پاکستان میں نفاذ ِ اردوکا مسئلہ اور انڈین شاعرہ’’ لتاحیاء‘‘ - عبدالمنان معاویہ

ماہر لسانیات کی ریسرچ کے مطابق اس وقت دنیا میں کم وبیش چھ ہزارکے لگ بھگ زبانیں بولی جاتیں ہیں اور اُن میں 100 زبانیں ایسی ہیں جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ بولی جاتی ہیں اور اردو کا شما ر ان ہی سو زبانوں میں ہوتا ہے۔ اردو زبان ارض پاک کی قومی زبان ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اب دھیرے دھیرے اردو زبان سے بے اعتنائی برتنے کی روش عام ہوتی جارہی ہے۔

تاریخی طور پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ زبانیں دو مختلف تہذیب وتمدن کے افراد کے باہمی ربط واختلاط کی وجہ سے معرض وجودمیں آتی ہیں۔ اس فلسفے کو مدنظر رکھیں تو اردو کی تاریخی حیثیت خود بخود معلوم ہوجاتی ہے وہ یوں کہ جو مسلمان برصغیر میں سب سے پہلے وارد ہوئے تو ان کی زبان یہاں کی زبان نہ تھی بلکہ ان کی زبان عربی، فارسی یا ترکی ہوگی، جو کہ یہاں کے لوگوں کی زبان نہ تھی۔ آپس میں میل ملاپ کے لیے ضروری تھا کہ یا تو مسلمان یہاں کی زبان سکھیں یا پھر یہاں کہ لوگ مسلمانوں کی بھاشا جانیں، تبھی ایک دوسرے کے سامنے مافی الضمیر بیان کرسکیں گے۔ دونوں ہی ایک سی صورت حال سے دو چار تھے۔ پھر یہاں بولی جانے والی زبانیں اور نووارد مسلمانوں کی بھاشاؤں نے مل کر ایک نئی زبان کو جنم دیا، جسے ایک عرصہ تک ہندی کہا جاتا رہا لیکن سولہویں صدی کے وسط یا آخر میں اسے اردو کہا جانے لگا۔

حامد حسن قادری لکھتے ہیں: ’’ یہ بات تحقیق طلب ہے کہ اس زبان کے لیےاردو کا لفظ کب سے اختیار کیا گیا، یہ قیاس درست نظر آتا ہے کہ مغلوں کے زمانے سے ہندوستان میں اردو کا لفظ لشکر ولشکر گاہ کے معنوں میں استعمال ہونا شروع ہوا، بابر، اکبر کے فرمانوں اور سکوں میں اردو کا لفظ لشکر کے معنی درج ہے، بابر اپنے لشکر کو ’’اردوئے معلی ‘‘ کہتا ہے ‘‘۔(تاریخ داستان اردو)

جس طرح ایک لشکر میں مختلف قومیتوں اور قبیلوں کے افراد جمع ہوتے ہیں نہ کہ ایک قبیلہ کے لوگ، اسی طرح زبان اردو میں بھی مختلف بولیوں کے الفاظ جمع ہیں اور اس زبان کو لشکری زبان کہنے کی وجہ تسمیہ بھی شاید یہی ہے۔ لیکن بعض محققین اس خیال کو جھٹلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اردو باضابطہ ایک الگ زبان ہے یہ مختلف زبانوں کا مجموعہ نہیں، یا دیگر زبانوں سے تشکیل نہیں پاتی۔ تاریخی اعتبار سے اردوکی تاریخی حیثیت کے متعلق جوکچھ معلوم ہوا ہے وہ یہ کہ حضرت نظام الدین دہلوی ؒ (۷۲۵ھ) کے مرید خاص حضرت امیر خسر و ؒ کی ایک تحریر اردومیں ملتی ہے جسے اردو کی سب سے قدیم تحریر کہا جاتا ہے۔ لیکن حضرت امیر خسروؒ اپنے دیباچہ دیوان میں مستعمل اردو کو اردو کے نام کے بجائے ’’ہندی کلام‘‘ کہتے ہیں۔ دوسری قدیم تحریر وہ بھی حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے مرید خاص حضرت سید مبارک ؒ المعروف بہ میر خورد کی تالیف ’’سیر الاولیاء‘‘ ہے، اس میں حضرت فرید الدین گنج شکر ؒ کے ایک قول کے متعلق لکھا ہے کہ ’’فرمودہ بزبانِ ہندی‘‘ (تاریخ داستان اردو:۲۹)مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانے تک زبانِ اردو کو ’’ہندی یا ریختہ‘‘ کہا جاتا تھا،دراصل فارسی شعرأ اُس نظم کو ریختہ کہتے ہیں جو مختلف زبانوں سے مرکب ہو، چونکہ اردو بھی مختلف زبانوں سے مرکب شدہ زبان ہے اس لیےاسے بھی وہ ریختہ کہتے تھے۔ اس سے اُن حضرات کی بھی تائید ہوتی ہے جو حضرات اردو کو مختلف زبانوں سے تشکیل پانے والی زبان قرار دیتے ہیں۔

شیخ مخدوم سعدی کاکوروی (۱۵۹۲ھ) کی ایک مخلوط غزل ملتی ہے، انہوں نے مقطع میں غزل کی زبان کو ریختہ فرمایا ہے؂

سعدی کہ گفتہ ریختہ، در ریختہ دُر ریختہ

شیر وشکر آمیختہ، ہم شعر ہے ہم گیت ہے

اسی طرح بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی ایک غزل ریختہ بھی تاریخ کے اوراق میں ملتی ہے ملاحظہ فرمائیے ؂

وقت سحر وقت مناجات ہے

خیز دراں وقت کہ برکات ہے

نفس مبادا کہ بگوید ترا

حسب چہ خیزی کہ ابھی رات ہے

باتن تنہا روی در زمیں

نیک عمل کہ وہی سات ہے

پند شکر گنج بدل جاں سنو

ضائع مکن عمر کی ہیہات ہے

(اردو زبان کی ابتدائی نشو ونما میں صوفیائے کرام کا کام، از بابائے اردو مولوی عبدالحق )

انیسویں صدی سے قبل اردو کی تاریخ میں نثری کاوشیں کم ہی ملتی ہیں بلکہ تقریباً مفقود ہیں، لیکن انیسویں صدی میں اردو میں نثری کام شروع ہوا۔ اُس کی بین وجہ یہ بھی تھی کہ جب فورٹ ولیم کالج کلکتہ کا قیام عمل میں آیا جس کے قیام کا مقصد انگریزوں کو ہندوستانی زبانوں کا سکھانا تھا۔ اس کالج کے اول منتظم ڈاکٹر گل کرسٹ تھے۔ ڈاکٹر گل کرسٹ ہندوستانی زبانوں کے ماہر مانے جاتے تھے۔ شنید ہے کہ انہوں نے گرائمر ولغت پر کافی کام بھی کیا جو تاریخ لسانیاتِ اردو کا ایک باب ہے۔ اردو ادب کی پہلی جامع تاریخ مسٹر بابو سکسینہ نے بزبان انگریزی تحریر کی جس کا نام: A Urdu History of Literature تھااس کتاب کا ارود ترجمہ مرزا محمد عسکری نے کچھ اضافہ جات کے ساتھ کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ایک انگریز مصنف گراہم بیلی نے بھی بزبان انگریزی اردو کی تاریخ مرتب کی جس کا نام تھا:History of Urdu Literature۔

اگر ہم اردو کی مرتب تاریخ کا مختصر خلاصہ بھی بیان کریں تو اس کے لیے ایک ضخیم دفتر درکار ہے۔ بہرحال، پاکستان میں اردو کے ساتھ جو سلوک برتا گیااور برتاجارہا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے، عربی وفارسی سے تو ہمارا رشتہ کب کا ٹوٹ چکا ہے، اردوسے جو رسمی تعلق قائم ہے اسے بھی پاکستان میں موجود سیکولر لابی نے آہستہ آہستہ ختم کرنے کے درپہ ہے۔

پچھلے دنوں مجھے اپنی خالہ کے ہاں رحیم یار خان کا سفر درپیش ہوا۔ میری خالہ محترمہ ایک سکول ٹیچر ہیں، انہوں نے میری اور میری بہن کی بڑی آؤ بھگت کی، بڑے پیار سے پیش آئیں۔ ہماری ملاقات ایک طویل عرصہ بعد ہوئی تھی، میری خالہ محترمہ ادبی ذوق رکھتی ہے مجھے اس کا قطعاً علم نہ تھا۔ پہلی بار پتہ چلا کہ وہ نہایت عمدہ ادبی ذوق رکھتی ہیں، انہوں نے ہی مجھے انڈین شاعرہ لتا حیاء ؔکی شاعری سنائی، جس کا مجھے پہلے علم نہ تھا۔ لتاحیاء کی جو نظم میں نے سنی وہ اردو کے حوالہ سے تھی۔ پاکستان میں ترویج اردو کے لیے ادارہ ’’مقتدرہ قومی زبان ‘‘ بحسن وخوبی کام کررہا ہے اور ہندوستان میں ’’انجمن ترقی اردو‘‘نے نام سے ایک ادارہ ترویج اردو کے لیے کام کررہا ہے، لیکن اہل ہنود میں سے چند اہل علم جو نثر ونظم میں کام کررہے ہیں اُن میں ایک نام ’’لتا حیاء ؔ‘‘ کا بھی ہے جو بڑی دیدہ دلیری سے ترویج اردو کے لیے کوشا ں ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کب سے تحریک ترویج اردو کے لیے کام کررہی ہیں لیکن اُن کی نظم جو اردو پر ہے وہ سن کر کوئی بے ذوق ہی ہوگا جو محظوظ نہ ہو۔ اُس نظم سے قبل مختصر تعارف محترمہ لتا حیاء ؔصاحبہ کا ملاحظہ فرمالیں۔ لتا حیاء ؔہندوستان کے صوبہ راجستھان کے شہر جے پور سے ہیں اور وہ برہمن فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اُن کا اصل نام ’’لتا ‘‘اور تخلص ’’حیاء‘ؔ‘ہے، اُن کے پسندیدہ شعرأ میں ’’بشیر بدر، وسیم بریلو ی، ساحر لدھیانوی، امریتاپریتم ‘‘شامل ہیں۔ اب لتا حیاء ؔکا کلام اردو پر ملاحظہ فرمائیے:

میں ہندی کی وہ بیٹی ہوں، جسے اردو نے پالا ہے

اگر ہندی کی روٹی ہے تو اردو کا نوالہ ہے

مجھے ہے پیار دونوں سے مگر یہ بھی حقیقت ہے

لتا جب لڑکھڑاتی ہے حیاءؔ نے ہی سنبھالا ہے

میں جب ہندی سے ملتی ہوں تو اردو ساتھ آتی ہے

اور جب اردو سے ملتی ہوں تو ہندی گھر بلاتی ہے

مجھے دونوں ہی پیاری ہیں میں دونوں کی دُولاری ہوں

اِدھر ہندی سی مائی ہے اُدھر اردو سی خالہ ہے

یہیں کی بیٹیاں دونوں یہیں پہ جنم پایا ہے

سیاست نے انہیں ہندؤ اور مسلم کیوں بنایا ہے

مجھے دونوں کی حالت ایک سی معلوم ہوتی ہے

کبھی ہندی پہ بندش ہے کبھی اردو پہ تالا ہے

خدا کی ہے قسم ہرگز حیاءؔ یہ سہہ نہیں سکتی

میں دونوں کے لیے لڑتی ہوں اور دعویٰ سے کہتی ہوں

میری ہندی بھی اُتم ہے میری اردو بھی اعلیٰ ہے

ایسا کلام جس کو یوٹیوب پر لتا حیاء ؔ کی آواز میں سن کراور صفحہ قرطاس پرپڑھ کر اردو کی محبت دلوں میں بسانے والے صرف محظوظ ہی نہیں ہوتے بلکہ مارے خوشی کے کھل اٹھتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ کوئی زبان بذات خود نہ تو مسلم ہے نہ ہی ہندویا عیسائی، یہودی بلکہ زبان تو مافی الضمیر بیان کرنا کا ایک ذریعہ ہے۔ ہاں! جب کسی زبان کو قومی زبان کا درجہ دے دیا جائے تو پھر اس کا حق ہے کہ وہ زبان نہ صرف اس ملک کے عوام میں رائج ہوبلکہ ملک کے سرکاری اداروں میں بھی رائج ہو، وہاں کا نظام تعلیم اسی زبان میں ہو، وہاں کی سرکاری عمارتوں میں باعث فخر وہی زبان ہونی چاہیے ۔ یہ قاعدہ وقانون دنیا کے سب ہی ترقی یافتہ ممالک میں لاگو ہے، لیکن پاکستان میں چونکہ قانون نام کی کوئی شئے ہے ہی نہیں، تو یہا ں ہم قانونی بات نہیں کرسکتے،قانونی بات وہیں ہوتی ہے جہاں قانوں کی بالادستی ہو، جہاں عدالتی نظام مضبوط ہو، یہاں تو سب خفیہ ہاتھ ہے جو کررہا ہے یا کروا رہا ہے۔ یہاں گروگنٹھال کے چیلوں کی کمی تھوڑی ہی ہے۔ خیر، ہم بات کررہے ہیں نفاذِ اردو کی، تو اسی پہ بات آگے بڑھاتے ہیں دجالی قوتوں کا ذکر بد کو چھوڑتے ہیں۔

مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ لکھتے ہیں: ’’۸ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ۳ ماہ کے اندر تمام سرکاری اداروں میں اردو کو بطور قومی زبان رائج کرنے کا فیصلہ صادر کیا۔ سابق چیف جسٹس، جسٹس جواد ایس خواجہ کی زیر صدارت جسٹس دوست محمد اور جسٹس فائز عیسیٰ پر مشتمل تین رکنی بنچ کے اس فیصلے پر تمام طبقات نے خوشی ومسرت کا اظہار کیا ہے۔ بانی پاکستان محمدعلی جناح نے ۱۹۴۸ء میں دو ٹوک انداز میں واضح کیا تھا کہ ’’پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی ‘‘۔لیکن واحسرتا کہ لسانی استعماریت کے سامنے اردو ہمیشہ بے بس رہی۔ ۱۹۵۳ء کے آئین کی دفعہ ۲۵۱پر عمل درآمد کے لیے سپریم کورٹ نے جو حکم جاری کیا ہے، اس میں درج تھا کہ ۱۵ سال کے اندر اندر، اردو کو ہر سطح پر دفتری زبان (تقریر وتحریر) کے طور پر رائج کیا جائے گا، لیکن ایسا نہ ہوسکنے کے محرکات بھی وہی ہیں جو آئین کو رو بہ عمل نہ ہونے دینے کے لیے باقی معاملات میں ہیں، جس کی ذمہ داری براہ راست سرکاری وانتظامی مشینری پر عائد ہوتی ہے۔ اب اگر اردو کے قومی زبان کے طور پر اس فیصلے پر عمل درآمد میں حیل وحجت سے کام لیا گیا تو آئین وعدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ قیام ملک کے مقصد سے بھی انحراف ہوگا ‘‘۔(ماہ نامہ نقیب ختم نبوت، بابت اکتوبر:۲۰۱۵ء،صفحہ:۵)

پاکستان میں اردو کے نفاذ میں جو لابیز باعث ِ رکاوٹ بن رہی ہیں ان کا مسئلہ دراصل یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اردودینی طبقے کی زبان ہے اور ہماری زبان انگریزی ہے جس سے دینی طبقہ نابلد ہے۔ اسی لیےظلم یہ کیا گیا کہ پہلی کلاس سے ہی انگریزی زبان میں نصاب تعلیم مرتب کردیا گیا حالانکہ آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں انگریزی ایک اختیاری مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ آپ ادھر ادھر دیکھنے کے بجائے اپنے پڑوسی ملک چین کی طرف نگاہ دوڑا لیں وہاں کا نصابِ تعلیم ان کی قومی زبان میں موجود ہے۔ ہاں کسی نے انگریزی پڑھنی ہے تو پڑھ لے، ممنو ع نہیں ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی اگر ذریعہ تعلیم اردو میں ہو تو آپ دیکھیں گے کہ شرح تعلیم خود بخود بڑھ جائے گی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، اُن لوگوں سے بچئے جو انگریز ی کے ساتھ ساتھ انگریز کے ذہنی غلام ہیں اور اس آزاد مملکت کی آزاد قوم کو انگریز کا ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں۔یہ فیصلہ بھی اسی اشرافیہ نے کرنا ہے جن سے امید وفا نہیں،جو مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں بلکہ مسند اقتدار کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگادیتے ہیں۔ بقول غالبؔ

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خداکرے کوئی

جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ

کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

خداکرے کہ وہ دن جلد از جلد پاکستان پر طلوع جس میں ارض پاک کی قومی زبان مکمل طور پر رائج ہو اور ہمیں وہ طلوع سحر دیکھنا نصیب ہو۔ وہ دن قائداعظم وعلامہ اقبالؒ کے خوابوں میں سے ایک خواب کی تعبیر کا دن ہوگاکیونکہ محمد علی جناح مرحوم نے فرمایا تھا: ’’پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی‘‘ اور اگر ہم سے یہ نہ ہوسکا تو انڈین شاعرہ ’’لتا حیاء ؔ ‘‘ہم سے بدرجہا بہتر ہے کہ وہ حبس زدہ ماحول میں اردو کا دفاع و ترویج کے لیے کوشاں ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */