سوچ کا زاویہ - مصباح الامین

حضرت انسان کی بلند ہمتی کی دلفریب داستاں ہو یا پست ہمتی کا اندوہناک قصہ، ہشاش بشاش چہروں پر لہراتی رونقوں کی لہریں ہوں یا پھر مرجھائے ہوئے پھول کی سی اداسی، ان سب کے پیچھے چھپا راز انسان کی اپنی سوچ کا ہے۔ اگر اس سوچ کو مثبت رکھ کر اس عالم رنگ و بو کا مطالعہ کیا جائے، اچھی سوچ کے ساتھ اس ارض فانی اور لازوال نعمتوں کی فراوانی پر نظر ڈالی جائے تو اس کارخانہ قدرت کی ہر چیز دلکش اور حسین نظر آتی ہے۔انسان ہر وقت مطمئن اور بے فکر رہنے لگتا ہے۔مثبت سوچ روحانی اور جسمانی صحت پر نہایت اچھے اثر ات مرتب کرتی ہے۔

اگر اس سوچ کے زاویے کو الٹی سمت گھما دیا جائے، چمکتی روشنیوں کی بجائے اندھیروں کی تلاش شروع ہو جائے،ہر شے میں موجود اچھائیوں کے انبار کی بجائے نگاہیں کسی ایک عیب کی تلاش میں سرگرداں نظر آئیں تو اس سوچ کے حامل فرد کی روحانی اور جسمانی قوتوں کے خاتمے کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔جس کا نقصان فرد اور معاشرہ دونوں کے لیےناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔

ایک شخص کا واقعہ مشہور ہے جو کہ رسی پر سائیکل چلانے میں ماہر تھا۔دور دراز سے لوگ اس کا کرتب دیکھنے کے لیے کھنچے چلے آتے تھے اور وہ بڑے اعتماد کے ساتھ اپنے فن کے جوہر لوگوں کے دلوں پر نقش کرتا تھا۔ایک دن اسی طرح گھر سے نکلتے وقت کہنے لگا "اگر میں کسی دن اوپر سے پھسل کر گر گیا تو کیا ہو گا؟" گھر والوں نے کہا کہ تمہارا روز کا کام ہے، ڈر کس بات کا ہے؟ اب اس نے سائیکل چلانی شروع کی تو دھڑام سے زمین پر آرہا اور روح پرواز کر گئی۔اس کی ذرا سی منفی سوچ نے اس کی جان لے لی۔

ایک بزرگ فرماتے تھے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔کتنی عزت عطاء کی ہے لیکن اس کی ناشکری کا اندازہ کیجیے کہ ایک مکھی کی طرح لوگو ں میں اور نعمتوں میں عیب ڈھونڈھتا پھرتا ہے۔جیسے مکھی زخم کی تلاش میں بھنبھناتی رہتی ہے یہ بیچارہ بھی اضافی بوجھ اپنے سر لیےدر بدر بھٹکتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

جب انسان معاشرے میں اور اپنے ارد گرد کے حالات میں اچھائیوں کی تلاش شروع کر دیتا ہے تو ہر چیز ہی اچھی لگنے لگتی ہے۔زندگی گلزار بن جاتی ہے۔نسیم سحر کے جھونکے زندگی میں خوشبو ئیں بکھیر دیتے ہیں۔ چمن کا ہر گل اپنے حسن کی جولانیاں بکھیرتا نظر آتا ہے۔اللہ کی عطاء کردہ نعمتوں کی فراوانیوں کو دیکھ کر خود ہی کلمات شکر زبان سے ادا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

کسی بھی درپیش امتحان میں اگر انسان ارادہ کر لے کہ ہاں! میں یہ کر سکتا ہوں، اس امتحان میں میرے لیےکچھ مشکل نہیں ہے تو اسی وقت کامیابی اس کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔اسی طرح درپیش "چیلنجز" کو دیکھ کر مایوس ہونے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہونے والی مشہور کتاب ’’سیکرٹ‘‘ کی مصنفہ نے’’’کشش کا قانون‘‘ بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے اور اس طرح سوچ سے عمل جنم لیتا ہے۔

آج مادیت پرستی کے اس دور میں ہر شخص احساس کمتری کا شکار ہو کر حسد کی آگ میں بری طرح جل رہا ہے۔ مصنوعی سٹیٹس کی آگ نے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ایک دوسرے سے زیادہ کمانے اور آگے نکلنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔جس نے عزت نفس نامی شے کو بری طرح کچل ڈالا ہے۔قناعت پسندی کو مکھن میں سے بال کی طرح کھینچ باہر کیا گیا ہے۔حرص کی تسبیح ثواب سمجھ کر رولی جا رہی ہے۔ایسے حالات میں قومی ترقی تو درکنار، معاشرتی ترقی بھی گہری کھائی میں آرام فرما ہے۔اخلاقی، ملکی و معاشرتی ترقی تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنی سوچ کے زاویہ کو مثبت سمت میں پروان چڑھانے کے لیےکوشاں ہوں گے۔