ڈرون حملوں میں تیزی کیوں؟ ارشدعلی خان

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک بار پھر اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب کر لیا ہے۔ صوبہ پکتیا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے موصوف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس افغان طالبان کی حمایت کرتے ہیں اور یہ دونوں ممالک افغان طالبان کو اسلحہ، تربیت اور فنڈز فراہم کر تے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے افغان طالبان کو مذاکرات کا موقع دیا، تاہم انہوں نے بدلے میں دہشت گردی کی کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔ پاکستان پر الزامات لگا کر افغان صدر بھارت کے دورے پر چلے گئے جہاں بھارتی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سمیت دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، شاید پاکستان پر الزمات دھرنے کی داد وصول کر رہے ہوں۔

ایک طرف تو افغان قیادت کا یہ طرز عمل اور الزامات ہیں، دوسری جانب پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی تقریبا 2400 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگا رہا ہے تاکہ دہشت گردوں کی آمدو رفت کو روکا جا سکے۔ اس سے دونوں ممالک کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں آسانی ملے گی اور دہشت گرد آسانی سے سرحد کے آر پار نہیں جا سکیں گے، تاہم افغان حکومت پاکستان کے اس مثبت اقدام کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پاکستان افغان سرحد کے قریب اپنے علاقوں میں کافی عرصے سے دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے اور پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم افغانستان یا امریکہ کی سربراہی میں نیٹو افواج نے افغان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف وہ کارروائی نہیں کی جو ہونی چاہیے تھی، ڈرون حملوں میں حالیہ تیزی کسی اور مقصد کے تحت ہے۔

حالیہ امریکی ڈرون حملوں سے لگ رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی پر عمل شروع کر دیا گیا ہے، بلکہ اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ دورہ سعودی عرب کے بعد اچانک مختصر دورے پر افغانستان پہنچے جہاں بگرام ائیربیس پر انہوں نے صدر اشرف غنی سمیت دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ دو گھنٹے مختصر قیام کے بعد ریکس ٹیلرسن قطر روانہ ہوگئے۔ افغانستان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ اب پاکستان سے تعلقات کا تمام تر اانحصار پاکستان کی طالبان کے خلاف کارروائیوں پر منحصر ہوگا، یعنی امریکہ کی جانب سے وہی ڈومور کا ورد جاری رہے گا۔

قطر سے واپسی پر ریکس ٹیلرسن چار گھنٹے کے مختصر دورے پر پاکستان بھی آئے، وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی جس میں پاک امریکہ تعلقات سمیت دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، سیکرٹری خارجہ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔ حکومتی بیان کے مطابق وزیراعظم نے ریکس ٹیلرسن کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا او ر دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم افغانستان میں کی گئی پریس کانفرنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیلرسن ڈو مور کے مطالبات کی ایک لمبی فہرست لائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے یورپین اور اب امریکی غلامی - پروفیسر جمیل چودھری

مغوی کینڈین خاندان کی بازیابی کے بعد ٹرمپ کی ٹویٹس کو جہاں پاکستان میں مثبت لیا گیا وہاں ان کے استعمال کیے گئے الفاظ پر شاید کسی نے غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی، جبکہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے چیف کا حالیہ انٹرویو بھی قابل غور ہے، جس میں ایک بار پھر پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ مغوی کینڈین خاندان کو 5سال تک افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستانی حدود میں رکھا گیا۔ اسی طرح ایک تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ مغوی خاندان کی بازیابی کے لیے اگر پاکستانی فورسز آپریشن نہ کرتیں تو امریکی میرین کی ٹیم ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے لیے کیے جانے والے آپریشن کی طرز پر ایک اور سرجیکل آپریشن کے لیے تیار بیٹھی تھی، پاکستانی فوج کو یہ ساری کارروائی باامر مجبوری کرنا پڑی۔

افغانستان میں جاری دہشت گردی کی تازہ لہر اُن امریکی ڈرون حملوں کا رد عمل ہے جو ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے پالیسی اعلان کے بعد کیے گئے ہیں۔ افغان طالبان نے رواں ماہ کی 20 تاریخ کو کابل میں مارشل فہیم ملٹری اکیڈمی کے بس پر خودکش حملہ کیا جس میں تربیت پانے والے 15 کیڈٹس جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوگئے۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق مرنے والے کیڈٹس کا تعلق داؤد خان ملٹری اکیڈمی سے تھا جو مارشل فہیم اکیڈمی میں اپنی تربیت مکمل کر رہے تھے۔ گزشتہ دنوں کیے گئے 7 بم دھماکوں میں اب تک 200 افراد مارے گئے ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ان بم دھماکوں میں دو مساجد پر حملے بھی شامل ہیں جن میں ہونے والی ہلاکتیں 90 تک پہنچ گئی ہیں جس کی ذمہ داری داعش نامی عفریت نے قبول کی ہے۔

داعش اور امریکہ کے حوالے سے سابق افغان صدر حامد کرزئی کا گزشتہ دنوں دیا جانے والا بیان بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں انھوں نے امریکہ پر داعش کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکہ مشرق وسطی سے داعش کے جنگجوؤں کو افغانستان میں جمع کر رہا ہے اور امریکی افواج ہیلی کاپٹروں کے ذریعے داعش کو اسلحہ و گولہ بارود فراہم کر رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بعد ڈرون حملوں میں تیزی اور اس کے ردعمل میں افغانستان بھر میں بم اور خودکش دھماکوں سے یوں لگتا ہے کہ اس کے شعلے پڑوسی ممالک خاص طور سے پاکستان کو بھی متاثر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے- حبیب الرحمن

داعش کا افغانستان میں جمع ہونا پاکستان، چین اور ایران کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ داعش نے جو کچھ شام اور عراق میں کیا ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ امریکہ اور بھارت دونوں ممالک کی آنکھوں کا کانٹا بنا ہوا ہے اور امریکہ نے ڈھکے چھپے انداز میں یہ کہہ کر اس منصوبے پر تنقید کی ہے کہ ساری دنیا کو کسی ایک قوم کا غلام بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ امریکی بیان کا جواب چین کی جانب سے یہ کہہ کر دیا گیا ہے کہ سی پیک کسی بھی تیسرے فریق یا ملک کے خلاف نہیں۔گزشتہ دنوں پاکستان میں چین کے سفارتخانے کی جانب سے اپنے سفیر پر حملے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے مدد طلب کی۔ سی پیک کے فوکل پرسن کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا کہ چینی سفیر پر حملے کے لیے دہشت گرد پاکستان میں داخلہ ہوچکا ہے جس کا تعلق ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے ہے۔ دہشت گرد کے شناختی کوائف اور پاسپورٹ کا تبادلہ بھی مراسلے میں کیا گیا۔ امریکی چینیوں کو روکنے کے لیے اور سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اس لیے ہماری جانب سے چینی سفیرسمیت سی پیک پر کام کرنے والے ماہرین اور کارکنوں کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، جبکہ اس تمام صورتحال میں پاکستانی سیاسی و عسکری حکام کی اصل کامیابی یہ ہوگی کہ افغانستان میں تازہ ہوتی ہوئی جنگ کی آگ کے شعلوں سے اپنے ملک کو بچائیں اور اس جنگ کو پاکستان میں گھسنے کا راستہ نہ دیں کیونکہ امریکہ ،بھارت اورافغانستان کا گٹھ جوڑ پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ترغیب اور دھمکی کا حربہ تو کافی عرصے سے زیر استعمال ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا اور افغان پالیسی کے بعد تو اس میں مزید شدت نظر آتی ہے۔