دبئی کیسا ہے؟ میں نے کیا دیکھا؟ - نیر تاباں

دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ، سب سے بڑی شاپنگ مال، مہنگے ترین ہوٹلز، سب سے بڑا مچھلی گھر، یہ سب سنتے ہی دبئی کا خیال آتا ہے۔ انہیں مین میڈ سٹرکچر میں ریکارڈ قائم کرنے کا جنون ہے۔ مسلسل کنسٹرکشن کی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں استعمال ہونے والی کرینز (cranes) کا %20 صرف دبئی میں استعمال ہو رہی ہیں۔ ایک صحرا کو رہنے کے قابل نہ صرف بنایا بلکہ ہر طریقے سے پرکشش بھی۔ پھر نارتھ پول پر بسنے والی پنگوئین تک کو ان لوگوں نے صحرا میں بسا ڈالا، برفیلے شہروں والی کھیل skiing ریگستان میں ہوتی ملی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سیاحوں کے لیے چوتھے نمبر پر مقبول ترین جگہ دبئی ہے۔ تیل کے نام پر وجود میں آنے والی معیشت اپنے GDP کا %5 سے بھی کم تیل سے جینریٹ کرتی ہے جبکہ GDP میں سب سے بڑا حصہ سیاحت کا ہے۔ دبئی ائیر پورٹ کی یہ حالت ہے کہ 2017ء کے اب تک کے فگرز کے مطابق دنیا کا مصروف ترین ائیر پورٹ ہے۔
ہم نے بھی پاکستان سے واپسی پر پانچ دن دبئی میں گزارے۔ دبئی میں ایک نارمل سا ہوٹل بک کر لیا تھا۔ نارمل سا اس لیے کہ بس رات گزارنے ہی آنا تھا۔ trip planning بھی کر لی تھی کہ روز کس جگہ جانا اور کتنا وقت وہاں گزار کر اگلی جگہ کے لیے روانہ ہونا ہے۔

جہاز میں کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ لینا مجھے اس لیے پسند ہے کہ رستے میں خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ انہی میں سے ایک منظر ایئر پورٹ کی لائٹس کا ہے۔ ہمیشہ کی طرح دلنشیں۔ میرے لیے پاکستان سے ابوظہبی کا سفر ملے جلے جذبات پر مشتمل رہا۔ ایک طرف سب پیاروں کو اللہ حافظ کہنے کا جان لیوا مرحلہ گزرا تھا، دوسری طرف دبئی جانے کی ایکسائٹمنٹ بھی تھی۔ ائیر پورٹ سے نکلتے رات کے بارہ بج چکے تھے۔ ویسے تو اتحاد ائیر لائنز کی اپنی ہی بس سے دبئی کی بکنگ کروا رکھی تھی لیکن اس کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے کزن کے ساتھ ہی دبئی روانہ ہوئے۔ یوں باتوں میں ڈیڑھ گھنٹے کا سفر قدرے آسانی سے کٹ گیا۔ جس وقت اس نے مجھے ہوٹل اتارا، مقامی وقت کے مطابق رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ ہوٹل کی بکنگ پہلے سے کروا رکھی تھی۔ اب بس کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر گرنے کا انتظار تھا!

جس ہوٹل میں میری رہائش تھی، اس سے کچھ ہی فاصلے پر برجمان سینٹر تھا۔ دبئی جانے کا مقصد گو کہ شاپنگ نہیں تھا لیکن پہلے ہی دن شاپنگ سینٹر جانے کی وجہ کچھ ضروری چیزیں لینا تھی، جس کی تفصیلات کہیں نہ کہیں آنے والی اقساط میں آپ کو ملیں گی۔ ٹیکسی کو پیسے دیتے وقت یاد آیا کہ ہمارے پاس تو صرف ڈالر میں کرنسی موجود ہے۔ اس سے کہا تو پتہ نہیں کہاں کہاں سے گھما کر منی ایکسچینج تک لے کر گیا، حالانکہ بعد میں پتہ چلا برجمان سینٹر کے بالکل ساتھ ہی مطلوبہ جگہ موجود تھی۔ سنا ہے، مقامی ٹیکسی ڈرائیورز ٹؤرسٹس کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں 🙂 خیر، برجمان سینٹر سے اور چیزوں کے ساتھ دودھ، بریڈ، چیز سلائسز، پھل، لبن، اور اسی قسم کی کچھ چیزیں لے لی تھیں جن سے آنے والے دنوں میں ہمیں ناشتہ کرنا تھا۔ کمرے میں چھوٹا سا فریج موجود تھا اسلئے دودھ، ملک شیک وغیرہ سٹور کرنا مشکل نہیں تھا. چار بج چکے تھے۔ مال میں ہی فوڈ کورٹ میں کھانا کھایا اور ہوٹل واپسی کی ٹھانی کہ سامان اتار کر آگلے سفر پر روانہ ہونا تھا۔

دبئی مرینا مال! ٹیکسی میں بیٹھے لی گئی بس ایسی ہی تصویر آ سکی، اس پر اکتفا کیجیے۔ مال کی بیک سائڈ پر مرینا کرِیک (Marina creek) ہے جہاں speed boat tour کے لیے جانا تھا۔ کشتی چونکہ رات تک چلتی رہتی ہے تو یہی سوچا تھا کہ مغرب کے بعد جایا جائے تا کہ پانی میں روشنیوں کا جھلملاتا عکس انجوائے کر سکیں۔ مختلف قسموں کی بوٹس میں سے میں نے ایسی بوٹ بک کروائی تھی جس میں بس میں اور احمد ہی تھے۔ فی الحال وہ بوٹ کسی اور فیملی کو ٹور پر لے کر گئی تھی اور ہمارے پاس تقریبا" ایک گھنٹہ تھا۔

بوٹ‌ کے آنے میں ابھی تقریبا ایک گھنٹہ باقی تھا تو وہیں کریک پر چہل قدمی کا سوچا۔ "الٹے سیدھے" ہو کر ہم وقت گزار رہے تھے لیکن کچھ ہی دیر میں گرمی اور پسینے سے گھبرا کر مال میں پناہ لینے کو دوڑے۔

دوپہر کا کھانا دیر سے کھانے کی وجہ سے ابھی زیادہ بھوک نہیں تھی۔ پھر بھی ایک گھنٹہ بوٹ ٹور میں کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے ہونا چاہیے اس لیے مال کے ساتھ ہی کارفور سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے کر آگے بڑھے۔ احمد اب تک کچھ تھک چکے تھے اور اصرار کر رہے تھے کہ ایک گھنٹے کی بجائے ٹور کو آدھا گھنٹہ ہی کر لیں، انکا کہنا تھا کہ اتنی دیر سمندر میں ہم بور ہو جائیں گے۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے، بکنگ تو اب ہو چکی تھی۔

اب جبکہ بوٹ کا سفر شروع ہو چکا تھا، احمد کافی انجوائے کرنے لگے تھے۔ پرائیویٹ بوٹ کا فائدہ یہ ہوا کہ بس ہم ہی تھے اور احمد کی فرمائش بآسانی پوری ہو سکتی تھی کہ انہیں بھی بوٹ‌ چلانے کا موقع دیا جائے۔ اچھا بندہ تھا، اس نے اجازت دے دی۔ ساتھ ساتھ وہ ہمیں مختلف ٹاورز کی طرف اشارہ کر کے بتاتا بھی جاتا کہ یہ کونسی بلڈنگ ہے۔ ذرا آگے جانے پر بوٹ کی سپیڈ کافی تیز کر دی، جس پر احمد کی مزید فرمائش کہ اور تیز، اور تیز! بوٹ کی رفتار تیز ہونے پر لہروں کے چھینٹے چہرے پر آ رہے تھے جو گرمی میں بہت بھلے معلوم ہو رہے تھے۔ گھنٹہ کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا۔

سمندر میں سب سے زیادہ مزہ مجھے سجے سجائے ڈاؤ کروز کو دیکھنے کا آ رہا تھا۔ اس قدر پیارا سجایا ہوتا ہے انہیں کہ بس! جیسے رنگا رنگ کپڑے پہنے حسین شہزادیاں پانی میں اٹھکھیلیاں کرتی ہوں۔ تصویر پیاری نہیں آئی کہ فون کا کیمرہ، رات کا وقت اور پھر چلتی بوٹ۔ ڈاؤ کروز میں ڈنر بھی سرو کیا جاتا ہے کہ ساتھ سمندر کی سیر کریں، پانی میں جھلملاتی روشنیاں دیکھیں، ساتھ لہروں کے ہلکوروں میں لذیذ کھانا بھی کھائیں۔

اونچی لمبی پرشکوہ بلڈنگز کے بیچوں بیچ یہ مرینا مسجد ہے۔ حسن کا ایک روپ یہ بھی تو ہے!

پام جمیرہ کی 'بتیاں' دور سے دیکھ کر واپسی کا سفر شروع ہوا۔ آہستہ آہستہ شہر کی روشنیاں پھر سے نظر آنے لگی تھیں۔ اور پھر سبھی ہائے رائزز ایک ساتھ! حسین! میں محسوس کر رہی تھی کہ کچھ چیزوں کا حسن قربت سے زیادہ ان سے دور رہنے میں ہوتا ہے۔ سمندر کا یہ مختصر سا سفر اختتام کو تھا۔ رات کے نو بج رہے تھے، تھکن سے برا حال اور کل ایک نیا دن۔ ہوٹل پہنچ کر ہلکا پھلکا کچھ کھایا اور بستر پر بے ہوش!

صبح تازہ دم ہو کر ناشتہ کیا، سینڈوچ اور پانی کی بوتل ساتھ رکھی اور دبئی مال کے لئے روانہ ہوئے۔ دبئی مال رقبے کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی شاپنگ مال ہے۔ اس میں 1200 شاپنگ سٹورز ہیں اور تین منزلوں پر 14000 گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ ہے، تو گاڑی دھیان سے پارک کریں پلیز۔ اگر بالفرض آپکو یاد نہیں تو پارکنگ لاٹ میں ہی کار لوکیٹنگ ڈیوائس لگی ہوئی ہے، جس کے شاید کچھ پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس میں گاڑی کا نمبر ڈالیں تو کیمرہ آپکو گاڑی کی جگہ سکرین پر بتا دیتا ہے۔ دبئی مال میں دنیا کا سب سے بڑا ان ڈور مچھلی گھر ہے. مال کے افتتاح کے پہلے پانچ دن میں اس اکویریم کے 61،000 ٹکٹس فروخت ہو چکے تھے۔ ہم بھی ٹکٹ لینے یہاں گھڑے ہیں، تھوڑی دیر میں آپکو لے کر اندر چلتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہاں اولمپک سائز کا سکیٹنگ رنک ہے جہاں وقت کی کمی کی وجہ سے جا نہیں سکے۔ 2012 میں اس ایک مال میں آنے والے لوگوں کی تعداد پورے نیویارک شہر میں آنے والوں سے زیادہ تھی جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ سالانہ یہاں تقریباً 75 ملین لوگ آتے ہیں۔ جنہوں نے اب تک نوٹ نہیں کیا، وہ احمد کی "دبئی" شرٹ دیکھ لیں۔ یہ کل برجمان سینٹر سے خریدی تھی۔ کہا‌ تھا ناں کہیں نہ کہیں نظر آ جائے گی شاپنگ!

آرام سے دیکھ لیں تو آگے چلتے ہیں۔

Posted by ‎نیر تاباں‎ on Tuesday, October 17, 2017

یہ دنیا کا سب سے بڑا ان ڈور مچھلی گھر ہے جس کا پینل 108 فٹ چوڑا، 27 فٹ اونچا، اور موٹائی 29.5 انچ ہے۔ اس کا وزن بتاؤں؟ 24 لاکھ کلو! اس کے ٹینک میں دس ملین لیٹر پانی سما سکتا ہے۔ 200 مختلف قسموں کے تقریبا" 33،000 سے زیادہ آبی جانور اس میں موجود ہیں، جن میں تقریبا" 300 شارک مچھلیاں بھی موجود ہیں۔ احمد کے ساتھ شارک نے پوز بنایا تو ہم نے جلدی سے تصویر کھینچ لی! اگر چاہیں تو shark encounter کے لئے آپ کو ایک diving cage میں شارکس کے بالکل پاس بھی لے جایا جاتا ہے۔ آدھے گھنٹے کے اس ٹور میں ڈائیورز شارک کا کھانا آپکے ڈائیونگ کیج کے بالکل پاس ڈالتے ہیں اور اپ چند سینٹی میٹر کے فاصلے سے شارک کو دیکھ سکتے ہیں۔

یہ غوطہ خور اس وقت ٹینک کی صفائی میں مشغول ہیں۔ میرے بھائی نے ایک ایکویریم لے رکھا ہے جو شاید دو فٹ اونچا اور 4 فٹ چوڑا ہو اور بمشکل دس مچھلیاں ہوں گی اس میں۔ پاکستان میں ہر ویک وینڈ پر انہیں دیکھتی تھی کہ کیسے وہ اس کی صفائی کا خیال رکھتے ہیں۔ اب سوچیے اس ٹینک کا جس میں 33،000 سے زیادہ جانور ہوں، اس کی کتنی صفائی رکھنی پڑتی ہوگی۔

جی ہاں، احمد نے سینڈوچ الٹے ہاتھ میں پکڑ رکھا ہے، میں نے بھی تصویر کھینچنے کے بعد نوٹ کیا۔ یہاں سے 48 میٹر لمبی اس اکویریم سرنگ کا ایگزٹ ہے لیکن انڈر واٹر زُو ابھی ختم نہیں ہوا۔ بہت کچھ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ آئیں اوپر والے فلور پر چلیں۔

اس منزل میں انتظامیہ آپ کو ایک تفصیلی ٹور دیتی ہے کہ کیسے پانی کی صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے، مچھلیوں کی خوراک کیسے اور کتنی بنتی ہے، ان کی افزائشِ نسل کے لیے کس طرح کنٹرولڈ ٹمپریچر والے انکیوبیٹرز میں رکھا جاتا ہے۔ سیڑھیوں سے نیچے انتظامیہ آپ کے سامنے مچھلیوں کو خوراک ڈالتی ہیں بلکہ آپ بھی خرید سکتے ہیں اور خود مچھلیوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں۔

اب ہم تیسری منزل پر ہیں۔ شیشے کے فرش والی اس کشتی میں سوار اس وقت ہم دس ملین لیٹر پانی کے اوپر ہیں۔ آس پاس مچھلیاں نظر آ رہی تھیں لیکن واقعی جیسے پاؤں کے بالکل نیچے دیکھنے کا لطف تھا، وہ اور ہی تھا۔ تقریبا" پندرہ منٹ کے ٹور میں گائیڈ آپ کو ساتھ ساتھ بتاتا جاتا ہے کہ آبی جانوروں کا خیال رکھنے کے لیے کیسے پانی کے ٹمپریچر کو مین ٹین رکھا جاتا ہے، اور روشنی کا انتظام رکھا جاتا ہے۔

دیکھیے کیسے مصنوعی روشنی سے اکویریم کا درجہ حرارت کنٹرول رکھا جاتا ہے، اور روشنی کا انتظام بھی۔ بیک گراؤنڈ میں ایک اور گلاس بوٹ‌ بھی نظر آ رہی ہے، اور ساتھ پانی میں اگر غور سے دیکھیں تو مچھلیاں بھی۔

5 میٹر لمبا اور 750 کلو وزنی کنگ کروکوڈائیل اپنی 80 سالہ بیگم کے ساتھ یہاں پاس ہی رہتا ہے۔ وہ ہم سے کافی دور اور روشنی کے کچھ ایسے اینگل پر تھے کہ تصویر نہ لی گئی۔ آسٹریلیا میں بسنے والے اس مگرمچھ کو 2014 میں یہاں لایا گیا۔

اس فلور پر مختلف مچھلیوں کے قدرے چھوٹے اکویریم تھے، اور تعداد میں ڈھیر سارے۔ انواع و اقسم کی مچھلیاں، کچھوے، اور بہت سی آبی جانوروں کے ساتھ ساتھ اسی فلور پر پنگوئین سے بھی ملاقات ہوئی۔ قطب شمالی کی اس مخلوق نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا کہ اسکی آنے والی نسلیں ایک دن کسی صحرا میں رہائش پذیر ہو گی۔ انکی تصویر نہیں لی میں نے۔ مجھے وہ کچھ اداس سی لگیں (اسے میرے دماغ کا خلل کہہ لیجیے) اور اس شش و پنج میں تصویر لینے کا خیال ذہن سے ہی نکل گیا۔ کافی وقت یہاں گزار لیا، کافی کچھ ایکسپلور کر لیا۔ اب نکلتے ہیں۔ دبئی مال میں ہی ہماری اگلی منزل Kidzania ہے۔

مال کی اونچائی جتنی ہی اونچی یہ واٹر فال مال کے چاروں فلورز سے دیکھی جا سکتی ہے۔ فائبر گلاس کے بنے یہ ڈائیورز دیکھنے میں زبردست تو ہیں ہی، لیکن مزے کی بات اس میں یہ ہے کہ اس میں optical illusion ہے، یعنی اگر آپ ایک کو بغور دیکھیں تو باقی سب ڈائیورز منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ہے ناں کمال؟!

اتنے سارے رنگ ایک ساتھ <3 نتھیا گلی کے رستے میں سجی ہوئی رنگا رنگ چھتریاں یاد آ گئیں۔ خیر، یہ ہماری منزل نہیں۔ ہمیں کہیں اور جانا ہے۔ فی الحال نماز بریک لیں، چل چل کر تھک گئے ہیں، تھوڑی دیر بیٹھ کر کچھ کھائیں پیئیں، پھر آگے چلتے ہیں۔ اوہ ہاں! میری طرح آپ کو بھی یہ خیال آیا کہ ان چھتریوں کے نیچے کیا ہے؟ kidzania سے واپسی پر پتہ لگاتے ہیں۔ ساتھ رہیے گا! (جاری ہے)

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.