شرمین عبید چنائے کی اصلیت - حنا صدف

شرمین عبید چنائے کا نام میڈیا پر سُنا اور اخباروں میں پڑھا۔ خوشی تھی کہ کسی پاکستانی کے حصے میں بھی ایک آسکر ایوارڈ آیا۔ مگر کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کسی کے سامنے اپنا کپڑا اٹھاؤ تو اپنا ہی پیٹ ننگا ہوتا ہے۔ ایسے واقعات دنیا میں ہر جگہ رونما نہ صرف رونما ہوتے ہیں بلکہ اُن کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں زیادہ بھی ہے، مگر بین الاقوامی سطح پر "پذیرائی" صرف ہم جیسے ترقی پذیر ملکوں کو ہی ملتی ہے۔

شرمین کے بارے میں مَیں محض اُسی قدر جانتی تھی کہ جس قدر ایک عام پاکستانی جانتا ہے۔ باقاعدہ ملاقات تو کہہ نہیں سکتی، مگر چند سال قبل جب کالج کے طلبہ کے ساتھ ان کے ایک پروگرام میں شرکت کی غرض سے ایک نجی ٹی وی چینل کے اسٹوڈیو گئی تو سامنا ہوا۔ اس ملاقات سے قبل خیال تھا کہ یہ ایک سلجھی ہوئی خاتون ہوں گی جو کہ سماجی مسائل پر ایک انتہائی سنجیدہ پروگرام کو غالباً پروڈیوس کر رہی تھیں۔ پروگرام کا موضوع پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیمی پسماندگی تھی اور وہاں درپیش مشکلات سے متعلق تھا۔ پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے محترمہ تشریف لائیں اور حکم صادر ہوا کہ پروگرام میں جو لوگ شریک ہیں، انہیں اس طرح بٹھایا جائے کہ ایک خاتون اور ایک مرد ساتھ بیٹھیں، جبکہ اس سے پروگرام پر کسی قسم کا کوئی خاص فرق نہیں پڑنا تھا۔ اُس روز اندازہ ہوا کہ محترمہ کس قدر سلجھی ہوئی ہیں کہ ایک انتہائی سنجیدہ شو میں بھی یہ چاہتی ہیں کہ کسی طرح کسی قسم کا تڑکا لگا دیا جائے۔ ہمارے منع کرنے پر بھی محترمہ بضد رہیں کہ بیٹھنے کی ترتیب یہی رہے گی۔ ہمارے ادارے کی جانب سے جب انکار کیا گیا کہ خواتین اساتذہ اپنے طالبِ علموں کے ساتھ اس طرح نہیں بیٹھ سکتیں اور ہمیں پروگرام چھوڑ کر جانا منظور ہے، تب کہیں ہمارے کالج کی اساتذہ کو مردوں کے ساتھ نہ بٹھانے پر آمادہ ہوئیں۔

آج محترمہ نے ایک مرد کی جانب سے اپنی ہمشیرہ کو بھیجی جانے والی دوستی کی پیش کش کو ہراساں کرنے کا نام دے کر ساری قوم کے سامنے اپنی اعلیٰ سوچ کا ثبوت پیش کر دیا ہے۔ ایک طرف محترمہ کا یہ کہنا کہ پروگرام کے شرکاء میں ہر مرد کے ساتھ ایک عورت براجمان ہو اور دوسری جانب یہ روپ کہ اگر کوئی مرد کسی خاتون کو سوشل میڈیا پر دوستی کی پیش کش بھی کرے تو وہ خاتون ہراساں کر رہا ہے؟ یا تو محترمہ کو ہراساں کیے جانے کا مطلب نہیں پتہ یا کبھی ان کو کسی نے ہراساں نہیں کیا، جو اتنے غیر اہم ایشو کو لے کر انہوں نے ساری دنیا کے سامنے ایک شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اتنا عرصہ پاکستان سے باہر گزار کر اور دیگر ممالک کے افراد کے ساتھ کام کرنے کے بعد بھی یہ اپنی سطحی سوچ کو چھُپا نہ سکیں۔ ڈر تو بس اس بات کا ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کرنے والے افراد اگر اس طرح کی بچکانہ حرکات کریں گے تو دیگر اقوام کے افراد ہمارے بارے میں آخر کیا سوچ قائم کریں گے؟

پاکستانی معاشرے کے تاریک پہلوؤں کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر کر تے ہوئے موصوفہ نے بہت نام کمایا مگر افسوس کہ ان کی اپنی سوچ ہمارے معاشرے کے تاریک پہلو سے بھی زیادہ بوسیدہ نکلی۔ ساری دنیا کے سامنے آزادی رائے اور انسانی حقوق و برابری کی بات کرنے والی خاتون جب خود ایسی سوچ رکھ سکتی ہے تو اسے آخر معاشرے سے کس چیز کا شکوہ ہے؟ کونسے انسانی حقوق کی جنگ وہ لڑ رہی ہے؟ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے کیا یہ ضروری نہیں کہ پہلے اپنے رویّے میں تبدیلی لائی جائے؟

ایسا ہی کچھ موصوفہ نے اُس وقت بھی کیا تھا جب اپنی ایوارڈ یافتہ فلم کے مرکزی کردار کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے مُکر گئی تھیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن کرداروں کی ساری دنیا کے سامنے تشہیر کی گئی اور نام و مقام کمایا گیا، ان کرداروں کی زندگی بھی سنوار دی جاتی مگر افسوس کہ یوں نہ ہو سکا اور وہ آج بھی جوں کے توں مصائب میں گھِرے ہیں۔

سنو بی بی

میرے چہرے کے یہ دھبّے

تمہاری چمچماتی کیمرے کی روشنی میں چھپ نہیں سکتے

تمہاری فلم کا کردار بن کر مٹ نہیں سکتے!

سنو بی بی

مجھے بخشو!

مجھے میرا یہی جھلسا ہوا چہرہ مبارک!

تمہیں دنیا

تمہیں ایوارڈ کی بارش مبارک ہو!

مجھے کہہ دو؟

تمہاری فلم سے چہرہ میرا پھر کھل اٹھے گا کیا؟

مجھے میری خوشی واپس ملے گی؟

کیا پہلی زندگی واپس ملے گی؟

تمہیں ایوارڈ مل جائیں گے لیکن

میرا کیا ہوگا؟

میرا چہرہ۔۔۔

جسے خود سے بھی دیکھو میں چھپاتی ہوں

اُسے دنیا کو دکھلانے کی یہ ضد چھوڑ دو بی بی!

میرا جھلسا ہوا چہرہ مجھی کو موڑ دو بی بی !