فیس بک ریکوسٹ سے ہراساں کیوں؟ - کاشف نصیر

شرمین عبید چنائے کی پوسٹ کا مذاق بننا تھا، سو بنا، لیکن یہ معاملہ مذاق سے بڑھ چکا ہے، اور اس کی تلخی ایک ابھرتے ہوئے معالج کے کیرئیر کو لے ڈوبی ہے۔ آغا خان اسپتال نے دباؤ میں آ کر جس سرعت سے کارروائی کی ہے، وہ حیرت انگیز نہ سہی، افسوسناک ضرور ہے۔

مان لیتے ہیں کہ فیس بک پر ایک فرینڈ ریکوسٹ سے شرمین کی ہمشیرہ ہدیل عبید رنگون والا کو خوف محسوس ہوا ہو، مگر کیا یہ بہتر نہ تھا کہ خاموشی سے رائج طریقہ کار کے مطابق آغا خان اسپتال کو شکایت کی جاتی؟ پورے معاملے کو جس انداز میں سوشل میڈیا پر حقوق نسواں کے عنوان سے اچھالا گیا اور جس طرح مذکورہ ڈاکٹر کی نیت کی بھیانک تشریح کی گئی، اس نے تلخیوں کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اب شرمین سے سوال پوچھ رہے ہیں لیکن وہ تو خود ہی مدعی، وکیل، گواہ اور مصنف بن کر تماشا تمام کرچکی ہیں۔

شرمین کا بنیادی مقدمہ ہی غلط ہے۔ اگر واقعی مذکورہ ڈاکٹر نے اسپتال کے ریکارڈ سے ڈیٹا نکال کر ہدیل کو فرینڈ ریکوسٹ بھیجی تھی، تب بھی ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے یا ریپ کا الزام لگانا زیادتی ہے۔ اس صورت میں مذکورہ ڈاکٹر کی حرکت قواعد و ضوابط اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی تھی، جس پر اس کے خلاف بلاشبہ اظہار وجوہ کا نوٹس بنتا تھا۔ مگر آغا خان اسپتال ایک بین الاقوامی شہرت کی حامل سیلیبریٹی کو کیسے ناراض کرے؟ دباؤ میں تو آنا تھا۔

اصل بات یہ ہے کہ اسپتال کے ڈیٹا سے ریکارڈ نکالنے والا الزام شدید مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ شرمین ایک سیلبریٹی ہیں، عالمی سطح پر ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد ان کی شہرت غیر معمولی ہوچکی ہے۔ ان کی ہمشیرہ ہدیل اسپورٹس جرنلسٹ ہیں اور "کرکٹ کھیلو" کے عنوان سے ایک ویب سائٹ کی بانی ہیں۔ کراچی میں سوشل میڈیا کی اکثر تقریبات میں کھیلوں کے سیشن میں انہیں بطور اسپیکر بلایا جاتا ہے۔ ان کی فیس بک آئی ڈی اور ٹوئٹر ہینڈل پبلک ہے۔ نیسٹ آئی او سمیت مختلف اداروں کی ویب سائٹ پر ان کے فیس بک لنک اور ای میل موجود ہیں۔ اب ایسا 'ہائی پروفائل ایکٹیوسٹ' کسی اسپتال میں جائے، کسی اسٹیٹ ایجنٹ کو وزٹ کرے یا کسی سماجی تقریب میں شریک ہو تو جن لوگوں سے اس کی ملاقات ہوگی، وہ چاہیں گے کہ رابطہ رکھا جائے۔ ممکن ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر نے سوچا ہو کہ دوران علاج ایک مشہور شخص سے اتنی بات چیت ہوگئی ہے کہ اس پی آر کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اگر ڈاکٹر کی نیت خراب ہوتی تو وہ فیس بک کی پبلک آئی ڈی کے بجائے، ڈیٹا سے نمبر نکال کر واٹس ایپ پر کال یا میسج کرتا۔

ہر اچھے اسپتال میں ڈاکٹرز مریض کو اس کے نام سے پکارتے ہیں اور دوران علاج ہلکا پھلکا مذاق بھی کرلیتے ہیں۔ خود آغاخان اسپتال میں میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میرے مریض کے بارے میں مجھے گائیڈ کرنے والے ڈاکٹرز دوران گفتگو اعتماد اور بےتکلفی کی فضاء پیدا کرنے کے لیے ذاتی نوعیت کے سوال کیے، جیسے نوکری، مشاغل اور تعلیم کیا ہے؟ اس دوران ان کی اسٹنٹ نے اپنے والد کا تعارف بھی کروایا جو ہماری ہی کمپنی میں کنٹریکٹر ہیں۔ ایک اور واقعے میں جب ایک ڈاکٹر کو ایسی ہی ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران میں نے بلاگ سے متعلق بتایا تو انہوں نے نہ صرف مجھ سے بلاگ کو سمجھنے کی کوشش کی بلکہ میرا بلاگ ایڈریس بھی مانگا۔

یہ معاملہ تو ایک عام شخص کے ساتھ ہے لیکن جب ڈاکٹرز کا سامنا کسی سیلیبریٹی سے ہوتا ہے تو پروفیشنل ازم اپنی جگہ، ان کے اندر کا ایک عام پرستار فطری طور پر نمودار ہوتا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ لیڈی ڈیانا اور ڈاکٹر حسنات میں پہلے ہراساں کرنے کا مرتکب کون ہوا تھا؟ لیکن یہ طے ہے کہ دونوں کی پہلی ملاقات اسپتال میں اتفاقیہ ہوئی۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کوئی خود کو لیڈی ڈیانا سمجھ کر سامنے والے ڈاکٹر کے اخلاق یا سوشل میڈیا پر فرینڈ ریکوسٹ کی عجیب و غریب تاویلات شروع کردے؟ یہ ضرور ہے کہ ہماری فلموں میں چلتے پھرتے اچانک سے عشق ہوجاتا ہے لیکن عملی زندگی میں آپ سے راستہ پوچھنے والا راہ گیر، مسکرا کر دیکھنے والا اجنبی اور دفتر میں آپ کی خیریت چاہنے والا کولیگ آپ پر ہرگز فدا نہیں ہوتا۔

بچپن سے مولویوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ نظروں کا بھی زنا ہوتا ہے لیکن فیس بک فرینڈ ریکوسٹ کے پیچھے جنسی ہوس اور بھوک کارفرما ہوتی ہے؟ یہ شرمین عبید چنائے سے پتہ چلا۔ ہم تو سمجھتے تھے ہمارے سماج میں کم از کم پڑھے لکھے لوگوں کے یہاں تنگ نظری نہیں رہی ہے لیکن ہم غلط تھے۔ یہاں تو اچھے بھلے لوگوں کے ذہن پراگندہ ہیں۔ میری کل کچھ فیمینسٹ ورکرز سے بات ہوئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایسی چیزوں سے ان کے مقدمے کو نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کلاس ایشو ہے اور وہ ایک سیلبریٹی کو اس کے معالج کی طرف سے آنے والی فرینڈ ریکوسٹ میں پڑ کر دیگر اہم مسائل کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ایک اور ایکٹوسٹ نے پوچھا کہ اپر کلاس کی خواتین کو ایک طرف تو اپنے معاملے میں فرینڈ ریکوسٹ بھی ریپ معلوم ہورہا ہے لیکن دوسری طرف جب وہ خوبصورت چہرے اور اسمارٹ جسم کے حامل ارشد چائے والا کی تصویر انسٹاگرام پر ڈالتی ہیں تو انھیں یہ باتیں یاد نہیں آتیں۔

شرمین سے غلطی ہوئی ہے۔ ان کی ہمشیرہ کو اگر مذکورہ ڈاکٹر کی شکل پسند نہیں تھی تو وہ موصوف کو بلاک کر دیتیں یا طریقہ کار کے مطابق اسپتال انتظامیہ تک اپنی شکایت پہنچا دیتیں۔ یوں سوشل میڈیا پر چار بچوں کے باپ پر ناحق ہراسمنٹ کا الزام لگانا، ان کے اپنے مقام و مرتبے کے شایان شان نہ تھا۔ بہتر ہے کہ اب وہ غلطی پر اصرار کرنے کے بجائے، ٹھنڈے دل سے دوبارہ سوچیں اور اس موضوع کے ماہرین کے سامنے دونوں جانب کا مؤقف رکھ کر ان سے رائے لیں۔ اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کریں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ایک سکول کا سٹیج پلے یاد آگیا. لڑکی تیار ہوکر سٹاپ پہ کھڑی ہوتی ہے ایک خوبرو نوجوان قریب آکر کھڑا ہوجاتا ہے لڑکی خودکلامی کرتی ہے،
    ہائےاللہ کچھ بات نہیں کررہا
    ہائے چھیڑ بھی نہیں رہا
    ہائے یہ تو دیکھ بھی نہیں رہا.
    پھر غصے سے اسکو کہتی ہے چھیڑنا مت ورنہ ابا کو بلا لوں گی
    لڑکا حیرانگی سے دیکھتا ہے لیکن کچھ نہیں کہتا،
    لڑکی غصے میں وقفےوقفے سے دہراتی ہے
    خبردار چھیڑنا مت ورنہ ابا کو بلا لوں گی.... زچ ہوکر لڑکا کہتا ہے، بلاو اپنے ابا کو...
    لڑکی مسکرا کے کہتی ہے پہلے چھیڑ کے دکھاو.
    بات پرانی ہے پر اس معاملے پر فٹ بیٹھتی ہے. بیچارہ ڈاکٹر پاک محبت صاف محبت تک محدود رہ کر رانجھا بن گیا.