دل پڑا ہے رستے میں - ڈاکٹر عزیزہ انجم

ذرا آہستہ چلیے۔ بہت جلدی ہے، بہت مصروفیت ہے، بہت کام ہیں۔ پھر بھی رکیے،ٹہریے، ذرا آہستہ چلیے ! دیکھیے تو راستے میں کسی کا دل پڑا ہے۔

آپ مصروف بزنس مین ہیں، معروف ڈاکٹر ہیں، کامیاب وکیل ہیں، قابل جج یا پروفیسر ہیں، مانا کہ آپ بہت کچھ ہیں، بہت معزز ہیں، محفلوں کی جان ہیں، شان ہیں، دوستوں کی بیٹھک آپ کے قہقہوں سے آباد ہے۔ آپ کی جیب دوستوں کے لیے کھلی رہتی ہے۔ آپ قابلِ تعریف ہیں۔ آپ کے موبائل پر آنے والی کالز اور پیغامات ہی ختم نہیں ہوتے اور ایک دن زندگی کا سفر ختم ہو جاتا ہے اور آپ کو سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملتی کہ آپ کا ایک گھر بھی تھا، گھر میں رہنے والے بیوی اور بچے بھی تھے۔ آپ کی منتظر ماں بھی تھی، آپ کا بوڑھا باپ بھی تھا ۔ بیویاں جو گھر سجاتی ہیں، دسترخوان مہکاتی ہیں، رشتہ داریاں نبھاتی ہیں۔ جن کے ہونٹوں کے ایک تبسم کے لیے، جن کے چاہت بھرے لہجے کےلیے، تعریف کے دو لفظوں کے لیے بیوی کی عمر بیت جاتی ہے۔ سینے میں دھڑکتا دل فریاد کناں رہتا ہے۔

معمول کے کاموں سے ہٹ کر روٹین کےمعاملات سے الگ کوئی دن کوئی گھنٹہ کوئی فرصت کی گھڑی جب شریکِ زندگی سے دل کی بات کی ہو؟ کوئی پھول کوئی خوشبو کوئی اظہارِ محبت کا کارڈ اس کے لیے بھی لیا ہو؟ دوسرے شہر سے کوئی محبت بھرا میسج اسےبھی کیا ہو؟ یاد ہے آپ کو؟

بچے اسکول جاتے ہیں، جو بہت اچھا ہے، بچے بھی محنت کررہے ہیں، رزلٹ اچھا آتا ہے۔ آپ اس عمل میں کتنے شریک ہیں اور کتنے نہیں؟ کبھی بچوں کے ساتھ وقت گزارا؟ ان کے دل کی بات سنی؟ ان کے لطیفوں پر قہقہے لگائے؟ کبھی کہا میری جان! یہ غلط ہے یہ صحیح۔ آؤ میں تمہیں سائیکل پر پیڈل مارنا سکھاؤں، بائیک پر تمہارے پیچھے تمہیں پکڑ کر بیٹھوں، تمہارے آئسکریم کے پیالے میں سے چمچ بھر کر کھاؤں اور اپنے پیالے میں سے چمچ بھر کر تمہیں کھلاؤں۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کو خوشگوار بنائیں - مریم صدیقی

عمر گزر جاتی ہے، بچوں کے دل کی کھیتی مرجھائی پڑی رہتی ہے وہ دوسری مصروفیت ڈھونڈ لیتے ہیں اور وقت آگے نکل جاتا ہے۔

ماں باپ زندگی کے سرد وگرم گزار کر ایک تبسم کی کرن پکڑنے کےلیے جھریوں بھرے ہاتھ بڑھاتے رہتے ہیں لیکن مسرت کی کوئی روشنی ان کے ہاتھ نہیں آتی۔ آپ کی قربت کی دو گھڑیاں ان کا نصیب نہیں بنتیں۔

بعض دفعہ آپ کے ہی گھر میں، کبھی کسی بہن بھائی کے گھر میں، کمرے کی کھڑکی سے وہ بدلتے موسم کا نظارہ کرتے ہیں۔ پچھلی تصویروں کا البم کھولتے بند کرتے ہیں۔ ان کی آنکھ کے آنسو ان تصویروں کو دھندلا کر دیتے ہیں۔ آپ نے کبھی سوچا کھانے اور لباس سے آگے انہیں کچھ اور تو نہیں چاہیے؟ انہیں آپ کا ہاتھ تو نہیں پکڑنا۔ آپ کا لمس تو نہیں چاہیے۔ آپ کے دیدار سے آنکھیں تو ٹھنڈی نہیں کرنی؟

ٹہریے، رکیے، سوچیے کہ وقت کہاں سے نکالا جا سکتا ہے؟ رویوّں میں کیا تبدیلی ضروری ہے؟ یہ جو آپ سے وابستہ رشتے ہیں، یہ جو بہت سارے دل آپ کے لیے دھڑکتے ہیں ان کی آواز بھی کبھی سنیے ۔

تیز تیز چلتے ہوئے یاد رکھیے۔ راستے میں کسی کا دل پڑا ہے!

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.