ریاست کو کام کرنے دیں - خرم اقبال اعوان

جب ریاست کام نہیں کرتی تو شہری یتیم ہو جاتا ہے۔ میں ریاست ناکام ہونے اور ریاست مفلوج ہو جانے والے الفاظ جان بوجھ کر استعمال نہیں کر رہا کیونکہ میرے مطابق ابھی تک ان دونوں الفاظ میں سے کسی کی بھی نوبت نہیں آئی۔ ریاست کام کیسے نہیں کر رہی، اس کا ثبوت حال ہی میں ہونے والے ایسے واقعات ہیں جن میں ماؤں نے ہسپتال کے باہر بچوں کو جنم دیا۔ ایک ہسپتال تو ماضی قریب کے وزیراعظم ہاؤس سے قریب ہے یعنی رائے ونڈ۔ صحت کی سہولیات پہنچانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر دس سال مسلسل حکومت کرنے والا وزیراعلیٰ اپنے صوبے کی ضروریات کو نہ سمجھ سکا، اپنے صوبے اور اس میں بھی صوبائی دار الحکومت کی آبادی نہ جان سکا اور اس آبادی کے مطابق ہسپتال نہ بنا سکا تو اسے وزیراعلیٰ رہنے کا حق نہیں ہے۔ اسے میٹرو یاد ہے، اس میٹرو کو سبسڈی پر چلانا یاد ہے، اور وہ سبسڈی صحت اور تعلیم جیسے شعبوں کے وسائل کم کر کے ہے، تو آفرین ہے ان کے اپنے آپ کو خادم اعلیٰ کہنے پر۔ اس سے بھی زیادہ آفرین ہے صوبائی وزیروں کی فوج ظفر موج پر، جو شاید صرف جھوٹ بولنے کے لیے رکھی گئی ہے۔ ایک واقعہ میں وزیر موصوف فرماتے ہیں خاتون واک کے لیے گئی، وہاں اس نے بچے کو جنم دے دیا۔ اس طرح کے واقعات پر کبھی ایم ایس کو معطل کیا جاتا ہے، کبھی کسی اور کو، حالانکہ معطل انھیں نہیں آپ کو اپنے آپ کو کرنا چاہیے۔ جن دنوں (پی آئی سی) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کے برے حال کا شور مچا ہوا تھا تو ایم ایس پر خادم اعلیٰ برہم ہوئے تھے۔ میں نے ایک وسیلے سے ایم ایس صاحب سے ملنے کا اہتمام کیا، ان سے پوچھا جناب کیا ایک بیڈ پر دو دو مریض ہیں، زمین پر مریض ہیں، یہ کیا ہے؟ وہ اپنی نشست سے اٹھے اور کہا کہ چلیں میرے ساتھ۔ پہلے انھوں نے ہمیں سارا وزٹ کروایا، تمام بیڈ موجود، بلکہ ایک ایک کمرے میں اس کی استطاعت سے زیادہ بیڈ موجود تھے۔ پھر وہ مجھے اسٹور روم میں لے گئے جو کہ ایکسٹرا بیڈز سے بھرا ہوا تھا۔ مگر ان کو لگانے یا ایڈجسٹ کرنے کی بھی جگہ نہیں تھی۔ انھوں نے صرف اتنا کہا کہ اگر نئے بلاک، نئے ہسپتال نہ بنائے جائیں تو میرا کیا قصور۔

تو بات ہو رہی تھی کہ ریاست کام نہیں کرتی۔ جناب ریاست کیا ہے؟ ریاست خود کام نہیں کرتی، اس نے اپنے حقوق دیے ہوتے ہیں لوگوں کو کہ وہ ریاست کے شہریوں کو آرام دینے کے لیے انھیں استعمال کریں۔ مگر وہ لوگ جنھیں ریاست نے اختیار دیا، وہ اپنے کام کے بجائے باقی ہر کام کر رہے ہوں تو شہری خوار بھی ہوگا، پریشان بھی۔ تمام وزیر جن کے پاس اختیارات ہیں ریاست کی جانب سے، وہ تو عدالتوں میں ایک خاندان کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ دوپہر تین بجے سے چار بجے تک وہ میڈیا میں آ کر کیمروں کے سامنے صرف ایک خاندان کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔ باقی کیا ہو رہا ہے، اس کا انھیں کچھ علم نہیں۔ اپنے محکمے کے حالات تک کا انھیں علم نہیں۔

ریاست کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتی ہے؟ اگر جاننا ہے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سیکھیں کہ جب ان کے گھوڑے کی زین چوری ہوئی، وہ عدالت میں گئے۔ عدالت نے ان کے بیٹے کی گواہی کو تسلیم نہ کیا اور ان کے خلاف فیصلہ دے دیا تو حضرت علیؓ نے اس پر کوئی احتجاج نہ کیا بلکہ اسے بہت اعلیٰ ظرفی سے مانا۔ ریاست جہاں چند لوگوں کو حق حکمرانی دیتی ہے، وہیں ریاست اپنے ہر شہری کو اتنا بااختیار اور طاقتور بھی کرتی ہے کہ وہ حق حکمرانی پانے والوں سے سوال کر سکے۔ اس کی بہت اعلیٰ مثال اسلام میں موجود ہے جب حضرت عمر ؓ جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے منبر پر چڑھے تو جماعت میں موجود ایک شخص نے آپ کی قمیص پکڑ لی اور آپؓ کو روک دیا کہ آپ جمعہ کا خطبہ نہیں دے سکتے۔ وجہ پوچھی گئی تو اس شخص نے کہا کہ آپؓ کو بیت المال سے ایک چادر ملتی ہے، آپ کا سوٹ دو چادروں میں بنتا ہے، آج آپ نے نیا سوٹ پہن رکھا ہے، اس کے بننے کے واسطے دوسری چادر کہاں سے آئی؟ تو وہاں حضرت عمرؓ نے کوئی دوسرا بیانیہ نہیں دیا، بلکہ سوال کے مطابق جواب دیا، کہ بیت المال سے ایک چادر حضرت عمرؓ کو ملی اور ایک ان کے بیٹے کو۔ اس مرتبہ بیٹے نے اپنی چادر والد کو دی تاکہ وہ اپنے کپڑے بنوا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بارشیں، ہلاکتیں اور بجلی کا نظام - احمد علی کیف

ریاست کی دی ہوئی طاقت سے ایک شہری نے خلیفہ وقت سے سوال کیا۔ اور ریاست کی لگائی ہوئی پابندی کے تحت خلیفہ نے جواب دیا اور گواہی پیش کی، نہ کہ کوئی متضاد بیانیہ تراشا۔ یہ ہوتی ہے ریاست کی طاقت۔ جہاں طاقت یکطرفہ ہو اور اس پر کوئی سوال نہ کر سکتا ہو تو وہاں صرف خلفشار ہوتا ہے، انتشار ہوتا ہے۔ ایک سال چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوا، آپ کو صفائی کے مواقع دیتے، مگر آپ جواب دینے کے بجائے ایک نیا بیانیہ گھڑنے میں لگے ہیں۔ ثبوت اور گواہان پیش کرنے کے بجائے دھونس اور دھمکی کی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے کچھ غلط کیا ہے یا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے توجہ دوسری جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت صرف حکمران جماعت کے ساتھ ہی نہیں ہے یا یہ اس وقت شریف خاندان کے ساتھ ہی نہیں ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے کام سے ہٹ کر باقی سب کرنا چاہتے ہیں۔ جب عمران خان صاحب کی جانب دیکھیں تو وہ بھی عرصہ چار سال سے اداروں کے سامنے پیش نہیں ہو رہے، مگر اپنے ہر انٹرویو اور جلسے میں فرماتے ہیں کہ مجھے کیسے نکالیں گے۔ جناب فرماتے ہیں کہ میرے تو حلال کے پیسے ہیں، میں نے کرکٹ کھیل کر کمائے ہیں۔ کس نے کہا کہ آپ کے پیسے حلال کے نہیں ہیں۔ مگر ایک بات کا جواب دیں کہ جن پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، ان کا مال مالِ حرام ہوتا ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد وہ اسے ظاہر کرنے سے مبرا ہو جاتے ہیں۔ یا باقی سال پر وہ ریاست کا ٹیکس نہیں دیتے یا دینے کے مجاز نہیں رہتے۔ یا حلال مال ہو تو پھر ایک ماچس کی ڈبیہ سے لے کر جہاز تک آپ پر جو بھی ٹیکس ہے، وہ نہیں ہونا چاہیے تو پھر آپ نے اس کے خلاف تو آواز کبھی نہیں اٹھائی۔ آپ کے حلال کمائے جانے والے پیسوں سے اگر غلط کام کیا گیا ہو تو اس پر آپ کی گرفت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آپ نے اپنی حلال کمائی کو چھپایا ہے اور اس چھپانے سے ریاست کے خزانے کو نقصان ہوا یا وہ چھپانا کسی قانون کی زد میں آتا ہے تو آپ کو سزا نہ دی جائے۔ اس طرح تو پھر آپ بھی ریاست کو کام نہیں کرنے دے رہے، پھر آپ میں اور نواز شریف میں فرق کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   پوسٹ ٹرتھ سیاست - طارق رحمان

ہمارے ایک ساتھی نے کچھ روز پہلے ایک سوال کیا کہ پیپلزپارٹی اپنی کوئی جگہ نہیں بنا پا رہی، بلاول کو کوئی نہیں سنتا۔ میں نے گذارش کی، جناب آپ پیپلزپارٹی میڈیاہاؤسز کو اختیارات کے نام پر پیسے بانٹنا شروع کر دیں تو یہی ڈبہ جسے (ٹی وی) کہتے ہیں، انھیں دکھانا شروع کر دے گا۔ بلاول کی کہی ہوئی باتوں کو اہمیت بھی دے گا، ٹاک شوز میں ان پر تبصرے بھی ہوں گے، ان پر اداریے بھی لکھے جائیں گے، اور لوگ خود بخود ان کی طرف متوجہ ہوں گے۔ اس کا مطلب ریاست کا ابلاغ بھی اپنا کام درست طریقے سے نہیں کر رہا۔ ایمانداری سے نہیں کر رہا۔ کیا اس ریاست میں صرف پانامہ ہی مسئلہ تھا۔ کیا اس ریاست میں شریف خاندان کے نیب کیسز ہی مسئلہ ہیں۔ جو پٹرول کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں، جو نئے ٹیکس لگائے دیے گئے ہیں، جو عام شہری ٹماٹر، پیاز خریدنے سے اور مہنگی سبزی خریدنے پر مجبور ہے، وہ کون بتائے گا اس کی آواز کون اٹھائے گا؟ اس پر بات کون کرے گا؟ اس کے ذمہ داروں کا تعین کون کرے گا؟

پھر ہم کہتے ہیں کہ ریاست کے ادارے کنفیوژ ہیں۔ یہ کنفیوژن نہیں اپنا کام ایمانداری سے نہ کرنے کا انجام ہے۔ ہمارے سینئرز چاہے وہ تجزیہ کار ہیں، کالم نویس ہیں یا فوج اور بیورو کریسی سے تعلق رکھنے والے ہیں، سب ایک بات ذہن میں رکھیں کہ ان کی سب آن بان اور شان ریاست کے ان اختیارات کی وجہ سے ہے جو وہ انھیں تفویض کرتی ہے۔ اگر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے یا بےایمانی کی جائے تو ریاست بدلہ لیتی ہے۔ کیونکہ ریاست بھی اس کی تخلیق ہے اور انسان کو اس نے اس میں اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے۔ اس لیے نہ ریاست اس ذات کے اصولوں سے ہٹ سکتی ہے اور نہ وہ اس کے نائب کو فطرت سے ہٹنے دیتی ہے، چاہے وہ خاص ہو یا عام، اسے اختیار بھی دیتی ہے اور اس پر کچھ بندشیں بھی عائد کرتی ہے۔ مگر جب ریاست کے لوگ جن کو وہ انتظامی امور دیتی ہے، وہ ان اختیارات کو سرانجام دینے کے بجائے اپنی جاگیر جان لیتے ہیں تو اس وقت ریاست کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ اور شہری یتیم ہو جاتا ہے۔ پھر فطرت حرکت میں آتی ہے اور جو جو غلط کرتا ہے، فطرت اسے بھی ٹھیک کرتی ہے اور بگاڑ کو بھی درست کرتی ہے۔ مگر فطرت صرف انصاف کرتی ہے۔ اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا، اسی لیے وہ ریاست کو چلانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ اس لیے ریاست کو کام کرنے دیں۔

(خرم اقبال اعوان دنیا نیوز کے پروگرام ''نقطہ نظر'' کے پروڈیوسر ہیں)

Comments

خرم اقبال اعوان

خرم اقبال اعوان

خُرم اقبال اعوان 12 سال سے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سے وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں ماسٹر کرنے کی بعد جیو نیوز سے وابستہ ہوئے، یہ سفر مختلف چینلز سے ہوتے ہوئے 2008ء میں دنیا نیوز تک پہنچا۔ اب "نقطہ نظر مجیب الرحمان شامی کے ساتھ'' سیننٔر پروڈیوسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لکھنے اور اپنی رائے دوسروں تک تحریر کے ذریعہ پہنچانے کا شوق زمانہ طالب علمی سے ہے، اپنی تحریر "اے حقیقتِ منتظر" کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.