محفوظ مستقبل - نادیہ عنبر لودھی

ہر معاشرے کا چہرہ اس کے حالات، واقعات اور پس منظر سے مل کر بنتا ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر اسلامی ملک ہے۔ بچے صرف آبادی کا حصہ نہیں بلکہ ہمارا مستقبل بھی ہیں۔ کیا یہ مستقبل محفوظ ہے؟

بچپن ہر انسان کی زندگی کا خوش نما ترین دور ہوتا ہے، جس کی یادیں عمر بھر ہمراہ رہتی ہیں لیکن کبھی کبھی ان خوب صورت یادوں کو کوئی سفا ک لمحہ ڈراؤنا خواب بنا دیتا ہے۔جس میں یہ کلیاں اپنا رنگ کھو دیتی ہیں، جگنو بے نور ہو جاتے ہیں اور ان کو مسلنے والے بے حس انسان جس درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اسُ کا اندازہ victim یعنی شکار ہونے والے بچے ہی کر سکتے ہیں۔ ساری دنیا اس حوالے سے شدید تفکر کا اظہار کر رہی ہے۔

بچوں کا جنسی استحصال کوئی نئی بات نہیں۔ ساری دنیا میں اس قسم کے واقعات ہو رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ، بھارت،زمبابوے،انگلینڈ اور امریکہ ایسے پانچ ممالک ہیں جہاں یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ میں سے ایک لڑکی اور 20 میں سے ایک لڑکا جنسی استحصال کا شکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی جس تواتر سے اس ظالمانہ فعل کے بارے میں خبریں آرہی ہیں، ان کے مطابق 2015میں جنسی تشدد کے 3768 واقعات رپورٹ ہوئے اور بے شمار واقعات ایسے ہیں جوبد نامی کے خوف سےچھپا لیے گئے۔زیادہ تر واقعات میں بچے اور ان کے والدین بد نامی کے ڈر، دباؤ اور خوف کی وجہ سے اپنے ساتھ ہو نے والی زیادتی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بچہ جو پہلے ہی اس سانحے سے گزر کر ذہنی اور جسمانی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تا ہے، اسے مزید خاموشی اور بزدلی کا درس دیا جا تا ہے۔ اگر ہمت کر کے احتجاج کی کوشش کریں تو معاشرہ منفی ردعمل دکھاتا ہے۔ یہ پہلو مجرم کو اور مضبوط کر دیتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق متاثرہ بچوں میں سے اکثریت کی عمر گیارہ سے پندرہ سال تک ہو تی ہیں لیکن کچھ شواہد ایسے بھی ہیں کہ پانچ سال تک کے بچوں کو بھی جنسی ہوس کا نشانہ بنا یا گیا۔دور حاضر میں جب انسان پہلے سے زیادہ تہذیب یافتہ ہے ایسے واقعات میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہو تا جا رہا ہے شاید اس کی ایک وجہ awareness ہے۔جس کے منفی پہلو کو زیادہ لیا جا رہا ہے۔ایک وجہ ماں باپ کی گو نا گوں مصروفیت بھی ہے۔عورت یعنی ماں بھی معاشی تگ ودو میں مرد کے شانہ بہ شانہ ہے۔بچے کے ساتھ نشست، گفتگو اور ایسے مسائل پر اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ پہلے تو جنسی استحصال کا مفہوم واضح کر نا ہو گا۔بچےکےساتھ جنسی زیادتی، جنسی حملے،جنسی ہراساں،جنسی عمل کی تر غیب دینا یا اشارے کر نا سب جنسی استحصال میں شامل ہےاو ر کبھی کبھی یہ حرکات بد ترین جنسی تشدد پر متنج ہوتی ہیں۔ بچوں کوا س استحصال کا زیادہ خطرہ افراد خانہ، رشتےداروں اور ہمسائے وغیرہ سے ہو تا ہے بعض اوقات گھریلو ملازم بھی ملوث پائے جا تے ہیں۔ معصوم بچوں پر جنسی حملے اور زیادتی کے 88فی صد واقعات گھر میں ہی ہوئے۔لڑکوں میں زیادہ خطر ناک ان کے اساتذہ اور اجنبی افراد ہو تے ہیں جب کہ معاشرے کے دیگر افراد جن سے بچوں کا رابطہ رہتا ہے جیسے دکاندار وغیرہ دونوں کے لیے یکساں طور پر خطرے کا باعث ہو سکتے ہیں۔زیادہ تر زیادتی کر نے والے افراد اجنبی نہیں ہو تے لہٰذا پکڑے جانے کے خوف سے بچوں کا قتل تک کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کا جنسی استحصال اور اس کی روک تھام - محمد احسان یونس

قدامت پسند پاکستانی معاشرہ جس میں جنس کو ممنوعہ موضوع سمجھا جا تا ہے، اب اجتماعی جنسی درندگی کی لپیٹ میں ہے۔ شہر قصور میں تقریباً تین سو بچوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی طویل عرصے تک کی جاتی رہی اور پھر ان کی ویڈیوز بنا کر ان کو بلیک میل کیا جا تا رہا۔ پھر سوات میں بھی ایسا ہی واقعہ دیکھنے میں آیا جہاں سترہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

ملک کی چالیس فی صد آبادی پندرہ سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ ان بچوں کو جہاں اور مسائل کا سامنا ہے وہاں ایک گمبھیر مسئلہ جنسی استحصال بھی ہے۔ بچے کی تربیت تعلیم ہی صرف فرض نہیں، بلکہ ان ننھے فرشتوں کو تحفظ دینا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ بد قسمتی سے جو بچے کسی جنسی درندے کی ہوس کا شکار نشانہ بنتے ہیں، وہ احساس جرم،نا امیدی، خوف،تنہائی،اداسی اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔آہستہ آہستہ وہ اپنے خول میں بند ہو نے لگتے ہیں اور ان کے نفسیاتی مسائل بڑھتے رہتے ہیں۔

اس ضمن میں ماؤں کا کردار اہم ہے بچوں کو اعتماد میں لیں، ان میں شعور پیدا کریں انہیں 'بیڈ' اور 'گڈ ٹچ' کا فرق سمجھائیں۔ انہیں بتائیں کہ تم انتہائی خاص ہو، تمہارا بدن تمہاری ملکیت ہے۔ اگر کوئی اس کو چھونے کی کو شش کرے تو تمہیں انکار کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی تمہیں پر یشان کرے تو مجھے بتاؤ، میں تمہاری مدد کروں گی۔ بچے کو شیشے کی گڑیا بنا نے کے بجائے حالات سے لڑ نا سکھائیں۔ بچے میں خوف کی علامات نظر آئیں یا تنہائی پسندی دِکھے تو اس کے پیچھے چھپے حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ پہلے تو بچوں کی حفاظت کا خیال رکھا جائے لیکن ان کی تر بیت بھی اس انداز میں کی جائے کہ وہ معاشرے کے اندر رہتے ہوئے ہر قسم کی زیادتی سے بچ سکیں۔ بچے کو معاشرے سے کاٹ دینا مسئلے کا حل نہیں، اس سے بچے میں اور دیگر نوعیت کے نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ آپ کا بچہ زیادتی کا شکار ہو جائے تو اُسے ٹروما سے نکالنے کے لیے کسی نفسیاتی معالج کی مددلیجیے، خاموشی سے دبانے کی کوشش مت کی جائے تاکہ بچہ نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو نے سے بچ جائے اور معاشرے کا فعال شہری بن سکے بچے کو ہمت دیجیے۔ آج نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے اور ان پر عمل درآمد کی بھی، اسی طرح ہمارا کل محفوظ ہو سکتا ہے۔