شرمین باجی کی زنانہ غیرت - سدرہ سحر عمران

چہ چہ چہ۔۔۔۔ پاکستانی عورت ہے نا؟ دکھا دی اپنی اوقات، ڈال دیا پٹ سیاپا، ہائے میں لٹی گئی! اور وہ بے چارہ ڈاکٹر؟ چھوکری کے ساتھ نوکری بھی گئی ہاتھ سے۔ بدنامی مفت میں گلے پڑ گئی۔ بندہ پوچھے کہ اتنی بھی کیا ایمرجینسی پڑ گئی تھی جو تم فیس بک پر بھی پیچھا کرنے سے باز نہ آئے؟ بھلا شریف عورتوں کا گزارہ ہے اس معاشرے میں؟ گلی محلوں، بازاروں، سڑکوں پر تو پہلے ہی کم نکلتی ہیں اب سوشل میڈیا پر بھی انہیں تحفظ ملے گا یا نہیں؟ کم بخت جتنے مرضی پڑھ لکھ جائیں چھچھور پنے سے باز نہیں آتے۔ اب کیا ضرورت تھی شرمین باجی کی بہن کو فرینڈ ریکوسٹ بھیجنے کی؟ وہ سوشل میڈیا پر اس لیے تو نہیں آئیں کہ تم جیسے نظر بٹوؤں سے دوستیاں گانٹھتی پھریں؟ وہ تو ماشاء اللہ سے جمعے کے جمعے احادیث، سنہرے اقوال، زبیدہ آپا کے ٹوٹکے، گڈ مارننگ کے میسجز، قبر کے عذاب سے متعلق کارڈز پوسٹ کرنے آتی ہیں۔ اور تمہاری یہ مجال کہ چار دن میں ہی جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسنے کا پلان بنا لیا؟ وہ تو شرمین باجی پڑھی لکھی ہیں اس لیے انگریزی میں گٹ پٹ کر گئیں، ورنہ ہوتی نا کوئی "آنٹی گورمنٹ" ٹائپ دیسی ماڈل، تو آستینیں چڑھا کر کہتی ’’اوئے! تمہیں شرم نہیں آتی؟ تمہارے گھر میں ماں بہنیں نہیں ہیں کیا؟ بےشرم، بےحیا، بےغیرت! ٹھہر جا، ابھی تیرا علاج کرتی ہوں، نظر باز چھچھورے! تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن پر بری نظر ڈالنے کی؟ آ نکھیں نکال کر ہاتھ میں دے دوں گی"

یہ سیدھا ہراسمنٹ کا کیس ہے بھئی، عورت کی اوقات یہی رہ گئی ہے کہ وہ ان کی بھیجی فرینڈ ریکوسٹوں پر غور کرتی رہے۔ اچھا ہوا ڈاکٹر، تمہارے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔ ہمدردی تو مجھے تم سے بھی نہیں ہے۔ تم تو ڈاکٹر سے کھوجی بن گئے۔ تمہیں کیا ضرورت تھی ادھر ادھر منہ مارنے کی؟ بھلے دوستی ہی سہی لیکن عزت بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور تم مردوں میں اسی چیز کی تو کمی ہے۔ اب دنیا لاکھ کہے تم شریف ہو لیکن موجود ہ دور میں تو شریفوں پر کوئی بھروسہ ہی نہیں کرتا۔ یہ تم جیسے ہی ہوتے ہیں جو پہلے مسخریا ں کرتے ہیں، بعد میں چلّاتے پھرتے ہیں "مجھے کیو ں نکالا؟" اب تم بھی رونا رو رہے ہو کہ تمہیں کیو ں نکالا؟ تم کیا سمجھتے ہو کہ غیرت صرف تم مردوں میں ہی ہوتی ہے؟ ارے ہماری شرمین باجی زندہ باد! کیا زنانہ غیرت پائی ہے انہوں نے اللہ کے فضل سے۔ بھلے سے تیزاب اور زبردستی شادی کے خلاف فلمیں بناتی ہیں اور اب زبردستی فرینڈ ریکوسٹس بھیجنے پر بھی بنائیں گی اور اس پر بھی آ سکر جیتیں گی، دیکھ لینا!

اور شکر کرو صرف نوکری کے لالے پڑے ہیں ورنہ یہ جو تم نے گری ہوئی اوچھی حرکت کی ہے نا، سیدھا کیس بنتا ہے تم پر۔ چار چوٹ کی مار کھاتے تو ساری دوستی ہرن ہو جاتی۔ دل پھینک ڈاکٹر نہ ہو تو! جہاں خوب صورت زنانی دیکھی، رال ٹپکانے لگے۔ شرمین باجی سچ ہی تو کہہ رہی ہیں کہ بدصورت، موٹی عورتیں مر گئی ہیں کیا؟ انہیں کیوں نہیں بھیجتے درخواستیں؟ انہیں بھی بھیجو تاکہ تمہیں دنیا میں ہی عذاب کا مزہ چکھنے کو ملے۔ اور ہاں فرینڈ ریکوسٹ کی خبر پر مجھے کچھ عرصہ پہلے کی خاتون رپورٹر بھی یاد آ رہی ہیں۔

جب سے ایک تھپڑ کا سانحہ ہوا تھا، سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ کو خاتون رپورٹر کی مردانہ وار بڑھکوں اور سلطان راہی والے انداز پر تاؤ آ رہا تھا تو کچھ اس سڑیل مزاج فٹے منہ پُلس والے کے حق میں نعرے ما ر رہے تھے، جسے ماں بہن یاد دلانے پر حقیقی معنوں میں اپنی غیرت کو جگانا پڑا، جو نادرا والوں کی ویسے ہی مری ہوئی ہے۔ اس کا کچھ اثر ڈیوٹی والوں پر بھی تو آنا تھا۔ اصل کہانی کیا تھی؟ کیمرو ں کو ضبط کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی تھی؟ خدا جانے۔ لیکن رپورٹر خاتون کو دھیان رکھنا چاہیے تھا کہ مردوں سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ تھپڑ ہی ہو سکتا ہے۔ خاص کر پاکستانی پولیس والے، جو ویسے ہی زمانے بھر میں بدنام ہیں۔

مجھے دونوں سے ہمدردی ہے نہ پر خاش۔ میں تو دہری پالیسی، منافقت، عدم برداشت اور منفی رویوں کی بات کر رہی ہوں جو ہمارے اخلاقی جرثومو ں کا قلع قمع کر رہے ہیں۔ عزت، غیرت، ہراساں کرنا ہر کسی نے اپنے مطلب کے پیمانے بنا رکھے ہیں۔ کچھ کے ہاتھ سوشل میڈیا نام کی ڈگڈگی آ گئی تو کچھ نے کیمرے کی آ نکھ کو لوگوں کی کمزوری بنا لیا ہے۔ وہ موبائل کا کیمرہ ہو یا میڈیا کا، شرم، لحاظ، ادب و تمیز سب کچھ ناپید ہو تا جا رہا ہے۔ عورت اپنا عورت پن کھوتی جا رہی ہے۔ مردو ں کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش میں اسے کیا کچھ سہنا پڑ تا ہے، وہ الگ کہانی ہے مگر جو نسائیت اس کا غرور اور فخر ہوتی تھی اسے عورت نے خود ٹھوکر مار کر خود سے دور کیا ہے۔

بھئی اب اگر برابری چاہیے تو ہر قسم کا لہجہ، رویّہ اور زبان برداشت کرنے کی بھی عادت ڈالنی ہوگی۔ وگرنہ سر عام تماشے ہی ہونے ہیں۔ اس سے پہلے الیکشن کے دنوں میں ایک ویڈیو مشہور ہوئی تھی جس میں ایک جی دار خاتون نے ٹکا ٹکا کرایک مرد کا منہ لال کیا تھا۔ اس پر عورت کی دیدہ دلیری کے تذکرے تھے۔ پھر مرد نے جسارت کی تو عورت ایک دم سے مظلومیت کے دائرے میں جا کھڑی ہوئی۔ اگرچہ دانش مند طبقہ عورت کی بدلحاظی، بازو پکڑنے اور لہجے کی سختی کی وجہ سے اسے ہی مورد الزام ٹھہراتا رہا مگر غلطی اس ہتھ چھوڑ مرد کی بھی تھی جس نے پرائی عورت کو زناٹے دار تھپڑ جڑ دیا تو گھر کی عورتوں کا کیا حشر کرتا ہوگا؟ توبہ توبہ اتنا جلالی غصہ؟ کم بخت کو ذرا شرم نہیں آئی؟ (پھر سے وہی شرم)

ویسے بھی پہلے وقتوں میں عورت سے چھیڑ چھاڑ ہوتی تھی تو وہ مشہور زمانہ جملہ دہراتی ’’تمہارے گھر میں ماں بہنیں نہیں ہیں کیا؟‘‘ چھیڑنے والے کو غیرت خاک آتی، وہ الٹا اور شیر ہو جاتا۔ کچھ وقت آگے سرکا تو جوابی کارروائی میں ’’بالکل ہیں۔۔۔ بھیجوں کیا؟‘‘ کا لطیفہ وجود میں آ گیا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ کچھ عورتیں تو با قاعدہ دعوت دینے والے انداز رکھتی ہیں کہ آؤ اور مجھے چھیڑو۔ پھر کوئی چھیڑ جائے تو مظلومیت کا ڈھول گلے میں ڈال کر پیٹنا شروع کر دو۔ خاص کر حقوق نسواں کی نام نہاد این جی اوز کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اسی ڈبل اسٹینڈرڈ کا سوال اٹھتا ہے کہ عورت آخر چاہتی کیا ہے؟ ایک طرف تو شرمین چنائے جیسی لبرل عورتیں مرد و زن کی تخصیص کے خلاف ہوتی ہیں، دوسری طرف مرد و زن کے بیچ ہراسمنٹ کی لکیر کھینچ کر پھر سے مظلومیت کا ٹیگ سجا لیتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عورت کو بھی نہیں پتہ کہ وہ ’’اوئے تمہیں شرم نہیں آتی‘‘ والی سچویشن سے کبھی باہر نکل بھی پائے گی یا نہیں؟

Comments

سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران کی شخصیت کئی رنگو ں کا امتزاج ہے۔ ان کے باغی خیالا ت مصنوعی رسم و رواج، نمائشی مذہبیت اور معاشرے کی غیر منصفانہ تقسیم سے متصادم ہیں۔ ان کی نظموں کے مزاج میں بلا کی سفاکیت، کاٹ اور شدت پسندی ہے تو ایک اسکرپٹ رائٹر کے بطور یہ رنگ جذبات و احساسات، محبت اور سماجی رویوں کے عکاس ہیں۔ ان کی نثر میں طنز و مزاح بھی ہے، برجستگی اور روانی بھی۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.