طبع آزمائی - احسان الٰہی ظہیر

پاکستان کے نامور کالم نگار اور صحافی جناب جاوید چودھری صاحب میرے پسندیدہ ترین کالم نگار ہیں اور تقریباً 6 سال سے میں ان کا ہر کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریر کی چاشنی اور اسلوب کی ندرت ان کے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور معلومات کا ایک انسائیکلوپیڈیا انسان کے سامنے کھل جاتا ہے، لیکن ان کے کالموں میں دو چیزیں ایسی ہیں جو ہر محبّ وطن پاکستانی اور علم و تحقیق سے تعلق رکھنے والے ہرشخص کو انتہائی دکھ دیتی ہیں۔

پہلی چیز تو ان کے بیشتر کالموں میں پاکستان اور اہل ِ پاکستان پر کی جانے والی بے جا تنقید اور مغرب کی مدح سرائی میں مبالغہ آرائی ہے۔ 21 کروڑ آبادی والے ملک میں ہونے والے چند جرائم، یا چندملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو اخبارات اور میڈیا یوں اچھالتا ہے کہ دیکھنے اور پڑھنے والوں کو پاکستانی معاشرہ جہنم نظیر دکھائی دیتا ہے جبکہ دوسری طرف مغرب میں جرائم کی شرح کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود اسے جنت ارضی بنا کر دکھایا جاتا ہے اور معاشرے میں مغرب سے مرعوبیت پیدا کرنے کی بھرپور سعی کی جا رہی ہے۔ آپ کو چودھری صاحب اپنے کالموں میں ہمیشہ ٹوم، جان، سٹیفن جیسے ناموں کو ہی بطور ِ آئیڈیل پیش کرتے نظر آئیں گے اور آپ بہت کم دیکھیں گے کہ انہوں نے کسی صحابی، تابعی یا امام کی زندگی کو بطور آئیڈیل پیش کیا ہو اور نوجوانوں کو ان کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے کی ترغیب دی ہو اور پاکستانی معاشرے کے متعلق ان کا تبصرہ اس قدر نفرت آمیز ہوتا ہے کہ آپ اگر مستقل طور پر چودھری صاحب کے کالم پڑھتے رہیں اور حقائق سے آشنا نہ ہوں تو آپ پاکستان اور پاکستانی معاشرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ چودھری صاحب اعداد و شمار بیان کرنے میں بھی کسی قسم کی تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھتے اور معاشرے کے 10 فیصد لوگوں میں پائی جانے والی برائی کو 95 فیصد کے سرتھونپ دیتے ہیں اور اندازِ بیان ایسا ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی صداقت وہی ہے جو انہوں نے بیان فرمائی۔

بلا شبہ مثبت اور برحق تنقید ایک اچھی چیز ہے، لیکن یہ کیا کہ ناقد کو خوبیاں نظر ہی نہ آئیں اور صرف برائیاں ہی دکھائی دیں؟ پاکستانی معاشرہ مجموعی اعتبار سے بے شمار خوبیوں کا حامل ہے، پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی آفت ٹوٹے تو پاکستانی عوام بے چین ہو جاتے ہیں، اور دامے درمے سخنے ہر طرح سے آفت زدہ لوگوں کی مدد میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں مظلوموں کے حق میں سب سے پہلی اور مؤثر آواز پاکستانی قوم ہی کی ہوتی ہے۔ کشمیر، فلسطین، شام، برما اور دنیا بھر میں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے، پاکستانی قوم ہی وہاں کے مظلوموں کے حق میں سب سے بڑھ کر آواز بلند کر رہی ہے۔ بقول شاعر:

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

پاکستانی عوام دین سے بھی والہانہ محبت رکھتے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر جذباتی وابستگی پاکستان کے لوگوں میں پائی جاتی ہے کسی اور جگہ کے لوگوں میں آپ کو نہیں ملے گی۔ یہ وہ قوم ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کر دیتی ہے۔اور یہ دو خوبیاں ایسی ہیں جو ہر خیر کی بنیاد ہیں۔ اسی لیے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

لیکن میڈیا نے معاشرے کا سکون غارت کر کے رکھ دیا ہے۔ آپ میں سے ہر شخص اپنے گردو پیش کا جائزہ لے اور دیکھے کہ اس کے گلی محلے اور شہر میں جرائم کی شرح کیا ہے؟ تو اخبارات اور میڈیا کی بددیانتی کھل کر سامنے آ جائے گی۔ اگر معاشرے میں برائیاں موجود بھی ہیں تو کیا انہیں ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں اچھالا جائے اور پوری دنیا کو اپنا پیٹ ننگا کر کے دکھایا جائے؟ برائیوں کو اچھالنے کا یہ انداز لوگوں میں برائی کرنے کی جرأت پیدا کرتا ہے، چنانچہ جب لوگوں کو معاشرے میں ہونے والی برائیاں تو دکھائی جائیں لیکن ان پر ملنے والی سزاؤں کو ظاہر نہ کیا جائے تو لاشعوری طور پر برائی کی ہیبت لوگوں کے دلوں میں کم ہو جاتی ہے۔ آپ غور کریں کیا ماضی کی نسبت اب برائیوں کی شرح میں سینکڑوں گنا اضافہ نہیں ہو چکا؟ اور اس کی بنیادی ترین وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارے میڈیا کا برائیوں کو اچھالنے والا یہ رویّہ ہے جو ہمیں مغرب سے تحفے میں ملا ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے ہمیں برائیوں کی بجائے ان پر دی جانے والی سزاؤں کی تشہیر سکھلائی ہے تاکہ لوگوں میں برائی کے انجام کا خوف پیدا ہو۔

لہٰذا چودھری صاحب اور دیگر صحافیوں سے دست بستہ عرض ہے کہ پاکستانی معاشرے پر بے جا تنقید سے احتراز کریں اور محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے دنیا کو پاکستان کے ویک پوائنٹس دینے سے گریز کریں۔

دوسری چیز جو چودھری صاحب کے کالموں میں بالخصوص اور بہت سے دیگر کالم نگاروں میں بالعموم پائی جاتی ہے اور ریسرچ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیےانتہائی تکلیف دہ ہے وہ دینی علوم میں طبع آزمائی کی بے جا کوشش ہے۔ دین کسی کی جاگیر نہیں لہٰذا ہر کسی کو دین کے متعلق بات کرنے کی اجازت ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ جس دینی مسئلے کے متعلق آپ اظہار رائے فرمانا چاہتے ہیں پہلے اس کے متعلق مکمل آگاہی حاصل کریں اور سیر حاصل مطالعہ کے بعد اپنا نقطۂ نظر پیش فرمائیں، بصورت دیگر طبع آزمائی سے گریز بہتر ہے کیونکہ دین اسلام کے بارے میں علم کے بغیر کچھ کہنے والوں کی قرآن وسنت میں سخت مذمت کی گئی ہے۔

ویسے تو گاہے گاہے چودھری صاحب اپنے کالموں میں دینی مسائل کو موضوع ِ سخن بناتے رہتے ہیں اوربہت سی گوہر افشانیاں فرماتے رہتے ہیں، جن پر میں نے انہیں ذاتی طور پر کال کر کے بھی متنبہ کیا اور انہوں نے اسے درخورِ اعتناء نہیں سمجھا لیکن ان کے تازہ کالم’’دمشق کی عقیدت گاہیں‘‘ میں ان کی تازہ گوہر افشانیاں دیکھ کر مجھے مجبوراً اس کے متعلق درج ذیل گزارشات پیش کرنا پڑ رہی ہیں۔

1۔ کالم کے آغاز میں انہوں نے سینٹ پال کا واقعہ اس انداز میں بیان کیا ہے جیسے وہ اس واقعے کے مشمولات پر ایمان رکھتے ہوں، اور تقابل ِ ادیان کا ادنیٰ سا طالب علم بھی جانتا ہے کہ اس واقعے کی کوئی حقیقت نہیں اور سینٹ پال وہ شخص ہے جس نے دین ِعیسائیت کو مسخ کیاچنانچہ اس شخص کو عیسائیت کا مسیحا بنا کر پیش کرنا سراسر ظلم ہے۔ علاوہ ازیں اس بات کا اقرار کرنا کہ عیسیٰ علیہ السلام سینٹ پال کے خواب میں آئے اور اسے عیسائیت کی تبلیغ کا حکم دیا، ایک فاش غلطی اور مسلمانوں کے عقائد سے متصادم ہے۔

2۔ دمشق کی شاہراہ مستقیم کے متعلق لکھتے ہیں: ’’ یہ انگریزی میں سٹریٹ سٹریٹ (straight street)، عربی میں شاہراہ مستقیم اور اسلام میں صراط ِ مستقیم کہلاتی ہے۔‘‘

چودھری صاحب اگر انگریزی تک ہی رہتے تو اچھا ہوتا کیونکہ ’’ شاہراہِ مستقیم ‘‘ عربی کا لفظ نہیں بلکہ یہ فارسی ترکیب ہے۔ عربی میں شاہراہِ مستقیم کا ترجمہ صراط ِ مستقیم بنتا ہے جسے چودھری صاحب نے اسلام کی اصطلاح بنا ڈالا۔ حالانکہ اسلام کا علم رکھنے والا ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ اسلام میں اس شاہراہ کا کہیں تذکرہ موجود نہیں اور اسلام کی اصطلاح میں صراط مستقیم سے مراد دین کا راستہ ہے نہ کہ دمشق میں موجود سٹریٹ سٹریٹ۔

3۔ مزید فرماتے ہیں: ’’شام کے مفسرین کا خیال ہے قرآن مجید نے صراط ِ مستقیم کی اصطلاح شاہراہ مستقیم سے لی تھی۔‘‘

چودھری صاحب سے گزارش ہے کہ اپنے آئندہ کالم میں اس کی ضرور وضاحت فرمائیں کہ شام کے کن مفسرین کا یہ خیال ہے؟ کیونکہ میری معلومات کے مطابق تفسیر کی متداول کتب میں سے کسی کتاب میں یہ قول موجود نہیں۔

4۔ چودھری صاحب نے اپنے اس کالم میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا جو قصہ بیان کیا ہے اس کے متعلق امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس کا من گھڑت ہونا واضح ہے‘‘ ( دیکھئے لسان المیزان، ج1، ص395)

یہ سب باتیں’’ مشتے نمونہ از خروارے ‘‘ کی قبیل سے ہیں۔ لہٰذا چودھری صاحب اور دیگر کالم نگاروں سے گزارش ہے کہ دینی مسائل میں طبع آزمائی سے اجتناب فرمائیں اور قارئین سے بھی درخواست ہے کہ اخبارات اور کالموں کو ذریعہ علم نہ بنائیں۔