیورسٹی کی عزت کے خاطر معاملہ دبانے کی کوشش میں ہیں۔ سندھ سے محبت کرنے والے کچھ نادان سندھ کی مادر علمی یونیورسٹی کی بدنامی کے خوف سے معاملہ اچھالنے سے منع کر رہے ہیں۔

ان سے کوئی پوچھے کہ دیواروں کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے کیا؟ عزت انسانوں کی ہوتی ہے جن میں سے کچھ انسانوں یعنی انگریزی ڈیپارٹمنٹ کی طالبات نے شکایت کی ہے کہ ان کے اساتذہ نے ان کو بلیک میل کرتے ہوئے جنسی تعلق قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں، وہ اس معاملے کو دباتے آئےہیں۔ وہ استاد بھی اس جرم میں شریک تصور سمجھے جائیں جنھوں نے یہ معاملہ دبانے کے لئے وائس چانسلر پر دبائو ڈالا۔ سندھ کے لوگوں کی نظریں انصاف کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان پر ہیں۔