تیس بور کی اسکرین - یاسر الیاس

سوشل میڈیا کی بہتات کے ساتھ ایک افتاد بھی آن پڑی کہ اس پر بہت سا مواد کسی بھی ذمہ داری کا احساس کیے بنا، یا کسی بھی ادارتی چیک کے بغیر نشر کیا جا سکتا ہے، جس سے معاشرے پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بہرحال ، اس بحث اور چند سرپھروں کی سردردی سے قطع نظر، سوشل میڈیا کی افزائش بھی جاری رہی اور ملکی اداروں کی آزمائش بھی۔

ایک طرف آزادی اظہار رائے کو ایک بام عروج ملا اور دوسری طرف اس کی آڑ میں کچھ بھینسے بھی چرتے رہے اور کچھ موچی بھی گانٹھیں لگاتے رہے۔ بہت سے چہرے بھی بے نقاب ہوئے اور بہت سے نتھنے بھی بے لگام ہوئے اور ازل سے ابد تک جاری رہنے والی بحث کی طرح۔ فائدے نقصانات گنوائے جاتے رہے کہ یہی ہمارا المیہ بھی ہے اور یہی ہمارا دستور بھی ہے کہ بحثیں اور کج بحثی بہت، مگر عملدرآمد ندارد !

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کسی بھی جدّت کی طرح، سوشل میڈیا بھی ایک جدت کے طور پر اپنایا جاتا، اس کو پرکھا جاتا، برتا جاتا، قانون سازی کی جاتی، معاشرے کی نارمز کو مدنظر رکھ کر حدود و قیود متعین کی جاتیں اور ادارہ سازی کر کے ایک چیک رکھا جاتا۔ پر کتھوں؟ ادارے بنانے اور پالنے ہمیں تھوڑی آتے ہیں؟ ہمارا مسئلہ تو 1857ء سے وہی ہے کہ حاجی بشیر کے نکاح میں بھی رہنا ہے اور نالاں بھی رہنا ہے ۔ یہی رویہ ہمارا خیر ہر نئی ایجاد اور دریافت کے ساتھ رہا ہے کہ لاؤڈ سپیکر نوں مننا وی نہیں، تے لاؤڈ اسپیکر چھڈنا وی نہیں۔

خیر، سوشل میڈیا کا ریلہ اپنی پوری رفتار سے بہنے لگا۔ پھر اس سوشل میڈیا نے، کراچی میں شاہ رخ جتوئی نامی وڈیرے کے ہاتھوں، شاہزیب نامی نوجوان کے قتل پر ایک تحریک چلا کر ملک میں 'عرب سپرنگ' جیسی فضاء قائم کر دی۔ مین اسٹریم میڈیا کو اس ایشو کو اٹھانا پڑا اور پہلی دفعہ ایسا لگنے لگا کہ طاقتور ظالم، شاید اپنے تمام تر 'انفلوئنس' کے باوجود قانون کی گرفت میں آئے گا۔ ایسی ہی ایک تحریک، لاہور کے ایک نوجوان کی بھی، ایک اور فیوڈل کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد دیکھنے میں آئی۔ ایسی بیسیوں اور مثالیں بھی ہیں، مگر ان روشن مثالوں کے علاوہ، تاریک پہلو بھی ہیں۔

زیادہ دُور جانے کی ضرورت نہیں۔ ماضی قریب میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشال خان کے قتل پر لوگوں کو اکسانے کے لیے یہی سوشل میڈیا استعمال ہوا۔ قائداعظم یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پراسرار ہلاکت کی کڑیاں بھی سوشل میڈیا سے جا کر ملتی ہیں۔ حیدرآباد کی نورین لغاری بھی اسی سوشل میڈیا سے داعش کے نیٹ ورک تک پہنچی اور دہشتگرد بھی یونیورسٹی طلبا تک رسائی کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر کے پروفیسر سبین محمود جیسے لوگوں کو قتل کرانے میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح کی دیگر کئی وارداتوں کے علاوہ، یہ سچائی بھی ناقابل تردید ہے کہ سوشل میڈیا کا سکڈ میزائل، توہین رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی استعمال ہوا اور بلا شبہ اس کے پیچھے بھی انارکی پھیلانے کے علاوہ کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟ یہی سوشل میڈیا قومی سلامتی جیسے سنگین معاملے کو لے کر تنقید سے چار قدم آگے، تضحیک کے لیے بھی استعمال ہوا۔

ایسا کیوں ہوا؟ اور ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟ کیا ہمیں واقعتاً پروا ہے؟ یا ہم آج بھی اس کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کا حصول چاہتے ہیں؟ کیا ہم آزادی کے نام پر انارکی کا ایجنڈا پھیلانا چاہتے ہیں؟ یا ہم بے لگامی کے شور کی آڑ میں کوئی باڑ لگانا چاہتے ہیں؟ دونوں رویّے انتہا پسندی ہیں، دونوں کا نتیجہ مزید تباہی ہے۔ مگر ماتم یہیں نہیں رکتا۔

جب نیتوں میں فتور ہو تو برائی کا اثر 'ڈومینو افیکٹ' سا ہوتا ہے اور پھر دیگر چیزیں بھی اس کے 'امپیکٹ' میں آ کے رہتی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل کی بات ہے اور ہنوز بدستور جاری ہے کہ کسی فلاں لیگ کے تھرڈ کلاس لیڈر نے، کسی ٹنگاں تحریک کے پھٹیچر رہنماء کے بارے میں کیا لچا لفنگا سا بیان کسا ہے اور جواب میں ٹنگاں تحریک کے لیڈر نے فلاں لیگ کے رہنما کی شان میں کیا گل پاشی کی ہے؟ یہ جاننے کے لیے۔۔۔ بیک وقت اسٹیج پروڈیوسر، پراپرٹی ڈیلر اور ایڈیٹر انچیف کی ادارت میں نکلنے والا سہہ پہر کا گھٹیا سا "روزنامہ چسکا" لینا پڑتا تھا کہ ایسے بیان خوب مصالحے کے ساتھ چھپتے تھے۔ مگر اب یہ کام بھی سوشل میڈیا نے خود سنبھال لیا ہے اور بیک وقت اسٹیج پروڈیوسر اور پراپرٹی ڈیلر کے ناتواں کندھوں سے ادارت کا بوجھ ہٹا دیا ہے۔ اب فلاں لیگ کا تھرڈ کلاس لیڈر اور ٹنگاں تحریک کا پھٹیچر رہنما از خود یہ لفظی بمباری اپنے اپنے فیس بک پیج پر کرتے ہیں۔

ایسے ہی، دیوبندی مولوی اور بریلوی مولوی کے مابین، سنی مولوی اور شیعہ مولوی کے بیچ اور مقلد اور غیر مقلد مولوی کے درمیاں فتاویٰ کی جنگ سے محظوظ ہونے کے لیے گلی محلے کی مساجد کا رخ کرنا پڑتاتھا۔ اب سوشل میڈیا نے شہروں کی حد تک اس اذیت کو بھی رفع کر دیا کہ آپ حسب منشاء مخالف فقہ کے خلاف من چاہا فتویٰ سوشل میڈیا پر دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

مگر پھر وہی۔۔۔ ماتم یہاں رکتا نہیں۔ یہ سب تو سوسائٹی میں تھا اور سوسائٹی سے سوشل میڈیا پر آ گیا۔ کفر کے فتوے، شاتم رسالت کے الزام لاؤڈ اسپیکروں سے کچھ پیجز پر آ گئے۔ چوک چوراہوں کے سیاسی جلسوں کی لچ لفنگی گفتگو کچھ والز پر آگئی۔ چٹ پٹے اور فحش الزامات ایوننگرز سے کچھ اکاؤنٹس پر آگئے۔ اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ فورمز، جو بہتر تصور کیے جاتے تھے، جن پر کوئی فیصلہ ساز ذہن بیٹھے تھے، جہاں کچھ ادارتی چیک اینڈ بیلنس تھا، وہ بھی اب اس رنگ میں رنگے گئے۔ وہ بھی اب یہی بولی بولنے لگے۔ ٹی وی اسکرین بھی شتر بے مہار ہو گئے۔ پہلے مرحلے میں چینلز نے اپنے اپنے کیمپ اور قبلے کا تعین کیا اور برملا کہا کہ 'آبجیکٹیو صحافت' گئی تیل لینے صاحب! ہمارا تو یہ دھندا ہے۔ ابھی اس کینسر نے اثرات دکھانا شروع کیے تھے کہ زبانیں ایسی تیکھی ہوئیں کہ بہت سی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ ذاتیات کی ایسی لڑائی شروع ہوئی کہ مسجد کا اسپیکر، جلسے کا اسٹیج، ایوننگر کا پیج سب اسکرین کے آگے ہیچ لگنے لگا۔

غداری اور حب الوطنی کا تعین ہونے لگا کہ فلاں غدار ہے، فلاں غدار نہیں۔ حرمت رسول کے فیصلے صادر ہونے لگے، گستاخ و عاشق کا تعین ہو نے لگا اور اب یہ بھی پتہ چلنے لگا کہ کس کے ساتھ بدفعلی ہوئی اور کس کے ساتھ ابھی تک بدفعلی نہیں ہوئی۔ مگر اس سب میں یقین جانیں، ناظرین، عوام کے ساتھ بہت بدفعلی ہو رہی ہے اور بھی خالصتاً نہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ کاروبار ہے، صحافت نہیں۔

سوشل میڈیا پر تو تنقید اس لیے تھی کہ اس پر ایڈیٹوریل چیک نہیں۔ یہ بے راہ رو ہے اور کسی آتشیں اسلحے کا سا کام کر سکتا ہے مگر اب ٹی وی اسکرین اس سے بھی زیادہ مہلک اور زہر آلود ہو رہی ہے بلکہ اب تو سمارٹ ٹی وی کے اسکرین کی پیمائش کا پیمانہ انچ نہیں، بور کیلیبر ہونا چاہیے کہ یہ تیس بور کی اسکرین ہے، یہ بتیس بور کی اسکرین ہے۔

سوشل میڈیا اور ٹریڈیشنل میڈیا میں اب بس اتنا فرق باقی رہ گیا ہے کہ سوشل میڈیا کا کانٹینٹ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی جیسا ہے جب کہ ٹی وی اسکرینوں پر اسلحہ بردار سامنے بیٹھ کر اندھا دھند گولہ باری کر رہے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */