نئے بیانیے کی ضرورت - یاسر محمود آرائیں

افلاطونی دماغوں میں پھر سودا سمایا ہے کہ ہماری عالمی جگ ہنسائی اور کمزوری کا سبب "بیانیہ"نہ ہونا ہے۔ اب ایک نیا بیانیہ بنایا جائے گا تاکہ ہم دنیا میں کچھ مقام اور آبرو پاسکیں۔

جب سے یہ خبر سنی ہے اک وحشت طاری ہے، اضطراب ہے کہ بڑھتا جارہا ہے، دل میں سو وسوسے لاکھ اندیشے سر ابھار رہے ہیں کہ خدایا خیر! ہمارے اجڑے، بکھرے، چکناچور وجود کو نجانے کس کانٹوں بھرے جنگل سے گزارا جائے گا؟

دل کی یہ بے کلی بے سبب بھی تو نہیں۔ کئی بار قوم کے ساتھ یہ واردات ہوچکی کہ ہمیں جانے کہاں کا لکھا حکم پڑھ کر سنا دیا جاتا ہے کہ آج سے تمہاری یہ رہگزر ہے جس سے گزر کر فلاح کا رستہ پالو گے۔ برسوں سے اسی طرح چل چل آبلہ پا ہوچکے مگر نجات ہے کہ آکر ہی نہیں دے رہی۔ ہاں! یہ ضرور کرم فرمائی ہوتی ہے کہ بوریت رفع کرنے کی خاطر کچھ وقت بعد راستہ بدل دیا جاتا ہے۔

کبھی حکم ہوتا ہے کہ ہمارا مشترکہ مفاد(کامن انٹرسٹ)امّت کے ساتھ وابستہ ہے۔ امت ایک جسد کی مانند ہے جس کے کسی ایک عضو کی تکلیف پر تمام کا حرکت میں آنا لازم ہے۔ اس لیے کہیں بھی کسی کلمہ گو کے ساتھ زیادتی ہو، ہم پر مدد لازم ہے۔ قوم نے اس نصیحت کو پلّو سے باندھ کر "الجہاد، الجہاد" کے نعروں میں اپنی گلی کوچوں میں لشکر تیار کرنا شروع کردیے۔ آخر ہمارا مذہبی فریضہ اور سب سے بڑی بات کامن انٹرسٹ جو تھا۔ مگر ابھی چند لشکر نکلے اور باقی نکلنے کو تیار ہی تھے کہ منادی ہوئی رک جاؤ! یہ راستہ خرابی کی جانب جاتا ہے۔ ہمارا مفاد تو نیشنل انٹرسٹ میں پنہاں ہے۔ دنیا مریخ پر پہنچ گئی ہم اب تک پرائے جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ سب نے اپنا اپنا گھر تعمیر کرلیا ہم اب تک پرایا بوجھ ڈھورہے ہیں۔ آج کے دور میں کسی کو کسی سے کیا غرض؟

تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

کچھ تو رُک گئے، کچھ اَڑ گئے کہ ہم تو سابقہ راستے پر ہی چلیں گے۔ ڈرایا گیا کہ باز آجاؤ۔ نہ ماننے والوں کے لیے کہا گیا سولی چڑھادو۔ چند
دھرلیے گئے، باقی تاریک راہوں میں مار دیے گئے۔ غرض بہت خرابی ہوئی مگر اب جبکہ تقریباً اس موقف پر اتفاق قریب تھا تو ایک بار پھر نیا بیانیہ؟

نظیر یہ دی جارہی ہے کہ ہندوستان کا بیانیہ ہم سے مضبوط ہے اس لیے ہم سے زیادہ پراثر ہے۔ کون سمجھائے، کون بتلائے کہ عزت باتوں سے نہیں کردار سے آیا کرتی ہے؟ جبر سے نجات بڑھکوں اور تقریروں سے نہیں جرات انکار سے ملا کرتی ہے۔

دلیری کا یہ عالم ہے کہ ابھی آئندہ کسی امریکی کو مرتبے سے زیادہ مقام نہ دینے جیسی خبروں کی سیاہی بھی نہ خشک ہوئی تھی کہ ریکس ٹیلرسن کی آمد پر تمام قیادت دست بستہ کھڑی نظر آئی۔ مرعوبیت کا یہ عالم کے کوئی آنکھ ملانے کا رودار نہیں۔

یہ بھی عہد وپیمان کیے گئے تھے کہ آئندہ امریکا کی کوئی دھمکی کوئی ناجائز فرمائش مانی جائے گی، نہ کسی غیر ضروری حکم کی تعمیل کی جائے گی۔ ہم وہ کریں گے جو ہمیں بہتر لگے گا اور اس سے رک جائیں کو جو ہمارے لیے مشکل ہوگا۔ چاہے امریکا ہمارا حقہ پانی بند کردے مگر ہم مزید عزت نفس پر آنچ ہرگز نہ آنے دیں۔

مگر ہوا کیا؟ اس کے برعکس اب خبر آئی ہے کہ ریکس ٹیلرسن کی آمد سے پیشتر پاکستان میں مقیم افغان طالبان کے رہنماؤں کو کراچی میں ایک جگہ بلا کر اکٹھا کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ پاکستان میں اگر رہنا ہے تو طالبان کو امریکی شرائط پر مذاکرات پر آمادہ کرنا ہوگا۔ بیانیے کی خاطر ہندوستان کی نظیر دینے والوں کو اس کے طرز عمل پر بھی نظر دوڑا دینی چاہیے تھی کہ اس کا چال چلن کیا ہے؟ تین گھنٹے کی مانندِ خواب ملاقات سے پہلے ہی دیرینہ مطالبہ تسلیم کرلینے والوں کو دیکھ لینا چاہیے تھا، ہندوستان نے تین دن میں کوئی ایک مطالبہ پورا نہ کیا۔

ٹیلرسن نے تین دن میں خوشامد اور لالچ سے بہت کوشش کی کہ ہندوستان کو ایران سے دور کردیا جائے یا کم از کم شمالی کوریا میں سفارت خانہ ہی بند کرالیا جائے۔ مگر بیش بہا نوازشات ، اسلحہ اور تعاون کی وعید کے بعد بھی کسی ایک بات پر قائل کرنے میں کامیابی نہ ہوئی۔ مگر ہم نے بن مانگے ہی سب کچھ عطا کردیا۔ اگر غیرت، حمیت اور دلیری ہو روز روز نیا بیانیہ پیش کرنے کی نوبت ہرگز نہ آئے۔

قرآن وسنت کی شکل میں اک مکمل بیانیہ ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے صرف عمل کی ضرورت ہے۔ ارشاد ہے کہ ایمان والو جو قول اور عہد وپیمان کرو اسے پورا نبھاؤ۔

طرز عمل یہ ہے کہ اسی امریکا کے لیے جس کی خاطر ہندوستان اپنا سفارت خانہ بند کرنے پر تیار نہیں ہم نے پہلے اپنے کلمہ گو ملک کے سفیر کو گرفتار کرکے اس کے حوالے کردیا تھا۔ ایسا غیر انسانی اور وحشیانہ عمل، جس کی نظیر زمانہ جاہلیت میں بھی میسر نہیں۔ اب ایک بار پھر اپنے ہاں پناہ دینے والوں کو ڈراوا اور دیس نکالا دیا جارہا ہے۔

ایک ارشاد یہ بھی ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو کہیں دھوکے کی زندگی تمہیں خسارے میں نہ ڈال دے۔ مگر ہمیں دین اور آخرت سے کیا مطلب؟ ہمارا مقصد ہے صرف معیشت !

یہ بھی رہنمائی ہے کہاے ایمان والو یہود اور نصاری تمہارے کبھی خیرخواہ نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ تم ان جیسے نہ ہوجاؤ۔ مگر ہم سو جوتے سو پیاز کھانے کے بعد بھی وہیں جمے ہیں۔ سو بار دھکے دیے گئے، سو بار دھتکارا گیا، پر عزت کسے راس؟

مومن کی پہچان بتائی گئی کہ ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا مگر ہم نجانے کتنی مرتبہ دھوکا کھانے کے بعد وہیں ہاتھ ڈالنے پر مصر!
لہٰذا جتنے مرضی بیانیے تبدیل ہوجائیں اسی طرح آبلہ پا رہیں گے، بلکہ راندہ درگاہ ہوجائیں گے کیونکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک تیری چاہت ہے، ایک میری چاہت ہے اور اگر نا مانا تو میں تھکادوں گا تجھ کو اس میں، جو تیری چاہت ہے، مگر پھر بھی ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔