مسکراتی نظر - رومانہ گوندل

ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے، مسکرانا چاہتا ہے اور شاید اس کے تمام خوابوں، تمام کوششوں کے پیچھے، اصل میں یہی خواہش چھپی ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ کئی بہانے ڈھونڈ تا ہے۔ کبھی بڑے بڑے مقاصد کے پیچھے بھاگتا ہے اور کبھی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے دل بہلاتا ہے لیکن اپنی ان تمام کوششوں کو ماضی کے کچھ برے تجربات اور مستقبل کے چند وہموں سے ضائع کر دیتا ہے، جو اسے خوش نہیں ہونے دیتے۔ ہم انسانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بھی شاید یہی ہے کہ ہم چھوٹی سی نا کامی سے اتنے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں جیسے زندگی ختم ہو گئی ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم اتنے کمزور ہوتے ہیں اور نہ زندگی اتنی محدود اور تلخ، جتنی ہم اپنی سوچ سے بنا لیتے ہیں۔سوچتے تو ایسے ہیں جیسے کوئی پسندیدہ سوٹ استری سے جل گیا یا ہاتھ میں پکڑا گلاس گر کر ٹوٹ گیا تو سانس ہی رک جائے گی۔ لیکن حقیقت میں ہماری زندگی میں کتنے پیارے رشتے، کتنے پیارے لوگ چلے جاتے ہیں اور انہیں اپنے ہاتھوں سے منوں، مٹی تلے رکھ آتے ہیں لیکن زندگی نہیں رکتی کیونکہ اسے تو چلنا ہے۔ کوئی بچھڑ جائے گا، کوئی مل جائے گا۔ بالکل ریل گاڑی کے سفر کی طرح، ہر اسٹیشن میں کوئی اتر جاتا ہے، کوئی چڑھ جا تا ہے لیکن سفر چلتا رہتا ہے۔ لیکن کچھ حادثات و واقعات یہ احساس دلانے آتے ہیں کہ ہم میں کتنا حوصلہ اور ہمت ہے اور زندگی میں ا س کے علاوہ بھی ہمارے پاس جینے کی کئی وجوہات ہیں۔ اس لیے اپنی خوشیاں کسی ایک چیز کے کھو جانے کے وہم میں تباہ نہ کریں۔

جو زندگی دے رہی ہے اسے خوشی سے قبول کریں۔ حالات بدل رہے ہیں تو ان تبدیلیوں کو قبول کر لیں کیونکہ جو مل رہا ہے وہی بہترین ہے اور ہم جن خوابوں کے پیچھے وقت، سکون برباد کر دیتے ہیں ضروری نہیں ہے ان کی تعبیر اتنی ہی خوبصورت ہو جتنی ہم سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا ہی ہوتا ہے جس چیز کو حاصل کرنے میں ہم دن رات کا فرق بھول جاتے ہیں جب وہ مل جاتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری سوچ اور حقیقت میں کتنا تضاد تھا، وہ چیز صرف خوابوں کی حد تک ہی خوبصورت تھی۔

تو آج سے اپنی سوچ میں تھوڑی سی تبدیلی کرتے ہیں۔ اپنے خوابوں کو پورا کی کوشش ضرور کریں لیکن یہ بھی نہ بھولیں کہ زندگی میں اس کے علاوہ بھی جینے کے کئی مقاصد ہیں۔ اس لیے انہیں بھی پورا کرنے کی ہمت کریں، کسی نا کامی پر زندگی ختم نہیں ہوتی۔ جو گزر گیا وہ کل تھا آ ج اسے یاد کر کے دن ضائع نہ کریں کیونکہ زندگی کی کتاب میں ہر دن ایک کورا صفحہ لے کر آتا ہے جس میں ہم اپنی مرضی سے تحریر لکھتے ہیں۔ اس لیے پچھلے صفحے پر لکھی تحریر کو کاٹ کر بد صورت بنانے کے بجائے، آج کے کورے کاغذ پر نئی تحریر لکھیں، روشن اور چمکتے ہوئے رنگوں والی پنسل سے اور مستقبل کے خوبصورت خوابوں سے سجا لیں۔ کل کے لکھے کو مٹایا نہیں جا سکتا اس لیے اس کو کاٹنے کی کوشش میں زندگی کے صفحے کو بد نما نہ کریں بلکہ اگلے صفحے سے کہانی کو ایک خوبصورت موڑ دے لیں، یہی زندگی ہے۔

تو پھر آ ج ماضی کی نا کامیوں کے دکھ اور مستقبل کے وہموں سے نکل کے مسکرا کے دیکھتے ہیں۔ زندگی یقیناً بہت خوبصورت ہے، بس ضرورت ہے اک مثبت سوچ کی اور مسکراتی اور پر امید نظر کی۔

Comments

رومانہ گوندل

رومانہ گوندل

اقتصادیات میں ایم فل کرنے والی رومانہ گوندل لیکچرر ہیں اور "دلیل" کے علاوہ جریدے "اسریٰ" کے لیے بھی لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */