کچھ باتیں صحافی اور صحافت کی! - ظفر محمود شیخ

ایک زمانہ تھا صحافی ہونا قابل فخر بات تھی۔ ہر جگہ عزت تھی، معروف و غیر معروف ہر جگہ محض ایک زبانی دعویٰ ہی کافی تھا کہ بھئی کہہ دیا صحافی ہیں تو ہیں۔ کوئی شناخت دکھانا بےعزتی اور غیرت کے خلاف تھا۔ ہر دروازہ کھل جا سم سم کی طرح کھل جاتا تھا۔

اب یہ حال ہے کہ کسی بھی ادارہ کے صدر دروازے سے لے کر صاحب کی کرسی تک پہنچنے، بار بار عرفان ذات کی ان منزلوں سے کچھ اتنی بار گزرنا پڑتا ہے کہ خوداپنے اوپر اعتماد نہیں رہتا کہ میں اصل میں ہو ں کیا؟ اور واقعی ہوں بھی کہ نہیں؟ کس ٹی وی سے ہیں آپ جناب عالی؟ اگر شومئی قسمت آپ آج کل کسی ٹی وی سے نہیں ہیں تو 90 فیصد نمبر پہلے سوال پہ ہی کٹ گئے۔ اب باقی بچے 10 فیصد کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ جس بھی ادارہ کا نام لیں موصوف نے کہیں سن رکھا ہے یانہیں۔ اور اگر اتفاق سے جو کہ اکثر ہو تا ہے مذکورہ ادارہ حضرت کے حیطۂ خیال و یادداشت سے باہر تھاتو آپ کے مشکوک و مشتبہ ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہا۔

گویا اب آپ 90 فیصد بلیک میلر قرار پائے ہیں۔ بھئی یہ اخبار کہاں چھپتا ہے؟ ہم نے کبھی نہیں سنا اور نہیں دیکھا۔ کبھی اپنا اخبار دکھائیں ناں حضور۔ گویا یہ گالی دینے کا ایسا جدید انداز ہے کہ افسر مذکور آپ کی بات سننے سے پہلے ہی آپ کو اس گالی کے ذریعہ مخنث کرچکے ہوتے ہیں۔ اب اگر ہم جیسا کوئی ڈھیٹ ہو تو بات آگے بڑھتی ہے وگرنہ وہیں چھٹی۔

ایک ایسے ہی افسر کے پاس دوسری بار پہنچے، پہلی بار کا ذکر چھوڑیں، تو موصوف اب بھی سنجیدہ لینے کو تیارنہ تھے کہ اخبار بیچارا چھوٹا تھا اور موصوف اس کے مقابلہ میں بہت بڑے تھے۔ خاکسار نے چھوٹتے ہی حملہ کیا کہ بھائی سیکرٹری صاحب کو کیوں ناراض کرتے ہو کہ وزیر محترم کو تمھیں بچانے کے لیے خود مداخلت کرنا پڑی؟ وار کاری تھا کام کر گیا۔ مگر ہر با ر آپ کے پاس ایسی انفارمیشن تھوڑی ہوتی ہے جو افسران کو رام کرلے۔ اکثر تو چائے بھی نہیں پوچھتے۔۔۔

اچھے زمانے میں کہ یہ ٹی وی والی علت ایجاد نہیں ہوئی تھی صرف افسر اعلیٰ کے پاس کچھ وقت گذارنے کے لیے چائے پینے کی حامی بھر لیتے تھے کہ چائے ختم کرنا ہمارے ہاتھ میں تھا۔ ہاں پانی منگوانا کبھی نہیں بھولتے تھے کہ جیسے ہی خیرات میں کچھ ملتا، یعنی خبر۔ تو فٹافٹ صاحب کی نظر بچاکر پانی چائے میں ڈالا ایک ایک سانس میں گٹک گئے۔ اچھا سر! بہت شکریہ آپ کا بہت وقت لیا اور چائے میں آپ کا خلوص بھی بہت تھا۔ اب ظاہر ہے کہ ہم جو کباب میں ہڈی کی طرح اٹکے ہوتے تھے صاحب کیسے نہ خوش ہوکر اجازت دیتے، جی جناب بہت مہربانی اگرسرکاری مصروفیت نہ ہوتی تو آپ سے گپ لگاتے۔۔۔ نہیں سر! آج کے لیے بہت کافی ہے آیندہ پھر حاضری ہوگی۔

اب ہر صحافی کی طلب الگ ہے۔ چاہے خیرات میں ملے یا دھمکی سے۔ بعضے بعضے تو اتنے ڈھیٹ افسران ہوتے کہ انہیں منہ پھاڑ کر کہنا پڑتا تھا کہ حضور کچھ عطا کرتے ہیں یا گلے پڑیں؟ بیچارے عطاکے باوجود اگلی صبح تک سولی پہ ٹنگے رہتے کہ دو ٹکے کے صحافی نے کیا بکواس لکھی ہے یا جان بچ گئی؟

اب توسنا ہے طور طریقے بدل گئے ہیں۔ سن 2000ء میں جب سے صدربش نے کہا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں، یہی حال صحافت کا بھی ہوگیا ہے۔ افسران کو جو خود بھی کسی نہ کسی سائیڈ پر ہوتے ہیں، یہ باور کرانا پڑتا ہے کہ سر جی آپ کو تو پتا ہے ہمارا ادارہ حکومت کا حامی ہے۔۔۔

صحافت کی polarization کی انتہا دیکھنی ہو تو اول یا دوم میں سے کسی ایک ٹی وی کا نام لے دیں حسب توقع ردعمل یا Responce ملے گا۔ شرط یہ ہے کہ آپ کو پہلے سے پتا ہو کہ موصوف خود کس کے حامی ہیں۔ ایک زمانہ تھا آپ کے ہاتھ میں کسی بھی ادارہ کا لوگو ہو۔ میں بی بی سی کا نام لیتا تھا۔ دافع بلیات تھا۔ ایک بار فاکس نیوز کی ٹیم کے ہمراہ تھا اور صوبہ تھا کے پی کے، پشاور کے افغان مہاجر کیمپ میں ایک پشتون مہاجر کے پوچھتے ہی جھٹ نہایت خشوع وخضوع سے جھوٹ بولا کہ ماڑا زا بی بی سی سرا۔۔۔ گورا حیرت و غصہ کی ملی جلی کیفیت میں پوچھنے لگا ابے یہ کیا کہا؟ کہ اس کے سوال کا اس سے بہتر ترجمہ ہونہیں سکتا تھا۔ تو میں نے جواب دیا بھائی اگر اصلی نام بتاکر کام کرنا ہے تو خود کرلے مجھے مار کھانے کا کوئی شوق نہیں۔ فوراً شفا ہوئی، آیندہ ہمیشہ تعارف کرانے سے قبل ایک بار میری طرف ضرور دیکھ لیتا تھا۔ فن لینڈ والے واقعی کمال کے لوگ ہیں وہ تو ہر ٹرپ سے پہلے ہی پوچھ لیتے تھے بھائی! اس بار ہم کہاں کے ہیں بی بی سی یا سعودی ٹی وی؟ شومئی قسمت سات برس اسی سعودی ٹی وی کا لوگو ہاتھ میں پکڑے گذار دیئے کہ پشتون بھائی کہ عرب ملکوں میں ملازمتیں کر کرکے خاصے عقلمند اور آشنائے لوگو ہوچکے ہیں، ایک بار پکڑ ہی لیا یارا یہ تو سعودیہ والا ہے کھجور اور تلوار ہے لوگو پر۔۔۔ چپکے سے اسٹک لیے کی بعض اوقات یہ لوگو بھی خطرناک ہوجاتا تھا۔