​الحاد، انکارِ حدیث اور ابو یحییٰ

دلیل کی ویب سائٹ پر اس فقیر کے بعض مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں دلیل پر میرا ایک مضمون شائع ہوا جو قارئین درج ذیل لنک پر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
https://daleel.pk/2017/10/19/59640

یہ مضمون ایک صاحب کے سوال اور میرے اس جواب پر مشتمل ہے جو میں نے دیا تھا۔ اس مضمون پر محترم طارق محمود ہاشمی صاحب کا ایک نقد دلیل پر شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے اس خاکسارکو منکر حدیث، متجدد، ضروریات دین کا انکار کرنے والا، مغربی فکر کو خالص دین بناکر پیش کرنے والاحتیٰ کہ ایمان باللہ کے بنیادی عقیدے کو مٹا دینے والا قرار دیا ہے۔

اس طالب علم کے لیے صاحبِ مضمون کی یہ عنایت کوئی نئی نہیں ہے۔ تقریباً دو برس پہلے کی بات ہے کہ موصوف نے اس خاکسار پر گستاخی رسول کا جھوٹا، بےبنیاد اور مکروہ الزام لگا کر فتنے کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔ اللہ نے بڑا کرم کیا کہ ان کی بھڑکائی ہوئی آگ ان کی فیس بک وال اور ان کے دل تک ہی محدود رہی۔ اس موقع پر اس خاکسار نے انھیں علانیہ کوئی جواب دینے کے بجائے ایک خط لکھ کر بڑی دردمندی سے ان کو توجہ دلائی تھی کہ اس طرح کے مکروہ اور بےبنیاد الزام وبہتان کی جو روش انھوں نے اختیار کی ہے، اس کے نتائج روزِ قیامت انتہائی خوفناک نکلیں گے۔ میں نے ان سے یہ عرض کیا تھا کہ میں اس بہتان تراشی پر ان کو ذاتی طور پر معاف کرچکا ہوں، لیکن دین کے ایک خادم پر ایسا سنگین اور جھوٹا الزام لگانے کے بعد یہ خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔ اس موقع پر میں نے ایک حدیث (بخاری، رقم 5752) کا حوالہ دے کر ان کو توجہ دلائی تھی کہ ان کے بہتان کے مطابق یا تو میں واقعی گستاخ رسول اور کافر ہوں اور اگر میں نہیں ہوں جو کہ الحمدللہ نہیں ہوں تو پھر اس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کفر اور گستاخی رسول کا یہ الزام ان پر لوٹ کر آئے گا۔ اور یہ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں گستاخی رسول کے اس جرم کا بار اٹھاکر پیش ہوں گے جس کی سزا کوئی برداشت نہیں کرسکتا۔

میرے اس خط کے جواب میں فاضل مضمون نگار صم بکم عمی فھم لا یرجعون کی عملی تصویر بن گئے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے حسن ظن ہوا کہ چلو انھیں اپنی غلطی کا کچھ احساس ہوگیا ہے، مگر ان کے موجودہ آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ میرا حسن ظن بالکل غلط تھا۔ موصوف جھوٹ ، کذب، افترا اور دروغ گوئی کو علم واستدلال کے نام پر پھیلانے کی اپنی پرانی روش پر پوری طرح قائم ہیں۔ ان کا موجودہ مضمون بھی علمی کم اور الزام وبہتان کا ایک مجموعہ زیادہ ہے۔ صاحب مضمون نے اپنی بات کا آغاز اس مفروضے سے کیا ہے کہ میرے مضمون میں موجود سوال و جواب جعلی ہے۔ اس طالب علم نے خود ہی اپنے آپ کو مخاطب کرکے ایک خط لکھا اور خود ہی اس کا جواب دے دیا۔ظاہر ہے کہ مضمون کے شروع میں اس بات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طالب علم کی دیانت اور اعتباریت کو مجروح کردیا جائے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ’’فرضی سائلین کو مخاطب کرنا فرضی سوالات کے جواب دینا تجدد کے میڈیا کلچر کا جزلاینفک ہے۔‘‘

بددیانتی کے الزام اور تجدد کی اس مذہبی گالی کے بعد وہ اس مضمون میں حسبِ موقع باقی مذہبی گالیاں بھی بے دریغ دیتے چلے جاتے ہیں۔ منکر حدیث، ضروریات دین کا انکار کرنے والے سے شروع ہونے والا مضمون ختم یہاں ہوتا ہے کہ اس خاکسار کے اصل مضمون میں حق وباطل کے فرق اور ایمان و کفر کی بنیادیعنی ایمان باللہ ہی کو مٹادیا گیا ہے۔
جس مضمون کی سطح یہ ہو، اس کا کیا جواب دیا جائے اور کس چیز کی وضاحت کی جائے؟ ایک ایسا مضمون جو دلیل سے زیادہ الزام و بہتان اور کذب و افترا پر مشتمل ہے، اس لائق نہیں کہ اس پر کوئی تبصرہ کیا جائے۔ مگر دلیل انتظامیہ کی مہربانی سے یہ دلیل جیسی مؤقر ویب سائٹ پر شائع ہوگیا ہے تو پچھلے مضمون میں بیان کردہ اپنی بات کی وضاحت یہ طالب علم ضرور کرے گا تاکہ کوئی عام قاری ان کے کذب و افترا سے متاثر ہوکر اپنی آخرت کو خراب نہ کربیٹھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مکالموں و بحث مباحثوں والوں سے اہم گزارش - انس اسلام

اس فقیر نے جس خط کا جواب دیا تھا وہ کوئی فرضی خط نہیں تھا بلکہ واقعی میرے ایک قاری نے مجھے ای میل کر کے یہ سوال کیا تھا کہ اگر کوئی شخص حق کا سچا طالب ہو اور سچائی کی تلاش کی کوشش کرتا ہو لیکن خدا کے وجود کا ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے ملحد ہوجائے اور عملی طور پر بہت اچھا انسان ہوتو ایسے شخص کا اسلام کے مطابق کیا انجام ہوگا۔

میں نے اس کا جو جواب دیا تھا اس کی بنیاد یہ حقیقت تھی کہ قرآن مجید اور احادیث میں مختلف جرائم کی سزا یقیناً بیان ہوئی ہے، مگر قیامت کے دن یوں نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کسی جرم کے مرتکب کو کسی قسم کی صفائی اور وضاحت کا موقع دیے بغیر سزا سنا دیں گے۔

اس بات کوسمجھانے کے لیے اب میں کسی ملحد کے حوالے سے نہیں خود اپنے اور محترم طارق محمود ہاشمی کے حوالے سے ہی بیان کروں گا۔ اس لیے کہ شاید انھیں یہ غلط فہمی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی پرسش کا سامنا صرف ملحدوں ہی کو کرنا ہوگا اور ان جیسوں کے لیے پروردگارنے جنت کے اعلیٰ مقامات بلا حساب و کتاب لکھ رکھے ہیں۔ نہیں حضور! ذرا ٹھہریے اور سنیے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔

قیامت کے دن اللہ پروردگار ان کو بھی بلائے گا اور مجھے بھی بلائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ میرے اس بندے نے تمھیں میرے رسول کا یہ فرمان ایک ذاتی خط کی صورت میں سنایا تھا کہ جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو ان دونوں میں سے کوئی ایک اس (کفر کے الزام) کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود تم نے اس پر وہ سارے الزامات لگائے جو ایک کافر، منکر اسلام اور منکر رسول کی خصوصیات ہوتے ہیں۔ یعنی گستاخ رسول، متجدد، منکر حدیث، ضروریات دین کا منکر اورحق و باطل کے فرق اور ایمان و کفر کی بنیادیعنی ایمان باللہ کو مٹادینے والا۔ اب تم یہ ثابت کرو کہ یہ شخص ایسا ہی تھا۔ ورنہ میں اپنے رسول کے فرمان کے مطابق تمھیں ان سارے جرائم کا مرتکب قرار دے کر جہنم رسید کردوں گا۔

اس لیے حضور ! دوسروں کی گمراہیاں بےنقاب کرنے سے کچھ فرصت مل جائے توکچھ وقت ذرا اس مقدمے کی تیاری کے لیے نکالیں جس سے اب آپ تاقیامت بچ کر بھاگ نہیں سکتے۔ قیامت کے دن آپ اور آ پ جیسے ہر شخص سے جو خدا اور دین کے نام پر کھڑا ہوکر اس طرح الزام و دشنام کی دکان سجاتا رہا، سخت پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ہر بہتان پر جرح کی جائے گی۔ ہر الزام کی وجہ پوچھی جائے گی۔ اور اطمینان رکھیے کہ آپ کو بھی صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔ جو بات میں نے اس شخص سے کہی تھی وہی اب آپ سے کہہ رہا ہوں کہ اگر آپ اللہ تعالیٰ کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آپ کو بھی معاف کردیا جائے گا۔ اگرچہ میں ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو شخص آپ کو براہ راست خط لکھ کر حدیثیں سنا رہا ہے، اس کے بارے میں آپ یہ کیسے ثابت کریں گے کہ وہ منکر حدیث ہے۔ لیکن بہرحال یہ آ پ کا اور پروردگار عالم کا معاملہ ہے۔ ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مکالموں و بحث مباحثوں والوں سے اہم گزارش - انس اسلام

تاہم مذکورہ بالا مثال سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ فاضل مضمون نگار نے اپنے مضمون میں اس عاجز پر جو سنگین ترین الزام لگایا ہے کہ یہ عاجز ’’وجود باری تعالیٰ کے انکار کے لیے گنجائش‘‘ پیدا کر رہا ہے، وہ کتنا بے بنیاد ہے۔ ہر قاری یہ دیکھ سکتا ہے کہ میں نے صاحب مضمون کی جو اپنی مثال اوپر دی ہے، اس سے کبھی یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ میں ان کے لیے یہ گنجائش پیدا کر رہا ہو ں کہ وہ آرام سے دین کے طالب علمو ں کو گستاخ رسول، منکر حدیث یا اسی نوعیت کے دیگرالقابات سے نوازیں اور مطمئن رہیں کہ اللہ ان کو معاف کردے گا۔ اس طرح کا نتیجہ اگر کوئی شخص نکالتا ہے تویہ اس کی عقل کا فتورکہلائے گا، میری بات میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔مگر بدقسمتی سے ٹھیک اسی انداز سے کہی گئی بات پر انھوں نے وہ بے ہودہ نتیجہ برآمد کیا ہے جو اوپر بیان ہوا ہے۔

ایک آخری گزارش یہ خاکسار قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ انتہا پسندی، نفرت اور تعصب کا جو زہر جو مذکورہ مضمون میں پھیلایا گیا ہے، یہی وہ زہر ہے جو ہمارے نوجوانوں کو دہشت گرد بنا رہا ہے۔ یہ زہر پھیلانے کا کام وہ خدائی فوجدار کرتے ہیں جو بظاہر دفاع اسلام کے نام پر کھڑے ہوتے ہیں، مگرعین اسی وقت وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اخلاقی حدود کو پامال کررہے ہوتے ہیں۔ جیسے مضمون نگارنے اپنے مضمون کے آغاز میں یہ فرض کرلیا کہ اس عاجز نے جس سوال کا جواب دیا وہ خودساختہ ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی مفروضہ ’’اجتنبوا کثیرا من الظن ‘‘ یعنی ’’بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو‘‘ کے قرآنی حکم کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے۔

قارئین کو یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اخلاقی حدود کی اس طرح پامالی کریں، اللہ تعالیٰ کبھی ان سے اپنے دین کی خدمت اور دفاع کا کوئی کام نہیں لیتے۔ باقی اس طرح کے مضامین میں جن اہل علم کے خلاف ہرزہ سرائی کی جاتی ہے بالفرض ان کا کوئی نتیجہ فکر غلط بھی ہو تب بھی اگر انھوں نے علم و اخلاص کے ساتھ یہ کام کیا ہے تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے کہ کسی معاملے میں حکم لگانے والا (اگرعلم اور اخلاص کے ساتھ یہ کام کرے)توغلطی کی صورت میں بھی روزِقیامت اپنے اخلاص کی بنا پر ایک اجر کا حقدار ہوگا،(بخاری ،رقم7352 مسلم،رقم1716)۔

لیکن فرض کیجیے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر دیتے ہیں کہ انھی لوگوں کی بات ٹھیک تھی تو سوچنا چاہیے کہ جو لوگ مخالفت میں ہر اخلاقی حد کو پامال کردیتے ہیں، روزِ قیامت ان کو کیسی رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔​

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ریحان احمد یوسفی صاحب المعروف ابو یحیٰ ، طارق محمود ہاشمی صاحب کے اٹھائے گئے’’علمی دلائل‘‘ کا جواب دینے کے بجائے جذباتی راہِ فرار اختیار کرکے اپنے قارئین کے ساتھ سیاستدانوں والی واردات کرتے نظر آتے ہیں کہ ’’مجھ پر ظلم ہو گیا ہے۔۔آپ نہ گھبرائیں میں روزِ قیامت ان سے بدلہ لے لوں گا ۔۔آپ مجھے دین پر اتھارٹی مانتے رہیں‘‘ مگر وہ یہ بھول رہے ہیں کہ جس کے سامنے وہ مقدمہ پیش کرنے کے خواہشمند ہیں اسکی اتاری ہوئی کتاب کے دلائل تو فریق مخالف کے پاس نظر آتے ہیں۔دوسری بات ریحان یوسفی صاحب ملحدین کو علیم و خبیر کے سامنے دلائل دینے پر عذاب سے خلاصی کی سند دے رہے ہیں ۔ طارق محمود صاحب کے ’’الوہی و متفقہ دلائل ‘‘کے بالمقابل انکےپاس ’’کون سے باوزن دلائل ‘‘ ہونگے جسپر انھیں اپنی کامیابی کا یقین ہےاس پر کچھ روشنی ڈال دیں۔۔۔
    تیسری بات علمی میدان میں قرآن و سنت و آثار و اسلاف کی آرأ ’’ہی مستند مقام مانی جاسکتی ہیں ۔’’اسلامی روایت‘‘ ’’اہلِ کتاب کی غیر مصدقہ روایت ‘‘سے مختلف ہے کہ اسمیں پروٹسٹنٹ ازم کو پزیرائی نہیں مل سکتی ۔اب تک کے نتائج و آرأ سے یہی ظاہر ہو رہاہے۔ فااعتبرو یا اولی الابصار

  • بات یہاں تک درست ہے کہ ذات سے ہٹ کر نظریات کے صحیح و غلط کی تشخیص تک ہی رہے !
    لیکن چونکہ یہ کسی افسانے یا ناول پر تبصرہ نہیں ہے بلکہ دینیات اور اس میں بالخصوص کفروایمان کی تاویل وتعبیر کی بحث پر نقد ہے تو بلاشبہ شدت تو رہے گی بالکل اسی طرح جس طرح کی شدت مکتب غامدی میں روایتی دینی فکر کے حوالے سے برتی جاتی ہے.
    یہ جو مکتب غامدی سے نوادرات کی برسات ہو رہی ہے اور مہمات مسائل میں "اجتهاد" کی گلکاری کا ایک ہنگامہ برپا ہے تو کیا یہ سب اتنی آسانی سے ہضم کیا جائے گا؟
    غامدی صاحب اور ان کے قلم کار عقیدت مندوں کی کیفیت قابل دید ہے ایک طرف پورے دینی بیانیے پر حملہ آور ہیں اور دوسری طرف مخالفین کو جنید بغدادی والی اخلاقیات کا درس دیتے ہیں !
    آپ ہمیں بتائیے کہ مکتب غامدی نے دین کی حفاظت کی کون سی لائن چهوڑی ہے؟ آخر کون سا ایسا نظریہ رہ گیا ہے جس کے لیے مکتب غامدی میں "ہمدردی" موجود نہیں؟
    لہذا ابو یحیی صاحب! اس نالہ و فریاد سے اب باہر آ جائیے بحث و مباحثے میں دونوں طرف سے شدت ہوگی آپ بس اتنی مہربانی کریں کہ اپنی رائے کو معمہ نہ بنائیں بلکہ سادگی اور نفاست سے وضاحت کیا کریں تاکہ قارئین کنفیوژن کا شکار نہ ہوں اور ان کے لیے درست و غلط کا فیصلہ مشکل نہ ہو.