این اے 4 ضمنی الیکشن ایک جائزہ - احسن سرفراز

2013 کے عام انتخابات میں این اے 4 میں 138000 کے قریب ووٹ پول ہوئے تھے جبکہ ضمنی الیکشن میں پول ہونے والے ووٹوں کی تعداد 134000 کے قریب رہی۔ پچھلی بار حلقے میں کل ووٹرز 352000 تھے جو اس بار بڑھ کر 397000 ہو چکے ہیں۔ اس لحاظ سے پرسنٹیج تو تھوڑی کم ہوئی لیکن پول شدہ ووٹس میں کچھ زیادہ فرق واقع نہیں ہوا۔

پچھلی بار کا رزلٹ دیکھا جائے تو تحریک انصاف کو نو ہزار اور جماعت اسلامی کو تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار ووٹ کم ملا، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کو نو ہزار، مسلم لیگ ن کو چار ہزار اور پیپلز پارٹی کو تقریباً ایک ہزار ووٹ زائد ملا۔ جبکہ پہلی بار حصہ لینے والی جماعت لبیک یا رسول اللہ پارٹی نے حیرت انگیز طور دس ہزار کے قریب ووٹ لیا اور ملی مسلم لیگ کا ووٹ 3700 رہا۔

رزلٹ کا اگر بغور تجزیہ کیا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ صوبائی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والی جماعتوں کے ووٹ بنک میں اضافہ ہوا ہے اور صوبائی حکومت میں حصہ دار جماعتوں کا ووٹ بنک کم ہوا ہے۔ لہذا اس جیت کو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر عوام کا مکمل اطمینان قرار دینا کافی حد تک غلط ہے۔

سب سے زیادہ خسارے کا سامنا جماعت اسلامی کو اٹھانا پڑا۔ ضمنی الیکشن حکومتوں کا الیکشن کہلاتا ہے اور اس میں اکثر حکمران جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے، اس کی واضح مثال کراچی کے الیکشن میں سعید غنی کی اس سیٹ پر جیت ہے جو اس سے قبل تاریخی طور پر پیپلز پارٹی ہارتی چلی آتی رہی تھی۔ اب پشاور کے اس ضمنی الیکشن میں چونکہ یہ تحریک انصاف ہی کی سابق جیتی ہوئی سیٹ تھی اور حکومت میں نوے فیصد حصہ بھی اسی کا ہے جبکہ ضلعی حکومت بھی تحریک انصاف کی ہے، اس لیے جس ووٹر نے حکومت سے کام نکلوانے کی سوچ کے تحت ووٹ ڈالا، اس نے جماعت اسلامی کے بجائے تحریک انصاف کو ترجیح دی جبکہ تحریک انصاف مخالفت کے ووٹ کا فائدہ بھی جماعت اسلامی حکومتی حلیف ہونے کی وجہ سے قطعاً نہ اٹھا سکی۔ اسے محض اس کا جماعتی یا امیدوار کا حمایتی ووٹ ہی پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:   قطرہ قطرہ پگھلتی ’’پی ٹی آئی‘‘ - حسن نثار

عوامی نیشنل پارٹی نے اس ضمنی الیکشن میں زبردست کم بیک کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس سیٹ کو روایتی طور پر سب سے زیادہ عوامی نیشنل پارٹی ہی جیتتی رہی ہے۔ اب بھی پشاور کے بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کے بعد عوامی نیشنل پارٹی ہی کی زیادہ سیٹیں ہیں۔ پچھلے الیکشن میں بری حکومتی کارکردگی اور دہشت گردوں کا نشانہ ہونے کے سبب عوامی نیشنل پارٹی کا ووٹر زیادہ متحرک نہ ہو سکا، لیکن اس بار اس نے یکسوئی سے دوبارہ اپنی جماعت کی حمایت میں ووٹ کاسٹ کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کو مرکزی حکومت کی حمایت حاصل تھی جو گیس کے پائپ اور ٹرانسفارمرز کی بنیاد پر ووٹ مانگتی رہی، ویسے بھی ن لیگ کو جمعیت علمائے اسلام اور قومی وطن پارٹی کی حمایت حاصل تھی، اس لیے ن لیگ اپنے ووٹ میں کچھ اضافہ کر پائی۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ جو بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے، اور لاہور کے ضمنی الیکشن میں بھی ممتاز قادری کو بنیاد بنا کر سات ہزار ووٹ حاصل کر چکی ہے، اسے پشاور میں موجود بریلوی کیمیونٹی نے مکمل یکسوئی سے ووٹ کیا۔ جبکہ اہلحدیث ووٹر پشاور میں کم ہونے کی وجہ سے ملی مسلم لیگ سےتھوڑا کم ووٹ حاصل کر سکی۔ کچھ واقفان حال کا تو دعویٰ یہ بھی ہے کہ متذکرہ جماعتیں مقتدر قوتوں کی طرف سے متوقع ایم ایم اے اور مسلم لیگ ن کا توڑ ہیں۔

بہرحال جماعت اسلامی کو اگر اگلے انتخابات میں ایم ایم اے اتحاد کی صورت میں سامنے آنا ہے تو اس کا اعلان جلد ہونا چاہیے ورنہ اس کا حامی ووٹ بنک اینٹی عمران و نواز کے حوالے سے کنفیوز رہےگا۔ ویسے بھی عمران خان سے جماعت اسلامی کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ تقریباً خارج از امکان ہے، کیونکہ تحریک انصاف کی سولو فلائٹ کی پالیسی کافی واضح ہے، علاوہ ازیں اگر جماعت کو اپنی کرپشن کے خلاف اور اسلامی و خوشحال پاکستان مہم کو تقویت پہنچانی ہے تو اسے نواز شریف اور عمران خان دونوں کی لبرل اور کرپشن کی حامی پالیسیز پر یکساں تنقید کرنا ہوگی۔ اگر نواز شریف پانامہ کی آف شور کمپنیز میں ملوث ہے تو ایسے ہی الزامات تحریک انصاف کی ٹاپ لیڈر شپ پر بھی موجود ہیں اور دونوں ہی پاکستان کی نظریاتی ساکھ کے حوالے سے ایک معذرت خواہانہ پالیسی رکھتے ہیں، جس کا اظہار ختم نبوت قانون کے مسئلہ پر حالیہ دنوں میں بخوبی سامنے آیا۔ جماعت اسلامی کو دینی جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ جلد فائنل کرنا ہوگی اور اگر ایم ایم اے بنانا ہی ناگزیر ٹھہرے تو اس حوالے سے بھی جلد از جلد اپنے حامیان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.